Risen Graphics

Risen Graphics "Uncover the past with me! This page is dedicated to exploring history, culture, and forgotten stories through engaging videos and posts."

I am a creative and skilled professional graphic designer with a passion for visual storytelling. With extensive experience in the field, I excel in crafting innovative designs that captivate audiences. My expertise spans from conceptualization to execution, ensuring effective communication through stunning visuals. I stay updated with industry trends, ensuring my designs are fresh and contemporary. My goal is to deliver exceptional designs that exceed client expectations.

کیا اورنگزیب ظالم تھا یا دوریش صفت حکمران!
16/08/2026

کیا اورنگزیب ظالم تھا یا دوریش صفت حکمران!

سلطان غیاث الدین تغلق نے تغلق سلطنت کی بنیاد رکھی اور ایک ایسے وقت میں دہلی کا تخت سنبھالا جب پوری ریاست منگولوں کے خطرے...
15/08/2026

سلطان غیاث الدین تغلق نے تغلق سلطنت کی بنیاد رکھی اور ایک ایسے وقت میں دہلی کا تخت سنبھالا جب پوری ریاست منگولوں کے خطرے اور معاشی بدحالی کا شکار تھی۔ انہوں نے کسانوں کے ٹیکس معاف کیے، زراعت کو فروغ دیا اور سرحدی علاقوں میں اتنے مضبوط قلعے تعمیر کروائے کہ منگولوں کی دہلی کی طرف دیکھنے کی ہمت ہی ختم ہو گئی۔ وہ ایک انتہائی محنتی اور عوام دوست حکمران تھے جن کا ماننا تھا کہ ریاست کا اصل خزانہ عوام کی خوشحالی میں چھپا ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین معاشی پالیسیوں سے پوری ریاست کی تقدیر بدل دی تھی۔

دہلی کے لال قلعے کے دیوانِ خاص میں ستمبر سولہ سو انسٹھ کی وہ رات ایک ایسے گہرے، پراسرار اور بوجھل سکوت میں ڈوبی ہوئی تھی...
15/08/2026

دہلی کے لال قلعے کے دیوانِ خاص میں ستمبر سولہ سو انسٹھ کی وہ رات ایک ایسے گہرے، پراسرار اور بوجھل سکوت میں ڈوبی ہوئی تھی جس کی خاموشی میں بھی ایک طوفان کی آہٹ سنائی دیتی تھی۔ یہ کوئی عام رات نہیں تھی، بلکہ یہ وہ فیصلہ کن گھڑی تھی جب برصغیر پاک و ہند کی عظیم الشان اسلامی سلطنت کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا حتمی تعین ہونا تھا۔ تختِ طاؤس کے سائے میں، ایک کھردری اور انتہائی سادہ چٹائی پر عظیم سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ مراقبے کی حالت میں بیٹھے تھے۔ ان کے جسم پر کوئی ریشمی عبا یا ہیرے جواہرات سے جڑا کوئی تاج نہیں تھا، بلکہ وہ ایک عام اور کھردرے سوتی لباس میں ملبوس تھے، جس پر ان کے تقویٰ اور درویشی کی واضح مہر ثبت تھی۔ دربار کی دیواروں پر لرزتی ہوئی مشعلوں کی روشنی ان کے پرجلال مگر انتہائی متفکر چہرے پر پڑ رہی تھی۔ سلطان کے کاندھوں پر اس وقت پوری امتِ مسلمہ کا وہ بھاری بوجھ تھا جس نے ان کی راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون چھین لیا تھا۔ دارا شکوہ، جو اپنے ملحدانہ عقائد اور ہندو جوگیوں کی صحبت میں گمراہ ہو کر اسلام کی بنیادوں پر کھلم کھلا وار کر رہا تھا، وہ اب ساموگڑھ کی شکست کے بعد سندھ اور پنجاب کے تپتے ہوئے ریگستانوں میں ایک نئی ف و ج اکٹھی کر رہا تھا۔ یہ ف و ج کسی تخت کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ اس باطل اور کفریہ نظام کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے تیار کی جا رہی تھی جس کا خواب دارا شکوہ نے اپنی کتابوں میں دیکھا تھا۔ سلطان اورنگزیب بخوبی جانتے تھے کہ اگر اس ف س ا د کو اسی وقت سختی سے نہ کچلا گیا، تو ہندوستان میں کفر اور الحاد کا وہ سیلاب آئے گا جو صدیوں کی اسلامی فتوحات اور مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم روحانی محنت کو بہا لے جائے گا۔ ایک سچے، کھرے اور شریعت کے پابند سلطان کی حیثیت سے، اورنگزیب کے لیے یہ قطعی طور پر ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے خونی رشتوں کی محبت میں اللہ کے دین کو مٹتا ہوا دیکھیں۔ اس رات انہوں نے اپنے رب کے حضور سجدے میں گر کر دعا کی کہ اے اللہ، تو جانتا ہے کہ میرے دل میں تخت کی کوئی ہوس نہیں، میں تو محض تیرے دین کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں، مجھے اس عظیم فتنے کا سر کچلنے اور اس سلطنت میں تیرا سچا نظام نافذ کرنے کی توفیق اور طاقت عطا فرما۔

