Foto Phectory

Foto Phectory Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Foto Phectory, Photographer, Muzaffargarh.

ایک زمانہ تھا جب ہیرو صرف فلموں میں نہیں ہوتے تھےکچھ ہیرو کتابوں کے صفحات میں بستے تھے، اور ان میں سب سے منفرد نام تھا ع...
25/07/2026

ایک زمانہ تھا جب ہیرو صرف فلموں میں نہیں ہوتے تھےکچھ ہیرو کتابوں کے صفحات میں بستے تھے، اور ان میں سب سے منفرد نام تھا عمران
جیب خرچ بچا کر نیا ناول خریدنا، دوستوں سے ایک دوسرے کی سیریز بدل کر پڑھنا، اور رات گئے تک صرف یہ جاننے کے لیے جاگتے رہنا کہ آخر مجرم کون ہےیہ سب ایک پوری نسل کی یادیں ہیں
ہر صفحہ تجسس سے بھرا ہوتا، ہر باب کے بعد دل کہتابس ایک صفحہ اور۔ مگر وہ ایک صفحہ پوری رات میں بدل جاتا تھاآج موبائل پر سیکڑوں کہانیاں موجود ہیں، لیکن وہ لطف، وہ انتظار، اور کاغذ کی خوشبو میں بسی ہوئی سنسنی شاید کہیں کھو گئی ہےیہ پرانا سرورق دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وقت بدل گیا، مگر عمران سیریز سے جڑی یادیں آج بھی ویسی ہی تازہ ہیں۔ کچھ کردار کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، کیونکہ وہ کتابوں سے نکل کر لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔
اگر آپ نے بھی عمران سیریز پڑھی ہے تو بتائیں، آپ کا پسندیدہ کردار کون تھا؟ اور وہ کون سا ناول ہے جو آج بھی آپ کو یاد ہے؟

یہ سڑک، یہ رات کا سناٹا اور سامنے پھیلی ہوئی پیلی روشنیاں آج اچانک وہی پرانا دور یاد آ گیا۔ ایک وقت تھا جب رات کو یوں ہی...
23/07/2026

یہ سڑک، یہ رات کا سناٹا اور سامنے پھیلی ہوئی پیلی روشنیاں آج اچانک وہی پرانا دور یاد آ گیا۔ ایک وقت تھا جب رات کو یوں ہی دوستوں کے ساتھ، بغیر کسی منزل کے نکل پڑتے تھے۔ نہ کل کی فکر تھی، نہ آگے بڑھنے کی جلدی۔آج راستہ وہی ہے، خاموشی بھی وہی ہےبس ہم تھوڑے بڑے ہو گئے ہیں۔ کچھ یادیں اس سڑک پر آج بھی بھٹکتی ہیں، اور کبھی کبھی لگتا ہے جیسے ہم اپنا ایک ٹکڑا یہیں کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں

کچھ مکان صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں ہوتےوہ وقت کا ایک ایسا ٹکڑا ہوتے ہیں جو انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے ٹھہر...
23/07/2026

کچھ مکان صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں ہوتےوہ وقت کا ایک ایسا ٹکڑا ہوتے ہیں جو انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔ TPS کالونی کا یہ گھر بھی بالکل ایسا ہی ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب اس صحن میں صبح کی پہلی دھوپ پڑتی تھی تو پورا گھر ایک عجیب سی زندگی سے بھر جاتا تھاوہ گرمیوں کی لمبی دوپہریں، جب باہر جانے پر سخت پابندی ہوتی تھی، مگر ہم چھپ چھپ کر چلے جاتے گلی میں دوستوں کو آوازیں دیتے تھےشام ہوتے ہی پوری کالونی کا ماحول بدل جاتا تھابچوں کی سائیکلوں کی گھنٹیاں، کرکٹ کے شور میں وکٹ بننے والی اینٹیں، اور ہر گھر سے آتی ہوئی کھانوں کی خوشبو
اس کالونی کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ یہاں کوئی پرایانہیں تھاایک گھر میں خوشی ہوتی تو پورا محلہ مسکراتا تھا، اور کسی ایک کے گھر پریشانی آتی تو سب کے دروازے کھل جاتے تھے، ہمسایوں کے گھر سے سالن کا تبادلہ ہونایہ سب صرف عادتیں نہیں تھیں، یہ زندگی جینے کا طریقہ تھا
وقت گزر گیا، ہم بڑے ہو گئے، اور زندگی کی دوڑ میں اس گھر سے اور اس کالونی سے دور نکل آئےلیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم نے صرف مکان چھوڑا ہے، وہ بچپن اور وہ احساسات آج بھی اسی گھر کی دیواروں سے لپٹے ہوئے ہیں۔
آج بھی جب TPS کالونی کی اس گلی سے گزرتا ہوں یا اس گھر کو دیکھتا ہوں، تو لگتا ہے جیسے ماضی خاموشی سے صدا دے رہا ہوگھر تو چھوٹ گیا، پر تمہارا ایک حصہ آج بھی یہیں رہتا ہے۔

