Naseh Hashmi

Naseh Hashmi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naseh Hashmi, Lahore.

روشنی کے راہی گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج سول لائنز لاہور صرف ایک درسگاہ نہیں بلکہ علم، تاریخ اور تہذیب کا وہ مرکز ہے ج...
10/11/2025

روشنی کے راہی

گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج سول لائنز لاہور صرف ایک درسگاہ نہیں بلکہ علم، تاریخ اور تہذیب کا وہ مرکز ہے جس نے برصغیر کے فکری افق پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ 1886 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ مسلمانوں کی تعلیمی بیداری کی تحریک کا حصہ تھا، اور 1930 کی اس تاریخی قرارداد کا گواہ بھی جس نے برصغیر میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے راستے کو واضح کیا۔ بعد ازاں یہ درسگاہ گریجویٹ کالج کی صورت میں ترقی پا کر پنجاب یونیورسٹی سے منسلک ہوئی، اور آج بھی غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ یہاں کم خرچ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے مستقبل کو سنوار رہے ہیں۔ اس ادارے کی قدیمی عمارتیں، تاریخی لائبریریاں، اور ہر کمرہ علم و فکر کی گواہی دیتا ہے، جو طلبہ کو صرف تعلیم نہیں بلکہ تاریخ اور ثقافت کے عمیق رنگ بھی سکھاتا ہے۔

یہ کالج اپنے اندر ایک ایسا دھڑکتا ہوا تعلیمی ماحول رکھتا ہے جہاں صرف کتابیں نہیں بلکہ فکر، کردار، اجتماعیت اور ذمہ داری پروان چڑھتی ہے۔ اسی فکری اور اخلاقی تربیت کے سفر میں اسلامی جمعیت طلبہ ادارے کے طلبہ میں ایک فعال اور منظم کردار کے ساتھ موجود رہی ہے۔ جمعیت کا مقصد محض سرگرمیاں نہیں بلکہ طلبہ میں شعور، خود اعتمادی اور سماجی ذمہ داری پیدا کرنا ہے جو ایک طالب علم کو ’’صرف ڈگری ہولڈر‘‘ نہیں بلکہ ’’معاشرے کا باشعور فرد‘‘ بناتی ہے۔

اسلامیہ کالج میں جمعیت نے ہمیشہ طلبہ کے تعلیمی و اخلاقی ماحول کی بہتری کے لیے سرگرم کردار ادا کیا ہے۔ ہر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر آنے والے طلبہ کا خیرمقدم محض رسمی عمل نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی مرحلہ ہوتا ہے جس میں انہیں کالج کے ماحول سے متعارف کرایا جاتا ہے، مضامین کے انتخاب، لائبریری و ہاسٹل کے نظام، اور اساتذہ تک رسائی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت استقبالیہ نشستیں، داخلی رہنمائی مراکز اور درسی معاونت کے حلقے قائم کیے جاتے ہیں، تاکہ طلبہ ابتدائی دنوں سے کالج کے نظام اور ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہو جائیں۔

جمعیت کی سرگرمیاں صرف رہنمائی تک محدود نہیں رہتیں۔ یہاں علمی اور تربیتی فضا کو جاندار رکھنے کے لیے درسِ قرآن، ہفتہ وار کہف نشستیں، فکری و تہذیبی موضوعات پر مطالعہ جاتی حلقے، اور تعلیمی و معاشرتی چیلنجز پر مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام طلبہ کو دین سے جوڑتے ہیں اور انہیں سوچنے، سوال کرنے اور صحیح بنیادوں پر رائے قائم کرنے کی صلاحیت بھی دیتے ہیں۔ طلبہ یہاں نہ صرف اپنی تعلیمی قابلیت بڑھاتے ہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی شعور بھی حاصل کرتے ہیں جو انہیں ایک ذمہ دار شہری بناتا ہے۔

