Bheri Echoes & Tales

Bheri Echoes & Tales Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bheri Echoes & Tales, Photographer, Muzaffarabad.

میر محمد خان (1934–2026)علم اور اخلاقی بصیرت کا روشن بابمیر محمد خان، بھیڑی، مظفرآباد (آزاد کشمیر)، ایک ممتاز استاد، شاع...
10/01/2026

میر محمد خان (1934–2026)
علم اور اخلاقی بصیرت کا روشن باب

میر محمد خان، بھیڑی، مظفرآباد (آزاد کشمیر)، ایک ممتاز استاد، شاعر اور مورخ تھے۔ ان کا وصال جمعہ، 9 جنوری 2026ء کو ہوا۔ ان کے ساتھ ہی علم و تدریس کا ایک درخشاں عہد اختتام کو پہنچا۔ وہ 1934ء میں— پیدا ہوئے اور ریاست و معاشرے کے کئی انقلابی ادوار کے عینی شاہد رہے۔

انہوں نے 1952ء میں نیلم ویلی سے تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور اپنی جوانی کے تین شاندار سال وہاں گزارے۔ اس کے بعد تقریباً اڑتالیس برس تک چھکڑیاں، بھیڑی، پہالیاں، بٹدرہ، کھٹارا بندی، کہینرا اور مظفرآباد کے دیگر علاقوں میں علم کی شمع روشن کرتے رہے۔ آج ان کے شاگرد آزاد جموں و کشمیر کے مختلف انتظامی، تعلیمی، سول اور سیاسی شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں—جو ان کی محنت، اخلاص اور تربیت کا زندہ ثبوت ہیں۔

میر محمد خان کو اردو، فارسی اور ہندکو زبانوں پر کامل عبور حاصل تھا۔ ان کی غیر معمولی قوتِ حافظہ ان کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے تھی؛ بڑھاپے میں بھی وہ واقعات، نام، مقامات اور تاریخیں حیرت انگیز درستی کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔

وہ شہرۂ آفاق تین جلدوں پر مشتمل تصنیف
“انبوہِ غم: داستانِ جہادِ کشمیر 1947ء وما بعد”
کے مصنف ہیں، جس میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر 1947ء کے وہ پہلو محفوظ کیے گئے ہیں جو اکثر تاریخ کے حاشیوں میں دھکیل دیے گئے۔ یہ تصنیف بھارتی بیانیے—خصوصاً اک ماں کی سچی کہانی—کا مدلل اور فکری جواب بھی ہے، اور عصرِ حاضر کی مادہ پرستی و جذبۂ شہادت کے زوال پر ایک گہرا نوحہ بھی۔ ان کے ادبی کام پر تحقیقی مطالعہ ان کے شاگرد ڈاکٹر سردار فیاض الحسن نے اپنے مقالے
“Morphological Analysis of Dewan-e-Muhammad Khan”
میں پیش کیا۔

بحیثیت شاعر، ڈاکٹر فیاض الحسن کے مطابق:

> “میر محمد خان نے اپنے دیوان میں اس خطے کے بے شمار کرداروں، حالات اور اجتماعی شعور کو محفوظ کر دیا—بالکل اسی طرح جیسے جیفری چاسر نے کینٹربری ٹیلز کے دیباچے میں کیا تھا۔ اگر اس علاقے کی کوئی اور تاریخ بھی نہ لکھی جائے، تب بھی ان کا دیوان آئندہ صدیوں میں مظفرآباد اور گرد و نواح کی سماجی و تاریخی صورتِ حال جاننے کے لیے کافی ہوگا۔”

ان کی زندگی اس عہد کی یادگار تھی جب مظفرآباد میں ہندو، سکھ اور مسلمان باہم رہتے تھے اور شہر ڈوگرہ راج کا صدر مقام تھا۔ وہ ان یادوں کو توازن، دیانت اور انسانی وقار کے ساتھ آگے منتقل کرنے والے آخری چراغوں میں سے تھے۔

میر محمد خان جمعہ، 9 جنوری 2026ء کو 91 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ وہ علم، کردار اور فکری امانت کا ایسا سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علم و اثر کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔

ترتیب و جمع : ظہور منہاس

1925
27/11/2025

1925

18/10/2025
جنوبی ایشیا میں شدید زلزلہ، 3,000 سے زائد ہلاکتیںگارجین، 8 اکتوبر 2005پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب آنے والے 7.6 شدت...
18/10/2025

جنوبی ایشیا میں شدید زلزلہ، 3,000 سے زائد ہلاکتیں
گارجین، 8 اکتوبر 2005

پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب آنے والے 7.6 شدت کے طاقتور زلزلے نے آج کئی بستیاں ملبے کا ڈھیر بنا دیں، پہاڑوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بنا اور ایک بلند و بالا عمارت کو زمین بوس کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں 3,000 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں 250 اسکول کی بچیاں شامل تھیں جو عمارت گرنے سے ملبے تلے دب گئیں، جبکہ کشمیر میں فرائض انجام دینے والے 200 فوجی بھی جاں بحق ہوئے۔

پاکستان، بھارت اور افغانستان کے دارالحکومتوں میں عمارتیں ہل گئیں، دیواریں جھولنے لگیں اور لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ خطے بھر میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔

زلزلے کے بعد کئی گھنٹوں تک جھٹکے محسوس کیے گئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے کی جدوجہد کرتی رہیں۔ اسپتالوں نے بھی مزید نقصان کے خدشے کے باعث مریضوں کو عمارتوں سے باہر لان پر منتقل کر دیا۔

پاکستانی کشمیر میں تقریباً 1,000 افراد جاں بحق ہوئے، علاقے کے اعلیٰ سرکاری افسر سردار محمد انور نے بتایا۔
"یہ میرا محتاط اندازہ ہے، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے،" انہوں نے آج نیوز ٹی وی سے گفتگو میں کہا۔ ان کے مطابق مظفرآباد میں زیادہ تر گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اسکول اور اسپتال بھی منہدم ہو گئے۔

صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) کے وزیر ملک ظفر اعظم کے مطابق شمال مغربی پاکستان میں کم از کم 860 افراد ہلاک ہوئے۔

ضلع مانسہرہ کے پولیس سربراہ عطااللہ خان وزیر نے بتایا کہ حکام نے ایک لڑکیوں کے اسکول کے ملبے سے 250 طالبات کی لاشیں نکالی ہیں۔
"یہ افسوسناک واقعہ گھری حبیب اللہ گاؤں میں پیش آیا،" انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق تقریباً 500 طالبات زخمی ہوئیں۔

ترکی نے امدادی پیشکش کی ہے، جہاں ریڈ کریسنٹ نے پاکستان کے لیے امدادی سامان اور ٹیموں کے ساتھ فوجی طیارے بھیجنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ برطانیہ نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ جیک اسٹرا نے کہا: "زلزلے کی خبر سن کر میں انتہائی رنجیدہ ہوں۔ میری تشویش اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ بہت سے برطانوی شہریوں کے پاکستانی خاندان متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی حکومت کو مدد کی پیشکش کر چکے ہیں اور ہر درخواست پر فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ابھی تک کسی برطانوی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔"

فضائیہ اور فوج کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف تھے۔ ٹیلی فون لائنیں منقطع تھیں، پلوں میں دراڑیں پڑ گئیں مگر ان پر آمدورفت جاری تھی۔

صوبائی وزیر اطلاعات عاصف اقبال کے مطابق مانسہرہ ضلع میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے اور متاثرہ علاقوں میں 70 فیصد کچے مکانات منہدم ہو گئے۔ دیگر علاقوں سے نقصانات کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی تھیں۔

افغانستان کے مشرقی حصے میں ایک 11 سالہ بچی اپنے گھر کی دیوار گرنے سے جاں بحق ہوگئی، پولیس افسر غفار خان نے بتایا۔

اسلام آباد کے پوش علاقے مارگلہ ٹاورز کی 10 منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی، درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے کم از کم 20 زخمیوں کو نکالا۔ ایک ملازم کے مطابق عمارت میں کچھ مغربی اور وسطی ایشیائی باشندے بھی رہائش پذیر تھے۔

