Waheed on wheels

  • Home
  • Waheed on wheels

Waheed on wheels I am an avid motorcyclist with a deep passion. Exploring diverse cultures is a part of my journey, as I immerse myself in the local traditions and lifestyles.

Riding through scenic routes allows me to capturing stunning landscapes along the way.

22/05/2026

یہ کونسی لذیذ مٹھائی ہے اور کس کس نے کھائی ہے؟

اوچ شریف کے ساداتِ بخاری سے تعلق رکھنے والے **حضرت سید عبد الوہاب شاہ بخاری المعروف سخی سلطان دین پناہ رحمہ اللہ*(ولادت:...
19/05/2026

اوچ شریف کے ساداتِ بخاری سے تعلق رکھنے والے **حضرت سید عبد الوہاب شاہ بخاری المعروف سخی سلطان دین پناہ رحمہ اللہ*(ولادت: 1548ء – وفات: 1603ء)* کی یہ خانقاہ صدیوں سے امن، محبت اور رواداری کا مرکز ہے۔ یہاں پہنچ کر جو دلی سکون اور روحانی تازگی ملتی ہے، وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

19/05/2026

اوچ شریف کے ساداتِ بخاری سے تعلق رکھنے والے **حضرت سید عبد الوہاب شاہ بخاری المعروف سخی سلطان دین پناہ رحمہ اللہ*(ولادت: 1548ء – وفات: 1603ء)* کی یہ خانقاہ صدیوں سے امن، محبت اور رواداری کا مرکز ہے۔ یہاں پہنچ کر جو دلی سکون اور روحانی تازگی ملتی ہے، وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔


Muhammad Waheed Hussain Ansari Mushtaq Ahmed

18/05/2026

Ancient Multan, rich history

Muhammad Waheed Hussain Ansari

17/05/2026

🏛️ ملتان کی تاریخ کے متلاشیوں کے لیے ایک اہم سوال: "شری سیوا سمیتی منترالیہ" اور محلہ پرانی منڈی گاو شالا کا تاریخی ورثہ
آج ملتان کی پرانی منڈی کے علاقے میں ایک یادگار وزٹ کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران ہمارے سینئیر ٹریکر و ایکسپلورر جناب مشتاق احمد انصاری صاحب بھی ہمارے ہمراہ تھے، جنہوں نے اس جگہ سے جڑی اپنی بچپن کی خوبصورت یادیں شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے وہ اپنے لڑکپن کے دنوں میں یہاں دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، اور جب یہ بڑا گیٹ بند ہوتا تھا، تو وہ اس کے اندر لگی چھوٹی کھڑکی (ڈھنڈی) سے بڑی آسانی کے ساتھ اندر آ جایا کرتے تھے۔
آج وقت کی گزرتی دھول اور سڑکیں اونچی ہونے کی وجہ سے یہ تاریخی مہرابی گیٹ کسی حد تک نیچے مٹی تلے دب چکا ہے، لیکن اس کے لکڑی کے قدیم کواڑ آج بھی اپنے اندر کئی ایسے راز چھپائے ہوئے ہیں جن کا جواب تاریخ کی کتابوں میں آسانی سے نہیں ملتا۔
یہ گیٹ تقسیمِ ہند سے پہلے ہندو کمیونٹی کی فلاحی تنظیم **"شری سیوا سمیتی منترالیہ"** کے زیرِ انتظام ایک بہت بڑے اور منظم کمیونٹی کمپلیکس کا حصہ تھا۔ یہ پورا علاقہ اس دور میں **"محلہ پرانی منڈی گاو شالا"** کے نام سے مشہور اور قائم تھا، جہاں اس وسیع رقبے پر مختلف فلاحی اور مذہبی مراکز الگ الگ بنے ہوئے تھے۔ اس کمپلیکس میں باراتوں کے لیے **"جنج گھر"** (برادری ہال) علیحدہ تھا، دور دراز سے آنے والے بیوپاریوں اور یاتریوں کے لیے **"سرائے خانہ"** علیحدہ قائم تھا، بے زبان جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے **"گاو شالا"** علیحدہ بنی ہوئی تھی، جبکہ عبادت اور اشنان کے لیے **مندر اور اشنان تالاب** علیحدہ موجود تھے۔
**جناب مشتاق احمد انصاری صاحب** بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً 65 سال پہلے (1960ء کی دہائی) تک یہ پورا تاریخی کمپلیکس یہاں سلامت تھا، جس کے بعد اس پورے رقبے کو متروکہ املاک قرار دے کر بیچ دیا گیا اور اس جگہ پر دکانیں اور مارکیٹ قائم کر دی گئی۔ اب وہ مارکیٹ بھی دہائیاں پرانی ہو چکی ہے اور وقت کے ساتھ اسی پرانے شہر کا حصہ بن چکی ہے، لیکن تاریخ نے اس پورے محلے کے وسیع ورثے کی یادگار کے طور پر اس جنج گھر کے گیٹ کو اب بھی محفوظ رکھا ہے۔
اگر آپ اس گیٹ کا گہرا مشاہدہ کریں تو مہراب کے نیچے اور دروازے کے اوپر وہ جگہ صاف نظر آتی ہے جہاں کبھی اس تاریخی جگہ کی اصل تعارفی تختی لگی ہوئی تھی، جس پر اس کا نام اور تعمیر کی تاریخ درج تھی۔ اب وہ تختی تو غائب ہو چکی ہے، لیکن تاریخ کے اس ورق پر اب بھی چند ایسے سوالات ہیں جن پر مزید تحقیق ہونا باقی ہے:
* **کیا یہ جنج گھر اور سرائے خانہ صرف ایک کمیونٹی کے لیے تھا؟** کیا پاکستان بننے سے پہلے یہاں صرف ہندو برادری کی شادیاں اور تقاریب ہوتی تھیں یا اس دور کے روایتی روادار معاشرے کی طرح مسلمان مسافر اور مقامی لوگ بھی اپنی شادیوں اور قیام کے لیے اسے استعمال کرتے تھے؟
* **تقسیم کے بعد کا سفر:** 1947ء کے بعد جب ہجرت ہوئی، تو یہ جگہ کس کے استعمال میں رہی؟ کیا یہاں مہاجرین کو ٹھہرایا گیا یا یہ کچھ عرصے کے لیے غیر فعال رہا؟
* **آخری دورِ رونق:** یہ پورا فلاحی کمپلیکس (جنج گھر، سرائے خانہ اور گاو شالا) کب تک باقاعدہ فنکشنل رہا اور یہاں آخری بار کس دور میں سماجی رونقیں قائم تھیں، اس کی قطعی تاریخ کیا ہے؟
اگر ہمارے ملتان کے کسی بزرگ, مؤرخ، یا محلہ پرانی منڈی گاو شالا کے کسی رہائشی بھائی کے پاس اس جگہ کی تاریخ، "شری سیوا سمیتی" کے کام کرنے کے طریقے یا تقسیمِ ہند کے بعد کے حالات کے بارے میں کوئی بھی مستند معلومات یا یادداشتیں ہوں، تو کمنٹس میں لازمی شیئر کریں۔
آئیے مل کر اپنے شہر کے اس گمشدہ ورثے کی ادھوری تاریخ کو مکمل کریں!

محمد وحید حسین انصاری
وسیب ایکسپلورر ملتان

⚠️ **ڈسکلیمر (Disclaimer):** اس پوسٹ کا مقصد صرف تاریخی آگاہی، معلومات کی فراہمی اور تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ اس معلوماتی مواد کا مقصد کسی خاص عقیدے یا نظریے کی نمائندگی کرنا نہیں ہے۔ تمام قارئین اپنی رائے قائم کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔

Muhammad Waheed Hussain Ansari
Mushtaq Ahmed



16/05/2026

Multan’s Lost Heritage: Shri Seva Samiti Mantralaya 🏛️🐄





نہر کنارے کچا راستہ، دوسری جانب گھروں کے باہر درختوں کے نیچے بیٹھے لوگ، اندھی کے بعد ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، کتنا رومانوی م...
14/05/2026

نہر کنارے کچا راستہ، دوسری جانب گھروں کے باہر درختوں کے نیچے بیٹھے لوگ، اندھی کے بعد ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، کتنا رومانوی ماحول ہے۔

14/05/2026

جانے والے کب لوٹتے ہیں🥺
47 دے رسدے زخم
Muhammad Waheed Hussain Ansari

جامعع مسجد حیدریہ سلارواہن سادات
13/05/2026

جامعع مسجد حیدریہ سلارواہن سادات

صبح بخیر
13/05/2026

صبح بخیر

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waheed on wheels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Waheed on wheels:

  • Want your business to be the top-listed Photography Service?

Share