10/10/2026
دو ماہ کی فیس معاف کریں ڈپٹی کمشنر ویسٹ ، سوال یہ ہے حکم پر عمل کون کرائے گا کیا ڈپٹی کمشنر صاحب یہ اختیار رکھتے ہیں یا صرف میڈیا پر مشہوری کے لئے یہ یہ بیان جاری کیا ہے ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ سے چند قانونی اور عوامی سوالات
ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند
دنیا میں قانون کی حکمرانی کا ایک بنیادی اصول ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ خوش آئند ضرور ہے لیکن اس فیصلے کی قانونی بنیاد دائرۂ اختیار اور یکساں عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے اگر کسی حکم کا اطلاق صرف کمزور طبقے پر ہو اور بڑے ادارے اس سے مستثنیٰ رہیں تو پھر سوال حکم کی نیت سے زیادہ اس کے نفاذ پر اٹھتا ہے
اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ نے گزشتہ روز نجی تعلیمی اداروں کے ایک اجلاس میں ہدایت کی ہے کہ سردیوں کی دو ماہ کی تعطیلات کے دوران نجی اسکول فیس وصول نہیں کریں گے بظاہر یہ فیصلہ ان والدین کے لیے خوش آئند ہے جو پہلے ہی مہنگائی بجلی و گیس کے بلوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں بچوں کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات نے متوسط اور غریب خاندانوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں اس لیے والدین کو ریلیف دینے کی کوشش کی حمایت ہونی چاہیے مگر اس کے ساتھ چند بنیادی سوالات کا جواب بھی ضروری ہے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب کیا یہ حکم تمام نجی اسکولوں پر یکساں لاگو ہوگا کوئٹہ میں دی سٹی اسکول بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کے جونیپر کیمپس وائلڈرنس اسکول اینڈ کالج لرنر اسکول جناح ایلیٹ اسکول کے کیمبرج کیمپس آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج اور گیریژن اکیڈمی نیز پاک ترک معارف انٹرنیشنل اسکولز جیسے معروف تعلیمی ادارے موجود ہیں ان میں مختلف نصاب تعلیمی نظام انتظامی ڈھانچے اور فیسوں کے طریقۂ کار رائج ہیں کیا ڈپٹی کمشنر ویسٹ کے اجلاس میں ان تمام اداروں کی انتظامیہ نے شرکت کی کیا ان کے مرکزی دفاتر یا مجاز نمائندوں نے اس فیصلے کو تسلیم کیا؟ کیا کینٹ اور گیریژن کے تحت چلنے والے اسکولوں کو بھی اس ہدایت سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے اور کیا متعلقہ اداروں نے اس پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے یہ سوال کسی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ یکساں قانون کے اصول کو واضح کرنے کے لیے ہیں اگر ایک چھوٹا نجی اسکول ضلعی انتظامیہ کے حکم پر عمل کرے مگر کسی بڑے تعلیمی نیٹ ورک یا الگ انتظامی نظام کے تحت چلنے والے ادارے کے لیے اس حکم کا نفاذ واضح نہ ہو تو والدین کو یکساں ریلیف کیسے ملے گا قانون کیا کہتا ہے بلوچستان میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے لیے The Balochistan Private Educational Institution Registration and Regulation Authority Act, 2015 موجود ہے اس قانون کی دفعہ 4 میں تعلیمی سیشن تعطیلات اور فیس کے تعین کو متعلقہ اتھارٹی کے مقاصد میں شامل کیا گیا ہے جبکہ دفعہ 5 نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ریگولیشن اور مختلف اقسام کی فیسوں کے تعین سے متعلق اختیارات بیان کرتی ہے دفعہ 17 حکومت کو فیس ریگولیٹری کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیتی ہے، جو اداروں کے مقام معیار اساتذہ اور سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس کے معاملات دیکھ سکتی ہے اس قانونی فریم ورک کی موجودگی میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ کو کسی مخصوص قانونی دفعہ حکومتی نوٹیفکیشن یا مجاز اتھارٹی کے ذریعے سردیوں کی دو ماہ کی فیس معاف کرانے کا اختیار تفویض کیا