اسلامیہ کالج کے تاریخی میدان نوجوانوں کے جوش کے گواہ ہیں۔ جمعیت نے اس روایت کو نئی زندگی بخشی جب اس نے فرانیئنز پریمیئر لیگ، افضل خان شہید ڈبل وکٹ ٹورنامنٹ اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھا۔ یہ مقابلے محض کھیل نہیں بلکہ ٹیم ورک، نظم، صحت مند مسابقت اور باوقار قیادت کی عملی تربیت ہیں۔ اسی طرح سالانہ مشاعرے، ثقافتی نشستیں، سالانہ عشائیے اور مختلف علمی مکالمے ادارے کے ماحول میں وہ رنگ بھرتے ہیں جو صرف نصابی کتب نہیں دے سکتیں۔

اسلامیہ کالج میں حیاء ڈے اور حیاء واک جمعیت کی وہ فکری پہل ہے جو ویلنٹائن ڈے کے مغربی تصور کے متبادل کے طور پر متعارف کروائی گئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اسے نہ صرف باوقار، مہذب اور خاندانی اقدار پر مبنی انداز میں شروع کیا بلکہ اسے رجسٹرڈ بھی کروایا تاکہ ہر سال یہ دن ایک منظم، فکری اور تربیتی پروگرام کے طور پر منایا جائے۔ اس دن طلبہ میں عورت کی حرمت، احترام اور پاکیزہ تعلقات کے اسلامی تصور کو فروغ دیا جاتا ہے اور مغربی سطحی ثقافت کے اثرات سے بچاتے ہوئے معاشرتی شعور بڑھایا جاتا ہے۔

اسی طرح جمعیت طلبہ کے حقیقی مسائل کی آواز بھی رہی ہے۔فیسوں میں اضافہ، سہولیات کی کمی، ہاسٹل اور لائبریری کے مسائل— ان پر جمعیت نے ہمیشہ منظم، دلیل اور شائستہ انداز میں بات کی۔ طلبہ حقوق مارچ، ملازمین و مزدور طبقے کی راشن معاونت، اور خون عطیہ مہمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ جمعیت صرف لفظوں میں خدمت نہیں کرتی بلکہ حقیقی عملی کردار بھی ادا کرتی ہے۔

مگر جہاں شعور، سوال اور اصول ہوں، وہاں طاقت اور سیاست کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں خصوصاً ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں طلبہ تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ان پابندیوں کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ باشعور طلبہ کے ذریعے سوال اٹھانے اور اجتماعی سوچ کو محدود کیا جائے، کیونکہ ایک باخبر طالب علم ہمیشہ سوال کرتا ہے اور آمریت اسے قبول نہیں کر سکتی۔

آج بھی بعض سیاسی عناصر اس ادارے میں دیگر تنظیموں جیسے گروہوں کو داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہاں کی فکری اور تربیتی فضا متاثر ہو۔ مگر اساتذہ کی بڑی تعداد اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ ادارہ پہلے ہی ایک مربوط، منظم اور علمی ماحول رکھتا ہے۔ اسی لیے اکثر اساتذہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ ’’یہاں مزید کسی تنظیم کی گنجائش نہیں، اور نہ ہم سیاسی تصادم کو برداشت کریں گے۔‘‘

اسلامیہ کالج سول لائنز کی تاریخ بتاتی ہے کہ ادارہ عمارت سے نہیں بنتا، بلکہ روایت اور کردار سے بنتا ہے۔ اور اس روایت میں اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار مرکزی، نمایاں اور لازمی ہے، جو طلبہ کو علم، کردار، اور اجتماعی شعور کے ذریعے معاشرتی ذمہ داری سکھانے کا عملی مظاہرہ کرتی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ طلبہ کو ایک بہتر معاشرتی فرد بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو علم، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرتا ہے۔

