06/03/2022
یوں تو اِس حُسن کے نغمے میں گایا نہیں کرتا
پر اِس چہرے سے نظر میں ہٹایا نہیں کرتا
کوئی اور نہ چھین لے تجھے مجھ سے
اب یہ ڈر تک میں خود کو لگایا نہیں کرتا
تیرے سوا کوئی اور میرے خوابوں میں آئے
ایسے خواب تو میں سجایا ہی نہیں کرتا
اور میرے لیے میرا اک ہمسفر ہی کافی ہے
ہر کسی کو میں اپنے سفر میں ملایا نہیں کرتا
جب سے اک عہد توڑا ہے میں نے
اب میں کوئی عہد نبھایا نہیں کرتا