ادھر سندھ اور بلوچستان کے تپتے ہوئے، گرد آلود اور بے رحم ریگستانوں میں دارا شکوہ کا فرار ایک ایسے عبرتناک اور دردناک انجام کی طرف بڑھ رہا تھا جو قدرت نے ہر اس انسان کے لیے لکھ رکھا ہے جو حق کا راستہ چھوڑ کر باطل کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے۔ دارا، جس نے اپنی پوری زندگی مخملی بستروں، عطر بیز محفلوں اور فلسفیانہ موشگافیوں میں گزاری تھی، آج وہ چلچلاتی دھوپ، بھوک اور شدید پیاس میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے چند بچے کھچے ساتھی اور اس کی وفادار بیوی نادرہ بانو بیگم تھیں، جو اس کٹھن اور اعصاب شکن مسافت کی تاب نہ لاتے ہوئے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان انتقال کر گئیں۔ نادرہ کی م و ت نے دارا شکوہ کے حواس مکمل طور پر مختل کر دیے، اس کے جینے کی تمام تر امیدیں دم توڑ گئیں اور وہ ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا۔ اسی مایوسی اور بے بسی کے عالم میں، دارا نے ایک افغان سردار ملک جیون کے پاس پناہ لی، جس کی جان کبھی دارا نے سلطان شاہ جہاں کے قہر سے بچائی تھی۔ دارا کو یقین تھا کہ احسان کا بدلہ احسان سے دیا جائے گا، مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ جب انسان پر اللہ کی پکڑ آتی ہے تو اس کے اپنے سائے بھی د ش م ن بن جاتے ہیں۔ ملک جیون نے غداری، مکاری اور لالچ کی بدترین تاریخ رقم کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں دارا شکوہ اور اس کے جواں سال بیٹے سپہر شکوہ کو گرفتار کر کے شاہی افواج کے جرنیل بہادر خان کے حوالے کر دیا۔ جب دارا شکوہ کو بھاری زنجیروں میں جکڑ کر دہلی لایا گیا، تو سلطان اورنگزیب عالمگیر نے اسے کسی تاریک کوٹھڑی میں خفیہ طور پر ق ت ل کروانے یا ذاتی ا ن ت ق ا م کا نشانہ بنانے کا وہ راستہ قطعی اختیار نہیں کیا جو عموماً تاریخ کے سفاک حکمران اپناتے ہیں۔ اس کے برعکس، سلطان نے ایک ایسا بے مثال، عادلانہ اور شرعی قدم اٹھایا جس نے مستشرقین کے تمام جھوٹے دعووں کو ہمیشہ کے لیے باطل کر دیا۔ سلطان عالمگیر نے واضح کر دیا کہ دارا شکوہ کا معاملہ دو بھائیوں کی ذاتی د ش م ن ی کا نہیں، بلکہ اسلام اور ریاست کے غدار کا معاملہ ہے، اور اس کا فیصلہ صرف اور صرف اللہ کی شریعت اور قاضیوں کی عدالت کرے گی۔

دہلی کے دیوانِ عام میں ایک انتہائی پروقار، سنجیدہ اور کڑی شرعی عدالت کا انعقاد کیا گیا، جس میں سلطنت کے چوٹی کے جید علمائے کرام، مفتیانِ شرع اور قاضی القضاۃ کو طلب کیا گیا۔ اس عدالت کا مقصد محض دارا کو س ز ا دینا نہیں تھا، بلکہ حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنا تھا۔ علماء کے سامنے دارا شکوہ کی لکھی ہوئی کتابیں، بالخصوص مجمع البحرین، اور اس کے وہ تمام بیانات پیش کیے گئے جن میں اس نے قرآن پاک کی تعلیمات کو ہندوؤں کے ویدوں اور اپنشدوں کے برابر قرار دیا تھا، اور توحید کے خالص اسلامی عقیدے میں صریح شرک کی آمیزش کی تھی۔ ایک طویل، تفصیلی اور انتہائی غیر جانبدارانہ بحث و مباحثے کے بعد، تمام علمائے کرام اور قاضیوں نے متفقہ طور پر یہ شرعی اور تاریخی فتویٰ صادر کیا کہ دارا شکوہ کے عقائد صریحاً کفر اور ارتداد پر مبنی ہیں، اس نے اسلام کی بنیادی اساس پر وار کیا ہے، اور ایک اسلامی ریاست میں مرتد اور ف س ا د پھیلانے والے کی شرعی س ز ا صرف اور صرف م و ت ہے۔ جب یہ متفقہ فتویٰ سلطان اورنگزیب عالمگیر کے سامنے پیش کیا گیا، تو ان کے ہاتھ کانپ گئے اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ یہ ایک بھائی کے لیے انتہائی کرب ناک لمحہ تھا، مگر ایک سلطان کے لیے یہ دین کی بقا کا حتمی امتحان تھا۔ اورنگزیب نے اپنے ذاتی جذبات، خونی رشتوں کی محبت اور دل کے درد کو شریعت کے احکامات کے تابع کرتے ہوئے اس فتوے پر اپنی شاہی مہر ثبت کر دی۔ دارا شکوہ کو خضر آباد کے قید خانے میں شرعی احکامات کے عین مطابق ق ت ل کر دیا گیا۔ انگریز مورخین نے اس واقعے کو مسخ کرنے کے لیے جو یہ افسانہ گھڑا کہ دارا کا کٹا ہوا سر ایک مخملی صندوقچے میں سلطان شاہ جہاں کو بھیجا گیا، یہ سراسر ایک غلیظ، بے بنیاد اور اسلام د ش م ن پروپیگنڈا ہے۔ اسلامی تاریخ اور مستند حوالوں میں اس وحشیانہ اور غیر اخلاقی عمل کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ دارا شکوہ کی تدفین ہمایوں کے مقبرے کے احاطے میں ایک عام انسان کی طرح کر دی گئی، اور یوں برصغیر پر منڈلانے والا الحاد کا وہ عظیم طوفان، سلطان عالمگیر کی حق پرستی اور جرات کی بدولت ہمیشہ کے لیے ٹل گیا۔

اس سب کے دوران، آگرہ کے قلعے کے مسمّن برج میں مقیم عظیم سلطان شاہ جہاں کی زندگی ایک بالکل ہی نئے، روحانی اور پاکیزہ دور میں داخل ہو چکی تھی۔ تخت چھن جانے کا وہ ابتدائی دکھ، جو کسی بھی انسان کے لیے فطری ہوتا ہے، اب رفتہ رفتہ ایک گہرے روحانی سکون اور اللہ کی رضا پر راضی ہونے کے جذبے میں بدل چکا تھا۔ سلطان شاہ جہاں پر اب یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو چکی تھی کہ دنیا کے یہ عالی شان محلات، ہیرے جواہرات سے جڑے تخت اور لاکھوں کی ف و ج محض ایک سراب اور دھوکہ ہیں۔ انہوں نے اپنی بقیہ زندگی کو خالصتاً عبادت، توبہ اور اللہ کے ذکر کے لیے وقف کر دیا تھا۔ مسمّن برج کا وہ خوبصورت جھروکہ، جہاں سے دریائے جمنا کے اس پار تاج محل چاندنی میں چمکتا ہوا دکھائی دیتا تھا، اب سلطان کی جائے نماز بن چکا تھا۔ وہ دن رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے، تہجد کی نمازوں میں گڑگڑا کر اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور دنیاوی جاہ و جلال سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو چکے تھے۔ ان کی سب سے پیاری اور وفادار بیٹی، جہاں آرا بیگم، ایک سائے کی طرح ان کے ساتھ رہتیں۔ وہ اپنے باپ کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتیں، ان کا وضو کرواتیں اور انہیں انبیاء کرام کے قصے سنا کر ان کے دل کو تسکین پہنچاتیں۔ سلطان اورنگزیب عالمگیر باقاعدگی سے اپنے باپ کی خیریت دریافت کرتے اور ان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو شاہی خزانے سے پورا کرنے کے سخت احکامات جاری کرتے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان اگرچہ ملاقاتوں کا سلسلہ منقطع تھا، مگر اورنگزیب کے دل میں اپنے باپ کا وہ شرعی احترام اور وقار ہمیشہ قائم رہا جو ایک مسلمان بیٹے پر فرض ہے۔ سلطان شاہ جہاں نے بھی اپنی زندگی کے ان آخری سالوں میں دارا کی محبت کے سحر سے نکل کر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا کہ اورنگزیب نے جو بھی کٹھن فیصلے کیے، وہ ذات کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی بقا کے لیے تھے۔ مسمّن برج کی وہ پرسکون تنہائی، سلطان شاہ جہاں کے لیے کسی ق ی د خانے سے زیادہ ایک ایسی روحانی خلوت گاہ بن گئی تھی جس نے ان کے قلب کو دنیا کی محبت سے پاک کر کے خالص اللہ کی محبت سے بھر دیا تھا۔

