Waheed on wheels

Waheed on wheels I am an avid motorcyclist with a deep passion. Exploring diverse cultures is a part of my journey, as I immerse myself in the local traditions and lifestyles.

Riding through scenic routes allows me to capturing stunning landscapes along the way.

19/08/2026

مرد کی کوئی ذات نہیں ہوتی، جیسی اُس کی جیب ، ویسی اُس کی عزت ۔
وہ جہاں بیٹھتا ہے لوگ اس کی جیب دیکھ کر جگہ دیتے ہیں۔

A man has no status; as is his pocket, so is his respect.




"Every picture has a story. Today we celebrate the storytellers."
19/08/2026

"Every picture has a story. Today we celebrate the storytellers."

الحمدللہ 🙏نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخروہی قرآن وہی فرقان وہی یٰسین وہی طٰہٰدربارِ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ر...
19/08/2026

الحمدللہ 🙏
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقان وہی یٰسین وہی طٰہٰ

دربارِ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ - لاہور 💚

ہزار سال پہلے اس شہر میں توحید کا جو چراغ آپ نے جلایا تھا، آج بھی اس کی روشنی دلوں کو منور کر رہی ہے۔

لاہور آؤ اور داتا صاحب کے دربار پر حاضری نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ یہ وہ در ہے جہاں ناقص کامل بن جاتے ہیں۔

گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را رہنما

اللہ ہمیں اولیاء کی سچی محبت اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین

محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان

📸 WaheedOnWheels | Data Darbar Lahore

18/08/2026

راوی کا بھولا ہوا اشنان گھاٹ — رام مڑھی اور لکشن مڑھی کی کہانی

راوی کے کنارے آج بھی وہ نشانیاں موجود ہیں جنہیں وقت نے تقریباً بھلا دیا ہے۔

یہاں دو قدیم آٹھ کونوں والی مڑھیاں ہیں جنہیں مقامی لوگ رام مڑھی اور لکشن مڑھی کہتے ہیں۔ کالا پڑا ہوا گنبد، اوپر ٹوٹی ہوئی لکڑی کی چھتری، اور راوی کی طرف ڈھلوان — یہ دونوں اپنے وقت میں اشنان گھاٹ کا حصہ تھیں۔

اس سے ذرا پیچھے گھروں میں چھپا ہوا ہے **رام چونترا مندر**۔ باہر سے عام سا گھر لگتا ہے، لیکن اندر داخل ہوں تو اونچا تکونہ شِکھر، پرانی دیواریں اور وہ نیلے رنگ کا بھاری لکڑی کا دروازہ جس کے اوپر آج بھی سنسکرت/ہندی میں عبارت کندہ ہے۔ مقامی روایت کے مطابق یہی لکشن چونترا مندر بھی کہلاتا ہے۔

تقسیم سے پہلے یہ پورا علاقہ ہندو یاتریوں کے لیے اشنان اور پوجا کا مرکز تھا۔ آج یہ مڑھیاں ویران ہیں، لیکن ان کی اینٹیں، نقش و نگار اور دروازے کی وہ تحریر اب بھی اس بھولی ہوئی تاریخ کی گواہی دے رہی ہے۔

کیا آپ نے راوی کا یہ قدیم گھاٹ دیکھا ہے؟
محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان


انتباہی نوٹ:
اس تحریر کا مقصد کسی خاص مذہب، فرقے، یا دینی گروہ کی ترجمانی یا تبلیغ کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ خطۂ ملتان اور برصغیر کی تاریخی عمارتوں، صوفیانہ ادب، اور مشترکہ قومی و ثقافتی ورثے کو پیش کرنا اور تاریخی حقائق کو واضح کرنا ہے۔

"اُٹھ جاگ من مورا": شاہ شمس سبزواریؒ کی داستان، سورج والی روایت اور معرفتِ نفس اُٹھ جاگ من مورا، تُو کاہے کو سوتا ہے؟ ما...
16/08/2026

"اُٹھ جاگ من مورا": شاہ شمس سبزواریؒ کی داستان، سورج والی روایت اور معرفتِ نفس
اُٹھ جاگ من مورا، تُو کاہے کو سوتا ہے؟
مانکھا جنم رتن ہے، سو کاہے کو کھوتا ہے؟