کبھی گھر میں ڈاکیے کا انتظار صرف خطوں کے لیے نہیں ہوتا تھاتعلیم و تربیت کے نئے شمارے کا بھی بے صبری سے انتظار رہتا تھایہ...
23/07/2026

کبھی گھر میں ڈاکیے کا انتظار صرف خطوں کے لیے نہیں ہوتا تھاتعلیم و تربیت کے نئے شمارے کا بھی بے صبری سے انتظار رہتا تھا
یہ وہ رسالہ تھا جس نے نہ صرف پڑھنے کی عادت ڈالی بلکہ سوچنے، سیکھنے اور اچھا انسان بننے کا سلیقہ بھی سکھایا۔ اس کے ہر صفحے میں علم تھا، ہر کہانی میں سبق، ہر مضمون میں زندگی کا کوئی خوبصورت پیغام
اس زمانے میں موبائل نہیں تھے، مگر دل کبھی بور نہیں ہوتے تھے۔ ایک رسالہ ہاتھ میں آتا تو گھنٹوں اسی کی دنیا میں کھو جاتے۔ پھر پڑھ کر اسے سنبھال کر رکھ دیتے تاکہ چھوٹے بہن بھائی بھی پڑھ سکیں
آج جب تعلیم و تربیت کا یہ پرانا سرورق نظر آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اچانک پلٹا کھایا ہو، اور ہم پھر اسی معصوم دور میں پہنچ گئے ہوں جہاں علم کی خوشبو کاغذ کے صفحات سے آتی تھی، اور بچپن کی سب سے بڑی عیاشی ایک نیا رسالہ ہوا کرتا تھا
کچھ رسالے صرف پڑھے نہیں جاتےوہ پوری نسل کی یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں اگر آپ نے بھی تعلیم و تربیت پڑھا ہے تو بتائیں، اس کا کون سا سلسلہ یا کہانی آج بھی آپ کو یاد ہے

یہ صرف ایک رسالہ نہیں تھا ہماری تربیت، ہماری معصومیت اور ہمارے بچپن کا خوبصورت حصہ تھاہر نیا شمارہ ہاتھ میں آتے ہی سب سے...
22/07/2026

یہ صرف ایک رسالہ نہیں تھا ہماری تربیت، ہماری معصومیت اور ہمارے بچپن کا خوبصورت حصہ تھا
ہر نیا شمارہ ہاتھ میں آتے ہی سب سے پہلے اس کے رنگین سرورق کو دیکھتے، پھر ایک ایک صفحہ بڑے شوق سے پڑھتے۔ کہیں انبیائے کرامؑ کے واقعات، کہیں صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں، کہیں اخلاقی سبق، کہیں دلچسپ سوال جواب، اور کہیں ایسی کہانیاں جو دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتیں
اس دور میں علم صرف کتابوں سے نہیں ملتا تھا، بلکہ ایسے رسالے بھی ہماری سوچ، کردار اور زندگی سنوارنے کا ذریعہ بنتے تھے
آج موبائل کی اسکرینیں تو ہر ہاتھ میں ہیں، مگر وہ خوشی، وہ انتظار اور وہ اپنائیت شاید کہیں پیچھے رہ گئی ہےجب ہر مہینے بچوں کا اسلام کا نیا شمارہ آنے کا بے صبری سے انتظار ہوتا تھا
یہ سرورق دیکھتے ہی یوں لگتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک گیا ہو، اور ہم پھر سے اسی بے فکر بچپن میں لوٹ گئے ہوں جہاں دل صاف تھے، دعائیں سچی تھیں، اور خوشیاں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں میں مل جایا کرتی تھیں
اگر آپ نے بھی بچوں کا اسلام پڑھا ہے تو بتائیں، اس رسالے کی کون سی بات آج بھی آپ کو یاد ہے؟ شاید آپ کا ایک تبصرہ کسی اور کے بچپن کو بھی زندہ کر دے۔

کبھی صرف ایک کہانی نہیں تھی یہ ہمارے بچپن کا ایک پورا زمانہ تھا۔گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر کی خاموشی، ہاتھ میں یہ رسالہ،...
22/07/2026

کبھی صرف ایک کہانی نہیں تھی یہ ہمارے بچپن کا ایک پورا زمانہ تھا۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر کی خاموشی، ہاتھ میں یہ رسالہ، اور ہر صفحہ پلٹتے ہی ایسا لگتا تھا جیسے ہم خود گھنے جنگلوں میں پہنچ گئے ہوں کبھی ٹارزن کی بہادری پر دل دھڑکتا تھا، کبھی جنگلی ریچھ کی طاقت دیکھ کر حیرت ہوتی تھی
آج جب یہی پرانا سرورق نظر آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت صرف آگے نہیں بڑھا، اپنے ساتھ بچپن کی بے شمار خوشیاں بھی لے گیا
آج کے بچوں کے پاس شاید ہر چیز ہے، مگر وہ انتظار نہیں جو اگلے شمارے کے لیے ہوتا تھا، وہ خوشی نہیں جو نئی کہانی کھولتے وقت محسوس ہوتی تھی، اور وہ معصومیت نہیں جو ان کرداروں کو اپنا ہیرو مان لینے میں تھی۔
کچھ تصویریں صرف تصویریں نہیں ہوتیں، وہ بند یادوں کے دروازے کھول دیتی ہیں
اگر آپ نے بھی ٹارزن اور پاگل ریچھ پڑھی ہے تو بتائیں اس میں کیا کیا آج بھی آپ کو یاد ہے
بعض یادیں پرانی نہیں ہوتیں، بس وقت کے ساتھ اور قیمتی ہو جاتی ہیں۔