دہلی کے دربار میں، سلطان اورنگزیب عالمگیر نے اقتدار کو مکمل طور پر مستحکم کرنے کے بعد ہندوستان میں ایک ایسی عظیم الشان، عادلانہ اور اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جس کی چمک سے آج بھی تاریخ کے اوراق روشن ہیں۔ سلطان نے یہ محسوس کیا کہ سلطنت کا قانون بکھرا ہوا ہے اور قاضیوں کو فیصلے کرنے میں دشواری پیش آتی ہے، جس کی وجہ سے عوام کو فوری انصاف نہیں مل پاتا۔ اس عظیم مقصد کے لیے انہوں نے برصغیر کے سینکڑوں جید علمائے کرام، فقہا اور قانون دانوں کو دہلی میں جمع کیا اور ان کی سرپرستی میں اسلامی قانون کا وہ عظیم الشان شاہکار مدون کروایا جسے دنیا آج فتاویٰ عالمگیری کے نام سے جانتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک قانونی مسودہ نہیں تھی، بلکہ یہ سلطان کی اس سچی تڑپ کا نتیجہ تھی کہ اس کی سلطنت میں کوئی بھی غریب، مظلوم یا کمزور انسان انصاف سے محروم نہ رہے۔ سلطان عالمگیر نے اپنے دربار کے دروازے ہر عام و خاص کے لیے کھول دیے۔ وہ خود روزانہ گھنٹوں عدالت لگاتے اور ادنیٰ ترین کسانوں کی فریاد سن کر بڑے بڑے نوابوں اور صوبیداروں کے خلاف کڑی س ز ا کے احکامات جاری کرتے۔ انہوں نے اپنے ذاتی اخراجات کے لیے کبھی شاہی خزانے سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ ہندوستان کا وہ عظیم سلطان، جس کی ہیبت سے دکن کے پہاڑ اور کابل کی وادیاں کانپتی تھیں، وہ رات کے پچھلے پہر اپنے ہاتھوں سے قرآن مجید کی کتابت کرتا اور انتہائی سادگی سے ٹوپیاں سیتا، اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی چند کوڑیوں سے اپنے لیے جو کی روٹی کا بندوبست کرتا۔ سلطان عالمگیر نے پوری سلطنت سے منشیات، جوا، طوائفوں کے کوٹھوں اور ہولی دیوالی کی ان خرافات پر مکمل پابندی عائد کر دی جو اسلامی معاشرے کی پاکیزگی کو تباہ کر رہی تھیں۔ عوام پر لگے تمام ظالمانہ ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیے گئے، اور سلطنت کا خزانہ، جو شاہ جہاں کے دور میں خالی ہو چکا تھا، اب یتیموں، بیواؤں، مساجد کی تعمیر اور مدارس کے طلبہ کے وظائف کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ وہ سنہری دور تھا جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل عرصے کے بعد خلفائے راشدین کے دور کی ایک سچی اور پرنور جھلک دیکھی تھی۔ سلطان عالمگیر کی اس بے لوث خدمت، تقویٰ اور عدل نے ان تمام جھوٹے الزامات کو اپنی نورانی کرنوں سے جلا کر راکھ کر دیا جو حاسدوں اور د ش م ن و ں نے ان کے خلاف گھڑے تھے۔ یہ اس شاندار اسلامی ریاست کا وہ مستحکم اور پرجلال آغاز تھا جس نے آنے والی کئی صدیوں تک ہندوستان کی مٹی پر کلمہ طیبہ کی گونج کو زندہ اور سلامت رکھنا تھا۔

ہندوستان میں باقاعدہ اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے والے سلطان شہاب الدین غوری کی زندگی مسلسل ناکامیوں کے بعد ملنے والی عظی...
15/08/2026

ہندوستان میں باقاعدہ اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے والے سلطان شہاب الدین غوری کی زندگی مسلسل ناکامیوں کے بعد ملنے والی عظیم الشان کامیابی کی بہترین کہانی ہے۔ ترائن کی پہلی جنگ میں شکست کھا کر شدید زخمی ہونے کے بعد وہ پیچھے نہیں ہٹے، بلکہ انہوں نے ایک سال تک اپنی فوج کو ایک نئی اور جدید حکمت عملی کے تحت تیار کیا اور ترائن کی دوسری جنگ میں دشمن کو ایسی شکست دی جس نے برصغیر کی تاریخ بدل دی۔ ان کی زندگی کا سبق بہت واضح ہے کہ شکست انسان کا اختتام نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک نئی اور شاندار شروعات کا پہلا قدم ہوتی ہے۔

آگرہ کے عظیم الشان اور فلک بوس قلعے کے باہر جون سولہ سو اٹھاون کی تپتی ہوئی دوپہر اپنے پورے جلال کے ساتھ اتر چکی تھی۔ آس...
14/08/2026

