Risen Graphics

Website Contact the business

Risen Graphics "Uncover the past with me! This page is dedicated to exploring history, culture, and forgotten stories through engaging videos and posts."

I am a creative and skilled professional graphic designer with a passion for visual storytelling. With extensive experience in the field, I excel in crafting innovative designs that captivate audiences. My expertise spans from conceptualization to execution, ensuring effective communication through stunning visuals. I stay updated with industry trends, ensuring my designs are fresh and contemporary. My goal is to deliver exceptional designs that exceed client expectations.

12/09/2026

اسلام وعلیکم
میرے والد محترم کی صحت ٹھیک نہیں
سب دعا کریں اللہ پاک جلد مکمل شفا عطا فرمائے آمین

Episode 4راجپوتانہ کے تپتے ہوئے، وسیع اور بے رحم ریگستانوں پر دسمبر سولہ سو اٹھتر کی وہ تاریک رات کسی ہولناک اور قیامت خ...
07/09/2026

Episode 4
راجپوتانہ کے تپتے ہوئے، وسیع اور بے رحم ریگستانوں پر دسمبر سولہ سو اٹھتر کی وہ تاریک رات کسی ہولناک اور قیامت خیز طوفان کا پیش خیمہ بن کر اتری تھی۔ مارواڑ کی ریتلی آندھیوں میں ایک عجیب سی وحشت، بے چینی اور پراسرار خاموشی طاری تھی، جیسے یہ خاموش ٹیلے کسی بہت بڑی خ و ن ر ی ز ی کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہوں۔ ہزاروں میل دور، سلطنت کی شمال مغربی سرحد، جمرود کے سرد اور برفیلے پہاڑوں میں، مغل سلطنت کے ایک انتہائی طاقتور، بااثر اور مایہ ناز راجپوت سپہ سالار، مہاراجہ جسونت سنگھ کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ جسونت سنگھ کی م و ت کوئی معمولی واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا ہولناک سیاسی زلزلہ تھا جس نے دہلی سے لے کر جودھپور تک مغل سلطنت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مہاراجہ اپنے پیچھے کوئی زندہ نرینہ وارث نہیں چھوڑ گیا تھا، اور راجپوتانہ کی روایات کے مطابق بغیر وارث کے کسی ریاست کا مستقبل انتہائی تاریک اور پرخطر ہو جاتا ہے۔ دربارِ عالیہ دہلی میں جب یہ دل دہلا دینے والی خبر پہنچی تو درویش سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ، جن کی عقاب جیسی تیز نگاہیں سلطنت کے ہر گوشے پر مرکوز رہتی تھیں، انہوں نے کمال مدبرانہ بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارواڑ کے انتظامی امور کو عارضی طور پر خالصہ (مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام) کر لیا۔
سلطان عالمگیر بخوبی جانتے تھے کہ وارث نہ ہونے کی صورت میں راجپوت سردار تخت کے لیے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ دیں گے اور اس ف س ا د کی آگ پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ مگر اقتدار کی ہوس اور بغض انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ جودھپور کے کچھ سرکش اور سازشی سردار، جن کی قیادت درگاداس راٹھور نامی ایک انتہائی مکار، ضدی اور جنگجو سردار کر رہا تھا، انہوں نے سلطان کے اس ہمدردانہ اور ریاستی فیصلے کو اپنی توہین اور مذہب پر ح م ل ہ قرار دے کر ایک ایسی ہولناک اور طویل ب غ ا و ت کا خونی جال بننا شروع کر دیا جس نے آنے والے کئی سالوں تک راجپوتانہ کے ریگستانوں کو انسانی خ و ن سے سرخ رکھنا تھا۔
کچھ عرصے بعد، جب جسونت سنگھ کی بیواؤں کے ہاں دو بیٹوں کی پیدائش کی خبر آئی، تو درگاداس راٹھور نے فوراً ان نوزائیدہ بچوں کو اپنے سیاسی مقاصد اور ب غ ا و ت کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنے کا شیطانی منصوبہ بنایا۔ سلطان عالمگیر نے انتہائی فراخدلی، ریاستی شفقت اور انصاف پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ان بچوں، بالخصوص اجیت سنگھ، کو شاہی دربار دہلی لایا جائے، جہاں انہیں مکمل شاہانہ وقار، اعلیٰ تعلیم اور بہترین تربیت فراہم کی جائے گی، اور جوان ہونے پر انہیں مارواڑ کا جائز تخت اور منصب عطا کر دیا جائے گا۔ یہ ایک انتہائی معقول، منصفانہ اور مخلصانہ پیشکش تھی جو مغل سلطنت کی روایات کے عین مطابق تھی، تاکہ ان بچوں کو راجپوتانہ کی اندرونی س ا ز ش و ں اور ق ت ل کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مگر درگاداس راٹھور کے سینے میں تو مغلوں کے خلاف نفرت اور ب غ ا و ت کا وہ الاؤ سلگ رہا تھا جو کسی بھی انصاف یا منطق کو تسلیم کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے دہلی کے محلات میں ایک انتہائی خطرناک، غلیظ اور پرفریب ڈرامہ رچایا۔ رات کے اس گہرے اندھیرے میں جب دہلی کی پہرے داری کسی قدر نرم تھی، درگاداس اپنے وفاداروں کے ساتھ، شاہی محافظوں کو دھوکہ دے کر اور کچھ بے گناہوں کو ق ت ل کر کے، اجیت سنگھ کو لے کر راجپوتانہ کی طرف فرار ہو گیا۔ یہ فرار محض ایک شہزادے کا فرار نہیں تھا، بلکہ یہ مغل سلطنت کے خلاف ایک کھلے اور اعصاب شکن جہاد کا اعلان تھا۔ درگاداس نے جودھپور پہنچ کر مارواڑ کے تمام راجپوتوں کو مغلوں کے خلاف بھڑکایا اور انہیں یہ جھوٹا یقین دلایا کہ سلطان عالمگیر ان کے مذہب اور ان کی ریاست کا د ش م ن ہے۔ اس نے آگ میں مزید گھی ڈالنے کے لیے میواڑ کے طاقتور رانا راج سنگھ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ یوں مارواڑ اور میواڑ، جو کبھی ایک دوسرے کے حریف ہوا کرتے تھے، سلطان عالمگیر کی اس عظیم الشان اور شریعت پر مبنی اسلامی سلطنت کو گرانے کے لیے ایک مشترکہ، خونخوار اور سفاک محاذ پر اکٹھے ہو گئے۔ راجپوتانہ کے وسیع میدانوں میں ایک بار پھر نقارے بجنے لگے، اور معصوم مسلمانوں، شاہی کاروانوں اور پرامن شہریوں پر سفاکانہ ح م ل ے شروع ہو گئے جس میں بچوں اور عورتوں تک کا ناحق خ و ن بہایا جانے لگا۔
جب اس ہولناک ب غ ا و ت، معصوم شہریوں کے ق ت لِ عام اور راجپوتوں کے اس ناپاک گٹھ جوڑ کی خبریں دہلی کے دیوانِ عدالت میں پہنچیں تو درویش سلطان عالمگیر کے پرجلال چہرے پر غضب کی ایک گہری لہر دوڑ گئی۔ سلطان جو راتوں کو مصلے پر بیٹھ کر رعایا کی فلاح کے لیے آنسو بہاتا تھا، اب اسے اسلام کے دفاع اور ریاست کے باغیوں کو کچلنے کے لیے اپنی فولادی ت ل و ا ر کو دوبارہ میان سے نکالنا پڑا تھا۔ سلطان نے اپنی عظیم الشان، انتہائی مصلح اور شیر دل ف و ج کے ہمراہ خود اجمیر کی طرف کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مغل افواج کا یہ سیلاب جب اجمیر کے پہاڑوں میں داخل ہوا تو راجپوتوں کی صفوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی، مگر راجپوت سردار بھی اپنی چٹانوں اور گھاٹیوں میں چھپ کر ایک ایسی طویل، گوریلا اور تھکا دینے والی ج ن گ لڑ رہے تھے جس نے مغل سپاہیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ مہینوں تک ان تاریک گھاٹیوں اور ریگستانوں میں چھاپہ مار ح م ل ے، خ و ن ر ی ز ی اور م و ت کا وہ خوفناک رقص جاری رہا جس نے دونوں اطراف کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ جب راجپوتوں، بالخصوص درگاداس اور رانا راج سنگھ کو یہ ادراک ہو گیا کہ وہ کھلے میدان میں یا عسکری طاقت کے زور پر اس درویش اور آہنی اعصاب والے سلطان کو کبھی شکست نہیں دے سکتے، تو انہوں نے ایک ایسی غلیظ، مکروہ اور دل چیر دینے والی س ا ز ش تیار کی جس نے تاریخ کے صفحات پر غداری اور بے وفائی کی ایک نئی اور انتہائی تاریک مثال رقم کر دی۔ انہوں نے مغل خیموں میں چھپے ہوئے اپنے غ د ا ر جاسوسوں کے ذریعے سلطان عالمگیر کے سب سے چہیتے اور جواں سال بیٹے، شہزادہ محمد اکبر، کے ذہن میں اقتدار کا وہ میٹھا ز ہ ر گھولنا شروع کر دیا جس نے تخت کی ہوس میں انسان کو اندھا بنا دیتا ہے۔ راجپوتوں نے شہزادہ اکبر کو یہ طعنہ دیا اور جھوٹا یقین دلایا کہ اس کا باپ، عالمگیر، ایک قدامت پسند اور سخت گیر حکمران ہے جس نے شریعت نافذ کر کے سلطنت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، اور اگر اکبر ان کا ساتھ دے کر اپنے باپ کے خلاف کھلی ب غ ا و ت کر دے، تو راجپوتوں کی پوری ف و ج اسے ہندوستان کا شہنشاہ تسلیم کر لے گی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب تقدیر ایک درویش باپ کا سب سے کٹھن، رلا دینے والا اور کرب ناک امتحان لے رہی تھی۔ شہزادہ اکبر، جو اپنی کم عقلی، حماقت اور تختِ طاؤس کی جھوٹی چمک کے سحر میں مکمل طور پر گرفتار ہو چکا تھا، اس نے تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھا۔ اس نے بھول گیا کہ اس کے باپ نے اسلام کی بقا کے لیے اپنے ہی سگے بھائیوں دارا اور شجاع کے خلاف کتنی کٹھن ج ن گ لڑی تھی۔ اکبر نے اپنی آنکھوں پر ہوس کی پٹی باندھی اور جنوری سولہ سو اکیاسی میں اپنے باپ کے خلاف بغاوت کا باقاعدہ اعلان کر دیا، اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا اور ستر ہزار سے زائد خونخوار راجپوت جنگجوؤں اور اپنے وفادار مغل دستوں کے ساتھ اجمیر کی طرف روانہ ہوا، جہاں سلطان عالمگیر ایک انتہائی مختصر اور معمولی ف و ج کے ساتھ خیمہ زن تھے۔ جب یہ دل پھاڑ دینے والی اور روح فرسا خبر سلطان عالمگیر کے کانوں تک پہنچی کہ ان کا اپنا سگا بیٹا ان کی گردن کاٹنے اور تخت چھیننے کے لیے د ش م ن و ں کے ساتھ مل کر آ رہا ہے، تو سلطان کے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا۔ ایک لمحے کے لیے اس عظیم، پرجلال اور ناقابلِ شکست حکمران کا دل خون کے آنسو رو پڑا۔ یہ ایک باپ کی شکست تھی، اس کے خ و ن کی غداری تھی، جس نے اس کے سینے میں ایک ایسا خ ن ج ر گھونپ دیا تھا جس کا زخم تاحیات بھرنے والا نہیں تھا۔ دربار کے تمام امرا اور مشیروں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا، کیونکہ سلطان کے پاس اس وقت اجمیر میں بمشکل چند ہزار سپاہی موجود تھے، جبکہ شہزادہ اکبر ستر ہزار کی اس بپھری ہوئی اور خ و ن کی پیاسی ف و ج کے ساتھ صرف ایک دن کی مسافت پر خیمہ زن ہو چکا تھا۔ ہر طرف م و ت کے سائے منڈلانے لگے تھے، امرا سلطان کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ اجمیر چھوڑ کر دہلی کی طرف پسپائی اختیار کر لیں یا جان بچا کر کہیں پناہ لے لیں۔ مگر وہ سلطان عالمگیر ہی کیا جو د ش م ن کی تعداد یا م و ت کے خوف سے میدان چھوڑ دے۔ اس درویش نے اپنے مصلے پر بیٹھ کر اللہ کے حضور سجدہ کیا، اپنے آنسوؤں کو صاف کیا، اور پھر اس کا وہ شاطر، بے رحم اور بے مثال عسکری دماغ بیدار ہوا جس نے دکن اور ساموگڑھ میں بڑے بڑے جغادریوں کو خاک چٹائی تھی۔
سلطان عالمگیر نے ت ل و ا ر اٹھانے اور ایک یقینی شکست کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے قلم اور اپنی بے پناہ نفسیاتی بصیرت کو اپنا سب سے مہلک ہتھیار بنایا۔ اس نے رات کے اس انتہائی تاریک اور پرسکون پہر میں ایک ایسا جعلی اور سنسنی خیز خط تحریر کیا جو بظاہر شہزادہ اکبر کے نام لکھا گیا تھا۔ اس خط میں سلطان نے انتہائی شفقت اور چالاکی سے لکھا، "شاباش میرے بہادر اور وفادار بیٹے! تو نے میرے خفیہ منصوبے کو کس کمال ہوشیاری سے عملی جامہ پہنایا ہے۔ تو نے ان بے وقوف راجپوتوں کو بے وقوف بنا کر اور ان کا جھوٹا اعتماد جیت کر انہیں میرے خیموں کے بالکل قریب لا کھڑا کیا ہے۔ کل صبح جب ہم ح م ل ہ کریں گے، تو تو اپنی ف و ج کے ساتھ ان کی پیٹھ پر وار کرنا، ہم ان سب کو ایک ہی میدان میں گھیر کر ق ت ل کر دیں گے اور راجپوتانہ کے اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے کچل دیں گے۔" خط لکھنے کے بعد، سلطان نے اپنے ایک انتہائی وفادار، جانثار اور ہوشیار جاسوس کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں یہ خط لے کر شہزادہ اکبر کے کیمپ کی طرف جائے، مگر اسے بڑی ہوشیاری اور جان بوجھ کر راجپوتوں کے پہرے داروں کے ہتھے چڑھ جانا ہے۔ جاسوس نے اس حکم کی من و عن تعمیل کی۔ جب رات کی گہری تاریکی میں درگاداس راٹھور اور دیگر راجپوت سرداروں نے اس جاسوس کو پکڑا اور اس کے پاس سے سلطان عالمگیر کا یہ خط برآمد کیا، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ خط پڑھتے ہی راجپوتوں کے دلوں میں ایک خوفناک زلزلہ آ گیا۔ وہ سلطان عالمگیر کی مکاریوں اور اس کی جنگی چالوں کے قصے پہلے ہی سن چکے تھے، انہیں فوراً یہ یقین ہو گیا کہ شہزادہ اکبر دراصل ان کے ساتھ کوئی ب غ ا و ت نہیں کر رہا، بلکہ وہ انہیں اپنے باپ کے ساتھ مل کر ایک بہت بڑے خونی جال میں پھنسا چکا ہے اور صبح ہوتے ہی ان سب کو بے دردی سے ق ت ل کر دیا جائے گا۔ درگاداس، جو خود کو بہت بڑا سازشی سمجھتا تھا، سلطان کی اس نفسیاتی چال کا بری طرح شکار ہو گیا۔
رات کے اسی پچھلے پہر، جب شہزادہ اکبر اپنے خیمے میں تختِ طاؤس پر بیٹھنے کے حسین، اور مخملی خواب دیکھ رہا تھا، راجپوت سرداروں نے انتہائی خاموشی سے اپنے خیمے اکھاڑے، اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اکبر کو بتائے بغیر، اس کی ف و ج کو وہیں چھوڑ کر، اپنی جانیں بچاتے ہوئے راجپوتانہ کے صحراؤں کی طرف فرار ہو گئے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی، سب سے خاموش اور سب سے حیرت انگیز ف ت ح تھی جو کسی بھی ت ل و ا ر، بندوق یا خ و ن کی ایک بوند بہائے بغیر صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے نے حاصل کر لی تھی۔ جب صبح صادق کی سفیدی نمودار ہوئی اور شہزادہ اکبر کی آنکھ کھلی، تو اس نے دیکھا کہ اس کے کیمپ کے چاروں طرف ایک خوفناک، ویران اور موت جیسا سناٹا چھایا ہوا ہے۔ وہ ستر ہزار راجپوت جنگجو جو کل رات اس کے سامنے گردنیں جھکائے کھڑے تھے، اب ریت کے ذروں کی طرح غائب ہو چکے تھے۔ اکبر پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا، اس کے ہوش اڑ گئے اور اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کے باپ کی عقابی نگاہوں اور اس کے پراسرار دماغ نے اس کی ب غ ا و ت کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اپنے خ و ن کے پیاسے مغل دستوں کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اکبر پر م و ت کی ہیبت طاری ہو گئی اور وہ اپنے چند گنے چنے وفاداروں کے ساتھ، انتہائی ذلت، رسوائی اور بے بسی کے عالم میں اجمیر کے میدان سے دکن کی طرف جان بچا کر بھاگا، تاکہ وہاں جا کر شیواجی کے بیٹے سنبھاجی کی پناہ لے سکے۔ ادھر اجمیر کے خیمے میں سلطان عالمگیر، فجر کی نماز کے بعد جب فاتحانہ انداز میں باہر آیا، تو اس کی آنکھوں میں ف ت ح کی چمک سے زیادہ ایک ٹوٹے ہوئے باپ کا دکھ اور اداسی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں سے ایک سرد آہ نکلی۔ اس کا اپنا خ و ن، اس کا لختِ جگر غ د ا ر بن چکا تھا۔ اکبر کے دکن کی طرف فرار ہونے کا سیدھا سا مطلب یہ تھا کہ اب سلطنت کے لیے سب سے بڑا اور ہولناک خطرہ جنوب کے ان سنگلاخ اور کالے پہاڑوں میں جمع ہو رہا ہے۔ سلطان عالمگیر کو اس دن یہ الہام ہو گیا تھا کہ اب دہلی کے لال قلعے کے وہ خوبصورت اور آرام دہ محلات اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکے ہیں۔ اسلام کے دفاع، سلطنت کی بقا اور اپنوں کی غداری کو کچلنے کے لیے اب اسے اپنی زندگی کے بقیہ پچیس سال دکن کے خاک آلود، تپتے ہوئے اور جنگ زدہ خیموں میں گزارنے ہوں گے۔ یہ اس درویش فرمانروا کی زندگی کے اس کٹھن، عظیم اور آخری جہاد کا وہ تلخ آغاز تھا جس نے اسے ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور پراسرار مجاہد بنا دینا تھا۔

