Mîř Žèéshåñ Alí Khãñ

Mîř Žèéshåñ Alí Khãñ ★᭄⭗⎼ͥ͢⎼⎼ͣ⎼⎼ͫMIR᭄Zãdã𒈞👍❤️

10/05/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Kamran Arman, Kattar Nishad Nishad Je, Abid Ch

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی✍️♥️کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی✍️♥️تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے✍️♥️جو رہ...
07/02/2026

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی✍️♥️
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی✍️♥️
تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے✍️♥️
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی✍️♥️
نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے✍️♥️
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی✍️♥️
مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں✍️♥️
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی✍️♥️
یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر✍️♥️
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی✍️♥️
تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری✍️♥️
نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی✍️♥️
تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الا✍️♥️
لغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی✍️♥️
کلام:- شاعر مشرق
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ ✍️♥️
__________________________________________________
یہ اشعار علامہ محمد اقبالؒ کے تصورِ خودی، حریتِ فکر، عزتِ نفس اور باطنی بیداری کا جامع اور ہمہ گیر اعلان ہیں، جن میں انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقام اور اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔ “یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی” سے اقبالؒ ایک ایسی تازہ اور لطیف صدا کا ذکر کرتے ہیں جو غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے دل کو جگاتی ہے، گویا فطرت خود انسان سے مخاطب ہو کر یہ پیغام دے رہی ہو کہ خودی کے عارفوں کا مقام بادشاہی ہے، یعنی وہ انسان جو اپنی ذات، اپنی قوت اور اپنی ذمہ داری کو پہچان لیتا ہے وہ تخت و تاج کا محتاج نہیں رہتا بلکہ اس کا کردار، اس کی سوچ اور اس کا عمل ہی اسے سربلند بنا دیتا ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک خودی محض انا یا غرور نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی قوت ہے جو انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے اور اسے کائنات میں باوقار کردار عطا کرتی ہے، اسی لیے وہ واضح انداز میں فرماتے ہیں کہ تری زندگی اسی سے ہے اور تری آبرو بھی اسی سے وابستہ ہے، اگر خودی باقی رہے تو انسان شاہی شان کے ساتھ جیتا ہے اور اگر خودی مر جائے تو انسان چاہے ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اندر سے رو سیاہ اور خالی ہو جاتا ہے۔ اقبالؒ اس شعر میں ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عزت، مقام اور کامیابی باہر سے نہیں بلکہ اندر سے جنم لیتی ہے، اور جو قومیں یا افراد اپنی خودی کھو دیتے ہیں وہ دوسروں کے سہارے جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ “نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تو نے” میں اقبالؒ روایت پرستی اور اندھی تقلید پر گہری چوٹ لگاتے ہیں، وہ اس حکیم سے شکوہ نہیں کرتے بلکہ دراصل اس ذہنیت پر سوال اٹھاتے ہیں جو انسان کو سوچنے، تلاش کرنے اور راستہ خود بنانے کے بجائے صرف نسخے تھما دیتی ہے، کیونکہ اقبالؒ کے نزدیک اصل رہنمائی وہ ہے جو انسان کو خود راہی بنائے، نہ کہ ہمیشہ کے لیے رہ نشین۔ “مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِ تربیت ہیں” کے ذریعے اقبالؒ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی آواز، ان کا پیغام اور ان کا فکر اُن لوگوں کے لیے ہے جو ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ہیں، جو بظاہر گدا ہیں مگر اندر سے وہ شعور رکھتے ہیں جو کج کلاہی یعنی ظاہری شان و شوکت کے فریب کو پہچان لیتا ہے، اور یہی لوگ آگے چل کر حقیقی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ خانقاہی طریقوں پر تنقید کرتے ہوئے اقبالؒ نہایت مہذب مگر واضح انداز میں کہتے ہیں کہ مجھے وہ راستہ پسند نہیں جو انسان کو عمل سے دور، دنیا سے کٹا ہوا اور محض رسموں تک محدود کر دے، کیونکہ اقبالؒ کا دین ایک متحرک، بیدار اور عمل سے بھرپور دین ہے جو انسان کو دنیا میں کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیتا ہے نہ کہ گوشہ نشینی میں سلانے کا بہانہ۔ “تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری” میں اقبالؒ انسان کو امید، حوصلے اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتے ہیں، کہ اگر تم بلند مقاصد کے شکار کے خواہاں ہو تو جان لو کہ یہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ اس میں ہر چیز کسی نہ کسی مصلحت کے تحت قائم ہے، اور کامیابی کے لیے بصیرت، صبر اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔ عرب و عجم کی تمیز مٹاتے ہوئے اقبالؒ آخری اشعار میں توحید کے اس عالمگیر پیغام کو سامنے لاتے ہیں کہ انسان کی پہچان اس کی نسل، زبان یا قومیت سے نہیں بلکہ اس کے لا الٰہ الا اللہ سے ہے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ کلمہ محض زبان تک محدود نہ ہو بلکہ دل اس کی گواہی دے، کیونکہ دل کی گواہی کے بغیر الفاظ بے جان رہ جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کلام ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اقبالؒ کا پیغام محض شاعری نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آشنا کر کے اسے غلامی، جمود اور احساسِ کمتری سے نکالنا چاہتا ہے، اور ایک ایسے فرد اور معاشرے کی تشکیل کا خواب دیکھتا ہے جو خوددار، باعمل، خدا شناس اور باوقار ہو۔ یہ اشعار آج کے انسان کے لیے بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے اقبالؒ کے دور میں تھے، کیونکہ آج بھی مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے خودی کو فراموش کر دیا ہے، ہم نے رسموں کو مقصد بنا لیا ہے اور مقصد کو بھلا دیا ہے، اور یہی اقبالؒ کا کلام ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی خودی کو پہچان لیا تو نہ صرف ہماری زندگی سنور سکتی ہے بلکہ ہماری قوم اور ہمارا معاشرہ بھی حقیقی معنوں میں بیدار ہو سکتا ہے۔
╭•➻❥︎●⃝────•❥︎
ᴘ̳ᴏ̳s̳ᴛ̳ ʙ̳ʏ̳⭝
╰┈─➤
★᭄⭗⎼ͥ͢⎼⎼ͣ⎼⎼ͫMIR᭄Zãdã𒈞👍❤️
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
🔥❀ ❀ ❀ ❀ ❀
┇ ┇ ┇ ┇ ┇ ┇
┇ ┇ ┇ ┇ ┇ 🤎
┇ ┇ ┇ ┇ 🤍❣️
┇ ┇ ┇ 🖤❣️ ❀
┇ ┇ 💙❣️ ❀
┇ 💚❣️ ❀
🧡❣️ ❀
❣️ ❀

