جمالیات

جمالیات This page is about literature, art, poetry, and quotes. Those who love literature,art, poetry,beauty and nature please follow

غار کی تمثیلاپنی پوری زندگی اندھیرے میں گزارنے کا تصور کریں۔دی ریپبلیک کے سب سے مشہور اقتباسات میں سے ایک میں، افلاطون ن...
07/03/2026

غار کی تمثیل
اپنی پوری زندگی اندھیرے میں گزارنے کا تصور کریں۔
دی ریپبلیک کے سب سے مشہور اقتباسات میں سے ایک میں، افلاطون نے ایک عجیب اور طاقتور کہانی بیان کی ہے۔
ایک گہری غار کے اندر قیدیوں کو بچپن سے ہی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔ ان کے سر ٹھیک ہیں اس لیے وہ مڑ نہیں سکتے۔ وہ صرف ان کے سامنے دیوار ہی دیکھ سکتے ہیں۔
ان کے پیچھے آگ جلتی ہے۔
آگ اور قیدیوں کے درمیان، لوگ چیزیں لے کر گزرتے ہیں۔ آگ غار کی دیوار پر ان چیزوں کے سائے ڈالتی ہے۔
قیدیوں کے لیے وہ سائے حقیقت ہیں۔
انہوں نے کبھی حقیقی اشیاء کو نہیں دیکھا۔
انہوں نے کبھی باہر کی دنیا نہیں دیکھی۔
ان کے لیے سائے ہی وہ سب ہیں جو موجود ہیں۔
لیکن ایک دن، ایک قیدی آزاد ہو جاتا ہے.
پہلے تو وہ آگ کی طرف مڑتا ہے اور روشنی اس کی آنکھوں کو تکلیف دیتی ہے۔ سب کچھ الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جن سائے پر وہ کبھی یقین کرتا تھا وہ اچانک جھوٹے لگتے ہیں۔
پھر وہ غار کے منہ کی طرف چل پڑا۔
جب وہ آخر کار باہر قدم رکھتا ہے تو وہ سورج، آسمان، درخت، دریا اور اندھیرے سے پرے وسیع دنیا کو دیکھتا ہے۔
آہستہ آہستہ اسے حقیقت سمجھ آگئی:
ہر وہ چیز جس پر وہ کبھی یقین کرتا تھا صرف حقیقت کا سایہ تھا۔
افلاطون نے اس کہانی کو انسانی زندگی کے بارے میں کچھ گہرا سمجھانے کے لیے استعمال کیا۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے اپنے غاروں کے اندر رہتے ہیں۔
ہم آراء، روایات اور ظہور کو بغیر سوال کیے قبول کرتے ہیں۔ ہم سائے کو سچ سمجھ کر غلطی کرتے ہیں۔
فلسفہ، تعلیم اور تجسس ہی انسان کو غار سے باہر قدم رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
لیکن افلاطون نے ایک حتمی، المناک موڑ کا اضافہ کیا۔
جب آزاد ہونے والا قیدی غار میں واپس آتا ہے تاکہ دوسروں کو حقیقی دنیا کے بارے میں بتائے تو وہ اس پر یقین کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
درحقیقت، وہ اپنے وہم کو خراب کرنے کے لیے اسے مارنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
افلاطون کے لیے سچائی کا سب سے بڑا چیلنج اسے دریافت نہ کرنا ہے۔
یہ دوسروں کو سائے کو پیچھے چھوڑنے پر راضی کر رہا ہے۔
اور افلاطون نے جو سوال ہمیں چھوڑا ہے وہ پریشان کن ہے:
کیا ہم حقیقت کو دیکھ رہے ہیں… یا ہم اب بھی دیوار پر سائے دیکھ رہے ہیں؟

ہم کچھ لوگوں سے بغیر ملاقات کیے بھی محبت کر سکتے ہیں، یہی روح کی روح سےکشِش کہلاتی ہے۔♥️🌸
01/03/2026

ہم کچھ لوگوں سے بغیر ملاقات کیے بھی
محبت کر سکتے ہیں، یہی روح کی روح سے
کشِش کہلاتی ہے۔♥️🌸

جب نطشے کو یقین ہو گیا کہ اب اس کا اخری وقت آپہنچا ہے تو اس نے اپنی بہن سے کہا" یاد رکھو کسی پادری کو میری لاش کے قریب آ...
25/02/2026

جب نطشے کو یقین ہو گیا کہ اب اس کا اخری وقت آپہنچا ہے تو اس نے اپنی بہن سے کہا
" یاد رکھو کسی پادری کو میری لاش کے قریب آنے اور ریاکاری کے الفاظ ادا کرنے کی اجازت ہرگز نہ دینا ۔خیال رکھنا میری تدفین کسی پکے کافر کی طرح ہو کوئی جھوٹ وہاں نہ بولا جائے"