ہمیں بچپن سے یہی پڑھایا گیا ہے کہ بجلی اور بیٹری جدید دور کی ایجاد ہیں، لیکن 1936 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب ک...
01/09/2026

ہمیں بچپن سے یہی پڑھایا گیا ہے کہ بجلی اور بیٹری جدید دور کی ایجاد ہیں، لیکن 1936 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب کھدائی کے دوران ایک ایسی حیرت انگیز اور پراسرار چیز ملی جس نے پوری ماڈرن سائنس کو ہلا کر رکھ دیا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایک چھوٹی سی مٹی کی کُپی (Jar) ملی جس کے اندر تانبے کا ایک سلنڈر اور لوہے کی ایک سلاخ لگی ہوئی تھی، اور اسے ڈامر (Asphalt) سے سیل کیا گیا تھا۔ جب سائنسدانوں نے اس دو ہزار سال پرانے برتن میں سرکہ اور تیزابی مائع ڈالا، تو سب کے ہوش اڑ گئے کیونکہ اس مٹی کے برتن نے فوراً 1.1 وولٹ کی بجلی پیدا کرنا شروع کر دی۔ تاریخ میں اسے 'بغداد بیٹری' (Baghdad Battery) کا نام دیا گیا۔ آج تک دنیا بھر کے سائنسدان اس بات پر شدید حیرت میں مبتلا ہیں کہ پارتھیائی دور (250 قبل مسیح) کے ان لوگوں کو بجلی پیدا کرنے اور الیکٹرو پلیٹنگ (Electroplating) کا یہ جدید ترین سائنسی علم کیسے حاصل تھا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہزاروں سال پہلے کی دنیا آج کی جدید دنیا سے بھی زیادہ ترقی یافتہ اور رازوں سے بھری ہوئی تھی؟

دہلی سے محض چند کوس کے فاصلے پر، مئی سولہ سو بہتر کی ان تپتی ہوئی اور گرد آلود دوپہروں میں نارنول کے میدانوں پر ایک ایسی...
31/08/2026

