ماجد نگاریاں - Majid Nigarian

ماجد نگاریاں - Majid Nigarian اگر آپ واقعی عقل مند ہیں
تو شاید اس صفحے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اور اگر ایسا نہیں ہے،
تو یقین مانیے
یہ صفحہ بھی کچھ خاص نہیں کر سکے گا۔

I've just reached 15K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏...
17/04/2026

I've just reached 15K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉

یہ بندہ کون ہے؟فیس بک فساد کی کہانی۔دس ہزار لائکس، وہ بھی فیس بک کی پہلی ہی پوسٹ پر؟ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟اور کون سا ایسا...
14/04/2026

یہ بندہ کون ہے؟
فیس بک فساد کی کہانی۔

دس ہزار لائکس، وہ بھی فیس بک کی پہلی ہی پوسٹ پر؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
اور کون سا ایسا پھنے خان آ گیا جو ایسا کرے؟

بھائی، سچی بات ہے کہ ہم بھی اس بندے سے تنگ آ گئے ہیں کہ بس بہت ہوا۔
اب نہیں چھوڑیں گے اسے۔ اور اس کا اگلا پچھلا سب آپ کے سامنے رکھیں گے، تاکہ آپ کو بھی معلوم ہو کہ یہ جو ماجد نگاریاں والا پبلک میں معصوم بنا پھرتا ہے، اصل میں کیسا میسنا اور شاطر انسان ہے۔

تو بھائیو، ہوا یوں کہ اچانک پردۂ غیب سے 12 جنوری 2026 کو، یعنی کوئی تین مہینے پہلے، یہ بندہ ماجد نگاریاں کا پیج بنا کر نمودار ہوا، اور آتے ہی لکھنا شروع کر دیا۔

جب اس نے اپنی پہلی ہی پوسٹ میں اپنی ہی دانشوری کا اعلان کرتے ہوئے دس ہزار کے قریب لائکس لے کر فیس بک کی دنیا میں دھوم مچا دی تو ہم بھی پریشان ہوئے کہ کچھ تو ضرور اندر کی بات ہے، جو یہ بتا نہیں رہا۔ ورنہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

پبلک اتنی جلدی مان بھی کیسے سکتی ہے کہ ہمارے یہاں تو دانشور پہلے ہی کافی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ ٹکے ٹوکری بکتے ہیں، جو بیچاری عوام پر اپنی عقلمندی کی باتیں روز جھاڑتے ہیں۔ تو پھر یہ نیا بابا کہاں سے نکل آیا؟

وہ تو بعد میں پتہ لگا کہ یہ گلی محلے کے معصوم بچوں کو ٹافیوں کا اور پانچ روپے والے ٹھیپوں کا لالچ دے کر ان سے یہ لائکس کرواتا رہا تھا۔

اس کے فوراً دو دن بعد، 14 جنوری کو اس نے پھر ایک کالم لکھ مارا اور ساڑھے سات ہزار سے اوپر لائکس پھر لے گیا۔

مگر تب تک تو پبلک کو اس کی کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو چکی تھی کہ یہ شاطر انسان ضرور کچھ نہ کچھ ایسا ویسا کر رہا ہے۔ چنانچہ تیسرے کالم، جو اس نے 16 جنوری کو لکھا، پر کم لائکس، یعنی یہی کوئی تین ہزار سے کچھ اوپر، آئے۔

یہاں اس تیز و طرار بندے کو سمجھ میں آ گیا کہ پبلک اسے سمجھ کر گئی ہے۔ اس لیے اس نے فوراً بازی پلٹ دی اور 19 جنوری کو “گالیوں کے پھول” لکھ مارا اور پھر سے آٹھ ہزار سے اوپر لائکس پھر سے لے گیا۔

اب یہاں سے اسے شاید یہ ڈر بھی لگنا شروع ہو گیا کہ کہیں پبلک میں پکڑا نہ جائے، سو اس نے سیدھا صحافتی لرننگ کارڈ اپلائی کر کے اس پر بھی کالم لکھ مارا، تاکہ پبلک ہوشیار ہو جائے کہ یہ صحافی بھی بن چلا ہے، تو اس پر کوئی ہاتھ نہ ڈالے۔

اب یہاں سے اس کی ایک اور بیماری سامنے آئی۔
کہ یہ کبھی بھی ایک ہی صورت میں نہیں رہتا۔

کبھی مزاحیہ بن جائے گا۔
کبھی سمجھدار۔
کبھی دکھی۔
کبھی سنجیدہ۔

گویا دنیا کے سارے دکھ، سارے قصے، ساری سمجھداریاں، دانشمندیاں اور اس سب کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے فضول ترین اور ویلے (فارغ) لوگ اور قصے صرف اسی کے حصے میں آئے ہوں۔

اور یہ کہ پبلک کو کب، کہاں اور کیسے گھمانا ہے اور کیا بیچنا ہے، یہ بھی صرف اسے ہی پتہ ہو۔

پھر اسی دوران اس کو خود بھی سمجھ آنے لگی کہ ایک ہی طرح کے مال سے یہ دکان زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ چنانچہ یہ بندہ کمال ہوشیاری دکھا کر سیدھا سفر پر نکل گیا۔

28 جنوری کو سفر والے کالم کی پہلی پوسٹ لکھی تو تین دن میں ساڑھے چار ہزار لائکس آ گئے، مگر چونکہ پبلک کی بددعائیں ساتھ تھیں، تو خود ہی وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر بیٹھا۔

پھر یکم فروری کو اسی کو نئے سرے سے پوسٹ کیا اور اس بار بیس ہزار سے اوپر لائکس لے گیا۔

پھر بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوئی۔

ساتھ ہی ساتھ اس نے فوٹوگرافی بھی شروع کر دی اور سفر کے آغاز والی ایک تصویر پر چوبیس ہزار سے اوپر لائکس لے کر فیس بک والوں کو بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔

یعنی جو بندہ پہلے صرف کالموں سے پبلک کو پریشان کر رہا تھا، اب وہی تصویروں، سفر، دکھی اور عجیب و غریب کہانیوں کے ذریعے مزید فساد پھیلانے لگا۔

اب آپ خود ہی بتائیے، یہ سب کام کسی عام اور معصوم انسان کا کام ہے یا باقاعدہ کسی اونچے درجے کے شاطر فسادی کا؟
کہ یوں ہی اپنے ایک عام سے سفر کا ڈھنڈورا پیٹتا پھرے اور خواہ مخواہ کا دانشور، رائٹر، شاعر، فوٹوگرافر اور نہ جانے کیا کچھ بنتا پھرے۔

پھر اسی دوران، اسی ہوشیاری اور خوش فہمی میں، جب اس نے جوگیوں اور سفر سے واپس آنے والے کالم لکھے تو پبلک نے اس کی خوب دھلائی کی کہ یہ انسان کیا ہی فضول لکھتا ہے اور اس کی خوب کلاس لی۔

مگر یہ پھر بھی باز نہ آیا۔ اور اسی طرح عجیب و غریب کالمز لکھ کر، دے مار ساڑھے چار کر کے، ہر پوسٹ پر ہزاروں کے حساب سے لائکس لیتا رہا۔

چلو یہاں تک بھی رہتا تو ہم برداشت کر لیتے، مگر ہر بار یہ اپنی ہمت بڑھا کر چند قدم اور آگے بڑھتا گیا۔

