08/04/2024
سانحہ گیاری سیکٹر کو 12 سال مکمل ہوگئے، 7 اپریل 2012 کو برفانی تودہ گرنے سے 129فوجی شہید ہوگئے تھے ، آج پوری قوم گیاری کے اُن عظیم شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
▪️ گیاری کے مقام پر سیاچن گلیشیر تقریباً 30 ہزار 775میٹر بلند چوٹی کا شماردنیا کی سب سے بلند ترین دفاعی چوٹیوں میں ہوتا ہے۔
▪️سیاچن گلیشیر پر ناردرن لائن انفینٹری بٹالین کی کمانڈ لیفٹیننٹ کرنل تنویر کر رہے تھے جبکہ ان کے ہمراہ میجر ذکاء بھی موجود تھے کہ 7 اپریل 2012ء کو فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک بڑا برفانی تودہ ان کی یونٹ پر آ گرا، جس کے نتیجے میں 129فوجی شہید ہو گئے۔
▪️بٹالین ہیڈ کوارٹر گزشتہ 20 سال سے اسی مقام پر موجود تھا، سانحے میں این ایل آئی سکس کا بٹالین کا ہیڈ کوارٹرز مکمل طور پر دب گیا تھا جبکہ وہاں موجود افراد میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں نکالا جاسکا تھا۔
▪️بلند چوٹی اور خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں کو انجام دینا انتہائی مشکل کام تھا تاہم خطرناک موسم کے باوجود پاک فوج نے 13000فٹ کی بلند چوٹی پر اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے 7شہداء کے علاوہ باقی تما م شہداء کے جسدِ خاکی ورثاء کے حوالے کئے جبکہ یہ مشن پورا سال جاری رہا۔ اللہ تعالی تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے امین ثم امین