30/04/2026
لکی مروت کے دہشت گردی سے متاثرہ اور پسماندہ علاقے سرکٹی مچن خیل میں مشران کا ایک اہم اجلاس سابق ناظم ملک یونس خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں امن و امان سمیت علاقے کو درپیش بنیادی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ علاقے کے تمام مسائل کو باہمی مشاورت سے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اس موقع پر علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک بااختیار کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جبکہ سابق ناظم ملک یونس خان کو اس کمیٹی کا صدر منتخب کر لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک یونس خان نے کہا کہ سرکٹی مچن خیل ایک تاریخی مگر انتہائی پسماندہ گاؤں ہے، جہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں نہ مناسب سڑکیں ہیں، نہ معیاری تعلیمی نظام، نہ صاف پانی کی فراہمی ہے اور نہ ہی صحت کی سہولیات میسر ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ دریائے کرم سے لاحق ہے، جس کا پانی گاؤں سے محض چند میٹر کے فاصلے پر بہہ رہا ہے۔ اگر دریا میں مزید طغیانی آئی تو پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹنے کا خدشہ ہے۔
ملک یونس خان نے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے فنڈز کی منظوری پر ڈپٹی کمشنر لکی مروت حمیداللہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فنڈز کا فوری اجراء یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ ٹینڈر کے بجائے گاؤں کی مقامی کمیٹی کے ذریعے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات ممکن ہو سکیں۔
اجلاس کے شرکاء نے علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