Kashif Raza

Kashif Raza This page is created to explore the beauty of Pakistan.

15/06/2024

✨ Look at this adorable Caterpillar! 🐛❤️

This little cutie is holding on tight to a blade of grass with its tiny legs.

Birch Sawfly caterpillars are found all over the world, and this one was spotted in Warsaw, Poland.

These fascinating creatures play an important role in the ecosystem. They munch on birch leaves, which helps control the growth of birch trees and keeps the forest healthy.

📸 Jarek Skorski
📍 Warsaw, Poland

 #میڑک۔آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغی...
06/05/2023

#میڑک۔

آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2023 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم " پڑھائی" نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو " کوڑھ مغز " اور " کند ذہن " کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔ ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی " سائنس دان " نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس " سیکھنے " کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی " رٹّا" لگواتے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو " طوطا " بنانے کے بجائے " قابل " بنانے کے بارے میں سوچیں۔

اہرام مصر اور کچھ پراسرار سچائیاںچار گتے لیں ان کو ریاضی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برابر برابر اس طرح کاٹیں کہ نیچے ...
06/05/2023

اہرام مصر اور کچھ پراسرار سچائیاں

چار گتے لیں ان کو ریاضی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برابر برابر اس طرح کاٹیں کہ نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے وہ ایک تکون کی شکل اختیار کر لیں جیسا کہ اہرام مصر ہیں۔

ایک بات کا خیال رکھیں کہ انکی لمبائی چوڑائی میں کوئی فرق نہ ہو بالکل ٹھیک پیمائش پر مشتمل تکون ہوں۔ اب ان چاروں کو ٹیپ یا گوند سے جوڑ لیں۔ ایک بات کا خیال رکھیں انکے چاروں کونوں کو کسی نہ کسی سمت میں ہونا چاہیے۔ ایک کونا مشرق میں ہو تو ایک مغرب میں آپ اس کے لیے قطب نما کی مدد لے سکتے ہیں۔ لیجیے ایک بڑا اہرام مصر نہ سہی، پر ایک چھوٹا اہرام مصر ضرور تیار ہے۔

یقین نہیں آ رہا چلیں کوئی بات نہیں دو گلاس دودھ کے لیں۔ ایک کو اپنے بنائے ہوئے اہرام کے نیچے رکھ دیں ایک ساتھ ہی کھلی فضا میں رکھ دیں۔ اب دیکھتے رہیں جیسے ہی باہر رکھا ہوا دودھ خراب ہوجائے تب اہرام کے نیچے والا گلاس اٹھا کر دودھ کو دیکھیں بالکل تروتازہ پائیں گے۔

جی ہاں اہرام نما عمارت کوئی بھی کہیں بھی کیوں نہ ہو وقت دھیما ہو جاتا ہے

اب بھی تجربات سے یقین نہیں آ رہا تو کوئی سبزی لیں اسکے ساتھ بھی تجربہ کریں اہرام والی سبزی اس وقت بھی تازہ ہوگی جب اہرام کے باہر رکھی سبزی خراب ہوچکی ہوگی۔

اس طرح آپ مختلف چیزیں اہرام کے نیچے رکھ کر تجربات کر سکتے ہیں

ٹھہریے آپ اپنے آپ کو تجربے کے لیے پیش کیوں نہیں کرتے۔ ہاں جی ایک بڑی اہرام نما عمارت بنائیں اسکے نیچے سو کر دیکھیں۔ آپ بے خوابی کے مریض تھے؟ سوتے ہوئے ڈراؤنے خواب آتے تھے؟ اپنی بڑھتی عمر سے پریشان ہیں؟ جلدی مرنا نہیں چاہتے؟ کچھ عرصہ اہرام کے نیچے سونے کے بعد آپ خود کو ان تمام بیماریوں سے دور جاتا ہوا محسوس کریں گے

انسان موت کو شکست تو نہیں دے سکتا پر کچھ عرصے کے لیے ٹال تو سکتا ہے۔ جی ہاں تین سائنسدانوں نے اہرام کے نیچے سو کر زندگی گزاری سب کی موت اسی سال کی عمر کے بعد ہوئی اور تندرستی میں ہوئی اور طبعی موت ہوئی۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے مصر کا حسن دنیا بھر میں مشہور ہو اور اہرام میں عورتوں کے لیے کوئی خاص بات نہ ہو؟

اہرام کے نیچے پندرہ بیس دنوں کے لیے پانی رکھ دی۔ اب پانی اٹھا کر چہرے کا ہلکا سا مساج کریں۔ آپ کا چہرہ دمک اٹھے گا داغ چھائیاں دور ہوجائیں گی اور میک اپ پر رقم ضائع کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مرد حضرات بھی اس آفر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں آخر ہمیں بھی تو سجنے سنورنے کا حق ہے۔

اب آجاتے ہیں اس عمارت کی بناؤٹ پر:

بناؤٹ میں ریاضی کا ایسا بہترین استعمال کیا گیا ہے کہ ریاضی کے اصولوں کو دیکھ کر جدید سائنس بھی ششدر رہ جاتی ہے اور سائنسدانوں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔

آج کے ایک سپر کمپیوٹر کو جب ایک اہرام کا ڈیزائن تیار کرنے کا کام دیا گیا تو اہرام کا ڈیزائن اور استعمال کیے گئے ریاضی کے اصول اتنے پیچیدہ تھے کہ سپر کمپیوٹر کو صرف ڈیزائن بناتے ہوئے ایک ہزار (1000) گھنٹے لگ گئے

سینکڑوں ٹن وزنی پتھروں کو اس مہارت سے ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا ہے کہ ان کا درمیانی فاصلہ ایک انچ کے پچاسویں حصے کے برابر ہے۔ تصور کریں سینکڑوں ٹن وزنی پتھر اور جوڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ بھی نہیں کہ ایک سوئی اندر جا سکے۔ ہے نہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت؟

اہرام کا نام سنتے ہی ہمارے دل میں اہرام مصر کا نام فوراً آجاتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ یہ اہرام پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جی ہاں چین سے لے کر شمالی امریکہ تک اور حتی کہ سمندروں میں بھی کئی عمارتیں اہراموں کی شکل میں ملی ہیں۔ خود مصر میں سو سے اوپر اہرام موجود ہیں لیکن مصر میں قاہرہ سے باہر غزہ کے مقام پر 3 اہراموں کا گروپ خوفو، خافرہ اور مینکاؤرا دُنیا کے عجائبات میں پہلے نمبر پر ہے۔