آگرہ کے عظیم الشان اور فلک بوس قلعے کے باہر جون سولہ سو اٹھاون کی تپتی ہوئی دوپہر اپنے پورے جلال کے ساتھ اتر چکی تھی۔ آسمان سے آگ برس رہی تھی اور دریائے جمنا کا پانی بھی گرمی کی شدت سے ابلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ قلعے کے گرد مغل شہزادہ اورنگزیب کی فاتح اور انتہائی منظم ف و ج کے خیمے میلوں تک پھیلے ہوئے تھے، مگر حیرت انگیز طور پر وہاں کسی ح م ل ہ کی تیاری، کسی خ و ن ر ی ز ی یا کسی ب غ ا و ت کا وہ روایتی شور نہیں تھا جو عموماً فاتح لشکروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ اپنے سادہ مگر پروقار خیمے کے اندر، شہزادہ اورنگزیب ایک کھردری چٹائی پر بیٹھا، ہاتھ میں تسبیح لیے گہرے تفکر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نہ تو تختِ طاؤس کی کوئی چمک تھی اور نہ ہی ایک فاتح کا وہ غرور جو انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، اس کے چہرے پر ایک ایسی گہری اداسی اور بوجھ تھا جو صرف ایک سچے اور کھرے مسلمان حکمران کے دل میں ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ اورنگزیب بخوبی جانتا تھا کہ قلعے کے اندر اس کا اپنا بوڑھا باپ، سلطنت کا شہنشاہ شاہ جہاں موجود ہے۔ اگر وہ براہ راست قلعے پر ح م ل ہ کرتا، تو ہزاروں بے گناہ مسلمان سپاہیوں کا خ و ن پانی کی طرح بہہ جاتا اور تاریخ اسے ایک ایسے سفاک شہزادے کے طور پر یاد رکھتی جس نے تخت کے لیے اپنے ہی باپ کے وفاداروں کا ق ت لِ عام کیا۔ اسلام کی روشن تعلیمات اور شریعت کا پاسدار ہونے کی حیثیت سے، اورنگزیب کسی بھی صورت میں خانہ ج ن گ ی اور مسلمانوں کا ناحق خ و ن بہانے کے حق میں نہیں تھا۔ دارا شکوہ کے ملحدانہ عقائد اور اس کی اسلام د ش م ن پالیسیوں نے سلطنت کو پہلے ہی ایک ہولناک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، اور شاہ جہاں کی دارا کے لیے اندھی محبت نے شاہی خزانے کے منہ کھول دیے تھے۔ اورنگزیب کو علم تھا کہ جب تک شاہ جہاں کے ہاتھ میں سلطنت کے سیاسی اختیارات اور خزانے کی چابیاں ہیں، دارا شکوہ اس دولت کو استعمال کر کے ایک نئی ف و ج بناتا رہے گا اور برصغیر میں خ و ن کی ہولی کھیلی جاتی رہے گی۔ اس لیے، ایک انتہائی کٹھن مگر خونریز ج ن گ سے بچنے کے لیے، اورنگزیب نے ایک ایسی پرامن اور عسکری حکمت عملی اپنائی جس نے قلعے کو بغیر کسی م و ت اور ت ل و ا ر کے تسخیر کر لیا۔ اس نے دریائے جمنا سے قلعے کو جانے والے پانی کے راستے پر پہرہ بٹھا دیا تاکہ محصورین پر دباؤ پڑے اور وہ بغیر کسی ج ن گ کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائیں۔
قلعے کے اندر کا منظر شدید اضطراب اور بے یقینی کا شکار تھا۔ شاہ جہاں، جو کبھی اپنے ایک اشارے پر دریاؤں کے رخ موڑنے کی طاقت رکھتا تھا، آج اپنے ہی درباریوں اور مشیروں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ایک بند گلی میں پھنس چکا تھا۔ جب پانی کی فراہمی میں تعطل آیا تو قلعے کے اندر موجود ہزاروں جانوں، کنیزوں اور محافظوں کے لیے ایک کٹھن آزمائش کھڑی ہو گئی۔ شاہ جہاں نے اسی کرب اور غصے کی حالت میں اورنگزیب کو ایک انتہائی جذباتی خط لکھا، جس میں ایک باپ کی حیثیت سے اپنی محبت اور اپنے رتبے کا حوالہ دیا۔ مگر اورنگزیب کا جواب کسی نافرمان بیٹے کا جواب نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے عادل، شریعت کے پابند اور دور اندیش حکمران کا جواب تھا جو بیت المال کو اللہ کی امانت سمجھتا تھا۔ اورنگزیب نے انتہائی ادب، احترام اور عاجزی کے ساتھ اپنے باپ کو لکھا کہ "ابا جان! یہ سلطنت اور اس کا خزانہ ہماری ذاتی جاگیر نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ وہ امانت ہے جس کا استعمال صرف اور صرف رعایا کی فلاح اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہونا چاہیے۔ آپ کی دارا شکوہ سے محبت نے اس سلطنت کے امن کو تباہ کر دیا ہے، اور میں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس خزانے کو مزید مسلمانوں کا خ و ن بہانے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔" یہ خط شاہ جہاں کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا، مگر اس نے تاریخ کے ایک نئے اور تلخ باب کو کھول دیا تھا۔ شاہ جہاں کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اس کا بیٹا اورنگزیب محض تخت کا بھوکا نہیں، بلکہ وہ ان اصولوں اور شریعت کا پابند ہے جنہیں دربار کے رنگین ماحول میں بہت پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔ بالآخر، کسی مزید خ و ن ر ی ز ی اور ج ن گ سے بچنے کے لیے، اور ہزاروں بے گناہ جانوں کی حفاظت کی خاطر، شاہ جہاں نے آگرہ کے قلعے کے دروازے کھولنے کا حتمی حکم دے دیا۔
