راولاکوٹ Aesthetics

راولاکوٹ Aesthetics 🌲 Welcome to Aesthetics Rawalakot 🌲 Join me on a journey through Kashmir's beauty. Short videos of nature's charm and lighthearted moments.

Follow for a blend of magic and fun. Let's celebrate together. 🌿✨ Rawalakot is the Heart of Kashmir, where nature and culture combine to create a stunning view. The lush hills and meandering and serene Banjosa Lake make it a visual symphony that defines its allure. Celebrate Rawalakot's exciting aesthetics. Aesthetics Rawalakot showcases the natural beauty and cultural richness of the entire region of Kashmir. 🏞️✨

09/08/2026

اہلِ کشمیر منزلوں کو اب نکل پڑے ✊🏻

08/08/2026

پونچھ کو غزہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

آزاد کشمیر کے 100 کے قریب طلبہ کو دہشتگردی کے مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ جرم؟ اسلام آباد میں مظالم کے خلاف پرامن احتجاج۔
آج ریاست بھر میں 700 سے زائد لوگ قید ہیں، اکثریت نوجوانوں کی۔

*2 ماہ میں کیا ہوا:*
1. *93 شہید*۔ سینکڑوں زخمی۔ یہ سب پرامن جدوجہد کے شہید ہیں۔
2. *گھروں کی بے حرمتی*۔ عورتوں، بچوں، مردوں پر تشدد۔ لوٹ مار۔ دکانیں اور پیٹرول پمپ تک نہ چھوڑے۔
3. *راولاکوٹ محصور*۔ 2 ماہ سے نہ موبائل، نہ انٹرنیٹ۔ 7 حلقوں میں 1 ملین آبادی کرفیو، ناکہ بندی اور فائرنگ کی زد میں۔
4. *ناکہ بندی*۔ کھانے پینے کی اشیاء تک نہیں جانے دی جا رہیں۔ زخمیوں کو بڑے ہسپتالوں میں علاج کی اجازت نہیں۔
5. *روزانہ فائرنگ*۔ 5 جون سے کوئی رات ایسی نہیں جب گولیاں نہ چلی ہوں۔ ہزاروں لوگ گھروں سے بے دخل۔

ہر حربہ آزما لیا۔ لیکن عوام پھر بھی اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹی۔

سوال یہ ہے: یہ انتقام کیوں؟
کیا سزا یہ ہے کہ یہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے؟ یہاں لوگ اپنے حقوق جانتے ہیں؟

25 کروڑ کی ایٹمی طاقت چند لاکھ عوام کا سر جھکانے پر تلی ہے۔

پونچھ غزہ نہیں بنے گا۔
ہم آزاد کشمیر مانگتے ہیں۔

08/08/2026

کل جب مولانا سعید یوسف صاحب منگ کی مسجد میں جمعہ پڑھانے کے لیے آئے تو مسجد میں موجود نمازی باہر نکل آئے اور کہا کہ اگر سعید یوسف صاحب جمعہ پڑھائیں گے تو ہم جمعہ نہیں پڑھیں گے۔
چیرمین منگ سدھنوتی ممبر عوامی ایکشن کمیٹی جاوید صاحب کو خود سن لیں۔

07/08/2026

کیا یہی ہے وہ ریاست جس سے ہم وفاداری کا حلف لیتے ہیں؟

ہم انسان ہیں، کوئی بے حس پتلیاں نہیں۔ ہم اس مٹی سے محبت کرتے ہیں، اس کی سانس کے ساتھ سانس لیتے ہیں، لیکن جب جواب میں صرف بے حسی اور جبر ملے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

ایک عام شہری کا دل آج یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے: آخر ہماری وفاداری کا صلہ کیا ہے؟

ہم خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دیتے ہیں — اور وہ پیسہ ہماری آنکھوں کے سامنے چوری ہو جاتا ہے۔
ہم امید کے ساتھ اپنا ووٹ دیتے ہیں — اور راتوں رات ہمارا پورا کا پورا فیصلہ اور رائے چوری کر لی جاتی ہے۔
ہم اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں — تو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر سیدھی گولی سینے پر مار دی جاتی ہے۔
ہم اس ملک کی خاطر اپنی جان تک وار دیتے ہیں — لیکن ہماری لاشیں تک چھپا دی جاتی ہیں تاکہ کوئی گواہی نہ رہے۔
ہم جب انہیں ان کا آئینی حلف اور قانون یاد دلاتے ہیں — تو جواب میں خاموشی سے اغوا کر لیا جاتا ہے۔

اور راولاکوٹ میں گزشتہ 2 ماہ سے کیا ہو رہا ہے؟
گولیاں چلا لی گئیں۔
بے گناہ لوگوں کو اٹھا لیا گیا۔
شہید کر دیا گیا۔
سیدھی فائرنگ کر کے دیکھ لی گئی۔
گھروں میں گھس کر علاقے خالی کروائے جا رہے ہیں۔
سنائپر سے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
اور اس کے باوجود خود کو مظلوم بھی ثابت کیا جا رہا ہے۔

ہر حربہ استعمال کر چکے ہیں۔ لیکن عوام پھر بھی اپنے حقوق لینے سے پیچھے نہیں ہٹی۔

"کیا اس ریاست سے وفاداری کا مطلب صرف خاموش رہنا اور بوٹ پالش کرنا ہے؟"

اگر اپنے حق کے لیے بولنا گناہ ہے، اگر انصاف مانگنا غداری ہے، اور اگر آئین کی یاد دہانی جرم ہے—تو پھر بتائیے کہ ایک شہری جائے تو کہاں جائے؟

