Click Balochistan

Contact the business

Click Balochistan آج کی بڑی خبر بلوچستان سے۔
📡 Daily News from the Heart of Quetta Balochistan
Stay Informed.

دو ماہ کی فیس معاف کریں ڈپٹی کمشنر ویسٹ ، سوال یہ ہے حکم پر عمل کون کرائے گا کیا ڈپٹی کمشنر صاحب یہ اختیار رکھتے ہیں یا ...
10/10/2026

دو ماہ کی فیس معاف کریں ڈپٹی کمشنر ویسٹ ، سوال یہ ہے حکم پر عمل کون کرائے گا کیا ڈپٹی کمشنر صاحب یہ اختیار رکھتے ہیں یا صرف میڈیا پر مشہوری کے لئے یہ یہ بیان جاری کیا ہے ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ سے چند قانونی اور عوامی سوالات

ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند

دنیا میں قانون کی حکمرانی کا ایک بنیادی اصول ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ خوش آئند ضرور ہے لیکن اس فیصلے کی قانونی بنیاد دائرۂ اختیار اور یکساں عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے اگر کسی حکم کا اطلاق صرف کمزور طبقے پر ہو اور بڑے ادارے اس سے مستثنیٰ رہیں تو پھر سوال حکم کی نیت سے زیادہ اس کے نفاذ پر اٹھتا ہے
اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ نے گزشتہ روز نجی تعلیمی اداروں کے ایک اجلاس میں ہدایت کی ہے کہ سردیوں کی دو ماہ کی تعطیلات کے دوران نجی اسکول فیس وصول نہیں کریں گے بظاہر یہ فیصلہ ان والدین کے لیے خوش آئند ہے جو پہلے ہی مہنگائی بجلی و گیس کے بلوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات نے متوسط اور غریب خاندانوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں اس لیے والدین کو ریلیف دینے کی کوشش کی حمایت ہونی چاہیے مگر اس کے ساتھ چند بنیادی سوالات کا جواب بھی ضروری ہے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب کیا یہ حکم تمام نجی اسکولوں پر یکساں لاگو ہوگا کوئٹہ میں دی سٹی اسکول بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کے جونیپر کیمپس وائلڈرنس اسکول اینڈ کالج لرنر اسکول جناح ایلیٹ اسکول کے کیمبرج کیمپس آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج اور گیریژن اکیڈمی نیز پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز جیسے معروف تعلیمی ادارے موجود ہیں ان میں مختلف نصاب تعلیمی نظام انتظامی ڈھانچے اور فیسوں کے طریقۂ کار رائج ہیں کیا ڈپٹی کمشنر ویسٹ کے اجلاس میں ان تمام اداروں کی انتظامیہ نے شرکت کی کیا ان کے مرکزی دفاتر یا مجاز نمائندوں نے اس فیصلے کو تسلیم کیا؟ کیا کینٹ اور گیریژن کے تحت چلنے والے اسکولوں کو بھی اس ہدایت سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے اور کیا متعلقہ اداروں نے اس پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے یہ سوال کسی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ یکساں قانون کے اصول کو واضح کرنے کے لیے ہیں اگر ایک چھوٹا نجی اسکول ضلعی انتظامیہ کے حکم پر عمل کرے مگر کسی بڑے تعلیمی نیٹ ورک یا الگ انتظامی نظام کے تحت چلنے والے ادارے کے لیے اس حکم کا نفاذ واضح نہ ہو تو والدین کو یکساں ریلیف کیسے ملے گا قانون کیا کہتا ہے بلوچستان میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے لیے The Balochistan Private Educational Institution Registration and Regulation Authority Act, 2015 موجود ہے اس قانون کی دفعہ 4 میں تعلیمی سیشن تعطیلات اور فیس کے تعین کو متعلقہ اتھارٹی کے مقاصد میں شامل کیا گیا ہے جبکہ دفعہ 5 نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ریگولیشن اور مختلف اقسام کی فیسوں کے تعین سے متعلق اختیارات بیان کرتی ہے دفعہ 17 حکومت کو فیس ریگولیٹری کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیتی ہے، جو اداروں کے مقام معیار اساتذہ اور سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس کے معاملات دیکھ سکتی ہے اس قانونی فریم ورک کی موجودگی میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ کو کسی مخصوص قانونی دفعہ حکومتی نوٹیفکیشن یا مجاز اتھارٹی کے ذریعے سردیوں کی دو ماہ کی فیس معاف کرانے کا اختیار تفویض کیا گیا ہے اگر ایسا ہے تو متعلقہ قانونی حوالہ عوام کے سامنے آنا چاہیے اگر اجلاس میں صرف زبانی ہدایت دی گئی ہے تو اس کا تحریری حکم دائرۂ اطلاق اور نفاذ کا طریقۂ کار بھی واضح کیا جانا چاہیے یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ انتظامی افسر کا اجلاس بلانا فریقین سے بات کرنا اور ریلیف کی سفارش کرنا ایک بات ہے جبکہ کسی قانونی اختیار کے تحت لازمی حکم جاری کرنا دوسری بات ہے محض اس بنیاد پر کہ حکم ایک ڈپٹی کمشنر نے دیا ہے اس کے قانونی جواز یا تمام اداروں پر لازمی اطلاق کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور سپریم کورٹ کے فیصلے 26 جولائی 2025 کو روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں نجی اسکولوں سے سردیوں اور گرمیوں کی تعطیلات کے تین ماہ کے دوران ٹیوشن فیس وصول نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اس قرارداد میں تعطیلات کی فیس پیشگی وصول کرنے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی تھی یہ قرارداد اس بات کا ثبوت ہے کہ تعطیلات کی فیس کا مسئلہ صوبے کے منتخب ایوان میں بھی زیرِ بحث آ چکا ہے تاہم قرارداد اور نافذ العمل قانون میں فرق ہے اب حکومت بلوچستان اور متعلقہ تعلیمی اتھارٹی کو واضح کرنا چاہیے کہ اس قرارداد کے بعد کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا قانونی اقدام کیا گیا یا نہیں اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق مقدمات میں اہم فیصلے کیے ہیں 12 جون 2019ء کے فیصلے میں مختلف صوبوں کے قانونی ضابطوں اور سالانہ فیس میں اضافے کے تنازعات کا جائزہ لیا گیا اس فیصلے کو سادہ الفاظ میں یہ کہنا کہ پاکستان کے ہر نجی اسکول پر ہر صورت صرف پانچ فیصد سالانہ اضافے کی ایک ہی پابندی ہے قانونی طور پر درست نہیں فیصلے میں سندھ اور پنجاب کے متعلقہ قوانین اور قواعد کا الگ الگ جائزہ لیا گیا تھا یہ فیصلہ فیسوں کے ضابطے اور ریاست کے اختیارات کو سمجھنے کے لیے اہم ضرور ہے لیکن اسے سردیوں کی دو ماہ کی فیس معاف کرنے یا ڈپٹی کمشنر کے اختیار کا براہِ راست فیصلہ قرار دینے سے پہلے اس کے اصل متن اور متعلقہ قانونی دفعات کا جائزہ ضروری ہے اسی طرح بلوچستان ہائی کورٹ کے کسی ایسے مخصوص فیصلے کا مصدقہ حوالہ سامنے لانا چاہیے جو اسی نوعیت کے حکم اور اختیار کا براہِ راست تعین کرتا ہو مجھے ڈپٹی کمشنر طاہر عباسی صاحب کے دور کی میٹنگز بھی یاد ہیں مجھے یاد ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر عباسی صاحب کے دور میں بھی نجی اسکولوں کی فیسوں کے حوالے سے ایسے احکامات اور ہدایات زیرِ بحث آئی تھیں کہ سالانہ فیس میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کیا جائے اس وقت ڈپٹی کمشنر صاحب نے دو اجلاسوں کے بعد مجھے اپنا فوکل پرسن مقرر کیا تھا میں نے ایک دو اسکولوں کا وزٹ بھی کیا تھا ان اجلاسوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے نمائندوں کی شرکت اور عدم شرکت کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا کئی ملکی سطح کے اسکول نیٹ ورکس کے نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے جبکہ بعض اداروں کے ایڈمن آفیسرز نے شرکت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ڈپٹی کمشنر کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کریں گے اس تجربے نے ایک بنیادی حقیقت واضح کی کہ اجلاس میں فیصلہ یا ہدایت جاری کر دینا ایک مرحلہ ہے، لیکن مختلف انتظامی ڈھانچوں اور مرکزی پالیسیوں کے تحت چلنے والے اداروں سے اس پر عمل درآمد کرانا الگ مرحلہ ہے۔ اسی لیے موجودہ معاملے میں بھی صرف اعلان کافی نہیں ہوگا؛ اس کے لیے واضح قانونی بنیاد، تحریری ہدایت، متعلقہ اداروں کو باضابطہ ابلاغ اور مؤثر نگرانی درکار ہوگی جناب ڈپٹی کمشنر صاحب پہلے فیس ادا کرنے والے والدین کا کیا ہوگا متعدد والدین نے مجھے پیغامات بھیجے ہیں کہ وہ سردیوں کی تعطیلات کی فیس پہلے ہی ادا کر چکے ہیں اب ان خاندانوں کا سوال ہے کہ اگر دو ماہ کی فیس نہ لینے کا حکم نافذ ہوتا ہے تو ان کی ادا شدہ رقم کا کیا بنے گا کیا اسکول یہ رقم واپس کریں گے کیا اسے اگلے مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کیا جائے گا یا یہ رعایت صرف ان والدین کو ملے گی جنہوں نے ابھی فیس ادا نہیں کی