13ویں صدی عیسوی میں ملتان کی دھرتی پر گونجنے والا حضرت شاہ شمس الدین سبزواریؒ کا یہ صوفیانہ کلام (جنان) انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے اور روح کے اصلی مقصد سے آگاہ کرنے کی ایک لازوال صدا ہے۔
اصل نام اور سوانح حیات
* نام و نسب: آپ کا اصل نام سید شاہ شمس الدین ہے. آپ حسینی سید ہیں اور ایران کے تاریخی شہر سبزوار سے نسبت کی بنا پر "سبزواری" کہلاتے ہیں.
* ملتان آمد: آپ 7ویں صدی ہجری (13ویں صدی عیسوی) میں تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ توحید کے لیے ایران سے ہجرت فرما کر ملتان تشریف لائے.
* وصال: آپ کا وصال 1276ء (675ھ) کے قریب ملتان میں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک قلعہ کہنہ اور عام خاص باغ کے نزدیک بابا سفرا روڈ پر واقع ہے.
* ایک تاریخی مغالطہ: عوام میں یہ مزار "شاہ شمس تبریز" کے نام سے مشہور ہے، لیکن مستند تاریخی کتب اور برطانوی گزٹیرز کے مطابق مولانا رومؒ کے مرشد شاہ شمس تبریزیؒ کا مدفن ایران (شہر خوی) میں ہے، جبکہ ملتان میں مدفون عظیم شخصیت حضرت شاہ شمس الدین سبزواریؒ ہیں.
آفتاب کو حکم دینے کی روایت
ملتان میں حضرت شاہ شمس سبزواریؒ سے منسوب ایک نہایت معروف اور سحر انگیز لوک روایت زبانِ زدِ عام ہے:
بیان کیا جاتا ہے کہ ملتان آمد کے بعد جب آپ شدید فاقہ کشی کی حالت میں تھے، تو آپ نے گوشت کا ایک ٹکڑا پکانے کے لیے شہر کے لوگوں سے آگ مانگی۔ بے حسی اور نا توجہی پر جب لوگوں نے مدد سے انکار کر دیا، تو آپ نے جلال میں آ کر آسمان پر موجود آفتاب (سورج) کو مخاطب کیا اور اسے نیچے آنے کا حکم دیا۔ روایت کے مطابق سورج کی حرارت و شدت سے وہ گوشت پک کر تیار ہو گیا۔ واللہ اعلم

مقامی فلکلور اور شمس (سورج) کی اسی نسبت کی وجہ سے عوام انہیں "شمس تبریز" (گرمی و حرارت سے منسوب) بھی کہنے لگے۔
معرفتِ نفس اور صوفیانہ پیغام
سورج کو جلال دینے والی روایات اپنی جگہ، لیکن شاہ شمس سبزواریؒ کا اصل کمال ان کا نرم، اثر انگیز اور عارفانہ کلام ہے جو انہوں نے مقامی زبانوں میں "جنان" کی صورت میں تحریر کیا:
* انسان کی قدر و قیمت: آپ فرماتے ہیں کہ انسانی زندگی ("مانکھا جنم") ایک انمول رتن یا ہیرا ہے، جسے دنیاوی خواہشات کی دھول میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
* نفس کی بیداری: انسان کا اصل مسئلہ غفلت اور نادانی ہے۔ روح جب تک اپنے خالق کی یاد میں بیدار نہیں ہوتی، وہ حقیقت میں سوئی ہوئی ہے۔
* توحید اور اخلاق: آپ کا ہر شعر اور جنان انسان کو زہد، قناعت، اور نفسِ امارہ کو مار کر بارگاہِ الٰہی میں عاجزی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔
حضرت شاہ شمس الدین سبزواریؒ کی داستان اور ان کا عارفانہ کلام آج بھی ملتان کی روحانی فضاؤں میں انسانی روح کو جگانے کی ایک پکار ہے۔

محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان

انتباہی نوٹ:
اس تحریر کا مقصد کسی خاص مذہب، فرقے، یا دینی گروہ کی ترجمانی یا تبلیغ کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ خطۂ ملتان اور برصغیر کی تاریخی عمارتوں، صوفیانہ ادب، اور مشترکہ قومی و ثقافتی ورثے کو پیش کرنا اور تاریخی حقائق کو واضح کرنا ہے۔






16/08/2026

یہ جے پور کا قلعہ نہیں، یہ ملتان کا 163 سال پرانا انہار دفتر ہے!

ملتان-جھنگ-شورکوٹ روڈ پر، دریائے راوی کے کنارے واقع یہ شاندار عمارت پرانا سدھنائی ہیڈ ورکس کا دفتر ہے۔

1883-1886 میں بننے والا یہ دفتر ملتان کے پہلے بڑے نہری منصوبے کا حصہ ہے۔ اسی جگہ سے کورنگا، فضل شاہ اور عبدالحکیم نہریں نکلیں جنہوں نے کبیر والا، خانیوال اور ملتان کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو آباد کیا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پرانا وئیر 1965 میں ختم کر کے نیا سدھنائی بیراج 8 میل اوپر بنایا گیا جو آج بھی فعال ہے، لیکن اس کے ساتھ بنے یہ قلعہ نما دفاتر آج بھی قائم ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ بڑا عرصہ بند رہنے کے بعد یہ دفاتر دوبارہ زیر استعمال ہیں، مگر باقاعدہ مرمت کا کام نہیں ہو رہا۔

