17/05/2026
🏛️ ملتان کی تاریخ کے متلاشیوں کے لیے ایک اہم سوال: "شری سیوا سمیتی منترالیہ" اور محلہ پرانی منڈی گاو شالا کا تاریخی ورثہ
آج ملتان کی پرانی منڈی کے علاقے میں ایک یادگار وزٹ کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران ہمارے سینئیر ٹریکر و ایکسپلورر جناب مشتاق احمد انصاری صاحب بھی ہمارے ہمراہ تھے، جنہوں نے اس جگہ سے جڑی اپنی بچپن کی خوبصورت یادیں شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے وہ اپنے لڑکپن کے دنوں میں یہاں دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، اور جب یہ بڑا گیٹ بند ہوتا تھا، تو وہ اس کے اندر لگی چھوٹی کھڑکی (ڈھنڈی) سے بڑی آسانی کے ساتھ اندر آ جایا کرتے تھے۔
آج وقت کی گزرتی دھول اور سڑکیں اونچی ہونے کی وجہ سے یہ تاریخی مہرابی گیٹ کسی حد تک نیچے مٹی تلے دب چکا ہے، لیکن اس کے لکڑی کے قدیم کواڑ آج بھی اپنے اندر کئی ایسے راز چھپائے ہوئے ہیں جن کا جواب تاریخ کی کتابوں میں آسانی سے نہیں ملتا۔
یہ گیٹ تقسیمِ ہند سے پہلے ہندو کمیونٹی کی فلاحی تنظیم **"شری سیوا سمیتی منترالیہ"** کے زیرِ انتظام ایک بہت بڑے اور منظم کمیونٹی کمپلیکس کا حصہ تھا۔ یہ پورا علاقہ اس دور میں **"محلہ پرانی منڈی گاو شالا"** کے نام سے مشہور اور قائم تھا، جہاں اس وسیع رقبے پر مختلف فلاحی اور مذہبی مراکز الگ الگ بنے ہوئے تھے۔ اس کمپلیکس میں باراتوں کے لیے **"جنج گھر"** (برادری ہال) علیحدہ تھا، دور دراز سے آنے والے بیوپاریوں اور یاتریوں کے لیے **"سرائے خانہ"** علیحدہ قائم تھا، بے زبان جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے **"گاو شالا"** علیحدہ بنی ہوئی تھی، جبکہ عبادت اور اشنان کے لیے **مندر اور اشنان تالاب** علیحدہ موجود تھے۔
**جناب مشتاق احمد انصاری صاحب** بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً 65 سال پہلے (1960ء کی دہائی) تک یہ پورا تاریخی کمپلیکس یہاں سلامت تھا، جس کے بعد اس پورے رقبے کو متروکہ املاک قرار دے کر بیچ دیا گیا اور اس جگہ پر دکانیں اور مارکیٹ قائم کر دی گئی۔ اب وہ مارکیٹ بھی دہائیاں پرانی ہو چکی ہے اور وقت کے ساتھ اسی پرانے شہر کا حصہ بن چکی ہے، لیکن تاریخ نے اس پورے محلے کے وسیع ورثے کی یادگار کے طور پر اس جنج گھر کے گیٹ کو اب بھی محفوظ رکھا ہے۔
اگر آپ اس گیٹ کا گہرا مشاہدہ کریں تو مہراب کے نیچے اور دروازے کے اوپر وہ جگہ صاف نظر آتی ہے جہاں کبھی اس تاریخی جگہ کی اصل تعارفی تختی لگی ہوئی تھی، جس پر اس کا نام اور تعمیر کی تاریخ درج تھی۔ اب وہ تختی تو غائب ہو چکی ہے، لیکن تاریخ کے اس ورق پر اب بھی چند ایسے سوالات ہیں جن پر مزید تحقیق ہونا باقی ہے:
* **کیا یہ جنج گھر اور سرائے خانہ صرف ایک کمیونٹی کے لیے تھا؟** کیا پاکستان بننے سے پہلے یہاں صرف ہندو برادری کی شادیاں اور تقاریب ہوتی تھیں یا اس دور کے روایتی روادار معاشرے کی طرح مسلمان مسافر اور مقامی لوگ بھی اپنی شادیوں اور قیام کے لیے اسے استعمال کرتے تھے؟
* **تقسیم کے بعد کا سفر:** 1947ء کے بعد جب ہجرت ہوئی، تو یہ جگہ کس کے استعمال میں رہی؟ کیا یہاں مہاجرین کو ٹھہرایا گیا یا یہ کچھ عرصے کے لیے غیر فعال رہا؟
* **آخری دورِ رونق:** یہ پورا فلاحی کمپلیکس (جنج گھر، سرائے خانہ اور گاو شالا) کب تک باقاعدہ فنکشنل رہا اور یہاں آخری بار کس دور میں سماجی رونقیں قائم تھیں، اس کی قطعی تاریخ کیا ہے؟
اگر ہمارے ملتان کے کسی بزرگ, مؤرخ، یا محلہ پرانی منڈی گاو شالا کے کسی رہائشی بھائی کے پاس اس جگہ کی تاریخ، "شری سیوا سمیتی" کے کام کرنے کے طریقے یا تقسیمِ ہند کے بعد کے حالات کے بارے میں کوئی بھی مستند معلومات یا یادداشتیں ہوں، تو کمنٹس میں لازمی شیئر کریں۔
آئیے مل کر اپنے شہر کے اس گمشدہ ورثے کی ادھوری تاریخ کو مکمل کریں!
محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان
⚠️ **ڈسکلیمر (Disclaimer):** اس پوسٹ کا مقصد صرف تاریخی آگاہی، معلومات کی فراہمی اور تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ اس معلوماتی مواد کا مقصد کسی خاص عقیدے یا نظریے کی نمائندگی کرنا نہیں ہے۔ تمام قارئین اپنی رائے قائم کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔
Muhammad Waheed Hussain Ansari
Mushtaq Ahmed