یہ ایک عملی اور اہم سوال ہے اگر حکومت یا مجاز اتھارٹی کا مقصد والدین کو ریلیف دینا ہے تو اس ریلیف کا طریقۂ کار بھی واضح ہونا چاہیے پہلے سے ادائیگی کرنے والے والدین کو نظرانداز کرنا یا ان کے لیے کوئی وضاحت نہ دینا غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرے گا تاہم رقم کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ بھی متعلقہ نافذ العمل حکم اور اس کی قانونی بنیاد کے مطابق طے ہونا چاہیے کیا قانون صرف غریب اور چھوٹے اسکولوں کے لیے ہے یہ سوال کسی مخصوص اسکول کو بدنام کرنے کے لیے نہیں بلکہ انتظامی انصاف کے لیے ہے اگر حکم تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے ہے تو اس کی حدود متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں اور عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی کا طریقۂ کار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے
کینٹ یا گیریژن کے تحت چلنے والے اداروں کی انتظامی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے اس لیے ان پر حکم کے اطلاق کا تعین متعلقہ قانون رجسٹریشن اور مجاز اتھارٹی کے دائرۂ اختیار کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے اسی طرح قومی سطح کے نجی اسکول نیٹ ورکس کو محض اپنے مرکزی نظام یا شہرت کی بنیاد پر قانون سے مستثنیٰ تصور نہیں کیا جا سکتا مگر کسی مخصوص ادارے پر پابندی نافذ کرنے کے لیے متعلقہ قانونی بنیاد واضح ہونا ضروری ہے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس ہدایت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے کیا اسکولوں سے تحریری یقین دہانیاں لی گئی ہیں کیا والدین کے لیے شکایات درج کرانے کا نظام موجود ہے اور کیا حکومت بلوچستان کی متعلقہ تعلیمی اتھارٹی اس فیصلے کی قانونی حیثیت اور عملی نفاذ کے بارے میں واضح مؤقف دے گی
میری تنقید برائے اصلاح ہے مخالفت برائے مخالفت نہیں میرا مقصد بچوں اور والدین کو ملنے والے ریلیف کی مخالفت کرنا نہیں بچوں کو تعلیم کے ساتھ سہولت والدین کو مناسب مالی ریلیف اور تعلیمی اداروں کو قانون کے مطابق چلنے کا موقع ملنا چاہیے ریاست کا کام یہ ہے کہ والدین کے مفادات بچوں کے تعلیمی حقوق اور اداروں کے قانونی تقاضوں میں توازن قائم کرے اگر سردیوں کی تعطیلات میں فیس کی وصولی روکنے کے لیے قانون کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے تو اسے شفاف طریقے سے نافذ کیا جائے اگر مزید حکومتی نوٹیفکیشن یا متعلقہ اتھارٹی کی منظوری درکار ہے تو وہ قانونی طریقۂ کار مکمل کیا جائے اور اگر کسی حکم کے دائرۂ اختیار یا نفاذ کے بارے میں ابہام ہے تو اسے فوری طور پر دور کیا جائے آخر میں ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں تین باتیں واضح کریں حکم کی قانونی بنیاد کیا ہے اس کا اطلاق کن اداروں پر ہوگا اور پہلے سے فیس ادا کرنے والے والدین کو ریلیف کیسے ملے گا والدین کو ریلیف دینا ایک اچھا مقصد ہے مگر اچھے مقصد کو پائیدار بنانے کے لیے قانون شفافیت اور یکساں عمل درآمد ضروری ہیں عوام کو صرف اعلان نہیں اس کے نتائج بھی نظر آنے چاہییں کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ اجلاس میں کیا کہا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ قانون کے مطابق فیصلہ کیسے نافذ ہوگا اور کیا اس سے ہر متعلقہ والدین کو یکساں فائدہ پہنچے گا