دہلی سے محض چند کوس کے فاصلے پر، مئی سولہ سو بہتر کی ان تپتی ہوئی اور گرد آلود دوپہروں میں نارنول کے میدانوں پر ایک ایسی خوفناک، پراسرار اور دہشت ناک آندھی نے جنم لیا تھا جس نے مغل سلطنت کے دارالحکومت کی فصیلوں تک کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ گرم لو کے تھپیڑوں اور اڑتی ہوئی خاک کے درمیان ایک عجیب سی وحشت پھیلی ہوئی تھی۔ یہ کسی منظم بیرونی د ش م ن کا ح م ل ہ نہیں تھا، بلکہ ایک انتہائی پراسرار اور جنونی گروہ کی ب غ ا و ت تھی جنہیں تاریخ ستنامی یا منڈیہ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ لوگ سر کے بال، بھنویں اور مونچھیں مکمل طور پر منڈوا کر رکھتے تھے اور بظاہر کھیتی باڑی کرتے تھے، مگر ان کے اندر ایک ایسی سرکشی اور شدت پسندی چھپی ہوئی تھی جو کسی بھی وقت ایک ہولناک ف س ا د کا روپ دھار سکتی تھی۔ ایک دن ایک ستنامی کسان اور ایک شاہی پیادے کے درمیان ہونے والا معمولی سا جھگڑا ایک ایسے بھیانک اور خونی طوفان میں تبدیل ہو گیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔ ستنامیوں نے اپنے زرعی اوزاروں، لاٹھیوں اور چھینی ہوئی ت ل و ا ر و ں کے ساتھ قریبی چوکیوں پر ایک ایسا اچانک اور سفاکانہ ح م ل ہ کیا کہ مغل سپاہی مکمل طور پر بدحواس ہو گئے۔ مقامی فوجدار، طاہر خان، جب اس ب غ ا و ت کو کچلنے کے لیے آگے بڑھا تو ستنامیوں کے اس بپھرے ہوئے ہجوم نے اسے اور اس کے دستوں کو بے دردی سے ق ت ل کر دیا اور ان کی ل ا ش و ں کو خاک میں روند ڈالا۔ مگر سب سے زیادہ ہولناک اور اعصاب شکن چیز ان کی تعداد یا ان کے ہتھیار نہیں تھے، بلکہ وہ پراسرار افواہیں اور کالا جادو تھا جس نے شاہی ف و ج کے دلوں میں ایک ان دیکھا، سرد اور مفلوج کر دینے والا خوف بٹھا دیا تھا۔ پورے علاقے میں یہ افواہ آگ کی طرح پھیل گئی تھی کہ ستنامیوں کی قیادت ایک ایسی بوڑھی جادوگرنی کر رہی ہے جس نے لکڑی کے ایک گھوڑے پر ایسا سفلی منتر پڑھ دیا ہے کہ اب ستنامیوں پر نہ تو کوئی تیر اثر کرتا ہے، نہ بندوق کی گولی ان کا سینہ چیر سکتی ہے اور نہ ہی مغلوں کی کوئی تیز دھار ت ل و ا ر ان کا خ و ن بہا سکتی ہے۔ اس نفسیاتی دہشت کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلطنت کے وہ بہادر سپاہی جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتے تھے، اب ایک انجانے خوف کا شکار ہو کر میدانِ ج ن گ سے قدم پیچھے ہٹانے لگے تھے۔ یہ نفسیاتی شکست کسی بھی جسمانی شکست سے زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہو رہی تھی۔
نارنول میں ہونے والی اس خ و ن ر ی ز ی اور جادو ٹونے کی ان دہشت ناک افواہوں کی گونج جب دہلی کے لال قلعے میں پہنچی، تو دربارِ عام میں ایک گہرا، بوجھل اور خوفزدہ سناٹا چھا گیا۔ بڑے بڑے منصب دار، تجربہ کار امرا اور جنگجو جرنیل بھی اندر ہی اندر خوفزدہ تھے، کیونکہ دارالحکومت کے اتنے قریب کسی بھی ب غ ا و ت کا سر اٹھانا سلطنت کے وجود کے لیے ایک براہ راست اور انتہائی سنگین خطرہ تھا۔ سب کی نظریں تختِ طاؤس پر جلوہ افروز اس عظیم اور درویش فرمانروا، سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ، پر مرکوز تھیں، جن کے چہرے پر خوف یا گھبراہٹ کا کوئی ادنیٰ سا شائبہ تک موجود نہیں تھا۔ سلطان عالمگیر، جن کا دل اللہ کی محبت اور خوفِ خدا سے لبریز تھا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ یہ کالا جادو اور یہ افواہیں محض شیطان کے وسوسے اور د ش م ن کی ایک نفسیاتی چال ہیں۔ ایک سچا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کا یہ کامل اور اٹل ایمان تھا کہ زندگی اور م و ت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور باطل کا کوئی جادو حق کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سلطان نے دربار کے خوفزدہ امرا کو انتہائی پرجلال مگر پرسکون نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا کہ جس سلطنت کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہو، وہاں توہم پرستی اور جادو ٹونے کے خوف کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ سلطان کی اس بے مثال روحانی طاقت اور مدبرانہ بصیرت کا نقطہ کمال تھا کہ انہوں نے اس ب غ ا و ت کو محض عسکری طاقت سے نہیں، بلکہ ایمانی اور نفسیاتی طاقت سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔ سلطان عالمگیر اسی وقت دربار سے اٹھ کر اپنے خاص حجرے میں تشریف لے گئے، وضو کیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے کاغذ کے پرزوں پر قرآن پاک کی آیات، بالخصوص سورۃ الفتح اور آیۃ الکرسی کی کتابت شروع کی۔ سلطان نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے ان قرآنی تعویذوں اور آیات کو شاہی ف و ج کے جھنڈوں کے ساتھ باندھنے کا حکم دیا اور جرنیل رعد انداز خان کی قیادت میں ایک تازہ دم، مصلح اور شیر دل ف و ج کو نارنول کی طرف روانہ کیا۔