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں             ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہيںتہی ، زندگی سے نہيں يہ فضائيں              يہاں...
07/02/2026

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہيں
تہی ، زندگی سے نہيں يہ فضائيں
يہاں سينکڑوں کارواں اور بھی ہيں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشياں اور بھی ہيں
اگر کھو گيا اک نشيمن تو کيا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہيں
تو شاہيں ہے ، پرواز ہے کام تيرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہيں
اسی روز و شب ميں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تيرے زمان و مکاں اور بھی ہيں
گئے دن کہ تنہا تھا ميں انجمن ميں
يہاں اب مرے رازداں اور بھی ہيں
کلام_ #
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ_ #
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علامہ اقبال کا یہ معروف اور فکر انگیز کلام صرف ایک نظم نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو ہر اس شخص کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو سستی، قناعت پسندی اور محدود سوچ کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ اشعار دراصل انسان کی فطری بلند پروازی، لا محدود امکانات، اور مسلسل کوشش کی دعوت دیتے ہیں۔ اقبال یہاں ایک روحانی، فکری اور عملی تحریک دیتے ہیں کہ انسان محض ایک مقام یا ایک کامیابی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنے سفر کو جاری رکھے کیونکہ راستے ختم نہیں ہوتے، منزلیں کبھی محدود نہیں ہوتیں اور افق کی سرحدیں کبھی قائم نہیں رہتیں۔ "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں" ایک ایسی سوچ ہے جو انسان کو جمود سے نکال کر حرکت کی طرف، محدودیت سے نکال کر وسعت کی طرف اور زمین سے نکال کر آسمانوں کی طرف لے جاتی ہے۔ عشق، جو اقبال کے نزدیک قربِ الٰہی اور بلند انسانی مقاصد کا استعارہ ہے، کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس میں امتحانات اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں، کیونکہ عشق ہی زندگی کو متحرک اور بامقصد بناتا ہے۔اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر ہم کسی ایک نشیمن کو کھو بیٹھیں، کسی ایک موقع سے محروم ہو جائیں یا کسی ایک خواہش کی تکمیل نہ ہو سکے تو یہ دنیا ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ اس کے بعد بھی بہت کچھ باقی ہے، اور ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ "مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں" صرف دکھوں کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ رنج و الم میں بھی ایک شان ہوتی ہے، ان میں بھی سیکھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ یہ کائنات محدود نہیں بلکہ یہ تو ایک مسلسل پھیلنے والا میدان ہے جس میں جستجو کرنے والے کے لیے ہر لمحہ ایک نیا منظر، ایک نیا امتحان، ایک نیا مقام ہوتا ہے۔ وہ شاہین کی مثال دے کر نوجوانوں کو ایک بلند ہمت، خوددار اور آسمانوں کو چیرنے والے کردار میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اقبال کا شاہین زمین پر نہیں بیٹھتا، وہ مردار نہیں کھاتا، وہ تنہائی پسند ہے، اور وہ اپنی پرواز سے دنیا کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔اقبال نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ اپنے وقت، ماحول اور موجودہ چیلنجز میں ہی نہ الجھ جائیں بلکہ ان سے بلند ہو کر سوچیں، کیونکہ وقت کی قید، مقام کی پابندی اور لمحاتی کامیابیاں انسان کے اصل مقام کو چھپا لیتی ہیں۔ جو انسان اپنے آپ کو صرف دنیاوی کاموں، وقتی آسائشوں، اور چھوٹی چھوٹی فتوحات تک محدود کر دیتا ہے وہ دراصل اپنی اصل صلاحیتوں سے انکار کر رہا ہوتا ہے۔ اقبال اس محدود سوچ کو توڑنے اور وسیع تر امکانات کی طرف نگاہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ "اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا" دراصل وقت کے دھارے سے بلند ہو کر سوچنے کی ترغیب ہے۔ آخر میں جب وہ کہتے ہیں "گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں، یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں" تو وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اب اس مشن، اس سوچ، اس تحریک کو اپنانے والے اور بھی لوگ موجود ہیں۔ اقبال تنہا نہیں رہے، اب ان کے افکار کو اپنانے والے، ان کی تعلیمات سے روشنی حاصل کرنے والے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والے بھی میدان میں موجود ہیں۔ یہ ایک خوش آئند پیغام ہے کہ فکرِ اقبال اب محض ایک شاعر کی سوچ نہیں رہی بلکہ یہ ایک تحریک بن چکی ہے جو دلوں کو جوش، ذہنوں کو فکر، اور کردار کو جرات عطا کرتی ہے۔ لہٰذا آج کے نوجوان کو چاہیے کہ وہ اس کلام کو صرف اشعار نہ سمجھے بلکہ اسے اپنی زندگی کا منشور بنائے، اور اپنی پرواز کو اس بلندی تک لے جائے جہاں صرف ستارے نہیں بلکہ ستاروں سے آگے اور بھی جہان موجود ہیں۔علامہ محمد اقبال کا شاہین صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی علامت ہے جو مسلم نوجوان کی شخصیت، کردار، غیرت، خودی، آزادی اور بلندیٔ فکر و عمل کی ترجمانی کرتا ہے۔ اقبال نے جب شاہین کو اپنے کلام میں پیش کیا تو وہ محض شاعری نہیں تھی بلکہ ایک دعوتِ عمل تھی، ایک پکار تھی ان نوجوانوں کے لیے جو غلامی، سستی، مادہ پرستی اور خود فراموشی میں گم ہو چکے تھے۔ شاہین کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی بلندی پر پرواز ہے، جو علامتی طور پر انسان کے بلند نصب العین، عظمتِ کردار اور خودداری کو ظاہر کرتی ہے۔ اقبال کا شاہین تنہا رہنے والا، بلند ہمت، کم خوراک مگر قناعت پسند، خود شناس اور غیرت مند ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی محتاجی اور جھوٹے سہاروں پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنی قوتِ بازو پر یقین رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک شاہین وہ ہے جو دنیاوی آسائشوں، آرام طلبی، اور آرام دہ زندگی کی قید سے آزاد ہو، جو اپنی تقدیر خود رقم کرے اور جو حق و باطل کی پہچان رکھتے ہوئے، وقت کی ظالم قوتوں کے آگے سر نہ جھکائے۔آج کے نوجوان کو اگر اقبال کے شاہین سے جوڑا جائے تو پہلا تقاضا یہی ہوگا کہ وہ اپنی خودی کو پہچانے، اپنے مقام کو سمجھے اور اپنی صلاحیتوں کا درست اور مثبت استعمال کرے۔ آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا، فیشن، شہرت، اور عارضی کامیابیوں نے نوجوان کو ظاہری چمک دمک میں الجھا دیا ہے، وہاں اقبال کا پیغام انہیں باطنی عظمت، فکری بلند نظری، اور روحانی بالیدگی کی طرف بلاتا ہے۔ شاہین کا راستہ مشکل ضرور ہے لیکن وہی راستہ ترقی کا ہے۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنے وقت کو ضائع کرنے کے بجائے علم، تربیت، اخلاق، اور کردار سازی پر صرف کرے۔ وہ دوسروں کی اندھی تقلید سے نکل کر اپنی انفرادیت کو پہچانے اور اپنی شناخت کو اسلام، علم، حق، اور غیرت سے وابستہ کرے۔ اقبال کے شاہین کی ایک اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں جیتا، بلکہ وہ ملت، امت اور انسانیت کے لیے سوچتا ہے، اس کی نگاہ میں صرف ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی، عدل، حق گوئی اور حریت کو مقدم حیثیت حاصل ہے۔آج اگر ہماری ملت زوال کا شکار ہے، تو اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے نوجوان اپنی اصل سے کٹ چکے ہیں۔ وہ مغرب کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہو کر اپنے اسلاف کی عظمت کو فراموش کر چکے ہیں۔ انہیں دوبارہ اس شاہین کی طرف لوٹنا ہوگا جو بلندیوں کا طلبگار ہو، جو پہاڑوں کی چوٹیاں چھو کر نیچے کی دنیا کو حقیر سمجھے، جو اپنی روحانی عظمت کے ساتھ مادی ترقی بھی حاصل کرے اور دنیا کو بتا دے کہ مسلمان صرف ماضی کا وارث نہیں بلکہ مستقبل کا معمار بھی ہے۔ اقبال نے جس شاہین کا خواب دیکھا، وہ خواب آج بھی زندہ ہے، اور ہر نوجوان کے اندر ایک شاہین چھپا ہوا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم خود کو پہچانیں، اپنی خودی کو جگائیں، اور اس سفر کا آغاز کریں جو ہمیں زمین سے آسمان کی بلندیوں تک لے جائے۔ اقبال کا پیغام آج بھی زندہ ہے، اور جب تک دنیا میں مسلمان نوجوان موجود ہیں، شاہین کا یہ تصور ان کے دلوں کو بیدار کرتا رہے گ-اقبال کا شاہین انقلابی ہے، وہ فرسودہ نظام کو للکارتا ہے، وہ ان حکمرانوں اور نظاموں سے بغاوت کرتا ہے جو انسان کو غلامی میں جکڑ کر رکھتے ہیں، جو دین سے دوری اور دنیا پرستی کو فروغ دیتے ہیں۔ ایسے میں نوجوان کو چاہیے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، مگر ایسی تعلیم جو محض روزگار کے لیے نہ ہو بلکہ فکری بیداری اور کردار سازی کے لیے ہو۔ اسے چاہیے کہ وہ دین کی فہم حاصل کرے، قرآن و سنت کو سمجھے اور ان پر عمل کرے تاکہ اس کا کردار بھی ویسا ہو جیسے اقبال کا شاہین چاہتا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے، گھریلو ماحول، اور معاشرتی نظام کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوان کو شاہین بنانے کی کوشش کریں، ان میں خود اعتمادی، غیرت، جرات، سچائی، دیانت، _اور قربانی کے جذبے کو پروان چڑھائیں
✍️◈◈ PᴏsT Bʏ⇘
╔╦══• •✠•✠•✠ • •══╦╗ ★᭄⭗⎼ͥ͢⎼⎼ͣ⎼⎼ͫMIR᭄Zãdã𒈞❤️👍❤️👍
╚╩══• •✠•✠•✠ • •══╩╝
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
💚💛💜💙🤎♥️❤️💕♥️❤️♥️
┊  ┊  ┊  ┊
┊  ┊  ┊ ❣
┊  ┊ ❣ 💚
┊ ❣ 💛
❣ 💙
💜