گیا ہے اگر ایسا ہے تو متعلقہ قانونی حوالہ عوام کے سامنے آنا چاہیے اگر اجلاس میں صرف زبانی ہدایت دی گئی ہے تو اس کا تحریری حکم دائرۂ اطلاق اور نفاذ کا طریقۂ کار بھی واضح کیا جانا چاہیے یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ انتظامی افسر کا اجلاس بلانا فریقین سے بات کرنا اور ریلیف کی سفارش کرنا ایک بات ہے جبکہ کسی قانونی اختیار کے تحت لازمی حکم جاری کرنا دوسری بات ہے محض اس بنیاد پر کہ حکم ایک ڈپٹی کمشنر نے دیا ہے اس کے قانونی جواز یا تمام اداروں پر لازمی اطلاق کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور سپریم کورٹ کے فیصلے 26 جولائی 2025 کو روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں نجی اسکولوں سے سردیوں اور گرمیوں کی تعطیلات کے تین ماہ کے دوران ٹیوشن فیس وصول نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اس قرارداد میں تعطیلات کی فیس پیشگی وصول کرنے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی تھی یہ قرارداد اس بات کا ثبوت ہے کہ تعطیلات کی فیس کا مسئلہ صوبے کے منتخب ایوان میں بھی زیرِ بحث آ چکا ہے تاہم قرارداد اور نافذ العمل قانون میں فرق ہے اب حکومت بلوچستان اور متعلقہ تعلیمی اتھارٹی کو واضح کرنا چاہیے کہ اس قرارداد کے بعد کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا قانونی اقدام کیا گیا یا نہیں اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق مقدمات میں اہم فیصلے کیے ہیں 12 جون 2019ء کے فیصلے میں مختلف صوبوں کے قانونی ضابطوں اور سالانہ فیس میں اضافے کے تنازعات کا جائزہ لیا گیا اس فیصلے کو سادہ الفاظ میں یہ کہنا کہ پاکستان کے ہر نجی اسکول پر ہر صورت صرف پانچ فیصد سالانہ اضافے کی ایک ہی پابندی ہے قانونی طور پر درست نہیں فیصلے میں سندھ اور پنجاب کے متعلقہ قوانین اور قواعد کا الگ الگ جائزہ لیا گیا تھا یہ فیصلہ فیسوں کے ضابطے اور ریاست کے اختیارات کو سمجھنے کے لیے اہم ضرور ہے لیکن اسے سردیوں کی دو ماہ کی فیس معاف کرنے یا ڈپٹی کمشنر کے اختیار کا براہِ راست فیصلہ قرار دینے سے پہلے اس کے اصل متن اور متعلقہ قانونی دفعات کا جائزہ ضروری ہے اسی طرح بلوچستان ہائی کورٹ کے کسی ایسے مخصوص فیصلے کا مصدقہ حوالہ سامنے لانا چاہیے جو اسی نوعیت کے حکم اور اختیار کا براہِ راست تعین کرتا ہو مجھے ڈپٹی کمشنر طاہر عباسی صاحب کے دور کی میٹنگز بھی یاد ہیں مجھے یاد ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر عباسی صاحب کے دور میں بھی نجی اسکولوں کی فیسوں کے حوالے سے ایسے احکامات اور ہدایات زیرِ بحث آئی تھیں کہ سالانہ فیس میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کیا جائے اس وقت ڈپٹی کمشنر صاحب نے دو اجلاسوں کے بعد مجھے اپنا فوکل پرسن مقرر کیا تھا میں نے ایک دو اسکولوں کا وزٹ بھی کیا تھا ان اجلاسوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے نمائندوں کی شرکت اور عدم شرکت کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا کئی ملکی سطح کے اسکول نیٹ ورکس کے نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے جبکہ بعض اداروں کے ایڈمن آفیسرز نے شرکت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ڈپٹی کمشنر کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کریں گے اس تجربے نے ایک بنیادی حقیقت واضح کی کہ اجلاس میں فیصلہ یا ہدایت جاری کر دینا ایک مرحلہ ہے، لیکن مختلف انتظامی ڈھانچوں اور مرکزی پالیسیوں کے تحت چلنے والے اداروں سے اس پر عمل درآمد کرانا الگ مرحلہ ہے۔ اسی لیے موجودہ معاملے میں بھی صرف اعلان کافی نہیں ہوگا؛ اس کے لیے واضح قانونی بنیاد، تحریری ہدایت، متعلقہ اداروں کو باضابطہ ابلاغ اور مؤثر نگرانی درکار ہوگی جناب ڈپٹی کمشنر صاحب پہلے فیس ادا کرنے والے والدین کا کیا ہوگا متعدد والدین نے مجھے پیغامات بھیجے ہیں کہ وہ سردیوں کی تعطیلات کی فیس پہلے ہی ادا کر چکے ہیں اب ان خاندانوں کا سوال ہے کہ اگر دو ماہ کی فیس نہ لینے کا حکم نافذ ہوتا ہے تو ان کی ادا شدہ رقم کا کیا بنے گا کیا اسکول یہ رقم واپس کریں گے کیا اسے اگلے مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کیا جائے گا یا یہ رعایت صرف ان والدین کو ملے گی جنہوں نے ابھی فیس ادا نہیں کی
