Wasaib Times/وسیب ٹائمز

Wasaib Times/وسیب ٹائمز وسیب ٹائمز پیج پاکستان بالخصوص سرائیکی وسیب کا ترجمان پیج ہے اس پیج پر تمام اضلاع کی خبریں،مضامین انٹرویوز شائع ہوں گے

03/08/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

11/08/2024
صابر عطاء کی غیر معمولی کاوش تحریر۔ضیاء بلوچ ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ خبریںموسیقی یونانی لفظ موسیک سے ماخوذ وہ صوتی کیفیت ہے ...
11/03/2023

صابر عطاء کی غیر معمولی کاوش
تحریر۔ضیاء بلوچ
ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ خبریں

موسیقی یونانی لفظ موسیک سے ماخوذ وہ صوتی کیفیت ہے جسے بیان سے زیادہ محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ سادہ ترین تعریف کے مطابق " موسیقی فن کی وہ شکل ہے جس میں آواز اور خاموشی کو وقت میں ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ اُس سے سُر پیدا ہوتے ہیں" آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ عالم جیرمی مونٹاگو کے نزدیک "موسیقی وہ آواز ہے جو جذبات سے بھری ہو" شاعری چونکہ لفظوں کے توازن پر مشتمل ہوتی ہے، اس وجہ سے موسیقی کے ساتھ مل کر دہرا اثر دکھاتی ہے ۔ لیکن بغیر شاعری کے بھی موسیقی جادو کا اثر رکھتی ہے ۔ اس لحاظ سے جب ماں بچے کو سلاتے وقت لوری دیتی ہے تو یہ بھی موسیقی کی ہی ایک شکل ہے ۔
موسیقی کو روح کی غذا کہا جاتا ہے لیکن وہ سب جو اس سے اختلاف کرتے ہیں یہ ضرور مانتے ہیں کہ ترنم واقعی روح کی غذا ہے ۔ لحن داؤدی کی مثالیں اسلام میں موجود ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جب پیغمبر حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کرتے تو جانور پرندے جمع ہوجاتے ۔ اور آج بھی جب سورہ رحمان کی تلاوت کی جائے تو انسان کا دل ہی نہیں ہر ایک جزو الہامیت کو محسوس کرتا ہے ۔ اہل مصر فخر سے کہتے ہیں کہ قرآن اترا تو عربوں پر تھا لیکن قرات اہل مصر نے کہ ہے ۔
موسیقی کی کہانی انسان سے شروع ہوتی ہے کیونکہ جب انسان نے پہلی بار تالی بجائی ہوگی تو موسیقی کی ابتدائی لذت کو محسوس کیا ہوگا ۔ ہاتھ تھکے ہوں گے تو یہ کام لکڑی سے لیا ہوگا ۔ شاید آج کا گتکا وہی ابتدائی شکل ہو ۔ ملنے والے 10 ہزار سال پرانے فوسلز بتاتے ہیں کہ انسان نے جانوروں کی ہڈیوں سے بہترین ساز تیار کر رکھے تھے ۔
موسیقی کی کیا اقسام ہیں؟ ، ارتقاء کیاہے؟ یہ میرا موضوع نہیں لیکن ایک بات میں جانتا ہوں کہ ہر خطے کی اپنی موسیقی ہے کیونکہ موسیقی کا تعلق مٹی سے ہوتا ہے ۔ میرے آبائی علاقے کے ایک بڑے نامور بزرگ جو جھنڈیر فیملی سے تعلق رکھتے تھے، ہزاروں مرید تھے لیکن ترنم کے آگے اس حد تک مجبور تھے کہ ڈھول بج رہا ہوتا تو سر پر منوں وزن ہونے کے باوجود میل کے سفر میں بھی ان کے پاؤں ڈھول کے تال کے مطابق اٹھتے ۔
وہ دھرتی بانجھ ہوتی ہے جس تہذیب میں موسیقی نہ ہو ۔ مجھے فخر ہے کہ سرائیکی وسیب کی ثقافت انتہائی کثافت رکھتی ہے ۔ ہمارے سازوں سے مسرت ہی نہیں درد کی لے بھی نکلتی ہے۔ ہمارا ڈھول، ہماری بین، ہماری شرنا جب چاہے ہنسا بھی دیتی ہے اور رلا بھی دیتی ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہمارا یہ ثقافتی ورثہ وقت کے دھندلکوں میں معدوم ہو رہا ہے ۔ میں ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اپنی اس دھرتی کے بیٹے صابر عطاء کو... کہ اس نے میری دھرتی پر جگہ جگہ موجود ان کہانیوں کو زندگی دینے کی غیر معمولی کاوش کی ہے ۔ یقیناً یہ مکمل اداروں کا کام ہے جو اس انتہائی محنتی اور اپنی دھرتی سے عشق کرنے والے ایک شخص نے سر انجام دیا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ کہ یہ پہلی کوشش ہرگز نہیں ہوگی بلکہ اپنی ثقافت کو محفوظ کرنے کا نکتہء آغاز ہوگا ۔
صابر عطاء وہ شخصیت ہیں جو فن اور فن کار کے حوالے سے انسائیکلوپیڈیا سے کم نہیں ۔ جب وہ خبریں میں نہیں بھی تھے تو میں ان سے استفادہ کرتا تھا ۔ سوشل میڈیا ہی نہیں الیکٹرانک میڈیا پر بھی یار لوگ کئی مرتبہ میری دھرتی کے لےجنڈ عطاء اللہ عیسی خیلوی کو راہی عدم روانہ کر چکے ہیں ۔ یہ خبر عموماً بریک اس وقت کی جاتی ہے جب اخبار کی کاپی چھپنے کے لئے پرنٹنگ سیکشن جانے والی ہو ۔ میں نے ہر بار ایسی خبروں کی تصدیق یا تردید صابر عطاء سے کی ۔ صابر عطاء لطیف جذبات رکھنے والا غیر معمولی صحافی ہے ۔ اور موسیقی کہانی لکھنے کا لطیف کام شاید ان سے بہتر کوئی نہ کر سکے ۔ میری دعا ہے کہ ان کے اس کام کو غیر معمولی پذیرائی ملے ۔