10/10/2026

GET READY, QUETTA! BA MALL GRAND OPENING IS HERE! 🎉
The wait is finally over! BA Mall Grand Opening is happening on October 18, 19 & 20 in Quetta.
✨ Experience the launch of:
🍴 Food Court
🏢 Office Area
🛍️ Multiple Shops
And before the Grand Opening, explore the special Furniture Expo on October 9 & 10, featuring modern furniture and stylish home décor.
🎁 JEETO BALOCHISTAN — WIN BIG!
The celebrations come with exciting prizes, including:
🏪 Shop
🚗 Car
🏍️ Motorcycles
🎁 Gift Hampers

…and many more exciting prizes!
📅 Furniture Expo:October 9–10
📅 Grand Opening: October 18–20
📍 BA Mall, Quetta
Come with your family, enjoy the celebrations, explore BA Mall, and who knows, the next big prize could be yours! ✨

کچھی: ضلع کچھی کے علاقے گوگڑہ رئیسانی میں سرکاری اسکول سے نامعلوم مسلح افراد ایک ملازم کو اغواء کرکے لے گئے۔پولیس رپورٹ ...
10/10/2026

کچھی: ضلع کچھی کے علاقے گوگڑہ رئیسانی میں سرکاری اسکول سے نامعلوم مسلح افراد ایک ملازم کو اغواء کرکے لے گئے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق واقعہ 10 اکتوبر 2026 کو صبح تقریباً 9 بجے تھانہ ہاجی شہر کی حدود میں پیش آیا، جہاں موٹر سائیکلوں پر سوار چھ نامعلوم افراد نے سرکاری ملازم نظام ولد کریم بخش سولنگی کو اغواء کر لیا۔

مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسکول پر دھاوا بولنے والے افراد کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے سے ہے۔

ذرائع کے مطابق اساتذہ پر مبینہ طور پر ریاست مخالف تعلیم دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور انکار کی صورت میں اسکول بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں جبکہ قانونی کارروائی جاری ہے۔

تاہم، اب اغواء میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے ملوث ہونے اور اساتذہ کو دھمکیاں دینے سے متعلق دعووں کی آزادانہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

کیا پاکستان کرائے کا مکان ہے جس کے کئی مالکان ہیں  فیصلے ہمارے ملک کے لیکن مرضی دوسروں کی چلتی ہے اسی لئے آج ہمارے ملک ک...
10/10/2026

کیا پاکستان کرائے کا مکان ہے جس کے کئی مالکان ہیں فیصلے ہمارے ملک کے لیکن مرضی دوسروں کی چلتی ہے اسی لئے آج ہمارے ملک کا یہ حال ہے

ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں شکست نہیں کھاتیں بعض اوقات اپنے حکمرانوں کی خود غرضی بدعنوانی اور غلط پالیسیوں سے اندر ہی اندر کھوکھلی ہو جاتی ہیں آج پاکستان کے حالات دیکھ کر ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کیا ہمارا ملک واقعی آزاد ہے یا اس کے فیصلوں پر دوسروں کی مرضی کا سایہ ہے پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے ایک ایٹمی قوت ہے اور ہمارے پاس قدرتی وسائل کی بھی کمی نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی معاشی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں ایران اور روس سے گیس تیل خریدنے کی بات ہو تو عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے سعودی عرب سے تعلقات میں پیش رفت ہو تو ایران کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کا سوال پیدا ہوتا ہے گوادر کی ترقی بھی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے الگ نہیں آخر ہم کب اپنی قومی ترجیحات کا تعین خود کریں گے دنیا کے ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں لیکن کامیاب قومیں دوسروں کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اصل خودمختاری صرف فوجی طاقت کا نام نہیں بلکہ مضبوط معیشت معیاری تعلیم انصاف اور دیانت دار حکمرانی کا مجموعہ ہے انقلابِ فرانس ہمیں کیا سکھاتا ہے
سنہ 1789ء میں فرانس کا انقلاب محض بادشاہت کے خلاف بغاوت نہیں تھا اس کے پیچھے معاشی بحران طبقاتی ناانصافی اور شاہانہ اخراجات بھی تھے مراعات یافتہ طبقہ آسائشوں میں زندگی گزار رہا تھا جبکہ عام شہری مشکلات کا شکار تھے بالآخر عوامی ردعمل نے صدیوں پرانے نظام کو ہلا کر رکھ دیا تاہم انقلاب کے بعد فرانس کو تشدد اور انتشار سے بھی گزرنا پڑا اس تاریخ کا سبق یہ ہے کہ عوامی حقوق کو نظرانداز کرنے اور اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے قرآنِ مجید میں قومِ نوحؑ عاد ثمود اور فرعون کے واقعات انسان کو ظلم تکبر اور نافرمانی کے انجام سے خبردار کرتے ہیں فرعون نے اقتدار کے نشے میں ظلم کیا اور بالآخر غرق ہوا یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ طاقت ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتی اور ظلم کا انجام اچھا نہیں ہوتا ہمیں قدرتی آفات یا ہر معاشی بحران کو بلا دلیل عذاب قرار دینے.

10/10/2026

کوئٹہ: سماجی رہنما شےمرید رشید بلوچ کا طلباء کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب، بروری روٹ پر فوری لوکل بس سروس بحال کرنے کا مطالبہ۔

کوئٹہ میں سماجی رہنما شےمرید رشید بلوچ نے بروری روڈ پر لوکل بسوں کی بندش کے خلاف طلباء کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے بروری روڈ تا جناح روڈ اور بلوچستان یونیورسٹی تا جناح ٹاؤن کے روٹس پر لوکل بس سروس کو خستہ حالی کے نام پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث طلباء و طالبات سمیت عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ان روٹس پر پرانی لوکل بسوں کی جگہ گرین اور پنک بس سروس فراہم کی جائے گی، لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان اعلانات پر کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ حکومت کے وعدے آج بھی کاغذوں اور بیانات تک محدود ہیں، جبکہ طلباء روزانہ سفری مشکلات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

شےمرید رشید بلوچ نے کہا کہ حکومت ایک طرف جدید ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری جانب کوئٹہ کے اہم تعلیمی روٹس کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص طالبات کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت ایک سال سے زائد عرصے میں ان روٹس پر بس سروس بحال نہیں کر سکی تو اس کے اعلانات اور وعدوں پر عوام کیسے اعتماد کریں؟

انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بروری بائی پاس سے گولیمار چوک، جوائنٹ روڈ اور جناح روڈ سمیت بلوچستان یونیورسٹی تا جناح ٹاؤن کے روٹس پر فوری طور پر لوکل بس سروس بحال کی جائے۔ اگر گرین اور پنک بسوں کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے تو حکومت عارضی طور پر پرانی لوکل بسیں بحال کرکے طلباء و طالبات اور عام شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرے۔

