30/07/2026
دل کو چھو لینے والا واقعہ
سعودی عرب، جو اسلام کی مقدس سرزمین ہے، وہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک میں لوگوں کو حیران بھی کیا اور جذباتی بھی۔ یہ واقعہ معافی، صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہش قربان کرنے کی ایک خوبصورت مثال بن گیا۔
10 فروری 2019 کو جدہ کے مشرقی علاقے الحمدانیہ میں چند نوجوانوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس جھگڑے کے دوران احمد القريقري الحربي نامی نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور مقدمہ عدالت میں پہنچ گیا۔ گواہوں کے بیانات اور شواہد کی بنیاد پر عدالت نے مترك عایض المسردي القحطاني کو قتل کا مجرم قرار دیا اور اسے قصاص کی سزا سنائی۔ کئی سال تک مختلف عدالتی مراحل مکمل ہوتے رہے، یہاں تک کہ اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کی تاریخ بھی مقرر ہو گئی۔
اس دوران قاتل کے خاندان، رشتہ داروں اور قبیلے کے معزز افراد بار بار مقتول کے والد حميد القريقري الحربي سے ملتے رہے۔ وہ ان سے درخواست کرتے تھے کہ وہ قاتل کو معاف کر دیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں لاکھوں سعودی ریال کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن انہوں نے ہر بار صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔
وقت گزرتا گیا اور جب قصاص پر عمل ہونے میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تو اچانک ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
مقتول کے والد خود قاتل کے گھر گئے اور سب کے سامنے اعلان کیا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی رحمت اور آخرت میں اجر کی امید پر قاتل کو معاف کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ اس معافی کے بدلے میں ایک ریال بھی قبول نہیں کریں گے۔
یہ خبر سنتے ہی قاتل کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قاتل اپنی والدہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب اس کی ماں کو معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے کو معاف کر دیا گیا ہے تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور مقتول کے والد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رونے لگی۔
سعودی عرب کے قانون کے مطابق اگر قتلِ عمد کے مقدمے میں مقتول کے ورثاء قصاص معاف کر دیں تو وہ دیت یا مالی معاوضہ لے سکتے ہیں۔ تاہم اس واقعے میں مقتول کے والد نے نہ قصاص لیا، نہ دیت قبول کی اور نہ ہی کسی قسم کا مالی فائدہ حاصل کیا۔ انہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی ترجیح بنایا۔
اسی وجہ سے اس فیصلے کو سعودی عرب میں رحم، صبر، برداشت اور معاف کرنے کی بہترین مثال قرار دیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ایک باپ کے لیے اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو معاف کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن ایسا کرنے والے لوگ معاشرے میں محبت، انسانیت اور درگزر کا ایسا سبق چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام صرف انصاف ہی نہیں بلکہ معاف کرنے اور رحم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے اپنا حق چھوڑ دیتا ہے تو اس کا یہ عمل دوسروں کے لیے بھی ایک روشن مثال بن جاتا ہے۔