10/11/2025
روشنی کے راہی
گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج سول لائنز لاہور صرف ایک درسگاہ نہیں بلکہ علم، تاریخ اور تہذیب کا وہ مرکز ہے جس نے برصغیر کے فکری افق پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ 1886 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ مسلمانوں کی تعلیمی بیداری کی تحریک کا حصہ تھا، اور 1930 کی اس تاریخی قرارداد کا گواہ بھی جس نے برصغیر میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے راستے کو واضح کیا۔ بعد ازاں یہ درسگاہ گریجویٹ کالج کی صورت میں ترقی پا کر پنجاب یونیورسٹی سے منسلک ہوئی، اور آج بھی غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ یہاں کم خرچ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے مستقبل کو سنوار رہے ہیں۔ اس ادارے کی قدیمی عمارتیں، تاریخی لائبریریاں، اور ہر کمرہ علم و فکر کی گواہی دیتا ہے، جو طلبہ کو صرف تعلیم نہیں بلکہ تاریخ اور ثقافت کے عمیق رنگ بھی سکھاتا ہے۔
یہ کالج اپنے اندر ایک ایسا دھڑکتا ہوا تعلیمی ماحول رکھتا ہے جہاں صرف کتابیں نہیں بلکہ فکر، کردار، اجتماعیت اور ذمہ داری پروان چڑھتی ہے۔ اسی فکری اور اخلاقی تربیت کے سفر میں اسلامی جمعیت طلبہ ادارے کے طلبہ میں ایک فعال اور منظم کردار کے ساتھ موجود رہی ہے۔ جمعیت کا مقصد محض سرگرمیاں نہیں بلکہ طلبہ میں شعور، خود اعتمادی اور سماجی ذمہ داری پیدا کرنا ہے جو ایک طالب علم کو ’’صرف ڈگری ہولڈر‘‘ نہیں بلکہ ’’معاشرے کا باشعور فرد‘‘ بناتی ہے۔
اسلامیہ کالج میں جمعیت نے ہمیشہ طلبہ کے تعلیمی و اخلاقی ماحول کی بہتری کے لیے سرگرم کردار ادا کیا ہے۔ ہر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر آنے والے طلبہ کا خیرمقدم محض رسمی عمل نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی مرحلہ ہوتا ہے جس میں انہیں کالج کے ماحول سے متعارف کرایا جاتا ہے، مضامین کے انتخاب، لائبریری و ہاسٹل کے نظام، اور اساتذہ تک رسائی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت استقبالیہ نشستیں، داخلی رہنمائی مراکز اور درسی معاونت کے حلقے قائم کیے جاتے ہیں، تاکہ طلبہ ابتدائی دنوں سے کالج کے نظام اور ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہو جائیں۔
جمعیت کی سرگرمیاں صرف رہنمائی تک محدود نہیں رہتیں۔ یہاں علمی اور تربیتی فضا کو جاندار رکھنے کے لیے درسِ قرآن، ہفتہ وار کہف نشستیں، فکری و تہذیبی موضوعات پر مطالعہ جاتی حلقے، اور تعلیمی و معاشرتی چیلنجز پر مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام طلبہ کو دین سے جوڑتے ہیں اور انہیں سوچنے، سوال کرنے اور صحیح بنیادوں پر رائے قائم کرنے کی صلاحیت بھی دیتے ہیں۔ طلبہ یہاں نہ صرف اپنی تعلیمی قابلیت بڑھاتے ہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی شعور بھی حاصل کرتے ہیں جو انہیں ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔
اسلامیہ کالج کے تاریخی میدان نوجوانوں کے جوش کے گواہ ہیں۔ جمعیت نے اس روایت کو نئی زندگی بخشی جب اس نے فرانیئنز پریمیئر لیگ، افضل خان شہید ڈبل وکٹ ٹورنامنٹ اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھا۔ یہ مقابلے محض کھیل نہیں بلکہ ٹیم ورک، نظم، صحت مند مسابقت اور باوقار قیادت کی عملی تربیت ہیں۔ اسی طرح سالانہ مشاعرے، ثقافتی نشستیں، سالانہ عشائیے اور مختلف علمی مکالمے ادارے کے ماحول میں وہ رنگ بھرتے ہیں جو صرف نصابی کتب نہیں دے سکتیں۔
