M Ramzan Bati Journalist

M Ramzan Bati Journalist My page is about daily news and updates

موسمی تبدیلیاں اور انسانی زندگی ایک وقت تھا جب موسم اپنی پہچان رکھتے تھے، گرمی، سردی اور بارش کا ایک مقررہ نظام ہوا کرتا...
28/12/2025

موسمی تبدیلیاں اور انسانی زندگی

ایک وقت تھا جب موسم اپنی پہچان رکھتے تھے، گرمی، سردی اور بارش کا ایک مقررہ نظام ہوا کرتا تھا۔بوڑھے کسان آسمان دیکھ کر فصلوں کا اندازہ لگا لیتے تھے اور قدرت پر اعتماد قائم تھا۔آج کے دور میں وہی موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں، نہ وقت پر بارش آتی ہے نہ سردی اپنی مدت پوری کرتی ہے۔پرانے زمانے کی ہلکی گرمیاں اب جھلسا دینے والی لہروں میں بدل چکی ہیں۔جہاں کبھی بارش رحمت سمجھی جاتی تھی، آج وہی بارش سیلاب کی صورت میں تباہی لاتی ہے۔انسانی ترقی کے نام پر کی گئی بے احتیاطی نے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔موسمی تبدیلیاں اب کوئی سائنسی مفروضہ یا آنے والے وقت کا اندیشہ نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی، فصلوں کی تباہی اور بیماریوں کا پھیلاؤ یہ سب موسمی بگاڑ کی وہ نشانیاں ہیں جن کا سامنا آج پوری دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو ہے۔پاکستان جیسے ملک میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات اور بھی زیادہ گہرے ہیں۔ کبھی بے وقت بارشیں شہری نظام کو مفلوج کر دیتی ہیں تو کبھی شدید گرمی غریب مزدور، کسان اور بزرگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ دیہات میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور شہروں میں آلودگی انسانی سانسوں کو چھینتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف حالات کا رونا روتے رہیں گے یا کچھ عملی قدم بھی اٹھائیں گے موسمی تبدیلیوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں اور متاثر بھی ہم ہی ہیں بے دریغ درختوں کی کٹائی، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال، گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کی آلودگی اور قدرتی وسائل کا بے رحمانہ استعمال ہمیں آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ ہم ترقی کے نام پر وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہماری آئندہ نسلوں کے لیے زہر بن چکا ہے۔اب وقت آ چکا ہے کہ ہم محض حکومتی اقدامات کے منتظر رہنے کے بجائے اپنی انفرادی ذمہ داری کو پہچانیں۔ ہر شہری اگر سال میں صرف ایک درخت لگانے کا عہد کر لے تو ماحول میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔ پلاسٹک بیگز کے بجائے کپڑے یا کاغذ کے تھیلوں کا استعمال، پانی اور بجلی کی بچت، غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال سے گریز اور صفائی کا خیال یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات بڑے انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔دنیا اس وقت جس سنگین مسئلے سے دوچار ہے، وہ موسمی تبدیلیاں ہیں۔ یہ کوئی آنے والا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی ہے۔درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، بے وقت بارشیں، شدید گرمی کی لہریں، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ان تبدیلیوں کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ انسان کی صحت، معیشت، خوراک، رہائش اور سماجی زندگی سب اس کی زد میں ہیں۔سب سے پہلا اور نمایاں اثر انسانی صحت پر پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں ہیٹ اسٹروک، دل کے امراض اور سانس کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ دوسری جانب بارشوں کے غیر متوازن نظام کی وجہ سے ڈینگی، ملیریا اور دیگر وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ کمزور طبی سہولیات رکھنے والے علاقوں میں یہ بیماریاں انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں، جبکہ بزرگ، بچے اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔موسمی تبدیلیوں کا دوسرا بڑا اثر خوراک کے نظام پر پڑ رہا ہے۔ فصلوں کے اوقات بگڑ چکے ہیں، کہیں بارش کی کمی تو کہیں ضرورت سے زیادہ بارش کھڑی فصلیں تباہ کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ غذائی قلت، مہنگائی اور بھوک کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ کسان طبقہ، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، موسمی شدتوں کی وجہ سے مزید مشکلات میں پھنس چکا ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔معاشی لحاظ سے بھی موسمی تبدیلیاں تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ سیلاب، طوفان اور قدرتی آفات انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی ہیں، صنعتیں بند ہوتی ہیں اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں وسائل محدود ہیں، وہاں ان نقصانات کی تلافی برسوں میں بھی ممکن نہیں ہوتی۔ یوں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے جو سماجی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔جنگلات کی بے دریغ کٹائی، صنعتی آلودگی، فوسل فیول کا بے تحاشا استعمال اور شہروں کی بے ہنگم توسیع نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسوں کی مقدار خطرناک حد تک بڑھا دی ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جسے گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ یہی بڑھتا ہوا درجۂ حرارت موسموں کے قدرتی نظام کو درہم برہم کر رہا ہے۔ان تبدیلیوں کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر انسانی صحت پر پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، جو پہلے کبھی کبھار آتی تھیں، اب معمول بن چکی ہیں۔ ہیٹ اسٹروک، دل کے امراض، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف بارشوں کے غیر متوازن نظام نے وبائی امراض کو جنم دیا ہے۔ ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور دیگر بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جبکہ کمزور طبی نظام رکھنے والے ممالک میں اموات کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔خوراک اور زراعت کا شعبہ بھی موسمی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ درجۂ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کی بے قاعدگی نے فصلوں کے قدرتی اوقات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کہیں شدید خشک سالی فصلیں جلا دیتی ہے تو کہیں اچانک سیلاب کھڑی فصلوں کو بہا لے جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ غذائی قلت، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور غریب طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ کسان، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، موسمی شدتوں کے باعث معاشی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔موسمی تبدیلیوں کے معاشی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ترقی پذیر ممالک میں وسائل کی کمی کے باعث بحالی کا عمل سست اور ناکافی رہتا ہے، جس سے غربت کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی معیشتیں عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہیں، جس کے اثرات عام آدمی تک براہِ راست پہنچتے ہیں۔رہائشی مسائل اور انسانی ہجرت موسمی تبدیلیوں کا ایک اور سنگین پہلو ہیں۔ ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہونے سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔دریائی علاقوں میں سیلاب متاثرین نے ہزاروں کی آبادی نے شہروں کا رخ کر لیا ہے خشک سالی، سیلاب اور زمین کی زرخیزی میں کمی دیہی آبادی کو شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہی ہے۔ اس غیر منصوبہ بند نقل مکانی سے شہری سہولیات پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں کچی آبادیوں میں جرائم اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔اگر پاکستان جیسے ممالک کا جائزہ لیا جائے تو یہاں موسمی تبدیلیوں کے اثرات اور بھی شدید ہیں۔ حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب، شدید گرمی اور پانی کی کمی نے واضح کر دیا ہے کہ ہم اس خطرے کے عین مرکز میں کھڑے ہیں۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر منصوبہ بندی اور عوامی شعور کی کمی اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ شجرکاری کو فروغ دینا، قدرتی وسائل کا محتاط استعمال، آلودگی میں کمی، اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موسمی تبدیلیاں صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال بن چکی ہیں۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ ایک محفوظ ماحول ہی ایک محفوظ انسان کی ضمانت ہے۔

