Peshawar on Lion News and Vives

Peshawar on Lion News and Vives Peshawar on line NEWS and vives is a News Group

داتا دربار کے تہہ خانے میں دو قبریں ہیںایک کے کتبے پر عنایت اللہ خان (آئی سی ایس) لکھا ہے۔ ان کی تاریخ وفات1979ءتحریر کی...
15/03/2026

داتا دربار کے تہہ خانے میں دو قبریں ہیں
ایک کے کتبے پر عنایت اللہ خان (آئی سی ایس) لکھا ہے۔ ان کی تاریخ وفات1979ءتحریر کی گئی ہے۔ ان کو اس جگہ کیوں دفن کیا گیا اس بارے میں کچھ نہیں لکھا
دوسری قبر فاروق احمد لینارڈ انگریز انگلینڈ کے ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اسکی قبر کے کتبے پر فاروق احمد لینارڈ انگلستانی لکھا ہوا ہے
(تبلغی جماعت) کی دعوت پر مسلمان ہو گیا اس کا نام لینارڈ تھا۔مسلمان ہونے پر اس کا اسلامی نام فاروق احمد رکھا گیا
اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا۔اس میں حضرت سلمانؑ کا واقعہ ہےجس کا مفہوم یوں ہے

'بلقیس'' کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا، یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کے ہدایا و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔
: اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں۔
ایک بڑاجن بولا "میں وہ تخت حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔"
جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے۔ یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ''آصف بن برخیا" جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: میں آپکے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل جھپکنے سے پہلے۔چنانچہ حضرت آصف بن برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں حاضر کردیا اور
وہ ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے
اب آجائیں فاروق احمد لینارڈ کی طرف اس نے یہ واقعہ پڑھا تو حیران ہوا کہ کیسے ایک شخص اتنی کم مدت میں سیکڑوں میل دور سے تخت لا سکتا ہے۔
یہ سوال اس نے مبلغوں سے کیا جس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا
اس انگریز فاروق احمد لینارڈ انگلستانی کو قرآن پاک کی سچائی پر پورا یقین حاصل ہو چکا تھا یہ تو بس ایسی تصدیق چاہتا تھا جو اسے روحانی طور پر مطمئن کر سکے
اسے تبلیغی جماعت کے علمی افراد نے مختلف دلائل سے مطمئن
کرنے کی کوشش کی کہ انبیاء کرام معجزات اور اولیاء کرام کرامات پر قدرت رکھتے ہیں مگر یہ روحانی تصدیق کے جواب کا طلبگار تھا اس لیے علمی جوابات سے مطمئن نہ ہوا
اس نے اپنے ساتھیوں سے لاہور کے مقامات دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اسے مختلف مشہور مقامات کا دورہ
کرواتے ہوئے جب داتا دربار کے سامنے سے گزرے تو اسے ایک روحانی کشش کی حامل خوشبو نے اپنی طرف کھینچا - یہ مزار کی جانب روانہ ہوا تو اس کے ساتھیوں نے عقیدے کے اعتبار سے اختلافی نظریات کے پیش نظر اسے روک کر واپس لے جانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا اور خوشبو کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
مزار کے احاطے میں داخل ہوتے ہی داتا دربار کے گیٹ پر ایک بزرگ نے آپ کا استقبال کیا اور انکو چائے پانی پوچھا فاروق احمد نے گرم چاۓ کی طلب ظاھر کی بزرگ آدمی نے اپنا ھاتھ مغرب کی جانب بڑھایا اور آنکھ جھپکنے سے پہلے ھی ایک ساعت میں گرم چاۓ کا کپ فاروق احمد کے سامنے پیش کر دیا
فاروق احمد یہ سب کچھ دیکھ کر اپنے حواس کھو گیا حواس بحال ھونے پر بزرگ وھاں پر موجود نہ تھے اور کافی تلاش بسار پر بھی نہ ملے آپ نے مبلغین کو بتایا کہ اسے مزارِ داتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ سے اپنے سوال کا جواب مل گیا یہ کپ لاھور ملتان یا برصغیر کے کسی شہر قصبے دیہات کا کپ نہیں بلکہ یہ لندن میرے گھر کا کپ ھے جو پلک جھپکنے سے پہلے اس بزرگ نے لندن سے میرے سامنے پیش کیا ھے آپ نے کہا کہ اسلام کے اصل ترجمان تو یہ اولیا اللہ صاحب مزار حضرت داتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ اور دیگر اولیاء ھیں اس واقعہ نے جناب فاروق احمد لینارڈ صاحب کے دل کی دنیا ھی بدل ڈالی اور لندن شہر کا باشندہ ھمیشہ کے لئے لاھور داتا دربار کی دربانی پر مامور ھوگیا اور وھاں پر ھی 13 فروری 1945 سن عیسوی میں وفات پائی آپ کا مزار بیسمنٹ داتا دربار لاہور میں واقع ھے۔.