از : ضیا بلوچ
ڈپٹی ایڈیٹر نیوز
روزنامہ خبریں ملتان

06/03/2023

میونسپل کمیٹی چوک اعظم کی پندرہ روزہ "صفائ نصف ایمان "کا کارواں دوسرے روز گورنمنٹ مسلم ہائی سکول چوک اعظم پہنچ گیا۔چیف آفیسر فیصل شیخ نے طلباء سے گفتگو میں صفائ کی اہمیت بارے آگاہ کیا۔اساتذہ سے میٹنگ کی ۔بروشر تقسیم کیا گیا

چوک اعظم میں پندرہ روزہ"صفائ نصف ایمان"مہم شروعمیونسپل کمیٹی نےشہرکوصاف کرنےکےلیےلنگوٹ کس لیے۔پہلے روز مشینری سمیت فلیگ ...
05/03/2023

چوک اعظم میں پندرہ روزہ"صفائ نصف ایمان"مہم شروع
میونسپل کمیٹی نےشہرکوصاف کرنےکےلیےلنگوٹ کس لیے۔
پہلے روز مشینری سمیت فلیگ مارچ کیا گیا۔پمفلٹ تقسیم۔
فلیگ مارچ کی قیادت چیف آفیسر فیصل شیخ نے کی۔
شہر کے 12وارڈزکو تین سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔
38سینٹری ورکرز مشینری سمیت شہر کو صاف کریں گے۔
شہری بھی اس مہم کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کریں۔

