18/05/2026
رند اور لہڑی قبائل کے معزز بزرگوں، نوجوانوں اور تمام بھائیوں کے نام نذیر بلوچستانی کا میسج
آ ج رند اور لہڑی کا زمینی تنازع کا سن کر دل کو بہت دکھ اور درد ہوا۔ ایک چھوٹا سا نصیحت نامہ ان دونوں قوموں کے لیے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زمین کا ایک ٹکڑا اتنا بڑا نہیں ہو سکتا کہ دو بھائیوں کے دلوں کے درمیان دیوار بن جائے۔ رند اور لہڑی - یہ دو نام نہیں، یہ بلوچستان کی مٹی کے دو بازو ہیں، دو پہچان ہیں، دو شجاع قومیں ہیں جن کی تاریخ مشترکہ قربانیوں اور غیرت سے لکھی گئی ہے۔
آج اگر زمین کے ایک مسئلے پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں، تو یہ زمین کا مسئلہ نہیں، یہ سمجھ کا مسئلہ ہے۔ اور سمجھ ہمیشہ بندوق سے نہیں، بیٹھ کر بات کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
یاد رکھیں:
1. قبائل کا وقار لڑائی میں نہیں، صلح میں ہے
تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے غصے میں فیصلہ کیا، وہ پچھتائی۔ اور جس نے صبر سے جرگہ بٹھایا، وہ سرخرو ہوئی۔ رند و لہڑی کا نام اسی لیے لیا جاتا ہے کہ یہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔
2. زمین رہ جائے گی، مگر رشتے نہیں
اگر آج یہ تنازع خون میں بدل گیا، تو کل ہمارے بچے ایک دوسرے کو نام لے کر نہیں پہچانیں گے، صرف دشمن سمجھیں گے۔ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ ورثہ دیں گے؟
3. عدل ہی سب سے بڑی طاقت ہے
ہمارے رواج، ہمارا جرگہ، اور ہمارا دین - تینوں کا فیصلہ یہی ہے کہ حق جس کا ہے، اسے ملے۔ اس لیے کیوں نہ دونوں فریق غیر جانبدار، معزز اور دیندار بزرگوں پر مشتمل ایک جرگہ بنائیں؟ جو دستاویزات دیکھے، پرانے لوگوں سے پوچھے، اور اللہ کو حاضر ناظر جان کر فیصلہ کرے۔
پیغام یہ ہے:
آؤ، اس زمین کو نفرت کی قبر نہ بنائیں، بلکہ بھائی چارے کی بنیاد بنائیں۔
آؤ، اپنے اسلحے نیچے رکھ کر اپنے بڑوں کی وہ روایت زندہ کریں جہاں ایک لفظ "خدا حافظ" سے سالوں کی دشمنی ختم ہو جاتی تھی۔
آؤ، یہ ثابت کریں کہ رند اور لہڑی صرف لڑنا نہیں جانتے، بلکہ معاف کرنا اور ساتھ چلنا بھی جانتے ہیں۔
جس دن یہ دونوں قومیں ایک چادر کے نیچے بیٹھ کر چائے پیئیں گی، اس دن یہ زمین خود بخود دونوں کی ہو جائے گی - عزت کے ساتھ، برکت کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقل، صبر اور ایک دوسرے کا حق سمجھنے کی توفیق
منجانب ۔چنگیز ہجوانی