جب مغل ف و ج کے سپاہیوں نے اپنے جھنڈوں پر سلطان عالمگیر کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی قرآنی آیات کو لہراتے ہوئے دیکھا، تو ان کے دلوں پر چھایا ہوا وہ تمام تر خوف، وہ جادو کی دہشت اور وہ نفسیاتی دباؤ ایک ہی لمحے میں کافور ہو گیا۔ ان کی رگوں میں دوڑنے والا مسلمان خ و ن ایک بار پھر جوش مارنے لگا اور ان کے دلوں میں شہادت کا وہ عظیم جذبہ بیدار ہو گیا جو کسی بھی باطل طاقت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ سپاہیوں کا مورال آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا، اور وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے نارنول کے اس گرد آلود میدان کی طرف بڑھے جہاں ستنامی اپنے جنون اور نام نہاد جادو کے غرور میں بدمست تھے۔ دونوں افواج کا جب آمنا سامنا ہوا تو ایک ایسا ہولناک، قیامت خیز اور سفاکانہ تصادم ہوا جس کی گونج نے آسمان کو بھی لرزا دیا۔ ستنامیوں نے اگرچہ انتہائی بے جگری، پاگل پن اور اندھے جنون کے ساتھ ح م ل ہ کیا، مگر جب مغل توپ خانے نے آگ اگلنا شروع کی اور شاہی رسالے کی ننگی ت ل و ا ر و ں نے ہوا کو چیرتے ہوئے ان کی صفوں میں شگاف ڈالے، تو ان کا سارا طلسم ٹوٹ کر بکھر گیا۔ نہ تو ان کی جادوگرنی کا کوئی منتر کام آیا اور نہ ہی لکڑی کا وہ گھوڑا انہیں م و ت کے شکنجے سے بچا سکا۔ میدانِ کارزار میں ہر طرف کٹے ہوئے سر، بکھرے ہوئے اعضا اور خ و ن کے چشمے ابل رہے تھے۔ ہزاروں ستنامی اس خ و ن ر ی ز ی میں مارے گئے اور باقی اپنی جانیں بچا کر در بدر بھٹکنے پر مجبور ہو گئے۔ سلطان عالمگیر کی اس عظیم الشان روحانی اور عسکری حکمت عملی نے ثابت کر دیا کہ ایک سچے اور باعمل مسلمان حکمران کا قلم اور اس کی دعائیں بسا اوقات ت ل و ا ر سے بھی زیادہ تیز اور فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ اس ف ت ح نے پورے ہندوستان میں یہ واضح اور دو ٹوک پیغام دے دیا کہ دہلی کے تخت پر بیٹھنے والا درویش سلطان محض مصلے کا ق ی د ی نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا بیدار مغز مجاہد ہے جو سلطنت کے امن کو تباہ کرنے والے ہر ف س ا د کا سر کچلنے کی پوری اور بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
مگر اقتدار کا تاج کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہوتا، اور سلطان عالمگیر کے مقدر میں قدرت نے سکون کے لمحات بہت کم لکھے تھے۔ نارنول کے میدانوں میں ابھی ستنامیوں کا خ و ن سوکھا بھی نہیں تھا کہ متھرا اور آگرہ کے نواح میں ایک نیا، وحشت ناک اور ہولناک طوفان سر اٹھانے لگا۔ یہ جاٹوں کی ب غ ا و ت تھی، جس کی قیادت ایک انتہائی سرکش، ظالم اور لٹیرے سردار، گوکلا جاٹ نے سنبھال رکھی تھی۔ جاٹوں نے مغل سلطنت کے خلاف ایک کھلی ج ن گ کا اعلان کرتے ہوئے شاہراہوں پر گزرنے والے پرامن تجارتی قافلوں، حجاج کرام اور عام شہریوں کو بے دردی سے لوٹنا اور ق ت ل کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کی سرکشی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے مساجد کی بے حرمتی کی، شاہی خزانے لے جانے والے دستوں پر ح م ل ے کیے اور سلطنت کی رٹ کو سرعام چیلنج کیا۔ ایک اسلامی اور فلاحی ریاست کے حکمران کے طور پر، سلطان عالمگیر پر یہ شرعی فرض عائد ہوتا تھا کہ وہ اپنی رعایا کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرے اور ان لٹیروں کو نشانِ عبرت بنا دے۔ سلطان نے جاٹوں کی اس کھلی دہشت گردی کا نوٹس لیتے ہوئے سلطنت کے ایک انتہائی تجربہ کار اور سخت گیر سپہ سالار، حسن علی خان کو ایک بھاری، منظم اور توپ خانے سے لیس ف و ج دے کر متھرا کے ان گھنے اور پرپیچ جنگلوں کی طرف روانہ کیا جہاں جاٹوں نے اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں۔ حسن علی خان نے کمال عسکری مہارت اور بے رحمی سے ان باغیوں کا گھیراؤ کیا۔ جاٹوں کی چھاپہ مار کارروائیوں کا توڑ کرنے کے لیے مغل ف و ج نے ان کے قلعہ نما ٹھکانوں پر ایک انتہائی شدید اور تباہ کن ح م ل ہ کیا۔ توپوں کی گولہ باری نے ان کی مضبوط دیواروں کے پرخچے اڑا دیے اور مغل دستے سیلاب کی طرح ان کے ٹھکانوں میں داخل ہو گئے۔ ایک اور خونریز معرکہ برپا ہوا، جس میں جاٹوں کو انتہائی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان کا سردار، گوکلا جاٹ، خون میں لت پت، بھاری زنجیروں میں جکڑ کر گرفتار کر لیا گیا۔
جب گوکلا جاٹ اور اس کے ساتھیوں کو دہلی دربار میں پیش کیا گیا، تو سلطان عالمگیر کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کی بجائے ایک گہرا دکھ اور تاسف تھا۔ سلطان کو اس بات کی کوئی خوشی نہیں تھی کہ اس کی ت ل و ا ر نے د ش م ن و ں کے سر کاٹ دیے ہیں، بلکہ اسے اس بات کا شدید رنج تھا کہ انسان اقتدار اور لوٹ مار کی ہوس میں کس طرح انسانیت کے درجے سے گر کر ایک وحشی درندہ بن جاتا ہے۔ سلطان نے شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق، ان باغیوں کو ان کے سنگین جرائم، قتل و غارت اور فساد فی الارض کی کڑی س ز ا دی تاکہ آئندہ کوئی بھی لٹیرا سلطنت کی حدود میں پرامن شہریوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے۔ رات کے پچھلے پہر، جب سارا دربار اور لال قلعہ خاموشی میں ڈوب جاتا، تو سلطان عالمگیر اپنے حجرے میں مصلے پر بیٹھ کر اللہ کے حضور آنسو بہاتا۔ وہ روتے ہوئے دعا کرتا کہ اے پروردگار، میں تو اس سلطنت میں مدارس، مساجد، سرائے اور شریعت کے علم کے چشمے بہانا چاہتا ہوں، مگر یہ دنیاوی فتنے اور یہ مسلسل ب غ ا و ت ی ں مجھے بار بار اپنی ت ل و ا ر میان سے نکالنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسے درویش سلطان کا کرب تھا جسے دنیا کی رنگینیوں سے کوئی رغبت نہیں تھی، مگر اس کے کندھوں پر موجود خلافت اور ریاست کے بوجھ نے اسے ایک ایسا آہنی اور بے رحم پہرے دار بنا دیا تھا جسے ہر رات جاگ کر سلطنت کی سرحدوں اور اندرونی امن کی حفاظت کرنی پڑتی تھی۔ ستنامیوں اور جاٹوں کے ان پے در پے، ہولناک اور خونریز فتنوں کو کچلنے کے بعد، سلطان کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ شمال کے میدانوں کی یہ آگ تو بجھ چکی ہے، مگر راجپوتانہ اور دکن کے سنگلاخ پہاڑوں میں وہ طوفان ابھی باقی ہیں جو اس کی بقیہ پوری زندگی کا کٹھن ترین امتحان بننے والے ہیں۔ یہ سلطان اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کی اس لازوال، طویل اور بے لوث جدوجہد کی محض ایک جھلک تھی جس نے انہیں مغل تاریخ کا سب سے عظیم، عادل اور سچا اسلامی فرمانروا بنا کر تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