جیسے ہی قلعے کے بھاری اور تاریخی دروازے کھلے، اورنگزیب نے خود اندر جانے اور ایک فاتح کی طرح سینہ تان کر چلنے کی بجائے، انتہائی انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے جواں سال بیٹے، شہزادہ محمد سلطان کو قلعے کا انتظام سنبھالنے کے لیے بھیجا۔ شہزادہ سلطان کو سخت اور واضح احکامات تھے کہ قلعے کے اندر موجود کسی بھی شخص، کنیز، یا درباری کی نہ تو کوئی توہین کی جائے، نہ کسی پر ت ل و ا ر اٹھائی جائے، اور نہ ہی کسی قسم کی لوٹ مار ہو۔ یہ ایک خالص اسلامی اور پرامن انتقالِ اقتدار کی وہ روشن مثال تھی جسے بعد میں آنے والے حاسد مورخین نے سیاہ کر کے پیش کیا۔ شاہ جہاں کو کسی تاریک یا تنگ ق ی د خانے میں نہیں ڈالا گیا، بلکہ انہیں قلعے کے سب سے خوبصورت، پرتعیش اور ہوادار حصے، مسمّن برج میں انتہائی عزت و احترام کے ساتھ منتقل کیا گیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے دریائے جمنا اور تاج محل کا نظارہ بالکل صاف اور دلفریب نظر آتا تھا۔ اورنگزیب نے اپنے باپ کی خدمت، آرام اور ضروریات کا ہر ممکن اور اعلیٰ ترین بندوبست کیا۔ ان کی پسندیدہ کنیزیں، شاہی باورچی اور خادم ان کے پاس موجود رہے۔ سب سے بڑھ کر، سلطنت کی سب سے معزز اور باوقار شہزادی، جہاں آرا بیگم، نے اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے باپ کی خدمت کے لیے وہیں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اورنگزیب نے اپنی بہن کے اس فیصلے کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے تمام اخراجات شاہی خزانے سے باقاعدگی کے ساتھ ادا کیے جاتے رہے۔ شاہ جہاں کے پاس اب سیاسی اختیارات ضرور ختم ہو چکے تھے، اور وہ کسی ف و ج کی کمان نہیں کر سکتے تھے، مگر ایک باپ اور سلطنت کے سابق شہنشاہ کی حیثیت سے ان کا وقار اور احترام اورنگزیب کے دل میں ہمیشہ قائم رہا۔
ادھر آگرہ کے باہر، جب اقتدار مکمل طور پر اورنگزیب کے ہاتھ میں آ گیا، تو اس نے کسی شاندار اور فضول جشن کا انعقاد نہیں کیا، بلکہ سب سے پہلے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔ اس نے دیکھا کہ پچھلے کئی سالوں میں شاہ جہاں کے عظیم الشان تعمیراتی منصوبوں، تاج محل کی تعمیر اور دربار کی بے پناہ فضول خرچیوں نے شاہی خزانے کو مکمل طور پر نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عوام بھوک سے بے حال تھے اور کسانوں پر ٹیکسوں کا انتہائی ظالمانہ بوجھ ڈال دیا گیا تھا۔ اورنگزیب نے تخت پر بیٹھتے ہی 'ابوالظفر محی الدین محمد عالمگیر' کا لقب اختیار کیا، اور یہ لقب اس کے ارادوں کا بالکل سچا عکاس تھا۔ اس نے سب سے پہلا شاہی فرمان یہ جاری کیا کہ سلطنت کے غریب عوام پر لگے ہوئے تمام غیر شرعی ٹیکس، راہداری کے محصولات اور ظالمانہ 'ابواب' فوری طور پر اور یکمشت معاف کر دیے جائیں۔ اس نے دربار سے موسیقی، رقص، اور عیاشی کی ان تمام محفلوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کے مزاج کے بالکل خلاف تھیں۔ سلطان عالمگیر نے اپنے اوپر شاہی خزانے کا استعمال حرام قرار دے دیا۔ وہ رات کے اندھیرے میں جاگ کر قرآن مجید کی کتابت کرتا اور اپنے ہاتھوں سے سادی ٹوپیاں سیتا، اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی معمولی رقم سے اپنا ذاتی خرچ چلاتا۔ یہ تاریخ کا وہ واحد اور عظیم ترین شہنشاہ تھا جس نے ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کی، مگر اس کا اپنا لباس انتہائی سادہ اور اس کی خوراک ایک غریب درویش جیسی تھی۔ اس کا دربار عدل و انصاف کا وہ روشن مینار بن گیا جہاں ایک عام کسان بھی بغیر کسی خوف کے بڑے سے بڑے منصب دار کے خلاف قاضی کی عدالت میں کھڑا ہو سکتا تھا۔ سلطان نے شریعت کے نفاذ کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا لیا اور یہ ثابت کر دیا کہ اس نے تخت پر قبضہ کسی ذاتی ہوس کے لیے نہیں، بلکہ ہندوستان کو ایک سچی، کھرے اور عدل پر مبنی اسلامی ریاست بنانے کے لیے کیا تھا۔
مسمّن برج کی پرسکون اور تنہا فضاؤں میں رہتے ہوئے، سلطان شاہ جہاں کے دل سے بھی آہستہ آہستہ تخت چھن جانے کا وہ دکھ اور صدمہ کم ہونے لگا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، شاہ جہاں پر یہ حقیقت کھلنے لگی کہ دارا شکوہ کے وہ الحادی نظریات جنہیں وہ اپنی محبت میں نظر انداز کر رہے تھے، دراصل اسلام کے لیے کتنے مہلک تھے۔ شاہ جہاں نے اپنی زندگی کے یہ آخری سال انتہائی سکون، روحانیت اور اللہ کی یاد میں گزارنا شروع کر دیے۔ وہ دن رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے، نوافل ادا کرتے اور جھروکے میں بیٹھ کر تاج محل کو دیکھتے رہتے۔ جہاں آرا بیگم ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتیں اور ان کے زخموں پر اپنی محبت کا مرہم رکھتیں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان اگرچہ براہ راست ملاقات نہیں ہوئی، مگر خط و کتابت کے ذریعے ایک دوسرے کے لیے احترام کا وہ رشتہ ہمیشہ قائم رہا جو ایک مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اورنگزیب نے اپنے باپ کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جو ان کی ذاتی توہین کا باعث بنے، بلکہ وہ ہر محاذ پر یہ ثابت کرتا رہا کہ اس کی ت ل و ا ر صرف اور صرف اسلام کے د ش م ن و ں اور سلطنت کے باغیوں کے خلاف ہے، نہ کہ اپنے خونی رشتوں کے خلاف۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کی تاریخ ایک نئے، سنہری اور خالص اسلامی باب میں داخل ہو رہی تھی۔ تخت کی وہ رسہ کشی جو ساموگڑھ کے میدان سے شروع ہوئی تھی، اب ایک پرامن، روحانی اور فلاحی ریاست کی بنیادوں میں تبدیل ہو چکی تھی، اور سلطان عالمگیر کی اس لازوال جدوجہد نے اس خطے میں اللہ کے دین کی ایک ایسی مضبوط فصیل کھڑی کر دی تھی جسے توڑنا اب کسی بھی س ا ز ش ی کے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ شاہ جہاں کی زندگی کے آخری ایام اسی روحانی سکون، عبادات اور ایک پرامن خلوت میں بسر ہونے لگے، جو مستقبل کی ان پانچ عظیم قسطوں کا ایک انتہائی شاندار، جذباتی اور ایمان افروز دیباچہ تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