قریب کے رہائشی رحمت اللہ نے بتایا، "میں نے باتھ روم کی کھڑکی سے گردوغبار کے بادل اٹھتے دیکھے۔ میں نیچے بھاگا، کچھ دیر تک گردوغبار کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر ہم نے ملبے میں دبے لوگوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہم نے ایک شخص کو اس کی ٹانگیں کاٹ کر باہر نکالا۔"

نعمان علی، جو قریبی عمارت کی بالائی منزل پر رہتا تھا، نے کہا: "یہ بالکل جہنم جیسا منظر تھا۔ میں بستر پر اچھل گیا اور چھت کا پنکھا چھت سے ٹکرا گیا۔"

دو بڑی کرینوں کی مدد سے سیکڑوں پولیس اہلکار اور فوجی ملبہ ہٹا رہے تھے۔ ایک کنکریٹ کا ٹکڑا خون سے لت پت تھا۔ ایک ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ ابتدا میں اسے ملبے تلے دبے لوگوں کی مدھم آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

صدر پرویز مشرف اور وزیرِاعظم شوکت عزیز نے فوج کو زلزلہ زدہ علاقوں میں "ہر ممکن مدد" فراہم کرنے کا حکم دیا اور عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ فوج اور ہیلی کاپٹروں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی جگہوں پر امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی تھیں۔

فوجی ترجمان سلطان کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقے پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے ہیں جن میں مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ شامل ہیں۔ شمال مغربی پاکستان کے اضلاع بٹگرام، بالاکوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور پٹن بھی بری طرح متاثر ہوئے۔

ان علاقوں میں درجنوں گھر، اسکول، مساجد اور سرکاری دفاتر تباہ ہوگئے اور سینکڑوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاکستان، بھارت اور افغانستان کے دارالحکومتوں میں عمارتیں ہل گئیں، دیواریں جھولتی رہیں اور لوگ گھبراہٹ میں گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے کئی گھنٹوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ صبح 8 بج کر 50 منٹ (مقامی وقت) پر آیا، جس کی شدت 7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال شمال مشرق میں تھا۔

اسلام آباد کے محکمہ موسمیات کے اہلکار قمرالزمان نے کہا کہ زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 100 کلومیٹر شمال میں تھا۔

امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جیری اوہارا نے بتایا کہ زلزلہ افغانستان میں بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر محسوس کیا گیا لیکن کسی اڈے پر نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافاتی علاقے میں ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس کے گارڈ ہری سنگھ نے بتایا: "زلزلہ اتنا شدید تھا کہ میں نے عمارتوں کو ہلتے دیکھا۔ یہ خوفناک تھا۔" فرنیچر کے ہلنے پر سینکڑوں رہائشی اپنے اپارٹمنٹس سے باہر دوڑ آئے۔

زلزلے کے جھٹکے بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم وہاں کسی نقصان یا ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی فوج آزاد کشمیر میں :❄️🇺🇸 امریکی فوج کی جانب سے برف سے ڈھکے  بھیڑی مظفرآباد آزاد کشمیر میں امداد کی فراہمی📍 بھیڑی ...
18/10/2025

امریکی فوج آزاد کشمیر میں :

❄️🇺🇸 امریکی فوج کی جانب سے برف سے ڈھکے بھیڑی مظفرآباد آزاد
کشمیر میں امداد کی فراہمی
📍 بھیڑی – 5 جنوری 2006

برف نے بھیڑی ، مظفرآباد کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا تھا۔ ❄️
ان تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برفانی موسم کے بعد فوج اور امدادی ادارے زلزلہ متاثرین کے لیے بڑی مقدار میں امدادی سامان لے کر علاقے میں پہنچے۔ 🚁

کیا آپ کو وہ دن یاد ہیں؟ 🤍
اپنی یادیں کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ 👇

🖼️ تصاویر بہ شکریہ: جان مور / گیٹی امیجز

Address

Muzaffarabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bheri Echoes & Tales posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category