دنیا کی طبی تاریخ میں ابن سینا کا مقام اتنا بلند ہے کہ انہیں جدید طب کا بانی یعنی فادر آف میڈیسن کہا جاتا ہے۔ ان کی لکھی...
28/08/2026

دنیا کی طبی تاریخ میں ابن سینا کا مقام اتنا بلند ہے کہ انہیں جدید طب کا بانی یعنی فادر آف میڈیسن کہا جاتا ہے۔ ان کی لکھی ہوئی شہرہ آفاق کتاب 'القانون فی الطب' (The Canon of Medicine) اتنی شاہکار تھی کہ اسے یورپ کی تمام بڑی یونیورسٹیوں میں مسلسل چھ سو سال تک میڈیکل کی سب سے مستند کتاب کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔ انہوں نے ہزار سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ بیماریاں انتہائی چھوٹے جراثیموں کے ذریعے پھیلتی ہیں جنہیں آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کی یہ شاندار علمی میراث آج بھی مغربی دنیا میں انتہائی احترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ماڈرن میڈیکل سائنس کی بنیاد دراصل مسلمانوں نے رکھی تھی۔

Episode 2درہ خیبر کی سنگلاخ، فلک بوس اور ہیبت ناک چوٹیوں پر اکتوبر کی یخ بستہ ہوائیں کسی انجانے، تاریک اور ہولناک طوفان ...
28/08/2026

Episode 2
درہ خیبر کی سنگلاخ، فلک بوس اور ہیبت ناک چوٹیوں پر اکتوبر کی یخ بستہ ہوائیں کسی انجانے، تاریک اور ہولناک طوفان کا پتہ دے رہی تھیں۔ کابل سے دہلی کی طرف آنے والے اس پرپیچ اور خطرناک راستے پر ایک گہرا اور پراسرار سناٹا طاری تھا، مگر یہ سناٹا امن کا نہیں بلکہ اس شکاری کا تھا جو اپنے شکار پر جھپٹنے سے پہلے سانس روک لیتا ہے۔ چٹانوں کی اوٹ اور گھاٹیوں کے تاریک گوشوں میں ہزاروں سرکش اور باغی قبائلی جنگجو گھات لگائے بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک تھی اور ان کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی ننگی ت ل و ا ر ی ں کابل سے آنے والے ایک انتہائی اہم، پرامن تجارتی اور شاہی قافلے کی راہ تک رہی تھیں۔ جیسے ہی مغل سلطنت کا یہ قافلہ درے کے سب سے تنگ اور خطرناک حصے میں داخل ہوا، پہاڑوں کی چوٹیوں سے اچانک پتھروں کی بارش شروع ہو گئی اور جنگلی نعروں کی گونج نے آسمان کے کان پھاڑ دیے۔ باغیوں نے چاروں طرف سے ایک ایسا اچانک، سفاکانہ اور وحشت ناک ح م ل ہ کیا جس نے قافلے کے محافظوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا۔ ہر طرف ایک قیامت خیز افراتفری مچ گئی، خ و ن کے فوارے ابلنے لگے اور معصوم تاجروں، عورتوں اور بچوں کی چیخیں خیبر کے ان بے رحم پہاڑوں سے ٹکرا کر دم توڑ گئیں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ سلطنت کی شمال مغربی سرحدوں پر ایک انتہائی منظم، سوچی سمجھی اور خطرناک ب غ ا و ت کا آغاز تھا جس کی پشت پناہی کچھ ایسے غ د ا ر کر رہے تھے جو دہلی کے تخت پر بیٹھے نئے درویش سلطان کی نرمی اور عدل کو اس کی کمزوری سمجھنے کی بھیانک بھول کر بیٹھے تھے۔ ان سرکشوں کا خیال تھا کہ جو حکمران سارا دن مصلے پر بیٹھا رہتا ہے اور جس نے دربار سے موسیقی اور رقص ختم کر دیا ہے، وہ خیبر کے ان خونخوار پہاڑوں میں اپنی ف و ج بھیجنے کی جرات کبھی نہیں کر سکے گا۔