اور پھر بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک آن پہنچی کہ یہ شاطر انسان بیچارے اینکروں اور دوستوں کے احسانات جیسے موضوعات پر کالم لکھ کر معصوم لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے اور ان کی ہتک کرنے پر اتر آیا۔

اب جب بات شریف لوگوں کی رسوائی اور جگ ہنسائی تک آن ہی پہنچی ہے تو ہم نے بھی آخرکار تنگ آ کر اس کی حرکتوں سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں کہ بس بھائی، اب بہت ہوا۔

اب تم جانو اور پبلک، کہ وہ تو ڈھونڈ رہی ہے کہ یہ بندہ ملے تو اس کو خوب سارے پتھر مارے جائیں۔ اور اب سے ہم تو اس بیچ میں بالکل بھی نہیں آئیں گے۔

سچی بتائیں تو اس بندے کی خرابی صرف یہ نہیں کہ یہ لکھ لیتا ہے۔

اصل خرابی یہ ہے کہ یہ بہت جلد سمجھ گیا کہ اس معصوم پبلک کو کب، کہاں اور کون سا چورن بیچنا ہے۔

اور رہی یہ بات کہ یہ لکھتا کیسے ہے کہ جس سے یہ اپنی ہر پوسٹ پر دس بیس ہزار لائکس لے جاتا ہے؟ یہ بات ہم آپ کو اپنی اگلی پوسٹ میں بتائیں گے۔

تب تک، آپ اس انسان کی یہ تصویر دیکھیے، جو کہ اس کے ابھی والے سفر پر کھینچی گئی، اور ہمارے اور دیگر جملہ حاسدین کے ساتھ ساتھ مل کر آپ بھی اس کے لیے بددعائیں کریں کہ یہ انسان اپنی حرکتوں سے باز آ جائے۔

ماجد نگاریاں کے کالمز.آپ دوستوں کی سہولت کے لیے ابھی تک کے کالمز کے لنکس اس پوسٹ میں شامل کر رہے ہیں۔جب آپ یہ سارے کالم ...
10/04/2026

ماجد نگاریاں کے کالمز.

آپ دوستوں کی سہولت کے لیے ابھی تک کے کالمز کے لنکس اس پوسٹ میں شامل کر رہے ہیں۔

جب آپ یہ سارے کالم پڑھ چکیں تو بتا دیجیے گا تاکہ آپ کو ایزی پیسہ یا جیز کیش کا نمبر بھجوایا جا سکے۔

لوگ عام طور پر پیسے پہلے لیتے ہیں، مگر ہم جب آپ سارے کالمز پڑھ لیں گے تو اس کے بعد آپ سے پیسے مانگیں گے۔

بالکل ویسے ہی جیسے کہ ہمارے رکشے والے بھای کہتے ہیں کہ اڈریس پر پہنچ کر جتنا جی کرے، دے دیجیے گا۔

تو بس۔ ہم بھی آپ کے ساتھ یہی کریں گے۔

اور اگر آپ نے سارے کالمز پڑھنے کے بعد ہمیں نہ بتایا تو یقین جانیے کہ لکھنے کی طرح بددعایں دینے میں بھی ہم کافی ایکسپرٹ ہیں۔

آج کے لیے اتنا ہی۔

-
کالمز کی لسٹ.

اپریل 2026

6 اپریل - وہ سفرنامہ جو لکھا جائے گا
https://www.facebook.com/share/p/1Fcicfi1ey/

مارچ 2026

27 مارچ - کالم کا وقفہ
https://www.facebook.com/share/p/18SM47bjtw/

21 مارچ - پوسٹ ڈیلیٹ ہو گی
https://www.facebook.com/share/p/1A1gmLfzDw/

20 مارچ - باضمیر "ٹوٹوں والے" اینکر اور چائے بسکٹ!
https://www.facebook.com/share/p/1AkR3tg6tS/

13 مارچ - میں تمھارا یہ احسان کیسے چکاؤں گا؟
https://www.facebook.com/share/p/18HuNtizrp/

6 مارچ - ایک وہ سفرنامہ جو ادھورا رہ گیا
https://www.facebook.com/share/p/18SY8Be3ue/

فروری 2026

27 فروری - کیونکہ تم اچھی ہی اتنی ہو
https://www.facebook.com/share/p/1Y1NxKx9Cx/

21 فروری - اب سمجھ میں آیا
https://www.facebook.com/share/p/1DeMc6jA6D/

18 فروری - ہم واپس آ رہے ہیں
https://www.facebook.com/share/p/1EZ61wdeHv/

4 فروری - ہم جا رہے ہیں (آخری حصہ)
https://www.facebook.com/share/p/18KbnD82rM/

4 فروری - ہم جا رہے ہیں (پہلا حصہ)
https://www.facebook.com/share/p/17xfiHWHza/

4 فروری - چلو، سفر پر نکلتے ہیں
https://www.facebook.com/share/p/18Pz7LpYT5/

1 فروری - کچھ سفر منزل کے لیے نہیں ہوتے
https://www.facebook.com/share/p/17svhDVH74/

جنوری 2026

25 جنوری - فیس بک انتظامیہ کے نام ایک تحریر
https://www.facebook.com/share/p/1DhFWGW1AR/

21 جنوری - صحافتی زندگی اور ڈالر کی پکار!
https://www.facebook.com/share/p/1CCrcLrVyh/

19 جنوری - گالیوں کے پھول اور شریف آدمی
https://www.facebook.com/share/p/1BRcAJ4pG6/

16 جنوری - واٹس ایپ گروپ تحریر
https://www.facebook.com/share/p/1SWZtZTmrH/

14 جنوری - اے میرے دوستو، سجنو
https://www.facebook.com/share/p/18nQBbkqvn/

12 جنوری - سوچا تو یہی تھا کہ خاموش رہا جائے
https://www.facebook.com/share/p/1AzbmBEmmp/

وہ سفرنامہ جو لکھا جائے گاجب ہموہ ادھورے سفرنامے والا کالملکھ چکے،تو پھر خیال آیاکہ بات تو بہت اداسی کی ہو گئی۔اور سچ یہ...
06/04/2026

وہ سفرنامہ جو لکھا جائے گا

جب ہم
وہ ادھورے سفرنامے والا کالم
لکھ چکے،
تو پھر خیال آیا
کہ بات تو بہت اداسی کی ہو گئی۔
اور سچ یہ ہے
کہ اُس وقت
ہونی بھی چاہیے تھی۔

پھر تب یہ بھی سمجھ میں آیا
کہ زندگی رکتی نہیں،
کہ نئے لوگ آتے ہیں،
اور نئے خواب بھی
دیکھے جاتے ہیں۔

اور اداسی اگر وقتی ہے
تو اسے مستقل کیوں بنا لیں؟
کیوں اُن لوگوں کو
نظرانداز کریں
جو ہمارے ساتھ ہیں،
اور اُنہیں بھی
جنھوں نے ابھی آنا ہے؟

تو پھر
ہمت سی بندھی۔
کہ اب ہم ایک بار پھر سے اٹھیں گے۔
اور ایک بار پھر سے لکھیں گے۔

کہ جو کچھ ہمارا قرض ہے،
اور جو کچھ ہمارا فرض ہے،
وہ نئی نسلوں کے لیے
ہمیں ادا بھی کرنا ہے۔
کہ اب خود
برگد بننا ہے۔

ان کا بھی تو حق بنتا ہے۔
اور ہماری ذمہ داری بھی۔

سو ایک بار پھر لکھا جائے گا۔
مگر اب کی بار
یہ وہ نہیں ہو گا
جو پہلے تھا۔
نہ وہی قصے،
نہ وہی لوگ،
اور نہ ہی وہ ادھورا پن
جو جانے والوں کی وجہ سے
ٹھہر سا گیا تھا۔