تعلیم صرف کتابوں اور ڈگریوں کا نام نہیں، بلکہ شعور، کردار اور ذمہ داری کا مرقع بھی ہے۔ جہاں طلبہ آزاد سوچ اور اخلاقی تربیت کے ساتھ پروان چڑھیں، وہاں ہی ایک مضبوط اور روشن معاشرہ جنم لیتا ہے — اور اسلامی جمعیت طلبہ اس شعور کی ضامن ہے۔

تحریر: ناصح ہاشمی

ایک ماں، ایک زندگی، جو سسرال کے ظلم کا شکار بنیکب تک ہماری بیٹیاں گھر کی چار دیواری میں بے دردی سے قتل ہوتی رہیں گی اور ...
17/07/2025

ایک ماں، ایک زندگی، جو سسرال کے ظلم کا شکار بنی

کب تک ہماری بیٹیاں گھر کی چار دیواری میں بے دردی سے قتل ہوتی رہیں گی اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ یہ کہانی صرف اقراء کی نہیں بلکہ ہر اُس عورت کی ہے جو ظلم سہہ کر خاموشی کی قبر میں دفن ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد اور ظلم و زیادتی کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر روز کسی نہ کسی گھر میں بیٹی، بہن یا ماں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ضلع شیخوپورہ کی تحصیل منوالہ میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس معاشرتی سفاکیت کی تازہ ترین مثال ہے جہاں ایک حاملہ خاتون اقراء کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اقراء سات ماہ کی حاملہ تھی اور اسے اُس کے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اُس کے سر پر کاری ضربیں لگائیں گئیں، آنکھوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا اور رحم میں پلنے والے معصوم بچے کو بھی دنیا میں آنے کا موقع نہ دیا گیا۔ اقراء کو شدید زخمی حالت میں لاہور کے جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی جنگ ہار گئی۔
یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ اس معاشرتی سوچ کا عکاس ہے جس میں خواتین کو کمزور اور کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اقراء کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنی سسرال کی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرتی تھی۔
یہ افسوسناک واقعہ کوئی پہلا یا اکیلا واقعہ نہیں ہے۔ چند سال قبل لاہور کی سنبل نامی خاتون کو اس کے شوہر نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا، جس میں عدالت میں لمبے مقدمے کے بعد بھی مکمل انصاف نہ مل سکا۔ اسی طرح فیصل آباد میں 2023 میں نائلہ نامی لڑکی کو جہیز کم لانے پر اس کے سسرالیوں نے آگ لگا دی تھی۔ کراچی میں 2021 میں عظمیٰ نامی خاتون کو تشدد کے بعد زندہ جلا دیا گیا تھا۔ یہ سب واقعات اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ خواتین کے تحفظ کے قانون صرف کاغذوں تک محدود ہیں اور عملی طور پر خواتین اکثر بے یار و مددگار رہ جاتی ہیں۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے شوہر سمیت سسرالیوں کو گرفتار کر لیا ہے اور قتل، تشدد اور خواتین پر ظلم کے دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف گرفتاریوں سے انصاف مل جائے گا؟ کیا نظامِ انصاف اتنا مضبوط ہے کہ مظلوم کو وقت پر حق ملے؟
یہ واقعہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنی خامیاں اور بربادیوں کو دیکھنا چاہیے۔ جہیز کے نام پر بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ گھریلو تشدد کے خلاف سخت اور فوری قانون سازی کرنی ہوگی۔ خواتین کو قانونی اور سماجی تحفظ دینا ہوگا تاکہ کوئی اور اقراء، سنبل، نائلہ یا عظمیٰ ایسی بربریت کا نشانہ نہ بنے۔
ہم سب کو بحیثیت انسان، بحیثیت معاشرہ، یہ سوال کرنا ہوگا کہ بیٹیوں کو زندہ جلا دینے، پیٹ میں مارنے اور سسرال میں ظلم کا شکار بنانے والے کب تک آزاد گھومتے رہیں گے؟ اقراء کی قبر ہم سب سے پوچھ رہی ہے کہ
"آخر کب انصاف ملے گا؟"