ادھر دہلی کے لال قلعے میں، جہاں کی فضاؤں میں کبھی طوائفوں کے گھنگھروؤں کی جھنکار اور شراب کے پیالوں کی کھنک گونجتی تھی، آج وہاں قرآن کی تلاوت، فقہی مباحثوں اور عدل و انصاف کا نور پھیلا ہوا تھا۔ دیوانِ عدالت میں ہندوستان کا مقتدر ترین فرمانروا، عظیم سلطان اورنگزیب عالمگیر، انتہائی سادگی کے ساتھ مسندِ انصاف پر جلوہ افروز تھا۔ اس کے چہرے پر ایک ایسا روحانی جلال اور ہیبت تھی کہ بڑے بڑے امرا اور منصب داروں کی نگاہیں اس کے سامنے زمین میں گڑ جاتی تھیں۔ سلطان کے اردگرد ہندوستان، عرب اور وسطی ایشیا سے آئے ہوئے سینکڑوں جید علمائے کرام اور فقہا موجود تھے، جن کی دن رات کی عرق ریز محنت سے فتاویٰ عالمگیری کی تدوین کا وہ عظیم الشان کام جاری تھا جس نے آنے والی صدیوں تک امت مسلمہ کی رہنمائی کرنی تھی۔ سلطان عالمگیر بذاتِ خود ایک ایک شرعی مسئلے پر گھنٹوں ان علماء کے ساتھ بحث کرتا، احادیث کے حوالے نکالتا اور اس بات کو یقینی بناتا کہ سلطنت کے کسی بھی کونے میں رہنے والے کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کسان یا مزدور کے ساتھ بھی کوئی زیادتی نہ ہونے پائے۔ سلطان نے قاضیوں کو سخت احکامات جاری کر رکھے تھے کہ جب کوئی غریب فریادی ان کی عدالت میں آئے تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو سلطنت کے سب سے بڑے وزیر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ دربار کا یہ روحانی اور پرسکون ماحول اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ سلطان نے اپنے تخت کو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ شریعتِ محمدی کے نفاذ اور اللہ کی مخلوق کی فلاح کے لیے وقف کر دیا ہے۔ مگر قدرت کو شاید اس درویش سلطان کا یہ سکون اور یہ علمی محفلیں زیادہ دیر تک منظور نہیں تھیں۔ ابھی دیوانِ عدالت کی کارروائی جاری ہی تھی کہ کابل کے صوبیدار کا ایک ہانپتا، کانپتا اور پسینے میں شرابور قاصد دربار کے آداب کو توڑتا ہوا سیدھا اندر داخل ہوا اور سلطان کے قدموں میں گر پڑا۔

قاصد کی لرزتی ہوئی آواز اور خوفزدہ آنکھوں نے پورے دربار میں ایک گہرا اور پراسرار سناٹا پیدا کر دیا۔ اس نے روتے ہوئے درہ خیبر میں ہونے والے اس دل دہلا دینے والے واقعے، معصوم قافلے کی لٹ مار اور قبائلیوں کی اس کھلی ب غ ا و ت کی تفصیلات سلطان کے گوش گزار کیں۔ اس نے بتایا کہ یوسف زئی اور آفریدی قبائل نے کابل اور پشاور کے درمیان کا راستہ مکمل طور پر کاٹ دیا ہے، سلطنت کے کئی وفادار محافظوں کو بے دردی سے ق ت ل کر دیا گیا ہے، اور ان باغیوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں میں اضافہ کر رہی ہے۔ دربار میں موجود امرا کے چہروں کا رنگ اڑ گیا، کیونکہ خیبر کا راستہ کابل، قندھار اور وسطی ایشیا کے ساتھ مغل سلطنت کے رابطے کی واحد اور سب سے اہم شہ رگ تھا۔ اگر یہ راستہ کٹ جاتا تو سلطنت کا دفاعی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا۔ سب کی نظریں تخت پر بیٹھے سلطان عالمگیر پر مرکوز تھیں، جنہیں یہ توقع تھی کہ شاید سلطان اس اندوہناک خبر پر انتہائی غضب ناک ہو کر فوراً کسی بھیانک خ و ن ر ی ز ی اور ق ت لِ عام کا حکم دے گا۔ مگر سلطان عالمگیر نے کمال ضبط، غیر معمولی ٹھہراؤ اور ایک سچے مجاہد جیسی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں، گہری سانس لی اور اپنے رب کے حضور دل ہی دل میں مدد کی دعا مانگی۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ہر مشکل اور ہر ف س ا د اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے جس کا مقابلہ صبر، تدبیر اور شریعت کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے۔ سلطان نے نہایت پرسکون مگر انتہائی پرجلال لہجے میں دربار کے تمام امرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ تخت کسی کو لوٹنے یا جبر کرنے کے لیے نہیں سنبھالا، مگر جو لوگ اللہ کی زمین پر ف س ا د برپا کریں گے اور بے گناہوں کا خ و ن بہائیں گے، ان کے لیے ہماری ت ل و ا ر اللہ کے ع ذ ا ب کا کوڑا بن کر برسے گی۔

سلطان عالمگیر نے اس حساس اور کٹھن محاذ کے لیے کسی جلد بازی یا جذباتیت سے کام لینے کی بجائے انتہائی دور اندیشی اور عسکری بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے سلطنت کے سب سے مایہ ناز، سرد اور خونخوار جرنیل، محمد امین خان کو طلب کیا اور اسے ایک، انتہائی منظم اور جدید توپ خانے سے لیس ف و ج دے کر پشاور کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا۔ سلطان نے محمد امین خان کو سخت تاکید کی کہ مغل ف و ج کا مقصد ان قبائل کی نسل کشی قطعی نہیں ہے، بلکہ صرف ان سرغنوں اور غ د ا ر و ں کا سر کچلنا ہے جو عام اور بھولے بھالے قبائلیوں کو سلطنت کے خلاف بھڑکا کر فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سلطان عالمگیر بخوبی جانتا تھا کہ شمال مغربی سرحدوں کے افغان اور پختون قبائل فطرتاً انتہائی جنگجو، نڈر اور آزادی پسند ہیں، اور انہیں صرف طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لیے سلطان نے ف و ج بھیجنے کے ساتھ ساتھ کابل اور پشاور کے معزز علما، مشائخ اور قبائلی عمائدین کو بھی سفارتی خطوط روانہ کیے، جن میں انہیں قرآن و سنت کے حوالے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ایک خالص اسلامی اور عادل ریاست کے خلاف خروج کرنا اور مسلمانوں کا راستہ کاٹ کر لٹ مار کرنا شرعاً حرام ہے۔ یہ عالمگیر کی اس عظیم الشان اور مدبرانہ حکمت عملی کا حصہ تھا جس میں وہ ایک ہاتھ میں شریعت اور انصاف کی کتاب اور دوسرے ہاتھ میں ریاست کے دفاع کے لیے کھینچی ہوئی ت ل و ا ر رکھتا تھا۔ جب محمد امین خان کی ف و ج پشاور سے آگے درہ خیبر کے ان تنگ اور تاریک راستوں میں داخل ہوئی تو اس کا سامنا خوشحال خان خٹک اور افغان قبائل کے اس بپھرے ہوئے طوفان سے ہوا جو اپنی جانوں پر کھیل کر مغل سلطنت کو نقصان پہنچانے کا تہیہ کر چکے تھے۔

