19/01/2024
گاؤں میں میں نے کیا دیکھا
گاؤں میں دیکھی میں نے بہتی نہریں، ڈھلتا سورج، موروں کا رقص، سنہری گندم، سرسوں کے کھیت، شام سمیں جھگیوں سے اٹھتا دھواں، کھیتوں کے درمیان گزرتی ٹرین، بادلوں کی اوٹ میں چھپا سورج، روشن ستارے، شام کو واپس لوٹتی مویشی کا ریوڑ، سردیوں کی شاموں کی دھند، صبح کو گھاس پر پڑتی اوس، تیل سے چمکتے ماتھوں اور ہاتھ میں پکڑی سلیٹ والے اسکول جاتے بچے، بکریوں کو ہانکتا ہوا چرواہا، ہوا کی سرسراہٹ، ٹہنیوں سے ٹوٹ کر گرتے زرد پتے، کھیتوں میں بڑے سے لائوڈ اسپیکر پر موسقیی چلاتا ٹریکٹر، صبح کی ٹھٹھرتی سردی میں لاٹھی کے سہارے فجر نماز پر جاتا ہوا مسجد کا بوڑھا پیش امام، شام کو مندر میں جلتا دِیا، خنک راتوں میں پانی پر جاتا کسان اور وقت کی روانی سے تھوڑی سی بے خبر گزرتی زندگی۔
وہ وقت بھی کیا وقت تھا جب گاؤں والے نماز فجر پڑھنے کے بعد اٹھ کر کھیتوں میں جا کر کپاس چنا کرتی تھی اور گھر کے سارے کام بھی کیا کرتی تھی اب تو لیٹ نائٹ تک لوگ جاگتے رہتے ہیں جب فجر کا وقت اتا ہے تو سو جاتے ہیں پھر کہتے ہیں دل میں سکون اور برکت نہیں ہے یہ سب کچھ کہاں سے ائے گا تھوڑا سا ضرور سوچیں
گاؤں کی زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے۔ وہاں کی دنیا کی امن اور سکون کی تصویر ہوتی ہے۔ گاؤں کے پھولوں کی خوشبو، کھیتوں کی ہری بھری روایت، اور دیہاتی محافظت کا احساس واقعی انوکھا ہوتا ہے۔ گاؤں کی زندگی معاشرتی تعلیم، روزگار، اور محبت کا ایک خوبصورت تجربہ فراہم کرتی ہے۔
گاٶں والے لوگ ❤