اب کی بار
جو ہم لکھیں گے
وہ ان کے لیے ہو گا
جو ابھی ساتھ ہیں۔
اور ان کے لیے بھی
جنھوں نے ابھی آنا ہے۔

ہاں،
ہم ایک بار پھر
خواب دیکھیں گے۔
مگر اس بار
اپنے لیے نہیں۔
ان کے لیے
جو ساتھ ہیں،
اور ان کے لیے بھی
جنھوں نے ابھی آنا ہے۔

اور پھر
انہی کے ساتھ مل کر
ان خوابوں کی تعبیر ڈھونڈیں گے۔
جن کی تلاش میں
شاید ہم شامل ہوں،
مگر جن کی تکمیل تک
شاید ہم خود
نہ بھی پہنچ سکیں۔

اور اس میں
کوئی اداسی بھی نہیں۔
کہ یہی تو
زندگی کا حسن ہے۔

ہاں،
ہم ایک بار پھر سے لکھیں گے۔
کچھ اور قصوں کے بارے میں۔
کچھ ان معصوم ہنسیوں کے بارے میں
جو ابھی
زندگی کا سفر شروع کر رہی ہیں۔
اور اُن کے بارے میں بھی
جو سفر پر
چلتے چلتے
ٹھوکر کھا کر
سنبھلنا سیکھ رہے ہیں۔

ہم بتائیں گے
کہ ہم کیا تھے،
اور کیا سے کیا ہوئے۔
اور اس
کیا سے کیا ہونے کے بیچ
کیا کچھ ہوا،
یہ سب بھی بتائیں گے۔

ہم یہ بھی کہیں گے
کہ ہر بات کا
ایک وقت ہوتا ہے۔
اور جب محسوس ہو
کہ وقت آ گیا ہے،
تو بات کر لینی چاہیے۔

ہم یہ بھی بتائیں گے
کہ ہر منزل
رکنے کے لیے نہیں ہوتی۔
اور ہر راستہ
سفر کے لیے نہیں ہوتا۔

کچھ منزلوں پر
نہ رکنا بہتر ہوتا ہے،
اور کچھ راستوں پر
نہ چلنا ہی بہتر۔

اور ساتھ ساتھ
یہ دعا بھی کریں گے
کہ جو خوشیاں آج
تمہارے چہروں پر
نظر آتی ہیں،
وہ سدا قائم رہیں۔

ہم یہ نہیں کہیں گے
کہ تمھاری زندگی میں
کبھی دکھ نہ آئیں۔
ہم صرف یہ کہیں گے
کہ جب آئیں،
تو تم اکیلے نہ ہو۔

اور اس بار
جو ہم لکھیں گے،
وہ ادھورا نہیں ہو گا۔
کہ اس بار
وہ ان کے لیے ہو گا
جو ساتھ ہیں۔
اور ان کے لیے
جنھوں نے ابھی آنا ہے۔

کیونکہ
سفر تو چلتے رہنے کا نام ہے۔
اور جب تک
کوئی ساتھ چل رہا ہو،
یا کوئی آگے
ہمارا منتظر ہو،
تب تک
سفرنامہ لکھا جاتا رہے گا۔

یہ کالم وہ سفرنامہ جو ادھورا رہ گیا کا دوسرا حصہ ہے۔
پہلے حصے کا لنک: https://www.facebook.com/share/p/17geWwMZ9G/

27/03/2026

کالم کا وقفہ

بھایو۔
ہم اس جمعہ کا کالم پوسٹ نہیں کریں گے۔

ایک تو پہلے ہی دل میں ڈر سا بیٹھ گیا ہے کہ کہیں پھر سے پہلے کی طرح، نیا کالم اپلوڈ کرتے ہوئے، پرانا وائرل ہوتا ہوا کالم ڈیلیٹ نہ کر بیٹھیں…
کیونکہ ڈھائی مہینوں میں کم از کم تین چار بار یہ کام کر چکے ہیں… اور ہر بار پچھتاوا بعد میں ہی ہوتا ہے۔

اور دوسری بات یہ کہ کسی دانا بندے نے ہمیں سمجھایا ہے کہ وائرل پوسٹ کے ہر لائک پر پانچ دس ڈالر ملتے ہیں۔
اگرچہ اس میں تھوڑا وقت لگتا ہے… یعنی یہی کوئی چھے ماہ یا سال کے قریب۔ مگر وہ اکھٹے ہوتے رہتے ہیں اور آخر میں مل جاتے ہیں۔

تو ہم نے بھی کہا، کوئی بات نہیں، چلو ایک کمیٹی ہی سہی۔

اب جو ہم نے حساب لگایا ہے تو پتا چلا کہ اپنے ان ڈیلیٹ ہو جانے والے وائرل کالموں کے ہزاروں لائکس پر ہم خاصا بھاری نقصان کروا بیٹھے ہیں…
یعنی جو نقصان نظر آ رہا ہے، وہ الگ… اور جو نہیں آ رہا، وہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔

خیر، جو ہو گیا سو ہو گیا۔

یہاں مسئلہ نقصان کا نہیں… مسئلہ یہ ہے کہ نقصان بھی اب وائرل ہو رہا ہے۔

یا شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے…
کہ ہمیں لکھنا سیکھنا ہے یا ڈیلیٹ نہ کرنا۔

تو اب ہم نے سوچا ہے کہ ایک ہفتہ لگا کر تھوڑا سا فیس بک سیکھ لیتے ہیں،
تاکہ یہ جو ہر بار نیا کالم اپلوڈ کرتے ہوئے اتنے سارے ڈالروں کا نقصان کروا بیٹھتے ہیں، اس سے جان چھوٹے۔

تب تک… یعنی اگلے جمعہ تک…
آپ ہمارے پرانے والے کالم ہی پڑھ لیں۔

اور اگر پہلی بار میں کچھ سمجھ نہ آئے…
تو دوسری بار پڑھنے میں حرج بھی کیا ہے۔

کہ ویسے بھی…
بندہ اگر ذرا سمجھدار ہو…
تو جو چیز پہلی بار سمجھ نہ آئے،
وہ دوسری بار سمجھ آ ہی جاتی ہے۔

میں تمھارا یہ احسان کیسے چکاؤں گا؟کچھ احسان ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انہیں آرام سے چکا دیتا ہے۔جیسے کہ، آپ جا رہے ہوں اور ...
25/03/2026

میں تمھارا یہ احسان کیسے چکاؤں گا؟

کچھ احسان ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انہیں آرام سے چکا دیتا ہے۔

جیسے کہ، آپ جا رہے ہوں اور کیلے کے چھلکے پر پھسل جائیں، اور ساتھ چلتا ہوا کوئی دوست آپ کو سہارا دے دے۔

چنانچہ آپ بھی موقع ملتے ہی اس کے آگے کیلے کا چھلکا پھینک دیں، تاکہ جب وہ پھسلے تو آپ بھی اسے سہارا دے سکیں۔
تو یوں احسان کا حساب برابر ہو جاتا ہے، اور دوستی بھی قائم رہتی ہے۔

مگر کچھ احسان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا انسان کو سچ میں سمجھ نہیں آتا کہ اس کا صلہ کیسے چکایا جائے۔

