30/05/2026
پچپن میں لگتا تھا بس بڑے ہو جائیں
تو سب آسان ہو جائے گا
لیکن بڑے ہو کر سمجھ آیا
خوشیاں کم نہیں ہوئیں
بس ان کی قیمت بڑھ گئی ہے
پچپن میں کھلونے ٹوٹتے تھے
آج رشتے ٹوٹتے ہیں
تب گرتے تھے تو کوئی اٹھا لیتا تھا
آج گرتے ہیں تو خود ہی سنبھلنا پڑتا ہے
تب سپنوں اور اپنوں کے بیچ بھاگتے تھے
اور اب پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں
ہم بڑے تو ہو گئے
پر آسان کچھ بھی نہیں ہوا
بس درد چھپانے کی عادت بڑگئی ہیں