غزہ میں سب سے بڑا ہرم خوفو (Khufu) یا چیوپس (Cheops) ان میں سب سے بڑا ہے

جو 13 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

جو کہ سولہ فٹبال گراؤنڈز جتنا ہے۔

اس کی ابتداء میں بلندی 482 فٹ تھی جو ایک منزل گرنے سے اب اندازاً 450 فٹ رہ گئی ہے۔ اس کی چوڑائی 755 مربع فٹ ہے اور اس کی تعمیر میں 2500000 چونے کے پتھر کے بلاک استعمال کیے گئے جن میں ہر پتھر کا وزن 2.5 ٹن سے لے 300 ٹن تک جا پہنچتا ہے۔ ان کی تاریخ تکمیل اندازاً 2600 سے 3000 قبل مسیح کی بیان کی جاتی ہے۔

اہرام مصر کی بنیاد چوکور ہے لیکن ان کے پہلو تکون نما ہیں۔ یہ تکونیں اُوپر جاکر ایک نکتے پر مل جاتی ہیں۔ ہر زاویہ بالکل سیدھ میں موجود ہے۔ ایک دیوار شمال کی طرف بالکل عمود میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوفو کا اہرام بیس سال کے قلیل عرصے میں تیار ہوا۔ اسکی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کو اہرام سے آٹھ سو کلومیٹر دور موجود شہر اسوان (Aswan) سے لایا جاتا۔

ہر فرعون مصر اپنے لیے الگ اہرام تعمیر کراتا اور اسکی لاش کو مرنے کے بعد حنوط شدہ ممی بنا کر اہرام کے وسط میں لیکن نچلے حصے میں رکھ دیا جاتا اور اسکا خزانہ بھی ساتھ رکھا جاتا تاکہ آئندہ جنم کی صورت میں بندہ گھاٹے میں نہ رہے۔

اگر خوفو کے اہرام کو تیس سینٹی میٹر کی چوڑائی میں کاٹا جائے تو پورے فرانس کے چاروں طرف ایک میٹر اونچی دیوار بنائی جا سکتی ہے۔ ان اہراموں کی سب خاص بات یہ ہے کہ انکا درجہ حرارت ہمیشہ زمین کے اوسط درجہ حرارت کے برابر رہتا ہے یعنی بیس(20) ڈگری سیلسئیس باہر چاہے آندھی ہو بارش ہو گرمی ہو سردی اندر کا موسم مستقل رہتا ہے۔ 3800 سال تک اس کے سر دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت کا تاج سجا رہا جو لنکن کیتھیڈرل نے توڑا جس کی بلندی 160 میٹر ہے.
اہرام کے بارے میں سب سے پہلا ذکر ہمیں یونانی تاریخ دان ہیروڈوٹس کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ جس نے تقریباً 450 برس قبل مسیح میں مصر میں قدم رکھے اور وہاں کے لوگوں کو بطور گائیڈ ساتھ لے کر اہراموں کا معائنہ کیا اور گائیڈز کے علم کے مطابق ہی اسنے اپنی کتاب لکھی۔

لیکن ایک بات یاد رکھیں مصری گائیڈ انتہا کے جھوٹے ہوتے ہیں۔ اور ہیروڈوٹس خود بھی دروغ گوئی سے پاک نہیں تھا۔ بلکہ اکثر تحاریر میں دلچسپی کے لیے جھوٹ گھڑتا تھا۔ اس کے مطابق یہ تمام اہرام مصریوں نے بنائے تھے۔ اس کے علم کا ماخذ یا تو وہ مقامی گائیڈز تھے یا پھر وہ بھونڈی پینٹنگز جو اہراموں کی دیوار پر بنائی گئی تھیں۔

ہیروڈوٹس کے مطابق تقریباً ایک لاکھ مزدوروں اور کاریگروں نے مل کر بیس سال کے عرصے میں خوفو کے اہرام کی تعمیر مکمل کر دی ہر وقت بیس ہزار مزدور کام کرتے رہتے تھے۔ ہر گھنٹے میں دو سے تین پتھر لگائے جاتے۔ اس طرح تقریباً تیس لاکھ پتھروں سے اہرام کی عمارت معرض وجود میں آئی.

احمد رضا خان بریلوی کا نقطہ نظریہ یہ ہے کہ اہرام کا بننا سب جنات کی کارستانی ہے. اگر دیکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ جنات جیسی قوم کو اتنی بڑی تعمیر کرنے کی ضرورت کیوں پڑی وہ بھی انسانوں سے پہلے پھر اس کے بعد انکی کوئی ایسی تعمیر نظر نہیں آتی جس کے بارے میں کہا جا سکا جنات کی بنائی ہوئی ہے۔

خلیفہ مامون الرشید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلامی دنیا کے وہ واحد بادشاہ تھے جن کو علمی اور تحقیقی کام کا شوق تھا۔ اس وقت مصر اسلامی دنیا کے سامنے سرنگیں ہو چکا تھا۔ جب خلیفہ کو کچھ عجیب و غریب عمارتوں کا پتا چلا اور ساتھ میں یہ بھی کہ اس میں مصری بادشاہوں کو اپنے خزانے کے ساتھ دفنایا گیا ہے۔ مامون الرشید اپنے ساتھ سینکڑوں تحقیق کاروں کو لے کر نکلا اور آجکل جہاں ابوالہلول کا مجسمہ ہے جو کہ اس وقت مٹی میں دب چکا تھا اس کے اوپر پڑاؤ ڈالا۔ ان کو سخت مایوسی اس وقت ہوئی جب انکو اہرام میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہ ملا۔

آخر کار خلیفہ نے اہرام کو توڑ کر راستہ بنانے کا حکم دیا۔ اہرام اتنا مضبوط تھا کہ اس پر کوئی بھی چیز اثر نہیں کر رہی تھی پھر انھوں نے یہ طریقہ نکالا کہ پتھروں کو پہلے گرم کرتے پھر اس کے اوپر ٹھنڈا پانی ڈال دیتے جس سے پتھر تڑخ جاتے اور اس طرح روز ایک فٹ کے حساب سے روز آگے کا راستہ بنانے لگے۔ آخر کار انکی پہنچ کوئین چیمبر اور کنگ چیمبر تک ہوئی جہاں پر خزانہ تو دور ممیاں بھی نہیں تھیں۔ مامون الرشید دل برداشتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا اور سارا کام وہیں پڑا رہ گیا۔

مقامی آبادی جو پہلے توہم پرستی کی وجہ سے اہرام کے قریب نہیں جاتی تھی انھوں نے جب دیکھا کہ کئی مہینوں سے پڑاؤ ڈالے ہوئے بادشاہ کو کوئی اثر نہیں ہوا تو ان کا ڈر خوف ختم ہوگیا اور پھر اہرام کے اوپر لگے ہوئے روغنی ٹائلوں کو بھی اتار لیا گیا اور لوٹ مار ایک بازار سرگرم ہوا اور اگر کوئی ثبوت اہراموں کے اندر بچا بھی تھا تو اس کو لوٹ لیا گیا.