چیف آفیسر فیصل شیخ اور ترجمان مہم رانا فیصل کی گفتگو

چوک اعظم (بلدیاتی رپورٹر)
پنجاب حکومت کی ہدائیت پر میونسپل کمیٹی چوک اعظم کے زیر اہتمام پندرہ روزہ "صفائ نصف ایمان "خصوصی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
پہلے روز فلیگ مارچ کیا گیا ۔فلیگ مارچ میونسپل کمیٹی چوک اعظم سے شروع ہوا اور یاد گار چوک پر اختتام پذیر ہوا ۔فلیگ مارچ کی قیادت چیف آفیسر فیصل شیخ نے کی ۔جبکہ سینٹری انسپکٹر اعجاز احمد ،ترجمان مہم رانا فیصل،تجاوزات آفیسر عبدالحمید فتح پوری ، شاہد حمید اور سینٹری ورکرز مشینری سمیت شریک تھے۔
یادگار چوک میں شہریوں میں مہم کی آگاہی کے لیے پمفلٹ تقسیم کیے گئے ۔
مہم کے ترجمان رانا فیصل نے میڈیا کو بتایا کہ ایڈ منسٹریٹر مبارک علی رضا اور چیف آفیسر فیصل شیخ نے اس مہم کے لیے پلان ترتیب دیا ہے جس کے تحت شہر کے 12وارڈز کو تین سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے سیکٹرنمبر 1میں وارڈ نمبر 1تا 5،سیکٹر نمبر 2میں وارڈ نمبر 6تا 10،اور سیکٹر نمبر 3میں وارڈ نمبر 11تا 12شامل ہیں۔
ان تینوں سیکٹرز میں 38سینٹری ورکرز انچارج صفائ مہم اعجاز احمد کی زیر نگرانی صفائ کی ڈیوٹی سر انجام دیں گے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عملہ صفائی دو شفٹوں میں کام کرے گا پہلی شفٹ صبح 6بجے تا 8بجے اور دوسری شفٹ صبح 9بجےتا 3بجے ہوگی۔
رانا فیصل نے بتایا کہ دوران مہم ایسے علاقوں میں بھی صفائی کی جائے گی جہاں عمومآ صفائ کے انتظامات کم ہوتے ہیں تمام عارضی ڈمپنگ پوائنٹ پر موجود تمام کوڑا کرکٹ کو سائیٹ پر منتقل کیا جائے گا ،عارضی فلتھ ڈپو پر چونا لگایا جائے گا ،جنرل بس اسٹینڈ ،فروٹ و سبزی مارکیٹ،مساجد،امام بارگاہوں،جنازہ گاہوں،قبرستان آوردفاتر کی صفائ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ،گندے پانی کے جوہڑ ختم کیے جائیں گے ،گلی محلوں میں نالیوں ،مین ہولز کی صفائ کے ساتھ ساتھ روزانہ سیور لائنز کی ڈی سلیٹنگ کی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران ہفتہ وار سمیت تمام چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
چیف آفیسر فیصل شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صفائ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے شہری بھی انتظامیہ کا ساتھ دیں اور شہر کو صاف ستھرا بنانے میں اپنا کردار ادا کریں

کیپشن۔
چوک اعظم ۔میونسپل کمیٹی کے زیر اہتمام خصوصی مہم کے لیے فلیگ مارچ کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف پمفلٹ تقسیم اور صفائ کرنے کے مناظر

"عیسیٰ خیلوی کی گائیکی نے "کھاری"سے "افتخارعطاءاللہ" بنا دیا"چوک اعظم (صابرعطاء سے)عیسیٰ خیلوی کی گائیکی نے "کھاری"سے "ا...
02/10/2022

"عیسیٰ خیلوی کی گائیکی نے "کھاری"سے "افتخارعطاءاللہ" بنا دیا"

