09/09/2023
تیری آنکھوں سے خوابوں کے دریا بہتے ہیں
تیرے ریشمی بال اکثر ہم سے بات کرتے ہیں
تیرے پلو کو ہوا کہاں رہنے دیتی ہے
پھر تیری زلفوں سے ہم دن کو رات کرتے ہیں
تجھ کو جو کبھی خود پر نہ یقیں آئے
ہمیں ملنا جو صبح و شام تیری صفات کرتے ہیں
کوئی بھی ازل سے یہاں شاعر نہیں ہوتا
ہر شخص کو مجبور اس کے حالات کرتے ہیں
ہم تجھ سے کہتے نہیں تجھ پہ لکھتے ہیں مگر
یہ عشق کے مارے بھی خود پہ تجربات کرتے ہیں
اسکے ہونٹوں سے الفاظ میّسر نہیں آتے معیؔز
مگر اسکے اِشارے شہروں کو دیہات کرتے ہیں
9-9-23