بدھ ازم میں ان اہراموں کو خاصی اہمیت ہے انکے مطابق یہ اہرام زیر زمین دنیا کا راستہ ہیں. اور روحانیت کا مرکز ہیں۔ جب دنیا میں کوئی بڑی مصیبت آئی تو روحانی پیشوا نیچے چلے گئے۔ اس زیرزمین دنیا میں انکے روحانی پیشواؤں کی حکومت ہے اور انکا مرکزی فرضی شہر تبت کے نیچے ہے جہاں پر دلائی لامہ اور روحانیت میں آگے بڑھے ہوئے شخص حکومت کرتے ہیں.

نپولین بونا پارٹ نے اہراموں کی شہرت سن رکھی تھی اس نے مصر پر حملہ کرکے غزہ پر قبضہ کرلیا اور پھر اہراموں کو بنیادوں سے کھود کر اندر جانے کا راستہ کھلوایا۔ اسکے بعد کام کو روک دیا گیا اور نپولین اکیلا اندر داخل ہوا۔ کافی دیر تک وہ اندر رہا جب وہ باہر نکلا تو اس کے چہرے پر کافی گھمبیر خاموشی تھی۔ اسنے اپنے مصاحبین کو سامان اٹھا کر چلنے کا کہا۔ اس دوران وہ بالکل خاموش رہا۔ کہا جاتا ہے کہ نپولین اہرام کے اندر کسی ایسی جگہ چلا گیا جہاں پر براہ راست اہرام کی شعائیں پڑ رہی تھیں ان شعاعوں نے اس کے دماغ کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار جر دیا تھا اور اسنے اپنا مستقبل دیکھ لیا تھا۔

ایک تھیوری گیلی ریت کی ہے جو کہ ایک پینٹنگ کو دیکھ کر بنائی گئی ہے۔ اس پینٹنگ میں فرعون کی گاڑی کے آگے پانی پھینکا جا رہا ہوتا ہے اور غلام گیلی ریت پر گاڑی کھینچتے جا رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تھیوری پر عمل کرنے کی کوشش کی تو یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ریت کو گیلا کرنے سے قوت کے استعمال میں نصف کمی ہوجاتی ہے۔

لیکن اگر اس طریقے کو سچ مان لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے۔ اتنے ٹن وزنی پتھروں کو کشتیوں میں لادا گیا پھر انکو ریت پر گھسیٹ کر اہرام تک پہنچایا گیا۔ لیکن ان کو اہرام کے اوپر کہسے پہنچایا گیا؟ کیونکہ ریت تو اہرام کے ایریا سے باہر تھی. اور پھر ان کو اس طریقے سے فٹ کیسے کیا گیا کہ ان کے اضلاع میں انچ کے دسویں حصے کے برابر بھی فرق نہیں۔ اور ایک کاغذ کو بھی ان کے جوڑوں کے درمیان داخل نہیں کیا جا سکتا.

ایک اور تھیوری مارین کلمنیز کی ہے۔ ان کو ایک تصویری تحریر (Hieroglyphs) کی پینٹنگ ملی جن میں بہت سارے لوگوں نے رسیوں کے ذریعے اڑنے والے پرندے کو کنٹرول کیا ہوا تھا جس کے کافی لمبے اور بڑے تھے۔ پہلے تو ان کو سمجھ نہیں آئی مگر پھر ان کے ذہن میں ایک خیال آیا کہ شاید ایک پتنگ کو ہوا کے زور سے قابو کیا گیا ہے اور اس کو اہراموں کے پتھر اٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اسنے اپنی تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے مختلف یونیورسٹیوں سے رابطہ کیا آخر کار کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ نے انکو سپنانسر کر لیا اور انکے ساتھ ایک ایرانی سائنسدان نے کام کرنا شروع کردیا

پہلے پہل انھوں نے چھوٹے پتنگوں سے پتھروں کو عمود میں سیدھا کرنے کی کوشش کی اور کامیاب ہوئے۔ پھر انھوں نے کچھ ٹن وزنی پتھروں کے ساتھ تجربات کیے اور ہوا کی سپیڈ اس وقت بیس سے تیس ناٹیکل ہونے کے باوجود انھوں نے کئی ٹن وزنی پتھروں کو عمود میں کھڑا کرنے میں کامیاب ہوئے مگر انکو ہوا میں اڑانے کے قابل نہ ہوسکے۔ اس طرح یہ تھیوری بھی تھیوری ہی رہی۔

فورشے ملر ہٹلر ایک جرمن ماہر فلکیات تھا۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے جرمنوں کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی لیکن کسی طرح وہ چھپ کر اہراموں تک پہنچ گیا۔ کافی عرصے تک کنگ چیمبر میں رہنے کے باوجود اسے کوئی قابل ذکر بات نہیں ملی۔ سوائے ان پینٹنگز کے جو دیواروں پر بنائی گئی تھیں۔ ایک دن وہ چھت کا معائنہ کر رہا تھا کہ اسے ایک سوراخ ملا جو خوش قسمتی سے ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے بند نہیں ہوا تھا. پہلے اسنے سوچا یہ سورج کی روشنی کے لیے بنایا گیا ہے لیکن یہ تو بالکل شمال میں تھا جہاں سورج کی روشنی کبھی آ بھی نہیں سکتی۔ اسنے باقی تین اہراموں کا معائنہ کیا وہاں بھی اسی طرح کے سوراخ موجود تھے مگر مٹی کی وجہ سے بند ہوچکے تھے ملر نے لوہے کی سلاخوں سے ان کو دوبارہ کھلوایا۔