وہ دور بھی کیا دور تھاجب ایسی گاڑیاں شان ہوا کرتی تھیں کچھ مشینیں پرانی ہو جاتی ہیں مگر ان کی کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہو...
21/07/2026

وہ دور بھی کیا دور تھاجب ایسی گاڑیاں شان ہوا کرتی تھیں کچھ مشینیں پرانی ہو جاتی ہیں مگر ان کی کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں

جمعہ کی نماز ہو یا رمضان کی مبارک راتیں، یا رمضان کے دن مکی مسجد نمازیوں سے اس طرح بھر جاتی تھی کہ صفیں صحن سے آگے تک پھ...
20/07/2026

جمعہ کی نماز ہو یا رمضان کی مبارک راتیں، یا رمضان کے دن مکی مسجد نمازیوں سے اس طرح بھر جاتی تھی کہ صفیں صحن سے آگے تک پھیل جاتی تھیں۔ ہر چہرہ جانا پہچانا، ہر سلام اپنا، ہر دعا میں ایک عجیب سی اپنائیت ہوتی تھی۔
آج بھی مسجد اپنی جگہ قائم ہے، اذان بھی ویسے ہی گونجتی ہے، مگر وہ رونق، وہ ہجوم، وہ مانوس چہرےوقت اپنے ساتھ کہیں دور لے گیا۔
اللہ تعالیٰ اس مسجد کی رونقیں پھر سے لوٹا دے، اسے ہمیشہ آباد رکھے، اور ہم سب کو اس کے سائے میں بار بار سجدہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
مکی مسجدصرف ایک عبادت گاہ نہیں، ہماری یادوں، دعاؤں اور بچپن کا ایک خوبصورت حصہ ہے
سب اپنی اپنی یادیں شیئر کریں

کالونی کے اس داخلی دروازے سے اندر قدم رکھتے ہیایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایک الگ ہی دنیا شروع ہو گئی ہو۔دونوں طرف گھنے درخ...
20/07/2026

کالونی کے اس داخلی دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایک الگ ہی دنیا شروع ہو گئی ہو۔
دونوں طرف گھنے درخت،سادہ سی چھت نما شیڈ،
سامنے پھیلی ہوئی سڑک،
اور اسی سڑک پر گزرتی سائیکلیں، موٹر سائیکلیں اور اپنے لوگ
یہ منظر روز دیکھا جاتا تھا،
مگر کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ایک دن یہی منظر یادوں کا سب سے خوبصورت حصہ بن جائے گا۔اس گیٹ سے گزر کر کوئی ڈیوٹی پر جاتا تھا،
کوئی اسکول،کوئی بازار،
اور شام کو یہی راستہ سب کو دوبارہ اپنے گھروں تک لے آتا تھا۔
یہ صرف کالونی کا داخلی راستہ نہیں تھا،
یہ اُن لوگوں کی مشترکہ زندگی کا دروازہ تھا،
جن کے دکھ، سکھ، عیدیں، خوشیاں اور یادیں ایک ہی بستی سے جڑی تھیں۔
آج بھی باہر کھڑے ہو کر اس گیٹ کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے
جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو
اندر آنے والے تو بہت تھےمگر وقت سب کو اپنے اپنے راستوں پر لے گیا۔
کچھ دروازے بند نہیں ہوتے
وہ ہمیشہ یادوں کی طرف کھلتے رہتے ہیں۔
کتنے لوگ اس گیٹ سے رخصت ہوئے،
کتنے واپس لوٹے،اور کتنے ایسے بھی تھے
جو ایک دن گئے تو پھر صرف یادوں میں رہ گئے۔
آج جب اس گیٹ کو دیکھتے ہیں،
تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف اینٹوں اور لوہے کا بنا دروازہ نہیں
یہ ہزاروں قدموں،لاکھوں یادوں،
اور ایک خوبصورت دور کا خاموش محافظ ہے۔
بعض دروازے صرف راستے نہیں کھولتے
وہ پوری ایک دنیا کی یادیں اپنے اندر سموئے کھڑے رہتے ہیں۔
کالونی کا یہ گیٹ آج بھی وہیں کھڑا ہے
بس اس سے گزرنے والے بہت سے لوگ وقت کے ساتھ کہیں دور نکل گئے۔

20/07/2026

کل یہاں ہنسیوں کی بہار تھی، آج خاموشیوں کا صحرا ہےمگر یادیں آج بھی ہر در و دیوار سے لپٹ کر کھڑی ہیں

Address

Muzaffargarh
34200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:30
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Foto Phectory posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Foto Phectory:

Shortcuts

Share

Category