یہ بے ضمیر یزید مشرکِ مکہ سے بھی بدتر ہیں۔

وفاداری دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ جب تک عوام کے ووٹ، جان اور عزت کی قیمت نہیں ہو گی، تب تک سچی وفاداری کا دعویٰ صرف ایک لافانی مذاق بن کر رہ جائے گا۔
اللہ حق والوں کا ساتھ دے۔

07/08/2026

They took everything, but not our voice! ✊🏻
جوانیاں لٹائیں گے، انقلاب لائیں گے!
No Basic Rights. No Votes. Simple. ❌

06/08/2026

جن بچوں کے ہاتھوں میں آج _کتابیں_ ہونی چاہئیں،
وہ سڑکوں پر اپنے _بنیادی حقوق_ مانگنے پر مجبور ہیں۔ 💔

کیا حکمرانوں کو اندازہ ہے کہ وہ آنے والی نسل کے دلوں میں کیا بیدار کر رہے ہیں؟

ہم نے تقریباً _100 شہداء_ کی قربانیاں دیں، ہزاروں زخمی اور قیدی دیکھے۔
اس کے باوجود _جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی_ آج بھی _پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد_ پر قائم ہے۔

واضح رہے:
1. ہماری پالیسی کسی جعلی اکاؤنٹ یا اشتعال انگیز پوسٹ سے طے نہیں ہوتی۔
2. ہم نے نہ کبھی مسلح جدوجہد کی حمایت کی، نہ کریں گے۔
3. ہماری جنگ صرف _بنیادی، سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق_ کے لیے ہے۔

تقریباً سو جانوں کے بعد بھی مذاکرات اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہماری کمزوری نہیں،
یہ ہماری _سیاسی سنجیدگی اور عوامی ذمہ داری_ کا ثبوت ہے۔

_تعلیم حق ہے، احسان نہیں۔_
_بچپن حق ہے، جدوجہد نہیں۔_

_سردار عمر نذیر کشمیری_
کور ممبر، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

---

The hands that should hold _books_ today,
are forced to demand their _basic rights_ on the streets. 💔

Do our rulers realize what they are awakening in the next generation?

We have sacrificed nearly _100 martyrs_, seen thousands injured and imprisoned.
Yet the _Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee_ still stands for _peaceful, constitutional and democratic struggle_.

To be clear:
1. Our policy is not decided by fake accounts or provocative posts.
2. We never supported, nor will we support, armed struggle.
3. Our fight is only for _basic, political, economic and democratic rights_.

Choosing dialogue and negotiations even after 100 lives is not weakness.
It is proof of our _political maturity and responsibility to the people_.

_Education is a right, not a favor._
_Childhood is a right, not a struggle._

_Sardar Umar Nazir Kashmiri_
Core Member, Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee

Masairism
Aqeel Bhai
Sardar Khyyam Kashmiri
Sardar Umar Nazir Official
BBC News
Al Jazeera English

05/08/2026

شہدائے عوامی تحریک بس ٹرمینل متیالمیرہ ۔
27 جولائی بس ٹرمینل متیالمیرہ راولاکوٹ دھرنے سے جانے والے قافلے کے شہدا۔
شہید کی جو موت ہے
وہ قوم کی حیات ہے

05/08/2026

بہت کچھ لکھنے کو دل کر رہا ہے لیکن گھر والوں نے کہا ہے ہم ضمانت نہی کروائینگے ۔ 🙏

کیا آپ جانتے ہیں؟5 اگست 2019 کو ختم ہونے والے دو آرٹیکلز کی جڑیں 1927 اور 1947 سے جڑی ہیں۔اہم حقائق:1. آرٹیکل 35A - 1927...
05/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟
5 اگست 2019 کو ختم ہونے والے دو آرٹیکلز کی جڑیں 1927 اور 1947 سے جڑی ہیں۔

اہم حقائق:

1. آرٹیکل 35A - 1927
1927 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے "اسٹیٹ سبجیکٹ" قانون بنایا۔
مقصد کشمیریوں کی زمین، سرکاری نوکریاں اور اسکالرشپ محفوظ رکھنا تھا۔
1954 میں صدارتی حکم سے یہ قانون بھارتی آئین میں "آرٹیکل 35A" بن کر شامل ہوا۔
یہ آرٹیکل پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔

2. آرٹیکل 370 - 1947
26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے "معاہدہ الحاق" کیا۔
اس کے تحت بھارت کے پاس صرف 3 اختیارات تھے: دفاع، خارجہ اور رابطے۔
باقی تمام اختیارات کشمیر کی اسمبلی کے پاس رہے۔
اسی معاہدے کو قانونی تحفظ دینے کے لیے "آرٹیکل 370" بنایا گیا۔
اس آرٹیکل کے تحت بھارتی پارلیمنٹ کشمیر پر اسمبلی کی رضامندی کے بغیر قانون نہیں بنا سکتی تھی۔

5 اگست 2019 کے بعد:
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دونوں آرٹیکلز منسوخ کر دیے گئے۔
ریاست کو 2 وفاقی علاقوں "جموں کشمیر" اور "لداخ" میں تقسیم کر دیا گیا۔
اب کوئی بھی بھارتی شہری وہاں زمین خرید سکتا ہے اور سرکاری نوکری حاصل کر سکتا ہے۔

04/08/2026

جبر کی انتہا پر انقلاب جنم لیتا ہے
اور خون کے بعد؟
آزادی؟

Address

Rawalakot
Rawala Kot

Telephone

+923335425220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when راولاکوٹ Aesthetics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to راولاکوٹ Aesthetics:

Shortcuts

Share