اسی دوران جرمنوں پر سختی ہونے لگی اور وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر امریکا چلا گیا اور وہیں کی شہرت حاصل کر لی اسی دوران وہ پیرامڈز سے جڑی ہر کتاب کا مطالعہ کرتا رہا۔ ایک دن اسنے ایک ماہر فلکیات کا بیان پڑھا کہ مصریوں کا کسی عمارت کی عمر معلوم کرنے کا عجیب طریقہ کار ہوتا ہے وہ عمارت میں قطبی تارے کی سیدھ ایک لمبا سوراخ بناتے ہیں جس میں اگلے سال قطبی تارا نظر نہیں آتا۔ اس طرح قطبی تارے کا سوراخ کی سیدھ سے فاصلے سے کسی بھی عمارت کی عمر معلوم کی جا سکتی ہے۔

ملر یہ بات پڑھ کر اچھل پڑا۔ وہ فوراً مصر کے سفر پر نکل پڑا اس بار وہ اپنے ساتھ جدید قسم کے آلات بھی لایا تھا۔ اب اس نے سوراخ سے قطبی تارے کا فاصلہ ناپا اور اچھل پڑا کیونکہ اس طرح خوفو کے اہرام کی عمر پندر ہزار (15000) سال بن رہی تھی جبکہ باقی دونوں اہراموں کی عمر چودہ ہزار آٹھ سو اور ساڑھے چودہ ہزار بن رہی تھی۔

تو کیا مصری اس تخلیقات کے بانی نہیں تھے کیونکہ مصری تو آج سے پانچ ہزار سال پہلے ہی دریائے نیل کے کنارے آباد ہونا شروع ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی تحقیق کی سچائی پرکھنے کے لیے ساتھ ہی ایک چھوٹے پیرامڈ کی عمر ماپنے کا فیصلہ کیا جس کی عمر کا تخمینہ تین ہزار سال قبل مسیح لگایا جاتا تھا۔ اسنے اس کے سوراخ سے قطبی تارے کا فاصلہ ناپا اور ناقابل یقین منظر سامنے آیا کہ اس پیرامڈ کی عمر واقعی کوئی تین ہزار سال قبل مسیح بن رہی تھی۔

فورشے ملر ہٹلر کوئی تاریخ دان تو تھا نہیں بلکہ وہ تو ایک ماہر فلکیات تھا اس لیے اسنے اپنا کام ادھر ہی ختم کر دیا۔ لیکن ان کی تحقیق نے اپنے پیچھے سوالوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ اسلامی مورخین کے مطابق انسانی زندگی آج سے دس ہزار سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ اگر ان کی بات کو سچ مانا جائے تو پندرہ ہزار سال پہلے اس دنیا پر جب کوئی انسان نہیں تھا تب ان اہراموں کی تعمیر کا ذمہ دار کون تھے۔

کیا احمد رضا خان بریلوی کے مطابق جنات ہی انکی تعمیر کے ذمہ دار تھے؟

یا پھر انکو کسی خلائی مخلوق کا کارنامہ سمجھا جائے؟

جب سے سائنس ترقی کرتی جا رہی ہے طویل العمری میں بایو کاسمک انرجی کا کردار پر یقین بڑھتا جا رہا ہے.

اب بات کرتے ہیں پیٹ فلے نیگن کی جس کو اس بات کا یقین تھا کہ اہرام بایو کاسمک انرجی کا خزانہ ہیں اور اس وقت کی ترقی یافتہ قومیں جنھوں نے اہراموں کی تعمیر اس لیے کی تھی کہ وہ اس سے بایو کاسمک انرجی کا ذخیرہ حاصل کر سکیں اور وہ کامیاب ہوگئے اور ابھی تک اس قوم کے افراد موجود ہیں۔ جن کو موجودہ دور میں یو ایف اوز کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خیر اسکی تھیوری سچ ہو نا ہو لیکن یو ایف اوز کو پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتوں کے جھٹلانے کے باوجود اڑن طشتریاں اپنی موجودگی پوری دنیا میں ثابت کر چکی ہیں.

اب بات کرتے ہیں کیوگلیا کی جو انیسویں صدی کے اوائل میں مصر پہنچا۔ اور اہراموں نے اس پر جادو کر دیا اسنے اپنی ساری جائداد فروخت کر دی لیکن اہراموں کے راز کو وہ بھی نہ پاسکا۔ مزدوروں کے کھدائی کراتے کراتے وہ کئی نئے حصوں تک پہنچا مگر اس کچھ نہ مل سکا۔ اور پھر اس کی دولت ختم ہوگئی اور وہ اہرام میں رہنے لگا اور گائیڈ بن کر دوسروں کو اہرام کی سیر کرانے لگا۔ کچھ عرصے بعد اسے ہاورڈ نام ایک مہم جو ملا ان کی دوستی ہوگئی۔ اور پھر ان دونوں نے اہراموں کی کھدائی کا کام پھر سے شروع کر دیا۔ ہاورڈ کی بدمزاجی کی وجہ سے اس خاندان والے بڑی خوشی سے اسے اپنے آپ سے دور رکھنے کے لیے پیسے دینے لگے۔ کافی عرصے تک کچھ نہ مل سکا۔ اور کیوگلیا دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے واپس چلا گیا۔

مگر ہاورڈ وہیں رکا رہا اور ہر روز کے حالات اپنی ڈائری میں لکھتا رہتا۔ ایک دن کھدائی کے دوران انکو ایک نیا کمرہ ملا جہاں پہلے کوئی داخل نہیں ہوا تھا۔ اس کمرے میں کافی نایاب تصاویر کے، ساتھ فرعون شی اوپس کا نام کھدا ہوا ملا۔ فرعون شی اوپس کی پینٹنگز غزہ سے ہزاروں میل دور ایک غار میں بھی مل چکی تھیں۔ اور شی اوپس نامی فرعون خو فو سے کافی عرصہ پہلے گزر چکا تھا۔ اگر اہرام خوفو نے بنوائے تھے تو اہرام کے دور دراز کے کمرے میں فرعون شی اوپس کی باقیات کا ملنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ہاورڈ اس کے بعد واپس چلا گیا اور اسنے ایک کتاب لکھی

آپریشن کیریڈ آن ایٹ پیرامڈ ایٹ غزہ ان 1837

ایک بات یاد رہے مصری صرف کانسی کے استعمال سے واقف تھے۔ وہ لوہے سے نا آشنا تھے۔ کچھ یہی اصول مدنظر رکھ 2007 میں نوجوان ماہرین کی ایک ٹیم نے تجربہ کرنا چاہا کہ کانسی کو استعمال کرتے ہوئے کچھ چٹانوں کو تراشا جائے اور پھر انکو اہراموں تک لے جایا جائے۔ انھوں نے اسکا بجٹ دس ملین ڈالر رکھا۔ جو کہ خوش قسمتی سے ایک ٹی وی چینل اور پیرامڈ کارپوریشن کا سپانسر کیا ہوا تھا۔ غرض انھوں نے پرانے دور کو مدنظر رکھ کر تمام اوزار پرانے استعمال کیے تھے۔ کچھ چٹانوں کو تراشتے تراشتے اتنی کانسی استعمال ہوئی کہ انکے خیال کے مطابق پوری دنیا کی کانسی بھی ایک اہرام کی تعمیر کے لیے ناکافی ہوگی۔ اور کچھ چٹانوں کو اہراموں تک پہنچا کر ہی انکا بجٹ ختم ہوگیا اور یوں انکا آپریشن ناکام رہا.

