20/06/2026
اس نوجوان کا نام راشد ہے والد کا نام عبدالرزاق ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ شاید سال 2000 سے 2004 کے درمیان کسی سال میں یہ کم عمری میں گھر سے نکلا تھا راستہ بھول گیا آج تک گھر نہیں لوٹ سکا۔
راشد کا کہنا ہے کہ انکی فیملی گاؤں سے کراچی شفٹ ہوئی تھی۔ کراچی میں سال مکمل ہونے سے قبل وہ گم ہوا تھا۔
کراچی میں جہاں رہائش تھی گھر والوں کے ساتھ کبھی کبھی پہاڑی کی طرف گھومنے جاتے تھے۔ مدرسے سے کسی رشتےدار کے ہاں گیا تھا پھر وہاں سے اپنے گھر جانے کے لئے بس میں بیٹھ گیا کسی انجان جگہ پہنچا جہاں پولیس نے ریسکیو کرکے ایک شیلٹر میں داخل کردیا تھا۔ وہ دن آج کا دن راشد اپنوں سے جدا ہے۔
راشد کو والد کا نام عبدالرازق یاد ہے۔والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔
یہ اکلوتا بھائی تھا۔ تین بہنیں تھیں۔بڑی بہن گونگی تھی ،دوسری بہن کا نام عائشہ اور تیسری کا نام رمشہ تھا۔
والد مستری کا کام کرتا تھا۔گھر میں اردو بولتے تھے۔
کراچی میں گھر کے قریب پاپے بنانے والی فیکٹری تھی۔پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر پہاڑی تھی۔
ایک طرف راشد کی حالیہ تصویر ہے اور دوسری طرف بچپن کی۔
راشد والدین کا اکلوتا بیٹا تھا نجانے ماں اپنے شہزادے کے لئے کس کرب سے گزری ہوگی۔ جس بیٹے نے بڑے ہوکر ماں باپ کا سہارا بننا تھا وہ بھری جوانی میں لاوارث ہے ۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ ایک بچھڑا ہوا شہزادہ اپنوں کو مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج ہمارے فون نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
20 june 2026