مثلاً۔
آپ کسی مسئلے میں پھنس جائیں اور کسی کے پیسے واپس دینے ہوں۔

ادھر لینے والے دروازے تک پہنچے ہوئے ہوں، اور مزید کہیں سے ادھار بھی نہ مل رہا ہو کیونکہ پہلے لیے ہوئے بھی ابھی تک واپس نہیں کیے۔
اور پھر ایسے مشکل وقت میں کوئی قریبی دوست مدد کو آ جائے اور وہ سارے پیسے ادا کر دے۔

تو اس نیک، رحمدل، اور فرشتہ صفت انسان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں،
اور زبان سے یہ الفاظ کہ:
“یار، میں تمھارا یہ احسان کیسے چکاؤں گا؟”

اور پھر یوں تین چار سال گزر جائیں۔
ان سالوں میں ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں، کبھی ساتھ سفر بھی ہو، کبھی چائے کھانا بھی۔
اور زندگی کے باقی معاملات بھی ٹھیک چلتے رہیں۔

مگر چونکہ تب تک یہ سمجھ نہیں آئے کہ اس احسان کا بدلہ کیسے چکایا جا سکتا ہے،
تو اس لیے اس ادھار والے معاملے میں خاموشی کو ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اور اگر پھر وہی شخص، جلدی میں،
یعنی کوئی تین چار سال بعد،
اپنے پیسے واپس مانگ لے

تو سچ میں بڑا غصہ آتا ہے کہ:
ارے او منحوس اور بے صبرے انسان، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟
ہم کون سا کہیں بھاگے جا رہے تھے۔

ہمیں ذرا صحیح طرح سوچ تو لینے دو کہ تمھارے اس احسان کا بدلہ کیسے چکانا ہے۔
یعنی یہی کوئی مزید اگلے دس پندرہ سال تک۔
اور تب تک اگر سمجھ آ گیا تو یقیناً، بالکل۔

کہ آخر اپنی ذمہ داری تو پوری کرنی ہے، نہیں تو کل قیامت کے دن کیا منہ دکھائیں گے۔
مگر وہ بے صبرا اور منحوس انسان بات ہی نہ سمجھے،
تو یقین مانیے کہ بڑا دل دکھتا ہے۔

خیر۔
احسان چکانے کے کچھ بڑے دلچسپ طریقے بھی ہوتے ہیں۔

جیسا کہ
کسی جاننے والے کے پاس ڈالر پڑے ہوں۔
اور اس سے کہا جائے کہ بھائی، مجھے چند دنوں کے لیے روپوں میں ادھار چاہیے۔

وہ شریف آدمی اپنے ڈالر بیچ کر آپ کو روپوں میں ادھار دے دے۔
اور پھر انہی ادھار لیے گئے روپوں سے دوبارہ ڈالر خرید لیے جائیں۔

پھر یوں ہی چند سال گزر جائیں اور ڈالر 150 سے 300 پر پہنچ جائے۔
تب آدھے ڈالر بیچ کر اس کے لیے ہوئے روپے واپس اس کے منہ پر مارے جائیں کہ:

لو میاں، یہ رہے تمھارے روپے۔
ہم تو وہ لوگ نہیں جو کسی کا احسان اپنے سر پر رکھیں۔

اور یوں اس احسان اور پیسوں کے لین دین کا معاملہ دونوں برابر ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح کچھ احسان زمینوں اور پلاٹوں میں بھی ہوتے ہیں۔

یعنی، کسی جاننے والے نے اپنا پلاٹ یا زمین لینے کے لیے پیسے رکھے ہوں۔
اور وہ پیسے ایک انتہائی ضرورت بتا کر چند ہفتوں کے لیے مانگ لیے جائیں۔ اور پھر انہی پیسوں سے اپنا پلاٹ خریدا جائے۔
اور پھر کہا جائے کہ جب قیمت ڈبل ہو جائے گی تو پلاٹ بیچ کر پیسے واپس کر دیں گے۔

پھر پلاٹ ڈبل بھی ہو جائے بلکہ ٹرپل اور چار گنا ہو جائے۔

مگر تب تک چونکہ یہ سمجھ ہی نہ آئے
کہ اس کیے گئے احسان کا بدلہ کیسے چکایا جا سکتا ہے،
اس لیے ادھار واپس کرنے والا معاملہ ویسے کا ویسا رہنے دیا جائے۔

کہ وہ تو امانتاً رکھی ہوئی سونے کی مہر ہے۔
جب اللہ چاہے گا، واپس بھی کر دیں گے۔

پھر اسی طرح سے اگر کوئی شریف انسان،
کسی بے روزگار دوست یار کو اپنے پاس کبھی کوئی نوکری دے دے۔
اور ایک دو ماہ بعد وہ دوست آ کر بڑے خلوص اور پیار سے کہے:

یار، دل سے شکریہ کہ مشکل وقت میں کام آئے، کہ چند ماہ سے بالکل بے ویلے تھے۔
اور یہ جاب اور تنخواہ وغیرہ تو ٹھیک ہیں، کہ گھر کا خرچہ تو اسی سے چلتا ہے۔

البتہ،
یہ جاب شروع ہوتے ہی جو قسطوں پر گاڑی لے لی ہے،
اور پہلے سے بڑا گھر کرائے پر لے لیا ہے، یہ بھی اب سے تمھاری ہی ذمہ داری ہے۔

اور پھر آنکھوں میں نمی کے ساتھ وہ کہے:
اے دوست، یقین مانو، یہ سوچ کر واقعی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ پتہ نہیں میں تمھارا یہ احسان کیسے چکاؤں گا۔

تو سچ میں،
اس وقت سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ بندہ کیا جواب دے۔

اور جب ایسے معاملات ہم سنتے ہیں،
یا کبھی کبھی ہوتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں،

تو دل میں بڑی خواہش سی ہوتی ہے۔

کہ کاش ہمیں بھی کبھی کوئی ایسا موقع ملے کہ ہم بھی پورے اطمینان سے کہہ سکیں:
بھائی، ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ ہم تمھارا یہ احسان کیسے چکائیں گے۔

اور پھر آرام سے باقی زندگی
اسی سوال پر غور کرتے رہیں۔

(یہ کالم 13 مارچ 2026 کو پوسٹ کیا گیا تھا۔ ایک ہفتے میں سات ہزار سے زائد لائکس لینے کے بعد، “ٹوٹوں والے اینکروں” والا کالم اپلوڈ کرتے ہوئے ہم اسے خود ہی غلطی سے ڈیلیٹ کر بیٹھے۔ کہ اس طرح سے ڈیلیٹ کرنا ہماری پرانی عادت ہے۔ سو دوبارہ پیش ہے۔)

21/03/2026

ہماری سات ہزار سے زائد لائکس لینے والی "دوستی اور احسان" والی پوسٹ ڈیلیٹ ہو گئی ہے۔

لو جی، ہم نے ایک بار پھر اپنی وائرل ہوتی ہوئی پوسٹ خود ہی ڈیلیٹ کر دی ہے۔

پچھلے جمعہ، 13 مارچ 2026 کو لگائی گئی "دوستی اور احسان" والی پوسٹ، جس پر ایک ہفتے میں 7.3 ہزار سے زائد لائکس آ چکے تھے، کل ہم سے یہ نئی "ٹوٹوں والے اینکروں" والی پوسٹ اپلوڈ کرتے ہوئے غلطی سے ڈیلیٹ ہو گئی۔

یا یوں کہیے کہ جن نیک ہستیوں کے طفیل ہم یہ کالم وغیرہ لکھ رہے ہیں، ان کی بددعائیں اب سیدھا ٹارگٹ پر لگ رہی ہیں۔