ڈاکٹر جیسوپ یو ایف اووز کے بہت بڑے حامی تھے۔ انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں بنے ہوئے اہراموں کو خلائی مخلوق کا بنا ہوا سمجھتے تھے۔ ان کے خیال مصریوں میں کیا پوری دنیا میں ایسی قابلیت تھی ہی نہیں کہ وہ اس طرح کی عمارتوں کی تخلیق کرتے۔

آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ اہرام مصر مشہور ہیں لیکن اہرام یا اہرام نما عمارتیں پوری دنیا میں موجود ہیں۔ جنوبی امریکا جہاں پر انکا تہذیب کی شروعات ہوئی تھی وہ علاقہ بھی اہراموں سے بھرا ہوا ہے۔ وہاں پر کئی اہرام ایسے ہیں جن کی اونچائی انکی چوڑائی سے کہیں زیادہ ہے۔ سیڑھی دار اہرام پتھروں کی رگڑ کی قوت سے بنائے گئے ہیں۔ ڈھائی سو ٹن وزنی پتھروں کو سطح زمین سے چھ ہزار فٹ اوپر لے جانا آج کے جدید ترین ہیلی کاپٹر کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہاں ہوائی جہاز اتنا وزن اٹھا سکتے ہیں مگر مطلوبہ مقام تک بالکل درست سمت میں پہنچانا انکی اوقات سے باہر ہے۔

حد یہ کہ ڈھائی ڈھائی سو ٹن وزنی پتھروں کو چھ ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچایا گیا۔ اور پھر انکو ایک دوسرے کے اوپر دو دو کلو وزنی پتھروں کو جس طرح رگڑا جاتا ہے اسی طرح رگڑ کر نیچے والے پتھروں کو پیالہ نما اور اوپر والے پتھروں کو گولائی کی شکل دے کر اسطرح جوڑ دیا جاتا ہے کہ انکے درمیان انچ کے دسویں حصے کے برابر بھی جگہ نہیں بچتی۔ یاد رہے کہ یہ پتھر سینکڑوں ٹن کے تھے۔

جنوبی امریکہ میں موجود سیکسا ہومان کا قلعہ بھی کچھ اسی اصول پر بنایا گیا ہے۔ اہرام چین میں بھی موجود ہیں مگر بہت دور دراز کے علاقوں میں ہونے کی وجہ سے زیادہ مشہور نہیں ہیں۔ اور جو اہرام دریافت ہوئے ہیں وہ بھی اتفاقیہ۔ ایک امریکی سیاح رابرٹ پچاس دن چھکڑوں سے سفر کرنے کے بعد ایک قصبے میں پہنچا تو اسنے وہاں پر پکی اینٹوں سے بنا ہوا اہرام دیکھا جو کہ چوتھائی میل کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ علاقہ چین کے دور دراز کے صوبے شی شان میں ہے۔ سب اے دلچسپ بات یہ کہ برمودا کے سمندر میں بھی ایک اہرام دریافت ہوا ہے۔ یاد رہے یہ علاقہ دس ہزار سال پہلے سمندر میں ڈوب چکا تھا۔ اور اب برمودا کا علاقہ اڑن طشتریوں کے حوالے سے کافی شہرت رکھتا ہے.

میں آپ کو یو ایف اووز کے متعلق بتاتا چلوں۔ UFO مخفف ہے انگریزی کے حروف Undefined Foreign Objects مطلب ایسی چیزیں جو اس دنیا کی ہی نہیں ہیں۔ اڑن طشتریاں بے آواز ہوتی ہیں اور انکی سپیڈ کو آواز کی رفتار سے بھی تیرہ گنا تیز ریکارڈ کیا گیا ہے.

بات ہورہی تھی ڈاکٹر جیسوپ کی تو انھوں نے اڑن طشتریوں کو اہراموں کی تعمیر سے جوڑا اور وہ ہر یونیورسٹی میں لیکچر دینے جانے لگے اور اپنی تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دینے لگے۔ لیکن اسی دوران امریکی حکومت نے یونیورسٹیوں کو ڈاکٹر جیسوپ کے لیکچر نہ لینے کی ہدایت کی۔ یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ ایک خالص علمی اور تحقیقی کام حکومت کی نظروں میں کیوں کھٹکنے لگا؟ ڈاکٹر جیسوپ نے ہمت نہیں ہاری اور بہت سارے اخبارات اور میگزین کے ذریعے اپنا موقف دوسروں کر سنانے لگے۔ لیکن اسی دوران انکی غیر متوقع موت واقع ہوگئی۔ اپریل 1967 کی ایک رات کو ڈاکٹر جیسوپ اپنی گاڑی میں مردہ پائے گئے۔ انکی گاڑی کے دھوئیں والے سیلنسر کو ایک پائپ سے جوڑ کر گاڑی کے اندر پائپ کو لایا گیا تھا۔ اور انکی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔ پولیس نے اس کیس کو خودکشی کا کیس قرار دے کر کیس داخل دفتر کردیا۔ انکی غیر متوقع موت اور حکومت کا ان پر اپنا کام روکنے کا دباؤ اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑ گیا۔

جاتے جاتے آخر میں، میں آپ کو ایک دلچسپ حقیقت بتاتا چلوں مصر کے تین بڑے اہراموں میں سے ایکسرے نہیں گزرتی جبکہ وہاں موجود باقی تمام اہراموں میں ایکسرے گزر جاتی ہے اور اندر کا چٹھا کٹھا نکال کر سامنے رکھ دیتی ہے.