آغوش میں لوں، پاؤں پڑوں، کھینچ لوں دامن!!!ایک مدت سے جذبات کا لاوہ سنبھال رکھا ہےتم میری گرفت میں آٶ تو ساری وحشتیں اُتا...
23/02/2026

آغوش میں لوں، پاؤں پڑوں، کھینچ لوں دامن!!!ایک مدت سے جذبات کا لاوہ سنبھال رکھا ہے
تم میری گرفت میں آٶ تو ساری وحشتیں اُتار دوں ❤🌸

21/12/2025

پرانی عمارتیں ،پرانی گاڑیاں،پرانی موسیقی، اور بڑی عمر کی عورتیں باذوق لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں ۔

‎پہ تا مې ستا کاته هم نه دې پېرزو_*‎*_ستا د کور  ټولې ائینې ماتوم ❤️جمالیات
21/12/2025

‎پہ تا مې ستا کاته هم نه دې پېرزو_*
‎*_ستا د کور ټولې ائینې ماتوم ❤️

جمالیات

21/12/2025

محبت کا تقاضا غربت یا عمر سے نہیں ہوتا . محبت رنگ، روپ ،نسل نہیں دیکھتی محبت جس شخص سے ہوجاے اس کے نزدیک دنیا کی کل آبادی صرف ایک شخص 🖤

جمالیات 🥀

ناکام عاشق بہترین شاعری کرتا ہے، غزل گاتا ہے ، پہاڑوں میں گھومتا ہے اور عمدہ شراب پیتا ہے،مکمل عاشق سبزی لاتا ہے، آفس سے...
18/07/2025

ناکام عاشق بہترین شاعری کرتا ہے، غزل گاتا ہے ، پہاڑوں میں گھومتا ہے اور عمدہ شراب پیتا ہے،
مکمل عاشق سبزی لاتا ہے، آفس سے واپس آتے ہوئے آلو، گوشت، انڈے وغیرہ لاتا ہے

18/07/2025

افسانچہ: "زلفوں کی جسارت"
اقبال بلوچ 🧡

وہ شام بھی عجیب تھی۔
بادلوں نے سورج کی آخری کرنوں کو قید کر رکھا تھا اور فضا میں خنکی کے ساتھ ایک خاص سی مہک پھیلی ہوئی تھی، جیسے بارش ہونے والی ہو یا جیسے محبت قریب ہو۔

وہ ایک پُر سکون راہ تھی، جہاں دونوں اکثر چہل قدمی کیا کرتے۔
وہ، جو ہمیشہ خاموش رہتی تھی۔
اور وہ، جو اس کی خاموشی سے الفاظ چُرا کر دل کی دیواروں پر لکھ دیا کرتا تھا۔

"تم نے کبھی سوچا ہے، زلفوں کا کوئی گناہ ہوتا ہے؟"
اس نے دھیرے سے پوچھا۔

وہ مسکرائی، جیسے چاندنی کے پردے میں کوئی راز چھپ گیا ہو۔
"کیوں؟"

"کیوں کہ وہ چپ چاپ چہرے پر گرتی ہیں، اور دل بےقرار کر جاتی ہیں…"

وہ چپ رہی، مگر اس کی نظریں تھوڑی دیر کے لیے نیچے جھک گئیں۔
ہوا کے ایک نرم جھونکے نے اس کی ایک لٹ کو ماتھے پر بکھیر دیا۔

وہ لرز گیا۔
پہلی بار، اس نے آگے بڑھ کر وہ لٹ آہستہ سے اس کے کان کے پیچھے کر دی۔
ایک لمحہ رُکا جیسے پوری کائنات نے سانس روک لی ہو۔

اس کی آنکھوں میں حیرت نہیں تھی، صرف خاموشی میں چھپی اجازت تھی۔
محبت میں شاید یہی کافی ہوتا ہے خاموشی کی اجازت۔

"زلف کو چھونے کی یہ جسارت، تمہارے لیے تھی…"
اس نے دل کی دھڑکن کو لفظوں میں باندھتے ہوئے کہا۔

وہ کچھ نہ بولی، صرف مسکرائی
جیسے اس کی زلفوں کی طرح، وہ خود بھی اُس کے لمس کو قبول کر چکی ہو۔

اور تب، بارش کی پہلی بوند گری…
لیکن وہ دونوں بھیگنے سے پہلے ہی محبت میں مکمل بھیگ چکے تھے۔
🥀💙
Awais Qarni
Farooq Sattar
Usman Ali

17/07/2025

‏چې عاشق د معشوقې په لور کاته کا
خود لېمه شي کم طاقته، پرېواته کا

چي پلو له مخه لري کړې رڼا شي
لکه سترګه د سبا چې راخاته کا

لږ مې عکس د زړګي واخله که دې شک وي
چې دا تور باڼه دې څه رنګه ويشته کا

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جمالیات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share