صبر ایک ایسی عظیم صفت ہے جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور ناپسندیدہ حالات میں بھی مضبوط اور ثابت قدم بنائے رکھتی ہے۔ یہ ...
07/02/2026

صبر ایک ایسی عظیم صفت ہے جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور ناپسندیدہ حالات میں بھی مضبوط اور ثابت قدم بنائے رکھتی ہے۔ یہ محض ایک عمل نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے جس کے ذریعے انسان اپنے باطن کو تقویت دیتا ہے، اپنی سوچ کو جِلا بخشتا ہے اور اپنے مقصد کی جانب پُرعزم قدم بڑھاتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کرنے والوں کے لیے انعامات اور بشارتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صبر وہ مقام رکھتا ہے جو انسان کو نجات، قربِ الٰہی اور آخرت میں بلند درجات عطا کرتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خاموشی اختیار کرے یا کمزوری دکھائے، بلکہ یہ دراصل ایک مضبوط ارادے، پختہ یقین اور مثبت رویے کا نام ہے، جس کے ذریعے انسان ہر حالت میں اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ جب انسان مشکلات میں گھِرا ہوتا ہے، راستے مسدود نظر آتے ہیں، دعائیں تاخیر سے قبول ہوتی ہیں اور زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی محسوس ہوتی ہے، تب صبر ہی وہ روشنی ہوتی ہے جو اندھیروں میں اُمید بن کر چمکتی ہے۔ صبر انسان کو جذبات کی شدت سے بچاتا ہے، اسے جلد بازی سے روکتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ ایک صابر شخص مایوسی کی گہرائیوں میں گرنے کے بجائے، ہر پریشانی میں بہتری تلاش کرتا ہے اور اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے، اللہ کی حکمت پر یقین رکھتے ہوئے مضبوطی سے جُڑا رہتا ہے۔ ثابت قدمی ایسی خصوصیت ہے جو انسان کو راستے میں آنے والی ہر ٹھوکر، ہر رکاوٹ اور ہر آزمائش کے باوجود، اپنے مقصد سے ہٹنے نہیں دیتی۔ تاریخ میں ایسے بے شمار افراد گزرے ہیں جنہوں نے صبر اور ثابت قدمی کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا، ظلم کے مقابلے میں اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے اور بالآخر کامیابی ان کا مقدر بنی۔ انبیاء کرام کی زندگیوں کو اگر دیکھا جائے تو وہ صبر اور ثابت قدمی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں، جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر تکالیف برداشت کیں، طعن و تشنیع کا سامنا کیا، جِلاوطن ہوئے، قید ہوئے، مگر اپنی راہ سے نہ ہٹے۔صبر کا انعام ہر صورت میں ملتا ہے، کبھی دنیا میں سکون کی صورت میں، کبھی آخرت میں جنت کے وعدے کی صورت میں، اور کبھی ایسے انوکھے طریقوں سے جنہیں ہم سمجھ بھی نہیں پاتے۔ ایک صابر انسان کے دل میں اطمینان ہوتا ہے، اس کی زبان شکوہ سے پاک ہوتی ہے، اور اس کی آنکھیں ہر حال میں شکر کی روشنی سے چمکتی ہیں۔ صبر انسان کو غصے، نفرت، جلد بازی، حسد اور مایوسی جیسے منفی جذبات سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب ہم ثابت قدمی کے ساتھ صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو ہم نہ صرف اپنی شخصیت میں پختگی پیدا کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتے ہیں۔ دنیا کی ہر کامیابی صبر کے کسی نہ کسی مرحلے سے گزر کر ہی حاصل ہوتی ہے، چاہے وہ علم ہو، رشتہ ہو، یا کوئی بڑا خواب۔لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو محض مجبوری نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک نعمت اور طاقت مان کر قبول کریں۔ مشکلات آئیں گی، لوگ تکلیف دیں گے، حالات بگڑیں گے، مگر اگر ہم صبر اور ثابت قدمی کا دامن تھامے رکھیں گے تو یقین جانیے، اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ ہر رات کی سیاہی کے بعد صبح ضرور طلوع ہوتی ہے، اور ہر کٹھن راہ کے آخر میں آسانی ضرور ہوتی ہے۔ صبر ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے، دل کو مضبوط بناتا ہے اور زندگی کو معنویت بخشتا ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو
انسان بناتی ہے، اور یہی وہ خوبی ہے جس کا انعام بے حساب ہے۔
✍️◈◈ PᴏsT Bʏ⇘
╔╦══• •✠•✠•✠ • •══╦╗ ★᭄⭗⎼ͥ͢⎼⎼ͣ⎼⎼ͫMIR᭄Zãdã𒈞❤️👍❤️👍
╚╩══• •✠•✠•✠ • •══╩╝
❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
💚💛💜💙🤎♥️❤️💕♥️❤️♥️
┊  ┊  ┊  ┊
┊  ┊  ┊ ❣
┊  ┊ ❣ 💚
┊ ❣ 💛
❣ 💙
💜