‏اہل عرب بابا جی کو بلا رہے ہیں !!پندرہ سال اس نے اجرت پر بکریاں چرائی سالانہ جو کچھ ملتا وہ جمع کرتا رہتا پھر پاسپورٹ ب...
06/05/2023

‏اہل عرب بابا جی کو بلا رہے ہیں !!
پندرہ سال اس نے اجرت پر بکریاں چرائی سالانہ جو کچھ ملتا وہ جمع کرتا رہتا پھر پاسپورٹ بنوایا میرے رب کا نظام کہ پانچ سال مزید عمرہ کی تیاری نہ ہو سکی اور پاسپورٹ ختم ہو گیا پھر پاسپورٹ بنوایا پھر کرونا کی وجہ سے سفر کی پابندیاں لگنے کے بعد یہ سفر نہ کر سکے ۔
پھر تیاری شروع کی تو اپنی جمع پونجی پندرہ بکریاں بیچی اور بغیر کسی گروپ وغیرہ کے حرمین الشریفین کے مقدس سفر پر یہ روانہ ھو گئے نہ ہوٹل کا انتظام نہ کھانے کی فکر ، فکر ایک ہی کہ بس انکے در پر پہنچ جاؤ.
بکریاں چرانا انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام والا.
جب یہ مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر پہنچے.
قربان جاؤں جہاں ملائکہ بھی بڑے ادب سے حاضر ھوتے ھیں.
یہ مہمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سادہ لباس
پہنے اس در پر آ چکے تھے جہاں سے کوئی محروم نہیں جاتا.
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک ذریعہ وڈیو کی صورت میں پوری دنیا میں پھیلا دیا. کہ یہ انسان ھے یا فرشتہ.
پوری دنیا متوجہ ھوئی یہ سوتا کہاں ھے رھتا کہاں ھے آیا کہاں سے ھے ۔۔ ؟؟
کسی کو کچھ معلوم نہیں.
مگر کسی کو کیا پتہ یہ اخلاص والا سچا عاشق رسول کیسے بھلا اس در پر بھوکا سو سکتا ھے ۔۔
کیا عرب کیا عجم سب دیوانہ وار چلے آ رہے ہیں خدمت کے لیے ۔۔۔۔
اللہ اللہ معلوم ھوا یہ نہ فرشتہ ھے نہ خاندان صحابہ کا فرد ۔۔
بلکہ یہ پاکستان کی سر زمین بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والا
ایک چرواہا ھے.
جو سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھے.
اللہ اکبر کبیرا.
جب عشق سچا ھو تو رب العالمین خود انتظام فرماتے ہیں.
اب اس بابا جی کو اہل عرب کی جانب سے
حج کے لیے بلوایا جا رہا ہے.
کیا نصیب ہیں کیا شان ھے.
یہ صدقہ ھے مدینہ منورہ کا.
میں تو پھر یہی کہتا ہوں.
ارے آج بلوچستان کا ایک چرواہا بابا شکل و صورت محمد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
جیسی بنا کر انکے عشاق صحابہ کرام کی لسٹ میں اپنا نام لکھوا لیتا ھے.
دنیا اسکی عزت کرتی ہے.
دنیا دیکھ کر رشک کرتی ھے.
بتاؤ نہ پھر میرے پیغمبر کے صحابہ کیسے ھوں گئے ۔
انکا مقام و مرتبہ کیا لفظوں میں بیان کرنا ممکن ھے ۔۔؟
نہیں وہ تو صحابہ ہیں.
صحابہ کون ہیں.
جنہیں میرے رب نے سرٹیفکیٹ دے دیا رضی اللّٰـــــهُ تعالیٰ عنہ میں آپ سے راضی آپ مجھ سے راضی ۔
اور پھر صحابہ کے عشاق نے اپنی جانیں ان پر وار کر کہا۔
اے اصحاب پیغمبر آپ کا سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان.
ہمارا سب کچھ آپ پر قربان.
دعا فرمائیں حق تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی غلامی نصیب کرے.
آمین یا رب العالمین.

شاعر اہلبیت محسن نقویمحسن نقوی 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انکے والد سید چراغ حسین کاٹھی بناتے تھے...
05/05/2023

شاعر اہلبیت محسن نقوی

محسن نقوی 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انکے والد سید چراغ حسین کاٹھی بناتے تھے۔
والدین نے انکا نام غلام عباس رکھا بعد میں آپ نے اسے تبدیل کر کے غلام عباس محسن نقوی کردیا۔
محسن نقوی نے گورنمنٹ کالج ملتان سے گریجویشن کی اور یونیورسٹی آف پنجاب سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

آپ کو شاعر اہلبیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انکی کربلا کے بارے میں کی گئی شاعری پورے پاکستان میں پڑھی جاتی ہے۔

محسن نقوی شیعہ مسلم کمیونٹی کے متحرک کارکن تھے۔ نقوی نے اپنی زندگی میں شاعری کی کئی کتابیں شائع کیں۔ محسن نقوی نے ابتدائی شاعری کے اسباق رفیق خاور جسکانی سے سیکھے جنکا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ اور شفقت کاظمی اور عبد الحمید عدم سے بھی رہنمائی لی۔

1949 میں ڈیرہ غازی خاں کے ہفت روزہ’’ہلال‘‘ میں باقاعدہ ہفتہ وار قطعہ اور کالم لکھنا شروع کیا۔ اسی سال ملتان کے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ہفتے وار کالم لکھے۔

ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بند قبا‘، ’برگ صحرا‘، ’ریزہ حرف‘، ’موج ادراک‘، ’ ردائے خواب‘، ’عذاب دید‘، ’طلوع اشک‘، ’رخت شب‘، ’خیمہ جاں‘، ’فرات فکر‘، ’میرا نوحہ انھی گلیوں کی ہوا لکھے گی‘۔

محسن نقوی نے بچپن ہی سے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کی طرف بھی بے حد توجہ دی مسجد کے ساتھ ساتھ گھر میں قرآن مجید اور ناظرہ کی طرف بے حد توجہ دیتے اور مذہبی کتابیں ذو و شوق س یپڑھتے تھے۔ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیئے پاپڑ بیلے اور پیسے کمانے کی خاطر میلوں میں لاٹری بھی لگاتے تھے اور ان کے اردگرد بچوں کا ہجوم رہتا تھا۔ 10 سال کی عمر میں ہی وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پیسے کمانے پر بھی توجہ دینے لگے مگر وہ زیادہ پیسے کمانے کی لگن نہیں رکھتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ میری جائز ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ اور میں کسی کا محتاج نہ بنوں ۔ پیسے کما کر گھر آتے تو ماں ڈھیروں عدائیں دیتی اور کہتی تھی کہ میرا محسن بڑے صبر والا ہے۔ حالات سے لڑنا خوب جانتا ہے۔ وہ انہیں اپنے پاس بلاتیں ، گلے لگاتیں ۔بنعض اوقات محسن کا ماتھا چومتے ہوئے اشک بار ہو جاتیں اور کہتیں کہ محسن تم بڑے ہو کر بہت نام کمائو گے۔ میرا محسن ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا۔ ماں سے بات چیت کے دوران اکثر باتوں کا جواب مکمل شعر یا کسی ایک فی البدیہہ مصرعے میں دیتے ۔