*نیا ٹریفک نظام اور عوامی مشکلات*تحریر:مہر محمد رمضان باٹی ٹریفک قوانین کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا اور سڑک...
08/12/2025

*نیا ٹریفک نظام اور عوامی مشکلات*

تحریر:مہر محمد رمضان باٹی

ٹریفک قوانین کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا اور سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہوتا ہے،ملک بھر میں ٹریفک نظام کی بہتری کے نام پر نئے قوانین بھاری جرمانے اور جدید چالاننگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں حکومت کا موقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹریفک کی روانی بہتر بنانا حادثات میں کمی لانا اور شہریوں میں قانون کی پابندی کا شعور پیدا کرنا ہے بظاہر یہ تمام دعوے درست نظر آتے ہیں مگر زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں کیونکہ اگر یہی قوانین عوام کے لیے پریشانی کا سبب بننے لگیں تو نہ صرف مسائل میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ریاستی محکموں پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہونے لگتا ہے۔حالیہ دنوں میں ٹریفک چالانوں میں بے پناہ اضافہ، جرمانوں کی اونچی رقوم، اور عملدرآمد کے غیر منصفانہ طریقہ کار نے شہریوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد ہونا ایک نارمل عمل ہے مگر جب شہری یہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہی خلاف ورزی پر کبھی 200 روپے اور کبھی 2000 روپے چالان ہو جاتا ہے، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔کئی شہریوں کی شکایت ہے کہ ای چالان کے نظام میں غلط گاڑی کے نمبر پر چالان اپ لوڈ ہو جاتا ہے، یا وہ خلاف ورزی جو انہوں نے کی ہی نہیں، اس کا جرمانہ انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔اب جرمانوں کی رقم اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک عام مزدور کی دن بھر کی کمائی بھی اکثر ایک چالان پوری نہیں کر پاتی۔ ٹریفک پولیس کا موقف ہے کہ سخت جرمانے شہریوں کو محتاط بناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جرمانوں کی زیادتی سے لوگ قانون کے احترام کے بجائے پولیس سے بچنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔بڑی تعداد میں شہریوں کا خیال ہے کہ ٹریفک چالانوں کا مقصد عوام کو محفوظ بنانا کم اور سرکاری خزانے کو بھرنا زیادہ ہے۔ سڑکوں پر کیمرے تو لگا دیے گئے مگر ان کی کیلیبریشن، درست جگہ کا انتخاب، اور عوامی آگاہی جیسے بنیادی امور کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ کیمرے غلط زاویے سے تصویریں لیتے ہیں اور چالان شہریوں پر بوجھ کی صورت میں برستے رہتے ہیں کئی شہری اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کے کچھ اہلکار نہ صرف بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ موقع پر چھوٹے موٹے ’’معاملے‘‘ طے کرنے کی بھی ترغیب دیتے ہیں۔ اس رویے نے عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ قانون محض کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہے ٹریفک چالانوں کی زیادتی اور غلطی سے ہونے والے چالان شہریوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ عام شہری کو دفتر سے وقت نکال کر چالان درست کروانے کے لیے تھانے اور دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ذہنی اذیت بھی بڑھتی ہے ای چالان نظام میں بہتری ضروری ہے۔ کیمروں کی درستگی، غلط چالان کی فوری درستگی، اور شہریوں کو مؤثر طریقے سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے عام شہری کی معاشی حالت کے مطابق جرمانے ہونے چاہئیں۔ کم آمدن والے افراد کے لیے آسان قسطوں یا رعایت کی سہولت دی جانی چاہیے ٹریفک پولیس نے قوانین تو سخت کردیے لیکن شہریوں کے لیے ٹریفک کی بنیادی سہولیات آج بھی وہی پرانی ہیں سڑکوں کی خستہ حالی جگہ جگہ اکھڑے ہوئے کنارے سیوریج کے کھلے ہوئے ڈھکن بند اشارے ناکارہ اسٹریٹ لائٹس اور ناقص روڑ پلاننگ وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا ایسے میں سخت جرمانے عوام کے لیے مذید امتحان بن رہے ہیں ٹریفک قوانین میں نئے آرڈیننس کے تحت ہیلمنٹ نا ہونے پر چلان لائسنس نا ہونے پر چلان گاڑی بغیر سیٹ بیلٹ چلانے پر چلان وغیرہ کیساتھ پٹھے رکشے چلانے والوں کے چلان اور رکشوں کو تھانے بند کیا گیا جہاں قانون پر عمل پیرا ہونا ہر شہری کا فرض ہے کیونکہ ہیلمنٹ انسانی زندگی سے مہنگا نہیں گاڑی میں سیٹ بیلٹ لگانا بھی ضروری ہے وہیں کچھ قانون کو نرم گوشہ بھی اختیار کرنا چاہیے کیونکہ موٹر سائیکل اور رکشہ متوسط طبقے کے لوگ استعمال کرتے ہیں گزشتہ دنوں میں کئ دکھی رواداد دیکھنے اور سننے کو ملی ہیں جن میں ایک کا احوال آپکے سامنے رکھتا ہوں اس سے آپ عوام کے مسائل کا اندازہ لگا سکتے ہیں ایک مزدور خاندان کا سربراہ صبح بچوں کے پیٹ پالنے کے لیے پھٹہ رکشہ لے کر گھر سے نکلتا ہے سارا دن مزدوری اور بھاگ دوڑ کے بعد بچوں کے لیے شام کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے کچھ پیسے اکٹھے کر کے لا رہا تھا راستے میں ٹریفک پولیس نے اس کا رکشہ تھانے بند کر دیا اسکی دن بھر کی جمع پونجی وہیں صرف ہو جاتی ہے شام کو بچے اسکی انتظار کرتے کرتے بھوکے سو جاتے ہیں ایسے غریب پرور شہریوں کا اس اصلاحات میں برا حال ہو چکا ہے کوئی غریب اپنے بچوں کی دوائی لانے کے لئے موٹر سائیکل پر کہیں سفر کرتا ہے تو اسکے دوائیوں کے پیسے چالان میں چلے جاتے ہیں ایسے افراد کے لیے حکومت کو نرمی اختیار کرنی چاہیے اگر لائسنس کی بات کی جائے تو یہاں میرٹ پر لائسنس کم بلکہ چند نوٹوں کے عوض انکو لائسنس جاری کردیے جاتے ہیں جنہیں ٹریفک قوانین کا علم بھی نہیں ہوتا جس سے روزمرہ زندگی میں روڑوں پر حادثات رونما ہو رہے ہیں سوشل میڈیا پر ٹریفک پولیس کے ایسے رویے کی ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور شہریوں کیساتھ بدتمیزی کی کوئی کمی نہیں چھوڑی جارہی جس سے عوام میں اداروں سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے اعلیٰ معیار کی تربیت اور سخت نگرانی ناگزیر ہے تاکہ اہلکار اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کر سکیں ایک ایسا مؤثر نظام قائم کیا جائے جس میں شہری براہِ راست شکایت درج کر سکیں، اور اس پر فوری عمل ہو۔سڑکوں پر اصلاح صرف جرمانے بڑھانے سے نہیں بلکہ عوام کو ٹریفک قوانین کے بارے میں سمجھانے سے آئے گی۔اسکولوں، کالجوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ایک مہذب معاشرے کی نشانی ہے، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب قوانین عوام کے لیے آسان، شفاف اور منصفانہ ہوں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، پولیس اور عوام مل کر ایسا نظام تشکیل دیں جس میں نہ شہری کا استحصال ہو اور نہ ہی سڑکوں پر بدنظمی پھیلے۔ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو ٹریفک چالان عوام کے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید بڑھاتے رہیں گے۔شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ اور ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ ٹریفک پولیس کے نئے آرڈیننس میں غریب اور متوسط طبقے کے لئے کچھ آسانیاں پیدا کیں جائیں تاکہ عوام کا اداروں پر بھی اعتماد بحال رہے اور قانون پر بھی عمل پیرا کروایا جا سکے