ہم ابلیس نہیں کہ یو ٹرن نہیں لے سکتے جہاں غلطی ہو گی یا کسی رکن اسمبلی کی دل آزاری ہوگی تو اس پر معافی مانگیں گے آپ جو م...
09/10/2026

ہم ابلیس نہیں کہ یو ٹرن نہیں لے سکتے جہاں غلطی ہو گی یا کسی رکن اسمبلی کی دل آزاری ہوگی تو اس پر معافی مانگیں گے آپ جو مرضی اخبارات میں میرے خلاف چھاپ دے میری مخالف سے آپ کی شہرت ہورہی ہیں تو سو بسم اللہ ہم اپنی غلطیاں سدھاریں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

09/10/2026
09/10/2026

میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی برطانیہ میں پڑھ رہی ہے۔ بلوچستان کے عوام کی مشکلات کو سمجھ سکتا ہوں۔ سرفراز بگٹی

باہر سے حملہ یا اندر سے رسائی؟ بلوچستان کے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالاتکوئٹہ: بلوچستان میں سیکیورٹی خطرات صرف بیرونی حم...
09/10/2026

باہر سے حملہ یا اندر سے رسائی؟ بلوچستان کے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات

کوئٹہ: بلوچستان میں سیکیورٹی خطرات صرف بیرونی حملوں تک محدود نہیں رہے، سرکاری اداروں کے اندر مبینہ طور پر موجود عناصر نے بھی سیکیورٹی نظام کے لیے نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ سینئر انویسٹی گیٹو صحافی عمر چیمہ نے اپنے حالیہ وی لاگ میں پولیس کے اندرونی معاملات سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔

عمر چیمہ کے مطابق 871 پولیس اہلکاروں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر محکمہ سے برطرف کیا گیا۔ ان میں غیر حاضر رہنے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکار شامل ہیں۔

تاہم عمر چیمہ کے مطابق ان برطرفیوں میں کچھ ایسے اہلکار بھی شامل تھے جن پر مبینہ طور پر کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کے ساتھ روابط یا معاونت کا الزام تھا۔

وی لاگ میں ایک واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے عمر چیمہ نے دعویٰ کیا کہ ایک اہلکار اپنی سرکاری رسائی استعمال کرکے سیکیورٹی گارڈز سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کو فراہم کر رہا تھا۔

ان کے مطابق اس معلومات میں گارڈز کی تعداد، ڈیوٹی کے اوقات اور شفٹوں کی تبدیلی سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایسے معاملات سیکیورٹی نظام کے لیے انتہائی حساس نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔

ایک دوسرے سرکاری ملازم کے بارے میں بھی عمر چیمہ نے مبینہ طور پر جاسوسی میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔

وی لاگ میں پولیس اور سیکیورٹی نظام کی اصلاحات کے دوسرے پہلو بھی سامنے آئے۔ کوئٹہ میں 2900 نئے کیمروں کی تنصیب اور مختلف شخصیات کے پروٹوکول پر مامور 1005 اہلکاروں کی واپسی کا ذکر کیا گیا۔

عمر چیمہ کے مطابق یہ اہلکار لیویز سے تعلق رکھتے تھے اور لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے بعد ان کی افرادی قوت کو دیگر سیکیورٹی ذمہ داریوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھرتی کے نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ عمر چیمہ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک امتحان کا انعقاد کیا گیا اور نتائج بھی اسی دن جاری کیے گئے۔

ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بھرتی کے عمل کو شفاف بنانا اور نقل یا غیر ضروری مداخلت کے امکانات کو محدود کرنا تھا۔

عمر چیمہ کے تجزیے کے مطابق بلوچستان میں ریاست کو ایک پیچیدہ چومکھی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ اداروں کے اندر احتساب، انتظامی اصلاحات اور عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ریاستی اداروں کے مقابلے میں مسلح یا جرائم پیشہ عناصر زیادہ طاقتور نظر آنے لگیں تو ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے۔

اسی لیے ان کے مطابق مذاکرات کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ریاست کو اپنی رٹ بھی مؤثر انداز میں قائم رکھنا ہوگی۔

Address

Quetta City
Quetta
87300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Click Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Click Balochistan:

Shortcuts

Share