پہلی غزل میٹرک کے دوران کہی۔ گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خاں کے مجلہ ” الغازی” کے مدیر (Editor) اور کالج کی یونین کے نائب صدر تھے۔ جب انہوں نے ” فکر جدید” نمبر شائع کیا تو ادبی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا اور پاکستان بھر کے ادبی حلقوں میں محسن نقوی کا نام پہنچ گیا اور کالج میں بھی ان کے ادبی قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہو گیا۔ کالج کے تمام پروفیسر محسن نقوی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ سب ہی انکی شاعرانہ صلاحیتوں کے معترف تھے ان دنوں انکا ایک قطعہ بے حد پذیرائی حاصل کرنے لگا۔
"چاندنی کارگر نہیں ہوتی
تیرگی مختصر نہیں ہوتی
ان کی زلفیں اگر بکھر جائیں
احتراماََ سحر نہیں ہوتی"

ایک مرتبہ محسن نقوی اپنے ماموں زاد سید علی شاہ نقوی کے ہمراہ اکٹھے گاڑی میں لاہور جا رہے تھے راستے میں ماچس کو انگلیوں سے بجاتے جاتے اور شعر کہتے جاتے اور لاہور تک انہوں نے ایک ایسی غزل کہہ ڈالی جو آج تک بھی زبان زد عام ہے وہ غزل تھی” یہ دل یہ باگل دل میرا کیوںبجھ گیا آوارگی” جسے پاکستان کے ہر دلعزیز گلوکار غلام علی نے گا کر ہمیشہ کے لیئے امر کر دیا اس کے بعد ہر طرف سے ” آوارگی ” کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔ ان کے اس کلام کو آج بھی جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں سنا جاتا ہے۔

پاکستان کے فن گائیکی کے بے تاج بادشاہ انٹرنیشنل ایوارڈ یافتہ نصرت فتح علی خان نے عظیم شاعر محسن نقوی کی غزل ” کب تک تواونچی آواز میں بولے گا، تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا” گن گنائی جو نصرت فتح علی خاں کو شہرت کے ساتویں آسماں پر لے گئی اور انہیں برطانیہ حکومت نے تمغہء حسن کارکردگی سے نوازا۔ محسن نقوی نے فلم ساز سردار بھٹی کی بھر پور فرمائش پرفلم ” بازار حسن” کے لیئے ایک گیت ” لہروں کی طرح تجھے بکھرنے نہیں دیں گے” تحریر کیا جس پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا

محسن نقوی نے بیک وقت شاعری ، ادب اور خطابت کو اپنایا ۔ انکا اسلوب منفرد، لہجہ توانا، کلام پر اثراور آواز میں درد و سنور تھا۔ غم دوراں اور غم جاناں کے ساتھ ساتھ انکی حمد، نعت اور کربلائی شاعری بھی بہت متاثر کن ہے انکی شاعری پڑھ کر پڑھنے والا روحانیت کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے۔
"الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے۔
یہ دل کا نگر ہے کہ مدینے کی فضا ہے۔"

1969 ء میں انہوں پیپلزپارٹی کے باقاعدہ رکن کی حیثیت سے پی ایس ایف میں شمولیت اختیار کر کے پنا بھر پور کردار ادا کیا اس حوالے سے نہوںنے کئی نظمیں اور مضامین رقم کیئے۔ انہوں نے پاکستان کی سابقہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے لیئے ایک نظم ” یااللہ یارسول ، بے نظیر بے قصور” لکھی جس پر انہیں 1994 ء میں صدراتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس ) سے نوازا گیا تھا۔

محسن نقوی کو 15 جنوری 1996 ء کی شام کو مون مارکیٹ میں انکے دفتر کے سامنے ان کے سینے میں گولیاں اتار کر انہیں شہید کر دیا۔عالمی دبستان ادب کے افق پر چمکنے والا ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔۔۔۔

تحریر : کاشف رضا

The Taj Mehal of BalochistanMoti Gohram Tombبلوچستان کا تاج محلمقبرہ موتی گہرام          یوں تو مقامی  اور بین الاقوامی ...
05/05/2023

The Taj Mehal of Balochistan
Moti Gohram Tomb

بلوچستان کا تاج محل
مقبرہ موتی گہرام

یوں تو مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بلوچستان کا نام سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، شرپسند کارروائیوں اور سرداروں کی بدولت آتا ہی رہتا ہے لیکن اب سوشل میڈیا کی وساطت سے شاذو نادر یہاں کی سیاحت اور خوبصورت جگہوں کو بھی عوام کے سامنے لایا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے خوبصورت پہاڑی سلسلوں، نیلگوں چشموں ، ندی نالوں ، سیب و چیری کے باغات اور برف زاروں سے تو آپ سب واقف ہوں گے لیکن یہ دھرتی تاریخ کا ایک بہترین خزانہ ہے، ایسا خزانہ جہاں تک بہت کم لوگ پہنچ پائے ہیں۔ اس دھرتی کے سینے میں کئی اسرار دفن ہیں، کئی تاریخی عمارتیں و مقبرے انتہائی شکستہ حالت میں ہیں جن میں سے ایک کا ذکر اگلی سطور میں کیا جائے گا۔

جھل مگسی بلوچستان کے نصیرآباد ڈویژن کا دوسرا بڑا ضلع ہے جو اپنے خوبصورت قدرتی مقامات جیسے درگاہ و چشمہ پیر چھتل نورانی ، دریائے مُولا، اور پیر لاکھہ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ مقبرہ میاں صاحب، مقبرہ موتی گہرام، بھوتانی مقبرہ، فتح پور شریف کی درگاہیں، مقبرہ اِلتاز خان اور خانپور اس علاقے کی تاریخی جگہیں ہیں۔ میں یہاں ذکر کروں گا مقبرہ موتی گہرام کا۔



یہ مقبرہ جھل مگسی کے شمال میں میر پور کے بیابانوں اور دریائے مُولا کی پھیلی ہوئی شاخوں میں سے ایک کے قریب واقع ہے۔ سردار گہرام لاشاری اور مائی موتی کے مقبرے کو ایک زمانے میں اس کی خوبصورتی کی وجہ سے ”بلوچستان کا تاج محل“ کہا جاتا تھا۔