اور یہ پہلا موقع بھی نہیں تھا۔

اسی طرح، اس سے پہلے جنوری میں سفر کے آغاز والے کالم کی پوسٹ بھی تین دن اور ساڑھے چار ہزار لائکس کے بعد ہم سے غلطی سے ڈیلیٹ ہو گئی تھی۔ اور پھر جب وہی پوسٹ دوبارہ لگائی گئی، تو 20 ہزار سے زائد لائکس لے اڑی۔

اصل میں ہم نے ابھی کوئی سوا دو مہینے پہلے ہی یہ پیج بنا کر کالم لکھنا اور پیج چلانا سیکھنا شروع کیا ہے، تو اب سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمیں فیس بک چلانا نہیں آتا، یا یہ چلتا ہی ایسے ہے جس طریقے سے ہم چلا رہے ہیں۔

یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اصل مسئلہ فیس بک نہیں… شاید ہم خود ہوں۔

دعا ہے کہ یا اللہ، یا تو ہمیں فیس بک ٹھیک سے چلانا سکھا دے،
یا پھر اسی طرح ڈیلیٹ کر کے وائرل کرنے کا سلسلہ جاری رکھ۔

خیر، "دوستی اور احسان" والی پوسٹ اب دوبارہ بدھ، 25 مارچ 2026 کو صبح 10:00 بجے اپلوڈ کی جائے گی۔

تب تک آپ یہی "ٹوٹوں والے اینکروں" والی پوسٹ پڑھ کر گزارا کریں، کہ ان بیچاروں کے حق میں کوئی نہیں بولتا تھا، تو ہم نے کہا کہ چلو یہ ذمہ داری بھی ہم ہی اٹھا لیتے ہیں۔

اور پوسٹ دوبارہ اپلوڈ کرنے کے بارے میں ہم آپ کو اوپر پانچ، چھ مرتبہ بتا چکے ہیں، اب مزید بار بار نہیں بتائیں گے۔

اس لیے… پہلے کبھی نہیں کہا، مگر اب کہہ رہے ہیں کہ صفحہ فالو کر لیں، تاکہ آپ کو ہمارے نئے آنے والے کالم اور ہماری ان خود سے ہی ڈالی گئی پسوڑیوں (مسائل) کا خود ہی پتہ چلتا رہے۔

ورنہ ہمیں ہی آ کر ہر بار آپ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا، صرف یہ بتانے کے لیے کہ نیا کالم یا نئی پسوڑی آ گئی ہے۔

اور ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ یہ والی پوسٹ بھی پچھلے ایک گھنٹے میں تین دفعہ ڈیلیٹ کر کے دوبارہ لگائی جا چکی ہے۔

باضمیر "ٹوٹوں والے" اینکر اور چائے بسکٹ والی پوسٹ کا لنک:
https://www.facebook.com/share/p/18DAx5V2JQ/

باضمیر "ٹوٹوں والے" اینکر اور چائے بسکٹ!ہم نے اپنا لکھنے لکھانے کا ارادہ بدلنے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔اب آپ پوچھیں گے، ...
20/03/2026

باضمیر "ٹوٹوں والے" اینکر اور چائے بسکٹ!

ہم نے اپنا لکھنے لکھانے کا ارادہ بدلنے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔
اب آپ پوچھیں گے، وہ کیوں؟

تو بھائی، جب سے ہم نے صحافی والا کارڈ بنوانے کا اعلان کیا ہے، مختلف قسم کی کالیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کال خاصی مختلف تھی۔

کہنے لگے:
"یار تم کس چکر میں پڑ گئے ہو۔ پیسہ اور عزت ہی کمانی ہے تو ٹوٹا اینکر بن جاؤ۔
چائے بسکٹ بھی خوب ملتے ہیں، پبلک کی داد الگ، اور کام بھی خاصا آسان ہے۔"

باقی باتیں تو ٹھیک لگیں، مگر اینکر کی یہ قسم اور چائے بسکٹ والا نکتہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم نے پوچھا:
"یہ کیا ہوتا ہے؟ کام کیسے آسان ہے، اور چائے بسکٹ کیسے ملتے ہیں؟"

کہنے لگے:
"بہت آسان ہے۔ بس کسی کی لیک ہوئی یا پرائیویٹ لمحات کی ویڈیو (ٹوٹا) اٹھاؤ، مائیک اور کیمرہ پکڑو، اور سیدھا اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے گھر پہنچ جاؤ۔

وہاں بیٹھ کر وہی ویڈیو انہی کے ساتھ دیکھو
(مطلب ان کی بہن، بیٹی، بیٹا، بھائی، ماں، باپ وغیرہ کے ساتھ)۔

چائے بسکٹ ساتھ منگوا لو، انہی سے کہہ کر تاکہ ماحول ذرا کمفرٹیبل ہو، اور پھر جو پکڑ میں آ جائے، مائیک پکڑ کر اس سے عجیب و غریب اور ذاتی قسم کے سوالات شروع کر دو کہ یہ کیا بدتمیزی ہے، اور کیا آپ کو نہیں پتا کہ انسانی زندگی میں یہ معاملات بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ؟

یوں ایک طرف اپنی صحافتی ذمہ داری بھی پوری ہو جاتی ہے،
دوسری طرف عوام کو پتا چل جاتا ہے کہ اس شرافت بھری دنیا میں کتنی بے حیائی پھیلی ہوئی ہے، اور لوگ اپنے بند کمروں میں چھپ کر کیا کچھ کر رہے ہیں۔

اور تیسرے، آزادیٔ صحافت کے ساتھ خدمتِ خلق بھی ہو جاتی ہے کہ لوگوں کو یہ مواد خود سے ڈھونڈنا نہیں پڑتا،
اور آج کل تازہ کیا چل رہا ہے، پتا لگتا رہتا ہے۔

اور پھر آج کل تو اس طرح کی اینکری کے کام میں چند ایک خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ، بلکہ ان سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ان متاثرہ فیملیز سے انٹرویوز لینے وغیرہ کے کاموں میں آگے آگے ہوتی ہیں۔
جس سے 'ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز' والا معاملہ ہو جاتا ہے،
چناچہ اس سے ان خواتین اینکروں کی روزی روٹی بھی کافی اچھی چل جاتی ہے۔"

ہم نے پوچھا:
"اگر یہی ایسی اینکری والا کام باہر کے ملکوں میں ہو تو کیا اسے پرائیویسی کی خلاف ورزی اور فحاشی نہیں کہا جاتا؟"

جواب ملا:
"یہ فحاشی تو ویسے بھی اسی کی ہے جس کی ویڈیو لیک ہوئی، اگرچہ اس نے اپنے گھر اور بند کمرے میں بنائی تھی۔ دنیا میں کوئی شریف آدمی ان کاموں میں نہیں پڑتا، نہ ایسا کوئی کام کرتا ہے، نہ کیمرے کے ساتھ، نہ اس کے بغیر۔

اس لیے یہ سارا اس کے گھر والوں کا قصور ہے، جن کو ہم بھرپور طریقے سے عوام کے سامنے لائیں گے۔

ہم تو اپنی بھرپور ذمہ داری سے صرف سچ دکھاتے ہیں۔ اور رہی بات پرائیویسی کی، وہ شاید باہر کے ملکوں میں ہو۔