پہاڑوں کی ان چوٹیوں اور تنگ وادیوں میں کئی مہینوں تک ایک ایسی وحشت ناک، اعصاب شکن اور طویل ج ن گ لڑی گئی جس میں خ و ن پانی کی طرح بہا۔ افغان جنگجو چٹانوں کے پیچھے سے اچانک نمودار ہوتے، مغل دستوں پر ح م ل ہ کرتے اور پھر ان غاروں میں روپوش ہو جاتے جنہیں وہ اپنے بچپن سے جانتے تھے۔ مغل ف و ج کا بھاری توپ خانہ ان تنگ راستوں میں بے بس ہو کر رہ جاتا تھا، مگر محمد امین خان نے انتہائی سفاکی اور استقامت سے قدم جمائے رکھے۔ راتوں کو مغل کیمپوں پر آگ برسائی جاتی، خیمے جلا دیے جاتے اور ہر طرف م و ت کے سائے منڈلاتے رہتے۔ اس شدید اور کٹھن مزاحمت کی خبریں جب دہلی پہنچتیں تو سلطان عالمگیر کا دل خون کے آنسو روتا کہ کس طرح مسلمان ہی مسلمانوں کے ہاتھوں کٹ رہے ہیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ایک حکمران کی نفسیات اور اس کی روح کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ سلطان اپنی راتیں مصلے پر گزارتا، اللہ سے رو رو کر اس خانہ ج ن گ ی کے خاتمے کی دعائیں مانگتا، مگر دن کی روشنی میں اسے ریاست کی بقا اور لاکھوں پرامن شہریوں کے تحفظ کے لیے ان باغیوں کے خلاف اپنی ف و ج کو مسلسل لڑنے کا حتمی حکم بھی دینا پڑتا تھا۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ سلطان عالمگیر نے اپنی پوری زندگی ایک ایسی شاندار اسلامی ریاست کے خواب کی تعبیر میں صرف کر دی جہاں عدل اور شریعت کا بول بالا ہو، مگر اس کی تقدیر میں قدرت نے صرف اور صرف خیموں کی زندگی، اڑتی ہوئی خاک، اور چاروں طرف سے ابھرنے والے د ش م ن و ں اور حاسدوں کی سازشیں لکھ دی تھیں۔ خیبر کے محاذ پر ہونے والی اس طویل مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ سلطنت کو اب محض اندرونی س ا ز ش و ں کا ہی نہیں، بلکہ ان دور افتادہ سرحدوں کا بھی سامنا ہے جہاں طاقت کا توازن کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ سلطان کو یہ احساس شدت سے ہونے لگا تھا کہ اس کا یہ کٹھن سفر، جو ساموگڑھ سے شروع ہوا تھا، ابھی اپنی منزل سے بہت دور ہے، اور اسے اپنے آخری سانس تک اس تختِ طاؤس کی حفاظت کے لیے اپنے جذبات کا گلا گھونٹ کر ایک بے رحم پہرے دار کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ربیع الاول کا مہینہ اسلامی تاریخ اور پوری نوعِ انسانی کے لیے ایک منفرد اور عظیم مقام رکھتا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جب ج...
26/08/2026

ربیع الاول کا مہینہ اسلامی تاریخ اور پوری نوعِ انسانی کے لیے ایک منفرد اور عظیم مقام رکھتا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جب جہالت اور ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہدایت کا سب سے درخشاں آفتاب طلوع ہوا۔ 12 ربیع الاول صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ اس دن کی یاد دلاتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے رحمۃ اللعالمین (ﷺ) کو اس دنیا میں بھیج کر انسانیت پر اپنا سب سے بڑا فضل فرمایا۔
# # # ولادتِ با سعادت کا تاریخی پس منظر
تاریخِ انسانی کا یہ عظیم ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب جزیرہ نما عرب جہالت کی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں آپ (ﷺ) کی ولادت کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
* **عام الفیل (ہاتھیوں والا سال):** تاریخ دانوں کے مطابق یہ 570 عیسوی کا سال تھا، جسے عرب 'عام الفیل' کہتے تھے کیونکہ اسی سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ کیا تھا اور اللہ نے ابابیلوں کے ذریعے اسے نیست و نابود کر دیا۔
* **دن اور وقت:** مشہور تاریخی روایات کے مطابق، مکہ مکرمہ میں پیر کے دن، صبحِ صادق کے پرنور وقت آپ (ﷺ) کی ولادت ہوئی۔
* **خاندان اور پرورش:** آپ (ﷺ) کے والدِ ماجد حضرت عبداللہ کا وصال آپ کی ولادت سے چند ماہ قبل ہی ہو چکا تھا۔ آپ (ﷺ) نے اپنی والدہ سیدہ آمنہ کی آغوش میں آنکھ کھولی اور بعد ازاں آپ کے دادا عبدالمطلب اور چچا ابو طالب نے آپ کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائی۔
# # # ظہورِ قدسی کے وقت رونما ہونے والے معجزات
سیرت نگار اور مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب نبی آخر الزماں (ﷺ) اس دنیا میں تشریف لائے، تو قدرت نے کئی ایسے حیرت انگیز نشانات ظاہر کیے جو ایک نئے اور روشن دور کے آغاز کی نوید تھے:
* **ایوانِ کسریٰ کا لرزنا:** سلطنتِ فارس کے بادشاہ کے محل میں زلزلہ آیا اور اس کے 14 کنگرے گر گئے۔
* **آتش کدہ فارس:** مجوسیوں کا وہ آتش کدہ جو ایک ہزار سال سے مسلسل جل رہا تھا، اس رات اچانک بجھ گیا۔
* **بتوں کا گرنا:** کعبۃ اللہ میں موجود بت اوندھے منہ گر پڑے، جو اس بات کا اعلان تھا کہ شرک کا خاتمہ اور توحید کا بول بالا ہونے والا ہے۔
# # # آمدِ رسول (ﷺ) اور انسانیت کی معراج
آپ (ﷺ) کی آمد محض ایک ولادت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عالمگیر انقلاب کا آغاز تھا۔ آپ (ﷺ) نے اس معاشرے کو جو بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے پر فخر کرتا تھا، عورت کو عزت اور وراثت میں حق دیا۔ آپ (ﷺ) نے غلاموں کو اپنے برابر بٹھایا، کمزوروں کی دستگیری کی اور عدل و انصاف کا وہ نظام قائم کیا جس کی مثال تاریخ آج تک پیش کرنے سے قاصر ہے۔
12 ربیع الاول کا دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم محض خوشی منانے تک محدود نہ رہیں، بلکہ اس عظیم ہستی (ﷺ) کے لائے ہوئے پیغام کو سمجھیں اور ان کی سیرتِ طیبہ کو اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Risen Graphics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Risen Graphics:

Shortcuts

Share