فالو کرلیں شکریہ

سلطنت عثمانیہ کے بانی سلطان عثمان غازی نے جب ایک چھوٹی سی ترک ریاست کی بنیاد رکھی تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ سلطنت چھ...
13/08/2026

سلطنت عثمانیہ کے بانی سلطان عثمان غازی نے جب ایک چھوٹی سی ترک ریاست کی بنیاد رکھی تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ سلطنت چھ سو سال تک تین براعظموں پر حکومت کرے گی۔ ان کی کامیابی کا راز ان کا یہ اصول تھا کہ تلوار صرف اور صرف انصاف کے قیام کے لیے اٹھائی جانی چاہیے۔ انہوں نے اپنی وصیت میں اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ ظالموں کے خلاف اس وقت تک لڑتے رہنا جب تک دنیا میں مکمل انصاف قائم نہ ہو جائے۔ ان کا یہ نظریہ آج بھی سچے حکمرانوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔

دہلی اور آگرہ کے شاہی محلات میں ستمبر سولہ سو ستاون کی ایک حبس زدہ، تاریک اور بوجھل رات کسی قیامت خیز طوفان کا پیش خیمہ ...
09/08/2026

دہلی اور آگرہ کے شاہی محلات میں ستمبر سولہ سو ستاون کی ایک حبس زدہ، تاریک اور بوجھل رات کسی قیامت خیز طوفان کا پیش خیمہ بن کر اتری تھی۔ وہ عظیم الشان شہنشاہ، جس کے جاہ و جلال، رعب اور ہیبت سے ہندوستان کے طول و عرض کانپتے تھے، اور جس کی ایک بھنویں تننے سے سرکش سرداروں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے، آج اپنے ہی پرتعیش بسترِ مرگ پر انتہائی بے بس، ناتواں اور درد سے کراہتا ہوا پڑا تھا۔ شاہ جہاں اچانک ایک ایسی شدید اور پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا تھا جس نے محض چند ہی دنوں میں اس کی تمام تر جسمانی طاقت نچوڑ لی تھی اور پوری مغل سلطنت کی بنیادوں کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دیوانِ خاص کے پررونق دربار سے لے کر محل سرا اور حرم کی تاریک راہداریوں تک ایک خوفناک، دم گھٹ دینے والی اور پراسرار خاموشی طاری تھی۔ شہنشاہ کا سب سے چہیتا بیٹا اور ولی عہد، شہزادہ دارا شکوہ، جو تختِ طاؤس کا سب سے بڑا اور مضبوط دعویدار تھا، اس نے اپنی حد سے بڑھی ہوئی گھبراہٹ، بدحواسی اور تخت چھن جانے کے خوف کے عالم میں قلعے کے تمام بڑے دروازے اور خفیہ راستے مکمل طور پر بند کروا دیے تھے۔ کسی بھی قاصد، وزیر، امیر یا دربان کو شہنشاہ کے مخصوص کمرے کے قریب پھٹکنے کی بھی قطعی اجازت نہیں تھی۔ دارا شکوہ کی اس شدید گھبراہٹ اور پراسراریت نے پورے ہندوستان میں یہ بھیانک افواہ آگ کی طرح پھیلا دی کہ عظیم الشان مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی م و ت واقع ہو چکی ہے، اور دارا اب محض تخت پر قبضہ مکمل کرنے کے لیے اس ہولناک خبر کو دنیا سے چھپا رہا ہے۔ یہ محض کوئی معمولی افواہ نہیں تھی، بلکہ یہ دراصل اس بارودی سرنگ کا کام کر رہی تھی جس نے تیموری تخت کو ایک خوفناک، طویل اور بے رحم ج ن گ کی آگ میں جھونک دینا تھا۔ ہر طرف دربار میں اور صوبوں میں س ا ز ش و ں کے خونی جال بچھائے جانے لگے، اور سلطنت کے کونے کونے میں چھپے ہوئے د ش م ن اور طالع آزما اپنے خ ن ج ر تیز کرنے لگے۔ شاہ جہاں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک عظیم الشان سلطنت کو مستحکم کرنے اور تاج محل جیسی محبت کی لازوال نشانی کی تعمیر میں گزار دیا تھا، مگر وہ اب یہ بھول گیا تھا کہ جس تخت کو اس نے خود اپنے بھائیوں اور خونی رشتہ داروں کے ق ت ل کی بنیاد پر حاصل کیا تھا، وہی تاریخ اب اس کے اپنے ہی سگے بیٹوں کے درمیان دہرائی جانے والی ہے۔ آگرہ کے آسمان پر اڑنے والے سیاہ اور منحوس پرندے جیسے یہ اعلان کر رہے تھے کہ اب اس سلطنت میں کوئی رشتہ، کوئی محبت اور کوئی لحاظ باقی نہیں رہے گا، اور ہندوستان کی مٹی ایک بار پھر شاہی خ و ن سے پوری طرح سیراب ہونے والی ہے۔
جب شہنشاہ شاہ جہاں کی مبینہ م و ت کی یہ سنسنی خیز خبر سلطنت کے چاروں صوبوں تک بجلی کی تیزی سے پہنچی تو ایک ایسا ہولناک بھونچال آیا جس نے مغل سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔ بنگال کے مرطوب، گھنے اور دور دراز جنگلوں میں شہزادہ شجاع نے، جو ایک انتہائی عیاش مگر انتہا درجے کا بہادر جنگجو تھا، فوری طور پر اپنے سر پر شاہی تاج رکھ لیا اور اپنے نام کے سکے ڈھلوا کر خطبہ بھی پڑھوا دیا۔ گجرات کے ساحلوں پر شہزادہ مراد نے، جو عقل اور دور اندیشی سے مکمل طور پر پیدل مگر بازوؤں کی طاقت میں ایک بپھرے ہوئے شیر جیسا تھا، کھلم کھلا ب غ ا و ت کا علم بلند کر دیا اور خود کو بلا شرکتِ غیرے ہندوستان کا شہنشاہ قرار دے دیا۔ مگر ان سب سے بہت دور، دکن کے کٹھن، پتھریلے اور گرم میدانوں میں، شاہ جہاں کا تیسرا اور سب سے خطرناک بیٹا، اورنگزیب، ایک مکار لومڑی اور گھات لگائے باز کی طرح خاموشی سے اس ساری بساط کو بغور دیکھ رہا تھا۔ اورنگزیب ان تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ زیرک، بہترین اور تجربہ کار سپہ سالار اور سیاست کی شطرنج کا بے تاج بادشاہ تھا۔ وہ دارا شکوہ کی طرح آگرہ کے محلات کی نرم و نازک فضاؤں اور عطر بیز راہداریوں میں نہیں پلا تھا، بلکہ اس نے اپنی جوانی دکن کی طویل خونریز مہمات، خیموں کی اڑتی خاک اور ت ل و ا ر و ں کے چمکتے سائے میں گزاری تھی۔ اورنگزیب کے سینے میں ایک طویل عرصے سے دارا شکوہ کے خلاف شدید حسد، نفرت اور ا ن ت ق ا م کی ایک ایسی آگ سلگ رہی تھی جسے بجھانا اب کسی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شاہ جہاں نے ہمیشہ دارا کو سر آنکھوں پر بٹھایا، اسے تمام تر جنگی مہمات اور سخت سیاسی تجربات سے دور رکھ کر صرف دربار کا ایک نمائشی شہزادہ بنا دیا تھا، مگر پھر بھی تیموری تخت کا حتمی وارث اسی کو مقرر کیا۔ اورنگزیب نے اپنے جذبات کو کبھی اپنے چہرے کی سختی پر ظاہر نہیں ہونے دیا، اس نے کمال ہوشیاری، سفارت کاری اور مکر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہزادہ مراد کو خفیہ خطوط لکھے اور اسے بڑے یقین سے دلایا کہ وہ تو ایک درویش صفت اور فقیر انسان ہے جسے تختِ طاؤس کی کوئی ہوس نہیں، وہ تو صرف دارا شکوہ جیسے 'ملحد' کو تخت سے ہٹا کر مراد کو اس کا جائز حق دلا کر خود مکہ معظمہ روانہ ہونا چاہتا ہے۔ مراد اپنی سادگی اور حماقت میں اس خوبصورت جال میں پوری طرح پھنس گیا اور پھر دونوں بھائیوں کی مشترکہ افواج نے مل کر دکن سے شمال کی طرف ایک ایسا ہولناک، تیز رفتار اور سفاک مارچ شروع کیا جس کی دھمک نے بیمار شاہ جہاں کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔
ادھر دارا شکوہ، جو آگرہ کے قلعے میں بیٹھا اپنے باپ کی جان بچانے اور اپنے تخت کو محفوظ رکھنے کی تمام تر ناکام کوششیں کر رہا تھا، اسے جب اپنے بھائیوں کی اس کھلی ب غ ا و ت اور خوفناک پیش قدمی کی حتمی خبر ملی تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور اس کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔ دارا ایک بہترین عالم، صوفی اور اعلیٰ پائے کا مصنف ضرور تھا، مگر وہ میدانِ ج ن گ کا ایک منجھا ہوا اور بے رحم کھلاڑی قطعی نہیں تھا۔ اس نے بے شمار مذہبی اور فلسفیانہ کتابیں لکھی تھیں، مگر اس کے نرم ہاتھوں نے کبھی کسی خونریز ج ن گ میں ت ل و ا ر کا وہ کٹھن اور اعصاب شکن وزن نہیں سہا تھا جو اورنگزیب اور مراد کے فولادی بازوؤں کی پرانی عادت بن چکا تھا۔ شاہ جہاں کی حالت اگرچہ اب قدرے بہتر ہو رہی تھی، اور وہ موت کے منہ سے واپس آ رہا تھا، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ باپ نے اپنے سرکش بیٹوں کو قاصد بھیجے، واسطے دیے، قرآن کی قسمیں دیں اور شاہی حکم صادر کیے کہ وہ واپس اپنے صوبوں میں لوٹ جائیں، شہنشاہ زندہ ہے، مگر تخت کی ہوس اور خون کی پیاس نے انہیں مکمل طور پر اندھا کر دیا تھا۔ اقتدار کا نشہ اور تخت کی چمک ایک ایسا میٹھا ز ہ ر ہے جس کا کوئی تریاق آج تک ایجاد نہیں ہوا، اور یہ ز ہ ر اب تیموری شہزادوں کی رگوں میں پوری طرح دوڑ رہا تھا۔ دارا نے اپنی گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے راجہ جسونت سنگھ اور قاسم خان کی قیادت میں ایک بہت بڑی شاہی ف و ج اورنگزیب اور مراد کا راستہ روکنے کے لیے اجین کے قریب دھرمت کے مقام پر روانہ کی۔ یہ مغل تاریخ کا وہ انتہائی المناک لمحہ تھا جب سلطنت کی اپنی ہی ف و ج دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خ و ن بہانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ اپریل سولہ سو اٹھاون کی اس تپتی ہوئی اور گرد آلود صبح جب دھرمت کے میدان میں ان افواج کا آمنا سامنا ہوا، تو ایک ایسا وحشت ناک ح م ل ہ اور خونی تصادم ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اورنگزیب کی شاندار جنگی حکمت عملی، اس کے توپ خانے کی زبردست گولہ باری اور اس کی مصلح افواج کے بے جگری سے لڑنے کے انداز نے شاہی ف و ج کے پرخچے اڑا دیے۔ راجہ جسونت سنگھ شدید زخمی حالت میں میدانِ کارزار چھوڑ کر اپنی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوا، اور ہزاروں شاہی سپاہیوں کی تڑپتی ہوئی لاشوں پر اورنگزیب کے عربی گھوڑوں نے اپنے سموں سے فتح کی وحشت ناک مہر ثبت کر دی۔ دھرمت کی اس ہولناک اور شرمناک شکست کی خبر جب آگرہ میں بیمار شاہ جہاں تک پہنچی تو اس کے بچے کھچے اعصاب بھی مکمل طور پر ٹوٹ گئے، اسے اپنے سامنے اپنا ہی بچھایا ہوا وہ پرانا خونی کھیل بالکل واضح نظر آنے لگا جو اس نے تخت نشین ہونے سے پہلے اپنے بھائیوں کے خلاف کھیلا تھا۔ مکافاتِ عمل کا پہیہ اب پوری رفتار سے گھوم رہا تھا۔