21/12/2025


تا مرا افتاد بر رویت نظراز اب و ام گشتۂ ئی محبوب ترجب سے میری نظر آپ ﷺ کے مبارک چہرے پر پڑی ہے تو آپ ﷺ مجھے ماں باپ سے ...
06/09/2025

تا مرا افتاد بر رویت نظر
از اب و ام گشتۂ ئی محبوب تر
جب سے میری نظر آپ ﷺ کے مبارک چہرے پر پڑی ہے
تو آپ ﷺ مجھے ماں باپ سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز ہو گئے ہیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہی ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر ۱۵)
حوالہ
کلام: علامہ محمد اقبال
کتاب: رموز بےخودی
عرض حال مصنف با حضور رحمتہ للعالمین

✍️◈◈ *`PᴏsT Bʏ`*⇘
*`❥︎_★᭄⭗⎼ͥ͢⎼⎼ͣ⎼⎼ͫMIR᭄Zãdã_𒈞👍❤️_`*
*`❤️ㅤ ✍🏻ㅤ 📩 📤`*
*`ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ`*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
•┅┄┈•※ ‌✤۝✤‌※┅┄┈•۔
┊ ┊ ┊ ┊۔
┊ ┊ ┊ ☽۔
┊ ┊ ☆۔
☆ ☆۔

21/05/2025


















































❤.🌹🏵💮🌸💐 مـــــــــــــــــــر شـــــــــــــــدThe Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.                 ...
21/05/2025

❤.🌹🏵💮🌸💐 مـــــــــــــــــــر شـــــــــــــــد
The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.








Ten Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models,

Address

Muzaffarabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mîř Žèéshåñ Alí Khãñ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mîř Žèéshåñ Alí Khãñ:

Share