Best photo of the day 😘





تھانہ مچنی گیٹ کے دلیر آفیسر سب انسپکٹر بہار علی خان بینک ڈکیتی کے دوران جرائم پیشہ عناصر کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہوئے ...
12/03/2026

تھانہ مچنی گیٹ کے دلیر آفیسر سب انسپکٹر بہار علی خان بینک ڈکیتی کے دوران جرائم پیشہ عناصر کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہوئے اور بعد ازاں Lady Reading Hospital میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کا یہ بہادر سپوت فرض کی راہ میں اپنی جان قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
ہم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

ورسک روڈ پر ڈکیتوں سے بہادری سے مقابلہ، مچنی گیٹ کے ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی گولیوں سے زخمی، آئی سی یو میں زیر علاجاس...
07/03/2026

ورسک روڈ پر ڈکیتوں سے بہادری سے مقابلہ، مچنی گیٹ کے ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی گولیوں سے زخمی، آئی سی یو میں زیر علاج

اسلام اباد ( نمائندہ خصوصی )

Capital City Police Peshawar کے تھانہ مچنی گیٹ کے ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی نے ورسک روڈ پر بینک ڈکیتی کی کوشش کے دوران جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا وہ واقعی قابلِ دید ہے۔ ڈکیت گروہ کے ساتھ مقابلے کے دوران انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ملزمان کا سامنا کیا اور اس دوران اپنے جسم پر گولیاں کھائیں، تاہم وہ ڈٹے رہے اور پیچھے نہیں ہٹے۔
افسوس کے ساتھ بتایا جا رہا ہے کہ زخمی پولیس افسر اس وقت Lady Reading Hospital کے انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں داخل ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس حکام کے مطابق بہار علی کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بہار علی نے ورسک روڈ پر بینک ڈکیتی کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے انتہائی جرات کا مظاہرہ کیا۔ مقابلے کے دوران انہوں نے نہ صرف ملزمان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔
تاہم بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ شدید زخمی ہونے والے اس بہادر پولیس افسر کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کسی بڑے اور جدید طبی سہولیات کے حامل اسپتال منتقل کیوں نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے معیار کے حوالے سے پہلے ہی کئی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور اکثر مریضوں کے ساتھ غیر مناسب رویے کی باتیں بھی زیر گردش رہتی ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والے پولیس افسر کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے Combined Military Hospital (CMH) Peshawar یا کسی بڑے نجی اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا تاکہ جدید سہولیات کے ذریعے اس کا بہترین علاج ممکن بنایا جا سکے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پولیس فورس کے پاس ویلفیئر فنڈز اور دیگر سہولیات موجود ہوتی ہیں جن کا مقصد ایسے ہی مواقع پر اپنے اہلکاروں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جو پولیس اہلکار ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ریاست اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔
بہار علی کو ایک بہادر سپوت قرار دیا جا رہا ہے جس نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جرات اور قربانی کی مثال قائم کی۔ پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ جلد صحت مند ہو کر دوبارہ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی، ایک عظیم معالج، اصلاحات کے معمار اور صحت کے نظام میں انقلاب لانے والی شخصیتپاکستان کے صحت ک...
06/03/2026

پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی، ایک عظیم معالج، اصلاحات کے معمار اور صحت کے نظام میں انقلاب لانے والی شخصیت
پاکستان کے صحت کے شعبے میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف بطور ڈاکٹر بلکہ بطور ریفارمر (Reformer) اور ہیلتھ پالیسی ایکسپرٹ بھی اپنی پہچان بنائی۔ انہی نمایاں شخصیات میں ایک نام پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی (Prof. Dr. Nausherwan Burki) کا ہے۔
انہوں نے بیرونِ ملک کامیاب طبی کیریئر چھوڑ کر پاکستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں اصلاحات کے حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کا تعلق خیبر پختونخوا کے ایک تعلیم یافتہ اور باوقار خاندان سے ہے۔ ان کا خاندان علمی اور سماجی اعتبار سے نمایاں رہا ہے۔ بچپن سے ہی انہیں تعلیم، تحقیق اور انسانی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملا۔
ڈاکٹر برکی پاکستان کے سابق وزیر اعظم Imran Khan کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں، تاہم انہوں نے اپنی شناخت خاندانی تعلق سے زیادہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے بنائی۔
تعلیم اور طبی قابلیت
ڈاکٹر نوشیروان برکی نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور بعد ازاں میڈیکل کے شعبے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے:
ایم بی بی ایس پاکستان کے ایک معتبر طبی ادارے سے مکمل کیا
اعلیٰ تخصص اور تربیت کے لیے امریکہ کا رخ کیا
Pulmonology (امراضِ سینہ) اور Critical Care Medicine میں مہارت حاصل کی
امریکہ میں انہوں نے کئی دہائیوں تک طب کے شعبے میں تحقیق، تدریس اور عملی طب کے میدان میں خدمات انجام دیں اور ایک معروف طبی ادارے UConn Health (University of Connecticut) سے وابستہ رہے۔
عالمی طبی تجربہ
امریکہ میں قیام کے دوران ڈاکٹر نوشیروان برکی نے جدید طبی نظام کو قریب سے دیکھا اور اس پر عملی کام کیا۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج بلکہ ایک ریسرچر اور استاد بھی رہے۔
ان کی تحقیق خاص طور پر سانس کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے امراض اور آئی سی یو میڈیسن کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے کئی سائنسی مضامین اور تحقیقی مقالے بھی شائع کیے۔
پاکستان میں صحت کے شعبے میں اصلاحات
پاکستان واپس آنے کے بعد ڈاکٹر برکی نے خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا۔
انہوں نے Medical Teaching Institutions (MTI) Reform Act 2015 متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس قانون کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کو جدید اور خودمختار اداروں میں تبدیل کرنا تھا۔
اس اصلاحاتی نظام کے تحت:
سرکاری ہسپتالوں میں Board of Governors کا نظام متعارف ہوا
ہسپتالوں کو انتظامی اور مالی خودمختاری دی گئی
ہسپتالوں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیا گیا
طبی تعلیم اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی
یہ اصلاحات پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جاتی ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں خدمات
پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کو خاص طور پر Lady Reading Hospital Peshawar میں اصلاحات کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
ان کی قیادت میں:
ہسپتال کے متعدد وارڈز کی جدید طرز پر تزئین و آرائش کی گئی
جدید طبی مشینری اور آلات فراہم کیے گئے
ہسپتال کے انتظامی نظام کو بہتر بنایا گیا
نئے میڈیکل پروگرامز اور تربیتی مواقع فراہم کیے گئے
اس کے علاوہ انہوں نے کوشش کی کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی وہی معیار لایا جائے جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔
شوقت خانم ہسپتال میں کردار
ڈاکٹر نوشیروان برکی کا تعلق پاکستان کے معروف کینسر ہسپتال Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital & Research Centre کے منصوبے سے بھی رہا ہے۔
انہوں نے اس ادارے کے قیام اور ترقی میں مشاورتی کردار ادا کیا اور جدید کینسر علاج کے نظام کو فروغ دینے میں مدد کی۔
چیلنجز اور مخالفت
اصلاحات کے عمل کے دوران ڈاکٹر نوشیروان برکی کو شدید مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض ڈاکٹر تنظیموں اور سرکاری ملازمین نے MTI اصلاحات کے خلاف احتجاج کیا۔
مخالفین کا مؤقف تھا کہ اس نظام سے سرکاری ملازمت کے ڈھانچے میں تبدیلی آئے گی، جبکہ ڈاکٹر برکی کا موقف تھا کہ اگر صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے تو انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
نمایاں خدمات اور کارنامے
پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کی چند اہم خدمات:
خیبر پختونخوا میں صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات
MTI Act کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کو خودمختاری دینا
سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات متعارف کرانا
بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹروں کو پاکستان میں خدمات کے لیے راغب کرنا
جدید ایمرجنسی میڈیسن اور تخصصی شعبوں کا قیام
خلاصہ
پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ طب اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے نہ صرف عالمی سطح پر بطور ڈاکٹر کامیابی حاصل کی بلکہ پاکستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں۔
ان کی اصلاحات پر بحث اور اختلاف رائے ضرور موجود ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے سرکاری ہسپتالوں کے نظام میں تبدیلی لانے کی ایک بڑی کوشش کی۔
📌 آپ کی نظر میں ڈاکٹر نوشیروان برکی کی صحت اصلاحات پاکستان کے لیے کتنی اہم ہیں؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔









06/03/2026
08/11/2025

دہ اباسین یوسفزئی خبرے ملغلرے

26/07/2025

Address

Peshawar

Telephone

+923005822862

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peshawar on Lion News and Vives posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Peshawar on Lion News and Vives:

Share