#طرزِ_تعمیر

ہشت پہلو عمارت پہ نیلے رنگ کا خوبصورت کام، چہار جانب ایستادہ محرابیں، دو منزلہ گنبد اور اندر محرابوں پہ بنے خوبصورت نقش و نگار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تاریخی مقبرے کی حالت دیکھ دل کٹ کہ رہ گیا۔ ایک تاریخ تھی جو بس مٹنے کو تھی۔
یہ مقبرہ ایک وسیع چبوترے پر تعمیر کیا گیا ہے جس کے ہر کونے پر کھلی اور گنبد دار خرگاہیں بنی ہیں۔ ان خیمہ نما خرگاہوں کے چہار جانب ایک ایک محراب موجود ہے اور اوپر چھوٹا سا گنبد۔ جبکہ اس چبوترے کو بھی ہر سمت سے مختلف بند محرابوں سے سجایا گیا ہے۔ ان مربع کھوکھوں کے چار اطراف کھلے ہوئے ہیں جنہیں گنبدوں سے ڈھک کہ چونے کے مارٹر سے پلستر کیا گیا ہے۔
مرکزی مقبرہ ہشت پہلو (آٹھ کونوں والا) طرز پر بنایا گیا ہے۔ ہر پہلو کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کی بنیاد زیادہ چوڑی ہے اور یہ نیچے سے اوپر تنگ ہوتے جاتے ہیں۔

مرکزی داخلی دروازہ مشرق کی طرف ہے جبکہ مرکزی سمتوں میں ایک اور طرف روشنی اور ہوا کی فراہمی کے لیے نچلی سطح پر کھلی محرابیں رکھی گئی ہیں۔ اندرونی طور پر اس ہشت پہلوکے ہر ایک محراب میں ایک گہرا طاق بنایا گیا ہے جو مستطیل و عمودی پینل ڈیزائن والی چمکیلی ٹائلوں کے ساتھ ختم ہوتے ہیں۔ عمودی محراب والے طاقوں کو نوکدار محرابوں کے ساتھ تاج سے سجایا گیا ہے ۔
ان محرابوں کے گرد اور اوپر کی جانب نیلی ٹائل کا کام کیا گیا ہے۔ جبکہ مختلف نقش و نگار کے لیئے نیلے اور سبز رنگ کا سہارا لیا گیا ہے۔
دیواری محرابوں کے اوپر چھوٹے سائز کی سولہ محرابیں بنائی گئی ہیں جن میں آٹھ کھلی اور آٹھ بند ہیں۔ انہی محرابوں پر مقبرے کا گنبد ایستادہ ہے۔ گنبد کے اندرونی حصے میں کوئی آرائشی کام نہیں ملتا۔
مقبرے کے فن تعمیر اور آرائشی خصوصیات کا وسطی ایشیائی / تیموری فن تعمیر سے گہرا تعلق ہے جو اس کی آرائش میں بھی جھلکتا ہے۔ کاش کہ اس مقبرے کے نقش و نگار اصل حالت میں بچائے گئے ہوتے تو عمارتوں اور تعمیرات سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہاں بہت کچھ مل سکتا تھا۔



مقبرے کے اندر دو قبروں کے آثار ملتے ہیں جن پہ کسی قسم کا کوئی کتبہ ناپید ہے۔ ان میں سے گہرام لاشاری اور موتی کی قبر کون سی ہے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ مقبرے سے باہر نکلیں تو چبوترے کی ایک سائیڈ بالکل زمین میں دھنس چکی ہے جس سے نیچے کی کچھ محرابی کھڑکیاں نظر آتی ہیں، یعنی اس مقبرے کے نیچے بھی کوئی تہہ خانہ یا جگہ رہی ہو گی۔
شاید اسی بنا پہ مقامیوں کو ہر دوسری تاریخی جگہ کی طرح یہاں بھی قارون کا خزانہ نظر آ گیا۔



مقبرے کے ساتھ مقامیوں کی طرف سے ظلم یہ کیا گیا کہ کسی چھپے ہوئے خزانے (جس کے یہاں دفن ہونے کا دور دور تک سوال نہیں اٹھتا) کی لالچ میں اسے بار بار کھودا گیا۔
کہیں سے اینٹیں اتاری گئیں تو کہیں سے ٹائل اور پتھر اکھاڑے گئے۔ حد تو تب ہو گئی جب میں اپنے بلوچ دوستوں سمیت وہاں پہنچا تو دو تین مقامی مرد وہاں آ دھمکے اور ہمیں کہا کہ اگر یہاں کھدائی سے کچھ ملتا ہے تو ہمیں بھی کچھ حصہ دینا ہو گا (شاید وہ ہمیں خزانے کی تلاش میں یہاں پہنچنے والی کوئی ٹیم سمجھ بیٹھے تھے)۔
میرے دوست محمود کھوسہ نے بتایا کہ یہاں عوام کا یہی حال ہے کہ وہ جب موقع ملے اس جگہ کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔
مقبرے کے ساتھ شمالی جانب ایک چھوٹی مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی۔ ایک بلند چبوترے پر تعمیر شدہ یہ دو منزلہ مسجد مربع شکل میں ہے جس کے تین اطراف محرابی دروازے اور مغربی جانب مرکزی محراب ہے۔ دیکھ کہ لگتا ہے کہ مسجد کو اندرونی اور بیرونی طور پر صاف ستھری چھوٹی اینٹ سے تیار کیا گیا تھا۔ جبکہ اوپر چھوٹی محرابوں پر بڑا گنبد موجود تھا جو اب شہید ہو چکا ہے۔ مسجد کے آس پاس اور اندر بس اینٹیں بکھری نظر آتی ہیں۔

میری حکومت پاکستان، محکمہ آثار قدیمہ اور حکومت بلوچستان سے یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ خدارا جھل مگسی کے اس ورثے کی حفاظت کے لیئے کچھ کریں۔ زیادہ کچھ نہیں تو اس کے گرد چار دیواری دے کر اسے مزید تباہ ہونے سے بچا لیں۔
خدارا، اسے ملک کا قیمتی ورثہ سمجھ کے نہ سہی اپنے سرداروں کی قبر سمجھ کہ ہی بچا لیں تاکہ مجھ جیسے سیاحوں کو یہاں آ کہ کڑھنا نہ پڑے۔

تحریر و تصاویر
ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

Address

Muzaffargarh

Telephone

+923012109012

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share