13/08/2024

کسی کے لئے کام کرنا بہتر ہے یا کسی کے ساتھ مل کر نئی چیز Explore کرنا؟

شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ  | سُکھی پِیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
13/01/2024

شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ | سُکھی پِیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

If you know, you know
16/12/2023

If you know, you know

آدمی کے لئے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہوگی کہ اسے ان چہروں میں اپنائیت نظر نہ آئے جنہیں وہ سب سے افضل سمجھتا ہو، اس کے پاس س...
07/12/2023

آدمی کے لئے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہوگی کہ اسے ان چہروں میں اپنائیت نظر نہ آئے جنہیں وہ سب سے افضل سمجھتا ہو، اس کے پاس سر رکھنے کے لئے کوئی دامن نہ ہو، دلاسے کے لئے کوئی ہاتھ، سہارے کے لئے کوئی کاندھا نہ ہو۔ ایسا شخص بھرے مجمع میں بھی تنہا ہوتا ہے، ہجوم میں بھی خود کو تنہا پاتا ہے۔ ایسا فرد الفاظ کا شور اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایسے فرد سے گھلنے ملنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اندر الفاظ بے ڈھنگے سے نکلتے ہیں، احساسات و جذبات کی فراوانی ہو، الفاظ کی بہتات ہو مگر جب کوئی سننے والا دستیاب ہو تو ذہن کورا ہو جائے۔ جملے بے ترتیب ہو جائیں۔ زبان ساتھ دینے سے انکار کر دے۔ سوچ کی وسعتیں سمٹ جائیں۔ خیالات بکھر جائیں۔ لوگوں کی فریب کاری اور مکاری عیاں ہوتے ہوئے بھی انہیں کچھ کہنا الفاظ کا ضیاع معلوم ہو۔ انسان کی تمام تر گفتگو خود کلامی سے شروع ہو کر خود کلامی پر ختم ہو جائے۔ پھر ایسے شخص کا سہارا ٹھہرتی ہے تو صرف اور صرف تنہائی اور گہری چُپ!

~ناصح ہاشمی

30/11/2023

سموگ اور مصنوعی بارش!!!
کیا مصنوعی بارش کے ذریعے سموگ کا خاتمہ ہوسکتا ہے؟

24/11/2023

وقت اور قدر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جسے وقت دیا جائے وہ قدر نہیں کرتا اور جسکی قدر کی جائے وہ وقت نہیں دیتا

♥️ اللّٰہ رازق ہے (دکاندار) تمام یہودی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے دکاندار کے سنہری الفاظ💙♥️ یہ ایک پاکستانی برینڈز کے ...
15/11/2023

♥️ اللّٰہ رازق ہے (دکاندار) تمام یہودی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے دکاندار کے سنہری الفاظ💙
♥️ یہ ایک پاکستانی برینڈز کے لئے سنہری موقع بھی ہے یہ اپنے برینڈز کو پروموٹ کریں اور عوام کا پاکستانی پراڈکٹس کو اپنانے کا اعتماد بحال کریں کیونکہ اب عوام یہودی پراڈکٹس کو استعمال کرنا کیا ان پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی۔
♥️ سرف ایریئل اور ایکسل کی جگہ بہت سارے ایسے پاکستانی برینڈز موجود ہیں جو ان سے زیادہ کپڑوں کو نکھارتے ہیں صرف پروموشن کی ضرورت ہے۔

12/11/2023

خم ہے سرِ انساں تو حرم میں کچھ ہے
لوگ اشک بہاتے ہیں تو غم میں کچھ ہے

بے وجہ کسی پر نہیں مرتا کوئی
ہم پہ کوئی مرتا ہے تو ہم میں کچھ ہے
Specially Thanks to ARN_Creations 💙

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naseh Hashmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Naseh Hashmi:

Share