چوک اعظم (صابرعطاء سے)
عیسیٰ خیلوی کی گائیکی نے "کھاری"سے "افتخارعطاءاللہ" بنا دیا ۔مادری زبان پنجابی،سرائیکی سے عشق ہے،گھر والوں نے ہارمونیم کو چولہے میں جلا دیا، انہی کی گائے فروخت کرکے دوبارہ ہارمونیم خرید لایا ،2آڈیو البم،3ویڈیو سی ڈیز،40گیت ریلیز ہوچکے۔عیسی خیلوی کی آواز سے بے حد مماثلت سے علاقہ بھر میں انہیں "چھوٹا عطاءاللہ"کہا جاتا ہے۔
"ساؤنڈ سسٹم ایکٹ نے چھوٹے فنکاروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے،بڑے فنکاروں کو پولیس پروٹوکول جبکہ ہم جیسوں کو حوالات میں بھیجتی ہے"افتخار عطاءاللہ کی گفتگو۔
تحقیق کے مطابق اس بات میں کوئ شک نہیں کہ لوک موسیقی گانے والے بہت سارے لوک گلوکاروں نے عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی گائیکی سے متاثر ہو کر گائیکی کے میدان میں قدم رکھا اور عیسیٰ خیلوی کو عزت و احترام دیتے ہیں۔
انہی لوک گائیکوں میں ایک نام افتخار عطاء اللہ کا بھی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ عطاءاللہ سے عقیدت کی وجہ سے وہ "کھاری"سے "افتخار عطاءاللہ"بنے ۔
افتخار عطاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو چوک اعظم کے نواحی گاؤں چک نمبر 315ٹی ڈی اے میں پیدا ہوئے۔ابتدائ تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی ،میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 321ٹی ڈی اے کیا۔
افتخار عطاءاللہ کی مادری زبان پنجابی ہے اور آباؤ اجداد کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔مگر وہ کہتے ہیں کہ
"ہم سرائیکی وسیب میں پیدا ہوئے اس لیے سرائیکی زبان سے والہانہ عشق ہے اس زبان کی مٹھاس نے اس زبان میں یہ خوبی رکھی ہے کہ اسے بولنے یاگانے والا ممتاز حیثیت رکھتا ہے"
افتخار عطاءاللہ کہتے ہیں
" ہائ سکول کے زمانے میں گانے کا شوق پیدا ہوا ہائ سکول میں ہم نے ایک گروپ بنا لیا ۔
ایک دن ٹیچر ماسٹر عاشق حسین دھول جو میرے بڑے بھائ بھی ہیں کلاس میں نہیں آئے توہم نے کلاس میں گانا بجانا شروع کر دیا سید کوثر شاہ نے ڈیسک بجایا ،مشتاق حسین زاہد نے تالی بجائ اور میں گانا شروع کر دیا اچانک کہیں سے ٹیچر کلاس میں آگئے انہوں نے گانا سنا تو ہم سب کو کان پکڑوا کر مارا۔اس دن کے بعد موسیقی کو اپنے اندر چھپا لیا ۔بعد ازاں سکول کے بزم ادب پیریڈ میں تمام اساتذہ کہتے رہے لیکن میں نے انکار کر دیا "
افتخار عطاءاللہ نے ہارمونیم خریدنے کا دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ
"میں نے سکول کے بعد موسیقی کو اوڑھنا بچھونا بنانے کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں ہارمونیم خرید لایا۔جونہی گھر میں ہارمونیم لایا تو قیامت برپا ہوگئ۔گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھا سیاسی طور پر چچا،والداور بھائ سب کا تعلق جمعیت اور جماعت اسلامی سے ہے ۔ہارمونیم۔دیکھتے ہی بڑے بھائیوں نے ہارمونیم کو توڑ کر چولہے میں جلا دیا۔رات بھر سو نہ سکا۔دوسری رات بڑے بھائ کی گائے خاموشی سے کھولی اور دن کو منڈی مویشیاں میں بیچ کر پھر ہارمونیم خرید لیا اور خریدنے کے بعد بورے والا میں موسیقی کے استاد،استاد اکرم فریدی کی شاگردی اختیار کرلی ان کی توجہ اور اپنی محنت کے سبب مجھے ہارمونیم اپنے لیے بجانا آگیا"
افتخار عطاءاللہ نےآڈیو کیسٹ کا آخری زمانہ تھا میں 2آڈیو البم ریلیز کیے اس کے بعد 3ویڈیو سی ڈیز اور 45ویڈیو گیت ریلیز کیے۔ان کے پہلے البم کی شہرت نے انہیں علاقہ بھر میں متعارف کروادیا ۔وسیب ٹی وی سمیت متعدد ٹی وی چینلز پر بھی پرفارم کر چکے ہیں علاقہ بھر میں ہونے والے میلوں ٹھیلوں میں پرفارم کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے سرائیکی ،پنجابی اور اردو زبان میں گیت گائے ہیں۔وہ خود بھی شاعری کرتے ہیں اور متعدد گیت لکھے ہیں ۔
افتخارعطاءاللہ نے چوک اعظم میں "لالہ جی میوزیکل اکیڈمی"کے نام سے دفتر قائم کیا جہاں سرشام موسیقی کی نشست جمتی اور شہر کے شائقین موسیقی لطف اندوز بھی ہوتے ۔
افتخار عطاءاللہ کا کہناہے
"آج میرے ٹیچر بڑے بھائ کا بیٹا بھی شوقیہ طور پر گاتا ہے اور وہ فوج میں میجر کے عہدے پر فائز ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ساؤنڈ سسٹم ایکٹ نے ان کا معاشی قتل کیا ہے جب تک اسے ختم یا اس میں نرمی نہیں کی جاتی فنکار معاشی طور پر تباہ ہوتا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی اکیڈمی کرایہ نہ ہونے کے باعث بند ہوچکی ہیں۔
کہنے لگے کچھ عرصہ قبل ان کے گھر کو آگ لگ گئی جس سے سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔آرٹس کونسل ڈی جی خان کی جانب سے کال آئ اور درخواست طلب کی گئ جس پر آج تک کوئ عمل در آمد نہیں ہوا۔
وہ سمجھتے ہیں میلوں ٹھیلوں اور شادی کی تقریبات کو ایکٹ سے استثنی قرار دیا جائے تاکہ سماج میں گھٹن کا ماحول ختم ہو۔
ان کا کہنا ہے ایکٹ پر عمل در آمد میں انتظامیہ دوہرا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر کوئ بڑا گلوکار پروگرام کرے تو اس پولیس پروٹوکول دیتی ہے اگر مجھ سا گلوکار پروگرام میں شرکت کرے تو اسے حوالات بھیج دیا جاتا ہے
ان کا مطالبہ ہے کہ ضلع لیہ میں ہر سال تھل جیپ ریلی منعقد ہوتی مگر اس میں مقامی فنکاروں کو مدعو نہیں کیا جاتا اتنے بڑے انٹر نیشنل ایونٹ میں ایک رات صرف مقامی فنکاروں کے لیے بھی مختص کی جانی چاہئیے۔