الحمدللہ ہم ایک نیک مشرقی معاشرہ ہیں، اور ہمارے ہاں برائی کو روکنا اور معاشرے کو آگاہ کرنا فرض ہے۔ تو اس نیک کام کے لیے اس بندے یا بندی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے سارے گھر والوں کو پوری دنیا کے سامنے لے کر آنے میں آخر برائی ہی کیا ہے؟"

ہم کچھ دیر خاموش رہے، پھر پوچھا:
"اگر کبھی آپ کا اپنا کوئی ٹوٹا لیک ہو گیا، جو کہ آپ نے خود کے بھی کافی بنائے ہوئے ہوں گے، اور کوئی اسی طرح کیمرہ اٹھا کر آپ کے یا آپ کے گھر والوں کے سامنے آ کھڑا ہوا، تو؟""

کہنے لگے:
"پہلی بات تو یہ ہے کہ اگرچہ ہم خود بھی وہی سب کام کرتے ہیں (مطلب ٹوٹوں والے)،
مگر ہم اپنے والے ٹوٹے سنبھال کر رکھتے ہیں،
ڈبل پاس ورڈ کے ساتھ، تاکہ لیک نہ ہوں۔

دوسری بات یہ کہ اتنا چائے بسکٹ کا خرچہ ہم برداشت نہیں کر سکتے، کہ ہم لوگ ایک دو درجن اکٹھے ہو کر جاتے ہیں، تاکہ اگلے پر رعب قائم رہے۔

اور تیسری بات، ایسی کسی کی جرات نہیں کہ ہم سے کوئی سوال کرے۔ ہم اس کی ایسی کی تیسی کر دیں گے۔"

ہم نے کہا:
"اگر اگلا آپ کی ایسی کی تیسی پھیر دے تو پھر؟"

کہنے لگے:
"ہم پہلے پتا کروا لیتے ہیں۔
ہم صرف کمزور اور غریب آدمی کی فحاشی اور اس کے گھر والے سامنے لاتے ہیں۔ امیر اور اثر والے آدمی کے سامنے جا کر ہم نے مرنا ہے کیا؟"

ہم نے کہا:
"اگر اپنے ٹوٹوں اور گھر والوں کے بارے میں سن کر آپ کو غصہ آ رہا ہے تو دوسروں کے ساتھ یہ سب کیوں؟"

جواب ملا:
"بھائی، پبلک کی یہی ڈیمانڈ ہے۔ اور جو بکتا ہے، وہی بنتا ہے۔
آخر کوئی تو ہو جو اس ملک میں آزادیٔ صحافت کا جھنڈا اٹھا کر چلے۔ معاشرے کو صحیح سمت پر ڈالنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

نیز، پبلک کا ٹائم بھی بچ جاتا ہے کہ انہیں یہ سب کچھ خود نہیں ڈھونڈنا پڑتا، ہم خود ہی بتا دیتے ہیں کہ آج کل کون سا نیا مال آیا ہے۔"

یہ سب سن کر ہم بھی سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ کہیں ہم بلاوجہ ہی لکھنے لکھانے کے چکر میں تو نہیں پڑ گئے۔
چپ کر کے یہی اینکری والا کام پکڑ لیتے تو عزت بھی بنتی، اور پیسہ بھی۔

اور پھر اچانک، یہ سب کچھ سوچتے ہوئے ایک اداسی سی ابھر آئی، اور سوال ذہن میں اتر آیا کہ:

آخر کمزور کے گھر کی حد ہی کیوں پامال کی جاتی ہے؟
کیوں وہ کھلی ہو یا بند، طاقتور کے نزدیک سب ایک سی ہوتی ہے؟

شاید بابا بلھے شاہؒ نے یہی بات اپنے انداز میں یوں کہی تھی:
ماڑے گھر نوں بوہا کاہدا
کھلا، ڈھویا اک برابر

(یعنی: غریب کے گھر کا دروازہ کیسا... کھلا ہو یا بند، سب ایک جیسا)

ایک وہ سفرنامہ جو ادھورا رہ گیاہمارا یہ ابھی والا سفر ختم ہو گیا۔ ہم گھر واپس بھی آ گئے، اور زندگی پھر سے اپنی پرانی رفت...
06/03/2026

ایک وہ سفرنامہ جو ادھورا رہ گیا

ہمارا یہ ابھی والا سفر ختم ہو گیا۔ ہم گھر واپس بھی آ گئے، اور زندگی پھر سے اپنی پرانی رفتار میں چلنے لگی۔

مگر آج یونہی بیٹھے بیٹھے اسی سفر کے بارے میں سوچا تو ایک اداسی سی دل میں اتر آئی۔

جب اس سفر کا ارادہ کیا تھا تو بہت خوش تھے۔ دل میں شوق بھی تھا کہ اس بار صرف سفر نہیں کریں گے، اس پر ایک سفرنامہ بھی لکھیں گے۔ نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا، اس لیے جی چاہتا تھا کہ خوب لکھیں۔

مگر آغاز سے پہلے ہی کچھ ایسے معاملات ہونے لگے کہ محسوس ہوا، یہ سفر شاید ویسا نہ ہو جیسا ہم نے سوچا تھا۔

پھر سفر کے آغاز میں ہی استاد گرامی شدت سے یاد آئے، جن سے ہم ہر سال انہی دنوں میں ملنے اور دعائیں سمیٹنے جاتے تھے۔ مگر اس بار وہاں پہنچے تو ان کے لیے دعا کرنے کو ہاتھ اٹھانے پڑے، اور فاتحہ پڑھنی پڑی۔

اس تبدیلی پر دل میں ایک عجیب سی اداسی چھا گئی۔ آخر دیکھا جائے تو اس حقیقت کو بدلے ہوئے صرف گیارہ ماہ، چھ دن اور چند گھنٹے ہی تو ہوئے تھے۔

ابتدائی سفری دشواریاں اپنی جگہ، مگر راستے میں بھی کچھ ایسے معاملات پیش آئے کہ دوسرے ملک میں ہوٹل پہنچتے پہنچتے یقین ہو گیا: یہ سفر وہ نہیں تھا جو ہم نے سوچا تھا۔

خیر، سفر جاری رہا۔ ہم نے سب کچھ دیکھا، گھوما، محسوس کیا۔ اندر کی خاموشی بھی ساتھ رہی، سنجیدگی بھی؛ ہلکا پھلکا کچھ لکھا بھی، مگر وہ خوشی، جس کے ساتھ نکلے تھے، کہیں ساتھ نہ رہی۔

تین ہفتے بعد واپسی پر آتے ہوئے پھر استاد گرامی کی قبر پر حاضری دی کہ ایک سال مکمل ہو گیا تھا۔

اور پھر کچھ مزید الجھنیں ایسی پیش آئیں کہ یوں لگا جیسے دل ہی اٹھ گیا ہو ہر چیز سے، اور ہم خاموشی سے واپس گھر آ گئے۔

اور وہ سفرنامہ جسے بڑی چاہت سے لکھنے کا سوچا تھا، اور جس کے چند صفحے لکھ بھی چکے تھے، دراز میں ڈال دیے۔

سوچا کہ بس بہت ہوا۔ اب کچھ نہ لکھیں گے۔

خیر، پھر سوچتے رہے تو آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ بات صرف اس سفر کی نہیں تھی۔

کچھ تین سال ہوئے والد گرامی کا انتقال ہوا۔ پھر ایک سال پہلے استاد محترم بھی چلے گئے۔ انہی چند سالوں کے آخر تک کچھ پرانے دوست بھی بچھڑ گئے، کچھ دنیا سے جا کر، اور کچھ اسی دنیا میں رہتے ہوئے۔