دھرمت کی اس شاندار فتح نے اورنگزیب کے حوصلے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیے تھے، اور اب دارا شکوہ کو یہ بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر اس نے خود میدانِ کارزار میں اتر کر اورنگزیب کے اس طوفان کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کیا، تو اس کی م و ت اب بالکل یقینی ہے۔ دارا نے آگرہ کے قلعے میں ایک لاکھ سے زائد سپاہیوں پر مشتمل ایک عظیم الشان، زرق برق، رنگ برنگی اور بے پناہ خزانوں سے لدی ہوئی ف و ج تیار کی۔ شاہ جہاں نے، جو بے بسی سے بستر پر پڑا اپنے بیٹوں کے اس خونی تصادم کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا تھا، دارا کو سختی سے منع کیا اور اسے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی کہ وہ اورنگزیب جیسے ماہر اور بے رحم جنگجو کا سیدھا مقابلہ قطعی نہیں کر سکتا، اور اسے صلح کی یا قلعہ بند ہونے کی راہ اپنانی چاہیے۔ مگر دارا، جس کی قسمت پر اب م و ت اور تخت سے محرومی کے سائے انتہائی گہرے ہو چکے تھے، اس نے کسی کی ایک نہ سنی۔ ساموگڑھ کا وسیع و عریض میدان، جو آگرہ کے قلعے سے محض چند کوس کے فاصلے پر تھا، مئی سولہ سو اٹھاون کی اس تپتی ہوئی دوپہر کو ایک خوفناک اور لرزہ خیز قیامت کا منظر پیش کر رہا تھا۔ یہ ج ن گ صرف دو فوجوں کا تصادم نہیں تھی، بلکہ یہ دو مختلف سوچوں، دو سگے بھائیوں کی ازلی نفرت اور ہندوستان کے تختِ طاؤس کی قسمت کا حتمی، اٹل اور خونی فیصلہ تھی۔ دارا شکوہ ایک انتہائی خوبصورت سجے دھجے ہاتھی پر سوار، اپنی ف و ج کے قلب میں موجود تھا، جبکہ دوسری طرف اورنگزیب اور مراد اپنے آزمودہ کار، تجربہ کار، دھوپ میں جلے ہوئے اور سخت جان جنگجوؤں کے ساتھ ایک فولادی دیوار کی طرح کھڑے تھے۔ جب طبلِ ج ن گ بجا، تو زمین کانپ اٹھی۔ توپوں کی مسلسل گرج، ہاتھیوں کی خوفناک چنگھاڑ اور ت ل و ا ر و ں کی شعلہ فشاں جھنکار نے آسمان کے کان پھاڑ دیے۔ دارا کی ف و ج تعداد اور وسائل میں بہت زیادہ تھی، مگر اس میں کوئی عسکری تنظیم، کوئی مربوط جنگی حکمت عملی اور مر مٹنے کا جذبہ قطعی نہیں تھا۔ دوسری طرف اورنگزیب نے انتہائی سفاکی، سرد مہری اور بے مثال عسکری مہارت سے اپنے توپ خانے کو حرکت دی، اور پھر ایک ایسا زبردست، اچانک اور تباہ کن ح م ل ہ کیا جس نے دارا کی ف و ج کے اگلے دستوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ ہر طرف کٹے ہوئے سر، بکھرے ہوئے اعضا اور خ و ن کے چشمے ابل رہے تھے۔
ساموگڑھ کی وہ خ و ن ر ی ز ی اور اڑتی ہوئی دھول اس قدر شدید تھی کہ میدان میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ موت اپنے پورے جوبن پر رقص کر رہی تھی۔ اسی دوران، میدانِ کارزار کے عین وسط میں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ دارا کا ہاتھی، جو مسلسل گولہ باری اور تیروں کی شدید بارش سے زخمی اور بری طرح بدحواس ہو چکا تھا، میدان میں بے قابو ہونے لگا۔ کسی بے وقوف مشیر کے مشورے پر، یا اپنی انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں، دارا شکوہ نے اپنے ہاتھی کے ہوّدے سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہونے کی وہ مہلک، تاریک اور احمقانہ غلطی کر دی جس نے اسے تختِ طاؤس سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا۔ جب اس کی ف و ج نے دور سے شہزادے کی خالی عماری (ہاتھی کا ہوّدہ) دیکھی، تو پوری ف و ج میں سیکنڈوں کے اندر یہ افواہ پھیل گئی کہ دارا شکوہ د ش م ن کے ہاتھوں ق ت ل ہو گیا ہے۔ ایک لمحے کے اندر، ایک جیتی ہوئی ج ن گ بدترین اور شرمناک شکست میں بدل گئی۔ دارا کی لاکھوں کی ف و ج میں شدید بھگدڑ مچ گئی، بڑے بڑے منصب دار اور سپاہی اپنی جانیں بچانے کے لیے ہتھیار پھینک کر میدان سے پاگلوں کی طرح بھاگنے لگے۔ شہزادہ مراد، جس کے چہرے پر تیروں کے گہرے زخم تھے اور جو اپنے ہی خ و ن میں نہایا ہوا تھا، وہ بھی ب غ ا و ت کے اس نشے میں دیوانہ وار لڑتا رہا۔ اورنگزیب، جو اپنے ہاتھی پر ایک چٹان کی طرح مضبوطی سے بیٹھا رہا تھا، اس نے اپنے سرد اور فاتحانہ چہرے کے ساتھ فتح کا نقارہ بجا دیا۔ دارا شکوہ، جو کچھ گھنٹے پہلے تک ہندوستان کا مستقبل کا شہنشاہ تصور کیا جاتا تھا، اب ایک بھگوڑے، لٹے ہوئے اور شکست خوردہ انسان کی طرح، مٹی اور پسینے میں لت پت، اپنے چند قریبی اور بچے کھچے ساتھیوں کے ساتھ آگرہ کی طرف فرار ہو رہا تھا۔ جب وہ رات کی تاریکی میں آگرہ کے قلعے میں داخل ہوا، تو اس کی آنکھوں میں بے پناہ شرمندگی، خوف اور ایک بھیانک مستقبل کی جھلک تھی۔ وہ اپنے بوڑھے اور بیمار باپ کا سامنا کرنے کی ہمت بھی کھو چکا تھا اور محل کے پچھلے دروازے سے دہلی اور پھر وہاں سے پنجاب کی طرف فرار ہو گیا۔ اس بھاگتے ہوئے شہزادے کی قسمت میں اب صرف ذلت، دربدر کی ٹھوکریں اور ایک انتہائی ظالمانہ اور عبرتناک ق ت ل لکھا جا چکا تھا۔ اورنگزیب کی اس زبردست فتح نے آگرہ کے قلعے پر ایک ایسی تاریک، پراسرار اور خوفناک خاموشی طاری کر دی تھی جس نے شہنشاہ شاہ جہاں کو یہ باور کرا دیا کہ اس کے بنائے ہوئے اس سنہری اور شاندار دور کا اب نہایت ہی بھیانک، تاریک اور خونی انجام ہونے والا ہے۔ وہ شہنشاہ جس نے محبت کے نام پر دنیا کا سب سے حسین تاج محل تعمیر کیا تھا، اب اپنے ہی بنائے ہوئے قلعے میں، اپنے ہی سگے بیٹے کے ہاتھوں، ہمیشہ کے لیے قید ہونے والا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

سب نئے آنے والے پیج کو فالو کرلیں شکریہ

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Risen Graphics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Risen Graphics:

Shortcuts

Share