یہ صرف دفتر نہیں، یہ پنجاب کی زرعی تاریخ کا ورثہ ہے

📍 پرانا سدھنائی، دریائے راوی، ملتان-جھنگ روڈ

محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان

🛕 حنو کے چھجے میں چھپا 177 سالہ راز: مدن موہن / گوپال مندر جس کی جڑیں ورنداون کے 446 سالہ مندر سے ملتی ہیں! 📜✨اندرون ملت...
15/08/2026

🛕 حنو کے چھجے میں چھپا 177 سالہ راز: مدن موہن / گوپال مندر جس کی جڑیں ورنداون کے 446 سالہ مندر سے ملتی ہیں! 📜✨

اندرون ملتان کی تنگ و تاریک گلیوں میں آج بھی تاریخ کے ایسے راز چھپے ہیں جو خاموشی سے ماضی کی عظمت سنا رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک شاندار مگر گمنام مقام "من موہن (مدن موہن) / گوپال مندر" ہے جو محلہ حنو کا چھجہ میں واقع ہے۔

📜 یہ مندر کتنا پرانا ہے؟ اس کی 3 عمریں ہیں:

446 سالہ رشتہ: ورنداون کا مشہور مدن موہن مندر 1580ء میں ملتان کے سیٹھ کپور رام داس نے بنوایا تھا۔ یہی وہ روحانی رشتہ ہے جو ملتان کو ورنداون سے جوڑتا ہے۔
177 سالہ عبادت گاہ: اس مقام پر 1849ء میں مورتیاں منتقل کر کے باقاعدہ عبادت کا آغاز کیا گیا۔
162 سالہ عمارت: جو محرابیں اور فرش آج آپ دیکھ رہے ہیں، وہ 1864ء میں گوسوامی للِت کشور اور نوتیڈا چوہدری نے تعمیر کروائیں۔

🪨 پتھر پر لکھا ثبوت - کتبے کا ترجمہ:

مندر کی دیوار پر لگا اصل سنگی کتبہ آج بھی موجود ہے جس پر واضح لکھا ہے:

"شبھ سموت 1921 متی ماغھ سدی 5 منگلوار کے روز شری گرام مدن گوپال جی مندر میں گوسوامی شری للت کشور جی کے سیوک اور شہر ملتان کے مربی نندیدا چودھری نے اس کی تعمیر مکمل کروا کر پوجا کا بندوبست کیا۔"

سموت 1921 کا مطلب ہے 1864ء عیسوی، یعنی یہ عمارت 162 سال پرانی ہے اور یہ اس بات کا پکا ثبوت ہے کہ یہ جگہ شروع سے ہی عبادت گاہ تھی۔

🏛️ فنِ تعمیر میں کیا خاص ہے؟
1️⃣ کثیر القوسی محرابیں - باریک ستونوں پر قائم مغلیہ و راجستھانی طرز
2️⃣ چیکر بورڈ فرش - صحن میں سیاہ و سفید پتھر کا بساطی فرش
3️⃣ لکڑی کا نفیس کام اور قدیم فریسکو

📍 مقام: اندرون ملتان، محلہ حنو کا چھجہ
🛠️ موجودہ حالت: آج یہ تاریخی عمارت گھریلو رہائش کے طور پر استعمال میں ہے، لیکن اس کی محرابیں، ستون اور پتھر کا کتبہ آج بھی ملتان کی کثیر الثقافتی تاریخ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ہماری کوشش ہے کہ اپنے وسیب کے اس تاریخی ورثے کو محفوظ کریں۔

تحقیق و تحریر:
محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان



15/08/2026

کینال ریسٹ ہاؤس: گڑھ ٹہل سنگھ سے ظہیر آباد شہید! 🏍️🏛️
وہاڑی کے قریب واقع 'کینال ریسٹ ہاؤس ظہیر آباد شہید' (قدیم نام: گڑھ ٹہل سنگھ / چک WB/88)।
برطانوی راج میں 1920ء کی دہائی (تقریباً 100 سال قبل) تعمیر کیا گیا یہ کلاسک نوآبادیاتی بنگلہ سرسبز درختوں اور رنگ برنگے پھولوں کے درمیان آج بھی اپنی اصل ساخت اور خوبصورتی کے ساتھ قائم و دائم ہے! ✨
اگر آپ کو یہ تاریخی معلومات پسند آئیں تو اس ویڈیو کو Like، Share اور پیج کو Follow ضرور کریں! 👇

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waheed on wheels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Waheed on wheels:

Shortcuts

Share