باقی معاملات تو چلو ٹھیک ہیں، مگر ان پہلی دو ہستیوں کے جانے کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ شروع میں لگا کہ سب سہہ گئے، مگر اب جوں جوں وقت گزرتا ہے، یہ سوچ بڑھتی ہی جاتی ہے کہ شاید نہیں۔

برگد کے وہ گھنے پیڑ جن کی چھاؤں میں ساری عمر بے فکری میں گزری، اب جا چکے۔

زندگی کی دھوپ اب خود ہی سہنی ہے۔

نہ صرف یہ، بلکہ اب خود برگد کا درخت بھی بننا ہے۔

اور وہی دھوپ برداشت کرنی ہے جو ہم سے پہلے ان جانے والوں نے کی، تاکہ وہ لوگ جو کہ ساتھ ہیں، انہیں وہ چھاؤں مل سکے جس کی انہیں ضرورت ہے۔

پھر ایک وقت آئے گا جب یہی لوگ کسی اور کے لیے سایہ بنیں گے، اور زندگی کا یہ سفر ایک بار پھر دہرایا جائے گا۔

شاید یہی زندگی کا دستور ہے۔

ہر نسل پہلے سایہ لیتی ہے، پھر سایہ دیتی ہے۔

اسی سفرنامے میں ہم صرف سفر نہیں، اپنی زندگی بھی لکھنا چاہتے تھے۔ بچپن سے جوانی تک کے خواب، خوشیاں، معصوم مسکراہٹیں، دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کے قصے، وہ باتیں جنہیں یاد کر کے آج بھی ہنس پڑتے ہیں۔

اس کی تیاری بھی کر لی تھی، اور اپنی یادداشتوں کے چند صفحے بھی لکھ لیے تھے۔

مگر پھر سب کچھ ایک طرف رہ گیا۔

اور اس سب کچھ ہونے کے درمیان ایک اور احساس بھی رہ رہ کر آتا رہا: ان باتوں کا، جو ہم کہنا چاہتے تھے مگر کہہ نہ سکے۔

جانے والے جب چلے جاتے ہیں، اور خاص طور پر تب جب ان کے بعد آپ گھر کے بڑے رہ جائیں، تو وقت کے ساتھ ان کی یاد اور زیادہ آنے لگتی ہے۔ اور ساتھ ہی وہ ساری باتیں بھی جو آپ کرنا چاہتے تھے مگر کر نہ پائے۔

کچھ شاید شرم کی وجہ سے۔

کچھ ادب کی وجہ سے۔

اور کچھ اس خوف سے کہ وہ کیا سوچیں گے۔

بات آج سے کل پر ٹلتی رہتی ہے۔ پھر ایک دن پتہ لگتا ہے کہ وقت ختم ہوا اور جانے والا چلا گیا۔

یقین ہی نہیں آتا کہ اتنا پرانا رشتہ ایک لمحے میں کیسے ٹوٹ سکتا ہے۔

اچانک ایک میسج آتا ہے، یا فون کال، یا ڈاکٹر کا وہ جملہ جسے کوئی نہیں سننا چاہتا:

“آئی ایم سوری”

اور ایک لمحے کو دل یہ ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔

پھر ذہن میں وہی سوال آتا ہے کہ کچھ تو ہو گا جو ہم سمجھ نہ پائے۔

یا شاید…

ہم پہلے ہی دل کی بات کہہ دیتے۔

شاید کسی اور ہسپتال، کسی اور ڈاکٹر کے پاس لے جاتے۔

یا شاید ہمارے صدقے میں ہی کوئی کمی رہ گئی ہو گی۔

مگر چاہے جتنا بھی روک لیں، جانے والا چلا ہی جاتا ہے، کہ یہ میرے رب کا اٹل وعدہ ہے۔

کچھ کو ہم چھوڑ دیتے ہیں، اور کچھ لوگ ہمیں۔

اور اسی جدائی میں وہ ساری باتیں رہ جاتی ہیں جو ہم کرنا چاہتے تھے مگر کر نہ پائے۔

رہ جاتا ہے تو بس پچھتاوا۔ کہ کاش بتا پاتے کہ ہم کیا سوچتے تھے، کیا کہنا چاہتے تھے، اور کیا محسوس کرتے تھے۔

باہر سے دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ سب پہلے جیسا ہے۔ مگر دل کے اندر کچھ جگہیں ہمیشہ خالی رہ جاتی ہیں۔

پھر ایک دن یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ نئی نسل جب ہمیں دیکھتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ ہم ہمیشہ سے ایسے ہی تھے: سنجیدہ، بڑے اور بزرگ سے۔

اور یہ کہ ان بزرگوں کو آج کی کیا خبر۔ کہ خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں، ارادے کیسے بنتے ہیں، اور خوابوں کو پانے کا یقین کیسا ہوتا ہے۔

نی نسل کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ بزرگ انسان جو آج ان کے ساتھ بیٹھا ہے، ایک زمانے میں انہی کی طرح تھا۔

پہلے بچہ، پھر جوان۔

بس فرق صرف اتنا ہے کہ اس بزرگ کا ‘آج’ گزر کر، اس کے گزرے ہوئے کل کا حصہ بن چکا۔

باقی کوئی فرق نہیں۔

تو خیر، جب سفر شروع ہوا اور یہ سارے معاملات ساتھ آ گئے تو سفرنامہ سائیڈ پر رکھ دیا۔ کہ جن کے لیے لکھتے تھے، یا جن کے لیے لکھنا چاہتے تھے، جب وہی نہ رہے تو سفرنامہ کیسا۔

اب باقی جو بچا، وہ کاغذوں پر لکھی چند ادھوری لائنیں ہیں جو کسی دراز میں رکھی ہوئی ہیں۔

اور شاید یوں ہی رکھی رہیں گی ایک عرصے کے لیے۔

اور ایک دن آئے گا جب گھر والے وہ سامان نکال رہے ہوں گے کہ جس کی اب کوئی ضرورت نہیں۔

کیونکہ جس کا وہ تھا، وہ تو جا چکا اور جن کے لیے لکھا تھا، شاید وہ بھی۔

اور پھر یہ ادھورا سفرنامہ بھی اسی سامان کا حصہ بن جائے گا۔

اس وقت کوی بھی شاید یہ نہ سمجھ پائے کہ ان صفحات پر کیا لکھا تھا، کس کے لیے لکھا تھا، اور کیوں لکھا تھا۔

کیونکہ اس کا جو وقت تھا، وہ گزر چکا۔

اور تب جن کا وقت ہو گا، وہ اپنا ایک نیا سفرنامہ لکھیں گے۔

نئی خواہشوں، مدھم مسکراہٹوں اور ان دیکھے خوابوں کے ساتھ، جن کو پورا کرنے میں ایک عمر لگتی ہے۔

کہ زندگی رکتی نہیں۔

نئے لوگ آتے ہیں، نئے خواب دیکھے جاتے ہیں، اور نئی منزلیں تلاش کی جاتی ہیں۔

تو بس،
جب یہ سب ایک بار پھر سے ہو رہا ہو گا، اس بھیڑ میں شاید وہ کہیں مٹی کے کسی ڈھیر میں پڑا ہو گا۔

اور شاید کسی کو یاد بھی نہ آئے

کہ کسی نے
کسی کے لیے
کچھ لکھا تھا۔

وہ ایک
وہ سفرنامہ
جو ادھورا رہ گیا۔

کیونکہ تم اچھی ہی اتنی ہو…اے میری رفیقِ زندگی، راحتِ دل و راحتِ جاں۔کب سے سوچتا تھا کہ تمہیں ایک خط لکھوں۔ اور تمہاری فر...
27/02/2026