اسلامیہ کالج میں حیاء ڈے اور حیاء واک جمعیت کی وہ فکری پہل ہے جو ویلنٹائن ڈے کے مغربی تصور کے متبادل کے طور پر متعارف کروائی گئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اسے نہ صرف باوقار، مہذب اور خاندانی اقدار پر مبنی انداز میں شروع کیا بلکہ اسے رجسٹرڈ بھی کروایا تاکہ ہر سال یہ دن ایک منظم، فکری اور تربیتی پروگرام کے طور پر منایا جائے۔ اس دن طلبہ میں عورت کی حرمت، احترام اور پاکیزہ تعلقات کے اسلامی تصور کو فروغ دیا جاتا ہے اور مغربی سطحی ثقافت کے اثرات سے بچاتے ہوئے معاشرتی شعور بڑھایا جاتا ہے۔
اسی طرح جمعیت طلبہ کے حقیقی مسائل کی آواز بھی رہی ہے۔فیسوں میں اضافہ، سہولیات کی کمی، ہاسٹل اور لائبریری کے مسائل— ان پر جمعیت نے ہمیشہ منظم، دلیل اور شائستہ انداز میں بات کی۔ طلبہ حقوق مارچ، ملازمین و مزدور طبقے کی راشن معاونت، اور خون عطیہ مہمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ جمعیت صرف لفظوں میں خدمت نہیں کرتی بلکہ حقیقی عملی کردار بھی ادا کرتی ہے۔
مگر جہاں شعور، سوال اور اصول ہوں، وہاں طاقت اور سیاست کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں خصوصاً ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں طلبہ تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ان پابندیوں کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ باشعور طلبہ کے ذریعے سوال اٹھانے اور اجتماعی سوچ کو محدود کیا جائے، کیونکہ ایک باخبر طالب علم ہمیشہ سوال کرتا ہے اور آمریت اسے قبول نہیں کر سکتی۔
آج بھی بعض سیاسی عناصر اس ادارے میں دیگر تنظیموں جیسے گروہوں کو داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہاں کی فکری اور تربیتی فضا متاثر ہو۔ مگر اساتذہ کی بڑی تعداد اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ ادارہ پہلے ہی ایک مربوط، منظم اور علمی ماحول رکھتا ہے۔ اسی لیے اکثر اساتذہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ ’’یہاں مزید کسی تنظیم کی گنجائش نہیں، اور نہ ہم سیاسی تصادم کو برداشت کریں گے۔‘‘
اسلامیہ کالج سول لائنز کی تاریخ بتاتی ہے کہ ادارہ عمارت سے نہیں بنتا، بلکہ روایت اور کردار سے بنتا ہے۔ اور اس روایت میں اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار مرکزی، نمایاں اور لازمی ہے، جو طلبہ کو علم، کردار، اور اجتماعی شعور کے ذریعے معاشرتی ذمہ داری سکھانے کا عملی مظاہرہ کرتی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ طلبہ کو ایک بہتر معاشرتی فرد بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو علم، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرتا ہے۔
تعلیم صرف کتابوں اور ڈگریوں کا نام نہیں، بلکہ شعور، کردار اور ذمہ داری کا مرقع بھی ہے۔ جہاں طلبہ آزاد سوچ اور اخلاقی تربیت کے ساتھ پروان چڑھیں، وہاں ہی ایک مضبوط اور روشن معاشرہ جنم لیتا ہے — اور اسلامی جمعیت طلبہ اس شعور کی ضامن ہے۔
تحریر: ناصح ہاشمی