"رنگ علی رنگو جس نے موسیقی کے رنگوں سے تھل کو رنگ دیا"چوک اعظم (صابرعطاء سے)رنگ علی رنگو جس نے موسیقی کے رنگوں سے تھل کو...
02/10/2022

"رنگ علی رنگو جس نے موسیقی کے رنگوں سے تھل کو رنگ دیا"
چوک اعظم (صابرعطاء سے)
رنگ علی رنگو جس نے موسیقی کے رنگوں سے تھل کو رنگ دیا ۔45سال سے موسیقی سے وابستہ ہیں۔1000کےقریب گیت گا چکے ہیں۔تھیٹرز میں بھی پرفارم کیا۔ہماری موسیقی تھل کی ثقافت سے گندھی ہوئی ہے۔رنگ علی رنگو کی گفتگو ۔
تحقیق کے مطابق ضلع لیہ کے صحرائ شہر چوبارہ سے تعلق رکھنے والی توانا آواز کے مالک رنگ علی رنگو تھل کی سرائیکی موسیقی کے کے فروغ کے لیے آج بھی کوشاں ہیں۔آواز کے ذریعے شائقین موسیقی کے دل مسخر کرنے کا سلسلہ 45سال پر محیط ہے
رنگ علی رنگو چوبارہ کے موضع نواں کوٹ کے کھوہ اکھرانانوالہ میں پیدا ہوئے۔سکول کی ابتدائ تعلیم نہرے والا پرائمری سکول سے حاصل کی ۔
رنگ علی بتاتے ہیں ان کے گھرانے میں موسیقی سے وابستہ بڑئ شخصیات نے جنم لیا جب ہوش سنبھالا تو خاندان کے بزرگ استاد ہانما خان موسیقی کر رہے تھے قوالی اور مجرے کی محافل میں شرکت کرتے تھے۔
رنگ علی نے بھی خاندان میں موسیقی کے شوق کو دیکھا تو اپنے چچا فدا حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کرلی ۔اسراد فدا حسین اپنے وقت کے اچھے قوال اور گائیک تھے۔
رنگ علی رنگو کا پہلا البم 1978ء میں پاک گرامو فون ہاؤس والوں نے ریلیز کیا۔جس کے ٹائٹل گیت "مانگھا مینوں چھوڑی جاندا"نے شہرت کے دروازے کھول دیے۔
اس کے بعد اشرف شاہین میوزک سنٹر نے دوسرا البم ریلیز کیا جس کے گیت"ڈھولے ونگاں ہوائیاں عید تے"نے پورے سرائیکی وسیب میں دھوم مچادی۔اس کے اب تک ان کے مطابق 1000کےقریب گیت ریلیز ہوئے ہیں
رنگ علی رنگو کی گائیکی کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے چوبارہ کے صحراؤں میں موسیقی کے رنگ بکھیرے ہیں انہوں نے تھل کی سرائیکی کے جھنگوچی لہجے اور تھلوچی لہجے کو زیادہ گایا ہے۔
ان کے گائے ہوئے گیتوں میں ثقافت کا اظہار نمایاں ملتاہے۔
رنگ علی رنگو نے استاد الٰہی بخش،استاد اللہ بخش،استاد گانمن کے تھیٹرز میں بھی پرفارم کیا ۔
آج بھی تھل کی شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا خوشی کے میلے سب رنگ علی رنگو کی موسیقی کے بغیر پھیکے لگتے ہیں۔

Address

Office . Zubair Medical Store Mian Wali Road Chowk Azam Dist Layyah
Layyah

Telephone

+923008762327

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wasaib Times/وسیب ٹائمز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Wasaib Times/وسیب ٹائمز:

Share