کیونکہ تم اچھی ہی اتنی ہو…

اے میری رفیقِ زندگی، راحتِ دل و راحتِ جاں۔

کب سے سوچتا تھا کہ تمہیں ایک خط لکھوں۔ اور تمہاری فرمائش بھی تھی۔
مگر پھر یہی سوچتا تھا کہ آخر میں لکھوں تو کیا لکھوں،
کہ سب کچھ تو تم پہلے سے ہی جانتی ہو۔

مگر ابھی کے اس سفر کا ایک یہ فائدہ ہوا کہ مجھے دل سے لگنے لگا کہ مجھے تمہیں سچ میں کچھ لکھنا چاہیے۔
اور شاید بہت کچھ لکھنا چاہیے۔
مگر پتہ نہیں کہ تم اتنا سب پڑھ بھی پاؤ گی کہ نہیں،

تو اس لیے کچھ لکھ دیتا ہوں۔ اور کچھ بول کر سناؤں گا، جب ہماری ملاقات ہو گی۔

کہنا کیا چاہتا ہوں؟
شاید بہت کچھ، یا شاید کچھ بھی نہیں۔
کہ تم کو تو سب کچھ معلوم ہی ہے۔

تقریباً بیس سال ہو چکے کہ جب تمہارے ساتھ رہنے کی قسم کھائی تھی۔
اور جو اب تک نبھا رہا ہوں۔
اور کیوں نبھا رہا ہوں؟

کیونکہ تم اچھی ہی اتنی ہو۔

قسمت شاید کسی خوش قسمت کو ہی خوش قسمتی دیتی ہے،
اور میری خوش قسمتی کہ مجھے تم مل گئیں۔

جتنا اچھا ساتھ تم نے میرے ساتھ نبھایا ہے، اس زندگی کے گرم و سرد ماحول میں،
تو یقین جانو پتہ ہی نہیں لگا کہ یہ بیس سال کیسے گزر گئے۔
اور لگتا ہے اگلے بیس سال بھی ایسے ہی خوشی خوشی گزر جائیں گے۔

یوں ہی،
بغیر پتہ لگے۔
دل سے۔

کیوں؟

کیونکہ تم اچھی ہی اتنی ہو۔

پر بیگم، اس سب کے ساتھ ساتھ ایک دل کی بات ہے جو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں۔

اور پتہ نہیں کہ کیا سمجھو۔
مگر یہ جو دل کی بات ہے، تم سے نہیں تو اور کس سے کروں۔

تمہیں یاد ہے نا، میں کبھی کبھی تم سے کہا کرتا تھا کہ بیگم لگتا ہے کہ میں بدل رہا ہوں۔
اور یہ بات ہنسی مذاق میں اڑا دی جاتی تھی۔

مگر اب،
اس سفر میں سچ سا لگتا ہے
کہ وہ بات سچ ہو چکی۔

لگتا ہے کہ میں اب وہ نہیں ہوں، جو پہلے کبھی گزرے ہوئے کل میں تھا۔
اور شاید آنے والے کل میں ایسا نہ رہوں، جیسا کہ شاید آج ہوں۔

اور یقین مانو کہ اس تبدیلی کا اختیار مجھ کو نہیں ہے،
کہ بس زندگی کا حکم یہی ہے کہ چلتے رہنا ہے اور آگے بڑھتے رہنا ہے۔

مگر اس مسلسل بدلتے اور تبدیل ہوتے ہوئے انسان کے ساتھ کچھ ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہمیشہ رہے گا،
اور وہ تم ہو۔

کہ تبدیلی چاہے جیسی بھی ہو،

تمہارا اور میرا تعلق، ساتھ،
پیار، رشتہ اور ناتہ جیسا پہلے تھا،
بالکل ویسا ہی رہے گا۔

میں بدل سکتا ہوں، مگر تم سے میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔

اور کیوں نہ ہو،
کہ آخر عمر بھر ساتھ نبھانے کی قسم جو کھائی ہے۔

تو بیگم،
بس اتنی سی یہ بات تھی جو مجھ کو کہنی تھی۔
کہ دنیا گھوم کر دیکھ لی،
خود کو بدلتے دیکھ لیا،
مگر یہ جو تمہارا میرا ساتھ ہے نا،
یہ بدل نہیں سکتا۔

میں شدت سے منتظر ہوں کہ کب یہ سفر ختم ہو اور ہم پھر سے مل بیٹھیں،

ایک اسی پرانے سفر پر رواں دواں، مگر ایک تازہ دم دل کے ساتھ۔

کہ بات صرف نبھانے کی نہیں ہے،
بات چاہنے کی ہے۔
اپنی خوشی سے۔
اپنی مرضی سے۔

کیونکہ تم میرے ہونے کا حصہ ہو۔
اور شاید اسی لیے تم اچھی ہی اتنی ہو۔

فقط تمہارا،
ہمیشہ کے لیے اپنا،
ہمسفر

اب سمجھ میں آیا۔آہ،ایک برس جدائی کا بھی تمام ہوا،اور ایک سال عمرِ رفتہ کا بھی۔اور وہ سفر بھی مکمل ہوا،جس میں شاید خود کو...
21/02/2026

اب سمجھ میں آیا۔

آہ،
ایک برس جدائی کا بھی تمام ہوا،
اور ایک سال عمرِ رفتہ کا بھی۔

اور وہ سفر بھی مکمل ہوا،
جس میں شاید خود کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔

الحمد للہ، الحمد للہ۔

اب یہ سمجھ میں آ گیا
کہ یہ جدائی کوئی مستقل نہیں،
اور یہ بھی
کہ یہ بس نظر کا ایک فریب ہے۔

شکر اس بات کا
کہ کچھ پرانے بوجھ بھی اتر گئے،
جو کہ شاید غیر ضروری تھے،
اور ہمت بھی بندھی
کہ اب پھر سے چل پڑا جائے۔

بالکل ویسے ہی،
جیسا حکم تھا کہ:
کچھ بھی ہو جائے،
چلتے رہنا ہے،
رکنا کبھی نہیں۔
کہ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔

اب واقعی سمجھ میں آیا۔
الحمد للہ، الحمد للہ۔

یہ بھی جان کر
کہ وہ اب بھی ساتھ ہے،
اور یہ بھی
کہ اگلی ملاقات
اب ذرا طویل ہو گی۔

اب بس یہی انتظار ہے
کہ وہ لمحہ آن پہنچے
جب وعدہ پورا ہو،
اور پھر اس ملاقات کا آغاز ہو
جو ہمیشہ کے لیے رہے گی۔

تب تک کے لیے،
جو واپس لیا گیا
اور پھر جو عطا کیا گیا،
اس سب پر
الحمد للہ، الحمد للہ۔

لے او یار، حوالے رب دے،
میلے چار دِناں دے۔
اُس دن عید مبارک ہو سی،
جس دن فیر ملاں گے۔

ترجمہ:
اچھا دوست، اب خدا کے سپرد۔
یہ دنیا تو چند دنوں کا میلہ ہے۔
ہماری اصل عید تو اب اسی دن ہو گی
جس دن ہم پھر دوبارہ ملیں گے۔

Address

145, Madina Street, Ahmed Block, New Garden Town
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ماجد نگاریاں - Majid Nigarian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category