یہ ایک عملی اور اہم سوال ہے اگر حکومت یا مجاز اتھارٹی کا مقصد والدین کو ریلیف دینا ہے تو اس ریلیف کا طریقۂ کار بھی واضح ہونا چاہیے پہلے سے ادائیگی کرنے والے والدین کو نظرانداز کرنا یا ان کے لیے کوئی وضاحت نہ دینا غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرے گا تاہم رقم کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ بھی متعلقہ نافذ العمل حکم اور اس کی قانونی بنیاد کے مطابق طے ہونا چاہیے کیا قانون صرف غریب اور چھوٹے اسکولوں کے لیے ہے یہ سوال کسی مخصوص اسکول کو بدنام کرنے کے لیے نہیں بلکہ انتظامی انصاف کے لیے ہے اگر حکم تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے ہے تو اس کی حدود متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں اور عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی کا طریقۂ کار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے
کینٹ یا گیریژن کے تحت چلنے والے اداروں کی انتظامی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے اس لیے ان پر حکم کے اطلاق کا تعین متعلقہ قانون رجسٹریشن اور مجاز اتھارٹی کے دائرۂ اختیار کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے اسی طرح قومی سطح کے نجی اسکول نیٹ ورکس کو محض اپنے مرکزی نظام یا شہرت کی بنیاد پر قانون سے مستثنیٰ تصور نہیں کیا جا سکتا مگر کسی مخصوص ادارے پر پابندی نافذ کرنے کے لیے متعلقہ قانونی بنیاد واضح ہونا ضروری ہے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس ہدایت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے کیا اسکولوں سے تحریری یقین دہانیاں لی گئی ہیں کیا والدین کے لیے شکایات درج کرانے کا نظام موجود ہے اور کیا حکومت بلوچستان کی متعلقہ تعلیمی اتھارٹی اس فیصلے کی قانونی حیثیت اور عملی نفاذ کے بارے میں واضح مؤقف دے گی
میری تنقید برائے اصلاح ہے مخالفت برائے مخالفت نہیں میرا مقصد بچوں اور والدین کو ملنے والے ریلیف کی مخالفت کرنا نہیں بچوں کو تعلیم کے ساتھ سہولت والدین کو مناسب مالی ریلیف اور تعلیمی اداروں کو قانون کے مطابق چلنے کا موقع ملنا چاہیے ریاست کا کام یہ ہے کہ والدین کے مفادات بچوں کے تعلیمی حقوق اور اداروں کے قانونی تقاضوں میں توازن قائم کرے اگر سردیوں کی تعطیلات میں فیس کی وصولی روکنے کے لیے قانون کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے تو اسے شفاف طریقے سے نافذ کیا جائے اگر مزید حکومتی نوٹیفکیشن یا متعلقہ اتھارٹی کی منظوری درکار ہے تو وہ قانونی طریقۂ کار مکمل کیا جائے اور اگر کسی حکم کے دائرۂ اختیار یا نفاذ کے بارے میں ابہام ہے تو اسے فوری طور پر دور کیا جائے آخر میں ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں تین باتیں واضح کریں حکم کی قانونی بنیاد کیا ہے اس کا اطلاق کن اداروں پر ہوگا اور پہلے سے فیس ادا کرنے والے والدین کو ریلیف کیسے ملے گا والدین کو ریلیف دینا ایک اچھا مقصد ہے مگر اچھے مقصد کو پائیدار بنانے کے لیے قانون شفافیت اور یکساں عمل درآمد ضروری ہیں عوام کو صرف اعلان نہیں اس کے نتائج بھی نظر آنے چاہییں کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ اجلاس میں کیا کہا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ قانون کے مطابق فیصلہ کیسے نافذ ہوگا اور کیا اس سے ہر متعلقہ والدین کو یکساں فائدہ پہنچے گا