07/11/2025
Pakistan Zinda Bad
14/08/2025

Pakistan Zinda Bad

پریس کلب باٹی بنگلہ الیکشن2025,26الحمداللہ ہمارا پورا پینل کامیابجنرل سیکرٹری مہر محمد رمضان باٹی
28/04/2025

پریس کلب باٹی بنگلہ الیکشن2025,26
الحمداللہ ہمارا پورا پینل کامیاب
جنرل سیکرٹری
مہر محمد رمضان باٹی

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے تیری رضا کیا ہےمیں نے صحافت جوائن کرنے کے کچھ عرصے بعد مکم...
06/01/2025

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے تیری رضا کیا ہے

میں نے صحافت جوائن کرنے کے کچھ عرصے بعد مکمل سروے کیا اور صحافت کا باقاعدہ آغاز پریس کلب باٹی بنگلہ کے پلیٹ فارم سے کیا بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا اور بطور طالب علم قلم کی طاقت سے دوستوں کیساتھ یک جان ہو کر ظالم اور مافیاز کیساتھ مقابلے بھی کیے اور الحمداللہ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں کچھ معمولی غلط فہمیوں کی بنا پر ہم کچھ عرصہ الگ رہے لیکن آج سے ہم دوبارہ اسی پلیٹ فارم پریس کلب باٹی بنگلہ سے دوبارہ صحافت کا سفر شروع کرتے ہیں
انشاءاللہ سب دوستوں کیساتھ متحد اور یکجا ہو کر اپنی قلم کی طاقت سے ہر ناسور ظالم مافیاز اور ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کریں گے اور اپنی صحافت کو پہلے کی طرح رواں دواں رکھیں گیں اور ہمیشہ کیطرح اپنے دیرینہ دوستوں کیساتھ مخلصانہ رشتے کو نبھاؤں گا
محبتوں کا شکریہ*پریس کلب باٹی بنگلہ*

28/05/2023
سماج دشمن عناصر کے لیے خوف کی علامت سی آئی اے کبیروالا کے انچارج چوہدری افتخار احمد سنگھیڑا ،ملک جاوید اقبال تھہیم، غضنف...
26/03/2023

سماج دشمن عناصر کے لیے خوف کی علامت سی آئی اے کبیروالا کے انچارج چوہدری افتخار احمد سنگھیڑا ،ملک جاوید اقبال تھہیم، غضنفر منظور کی اپنی ٹیم کے ہمراہ بہت بڑی کارروائی ،سجاد حسین ولد محمد نواز قوم سیال کبیروالا سے امریکی ساختہ 9MM برآمد ملزم تھانہ سٹی کبیروالا کے حوالے

Address

Multan

Telephone

+923047208804

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Ramzan Bati Journalist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M Ramzan Bati Journalist:

Share