19/08/2026
* عمران خان ایک لیڈر ہیں، ان کی اپنی حیثیت ہے۔
* عمران خان کو جو جیل سے منتقل کیا جا رہا ہے، لوگ یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے محنت کی، تو میں کہوں گا کہ میں نے آواز اٹھائی۔
* عمران خان کی صحت کو اسٹیبلشمنٹ اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
* اگر وہ عمران خان کو الشفاء انٹرنیشنل لا رہے ہیں تو وہ اپنی شرائط پر لا رہے ہیں۔
* یہ صرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو دھمکانے کے لیے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
* عاصم صاحب کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے، ان کی جان پر بن گئی ہے۔
* اگر عمران خان باہر آ جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ یہ تو یہیں عاصم منیر کے قدموں میں گر جائیں گے۔
* زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں، خوشی بس اتنی ہے کہ عمران خان کا علاج ہو جائے گا۔
* یہ صرف اپنا اقتدار بچا رہے ہیں، جسے بچانے کے لیے یہ کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔
* بنگلادیش کے وزیرِ اعظم نے فوج پر پابندی لگا دی ہے۔
* فوج کے اثاثے نیشنلائز کر دیے ہیں، ان کے دفاتر سویلینز نے سنبھال لیے ہیں۔
* فوج کو انہوں نے بارڈرز پر بھیج دیا ہے اور کہا ہے کہ تمہارا یہ کام ہے۔
* یہ ہوتی ہیں حکومتیں، یہ ہے قوم جو سو دو سو سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
* کیا ہماری قوم فوج کو کہہ سکتی ہے کہ تم بارڈر پر جاؤ: میں نے تو چالیس سال پہلے ضیاء الحق کہا تھا۔
* میں تو مسلسل کہہ رہا ہوں لیکن بارڈروں پر یہ اس وقت جائیں گے جب یہ قوم انہیں بھیجے گی۔
* اب سہیل آفریدی، گوہر صاحب یا کوئی اور بھی یہ خوش نہ ہو کہ ان کی محنت رنگ لے آئی؛ یہ صرف ایک چال ہے۔
* اگر عمران خان کو اس حقیقت کا پتہ چل جائے تو وہ ہسپتال آنے کے بجائے جیل میں مرنا پسند کریں گے۔
* یہ اقتدار کے پجاری ہیں ،ایک ایک جرنیل کی کھربوں کی کرپشن سامنے ہیں ، یہ اقتدار کے لئے پاکستان کی ہڈیاں تک پیس کر کھا جائیں گے۔