03/02/2026
آئیں، آج میں آپکو بتاتا ہوں Rabies کے بارے میں۔
ریبیز یعنی باولا پن، ایسےجانور کے کاٹنے سے ہوتا ہے جس میں Rabies کا وائرس پایا جاتا ہو۔
یہ وائرس آوارہ کتوں،آوارہ بلیوں، چمگاڈروں اور کبھی کبھار چوہوں اور گدھوں کے تھوک میں پایا جاتا ہے۔
ریبیز ایسی بیماری ہے جس میں موت واقع ہونے کی شرع 100 فیصد ہے۔
ریبیز وائرس کی علامات باولے جانور کے کاٹنے کے 3 دن سے 3 ماہ کے اندر تک ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ریبیز وائرس کا ٹارگٹ آپکی خون کی نسیں نہیں بلکہ آپکے اعصاب nerves ہوتی ہیں تبھی اسکی علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں، لیکن جب تک ظاہر ہوتی ہیں تب تک بہت دیر ہو جاتی ہے۔
ایک بار یہ وائرس آپکے اعصابی نظام تک پہنچ گیا تو آپکو موت سے صرف کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔
ریبیز کی ابتدائی علامات میں سر کا درد، چکر آنا، بھوک پیاس کا نہ لگنا اور بخار وغیرہ شامل ہیں۔
ایک بار اگر یہ وائرس ایڈوانس سٹیج پہ پہنچ جائے تو اسکی سب سے بڑی علامت پانی کا ڈر یا خوف ہے۔
ایسا مریض پانی دیکھ کے ڈر جاتا ہے اور اس ڈر کی وجہ سے اسکے گردن کے وہ پٹھے جو پانی کو خوراک کی نالی میں پہنچانے میں مدد کرتے ہیں وہ شدید اکڑ جاتے ہیں جس سے پانی تک نہیں پیا جا سکتا، یہ ریبیز کی آخری علامت ہے اور اس کے بعد صرف موت ہی واحد حل ہے۔
ریبیز سے بچاؤ کے طریقے کیا ہیں؟
جونہی آپکو خدانخواستہ کوئی ایسا جانور کاٹے آپ نے فوری طور پر اپنے ضلع کے ہسپتال میں جانا ہے اور ARV کا ٹیکہ لگوانا ہے، ARV یعنی Anti rabies vaccine کا کورس مکمل کرنا ہے جو تین سے پانچ ٹیکوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اگر آپکو ٹیٹنس کا انجیکشن نہیں لگا تو اس کو بھی لازمی لگوائیں۔
ڈاکٹر آپکو حسب ضرورت Anaerobic bacterias کے کوور کے طور پر اینٹی بائیوٹکس بھی دے سکتے ہیں۔
اپنے مریض کو 90 دن انتہائی نگہداشت میں رکھیں اور انکے موڈ پر خصوصی غور کریں۔
یاد رہے ربیز کا واحد حل صرف ویکسین ہے۔
اپنے آس پاس آوارہ کتوں اور بلیوں کو کھانا کھلانے کے بجائے محکمہ وائلڈ لائف یا متعلقہ میونسپل کمیٹی کے حوالے کریں۔
یاد رکھیں یہ جانور آپکے جانی دشمن ہیں، ان سے سختی سے نپٹنا آپ سب کا فرض ہے۔
گھریلو کتوں اور بلیوں کو بھی جانوروں کے ڈاکٹر سے وقتا فوقتا ویکسین کے ٹیکے لازمی لگوائیں۔
اگر آپکو یہ پوسٹ مفید لگی ہے تو اسکو صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں۔
جزاک اللہ