04/11/2025
*استاد کا آخری سبق*
ایک معزز استاد نے حال ہی میں ریٹائرمنٹ لی تھی۔
وہ اور ان کی اہلیہ اسلام آباد کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔
انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں رشتہ داروں سے ملنے جانے کا فیصلہ کیا۔
روانگی سے پہلے استاد نے خود سے سوچا:
“جب ہم گھر پر نہیں ہوں گے، اگر کوئی چور آ گیا تو؟
وہ الماریاں توڑ دے گا، سارا گھر اُلٹ دے گا، حالانکہ گھر میں پیسے ویسے ہیں ہی نہیں!”
لہٰذا گھر کو نقصان سے بچانے کے لیے
انہوں نے میز پر 1000 روپے اور ایک پرچی رکھ دی، جس پر لکھا تھا:
”پیارے نامعلوم چور کے نام!
سب سے پہلے آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے میرے گھر میں گھسنے کی زحمت کی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ میں ایک درمیانے طبقے کا شخص ہوں، جو صرف پنشن پر گزرا بسر کرتا ہے۔
اس لیے یہاں کوئی قیمتی چیز نہیں ملے گی۔
مجھے افسوس ہے کہ آپ کی محنت اور قیمتی وقت ضائع جائے گا،
اس لیے آپ کی محنت کی قدر کرتے ہوئے یہ معمولی رقم قبول کیجیے۔
ساتھ ہی آپ کے پیشے (چوری) میں مزید کامیابی کے لیے چند مشورے بھی پیش ہیں:”**
اور نیچے استاد نے “رہنمائی” میں یہ لکھا👇
آٹھویں منزل — ایک بدعنوان وزیر رہتا ہے 💼💰
ساتویں منزل — ایک بےایمان پراپرٹی ڈیلر 🏢
چھٹی منزل — ایک کوآپریٹو بینک کا چیئرمین 🏦
پانچویں منزل — ایک بڑا صنعتکار 🏭
چوتھی منزل — ایک مشہور وکیل ⚖️
تیسری منزل — ایک کرپٹ سیاستدان۔
“ان کے پاس دولت کے انبار ہیں۔
اگر آپ ان کے پاس جائیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا،
اور وہ تو پولیس کو اطلاع بھی نہیں دیں گے!”
جب استاد واپس گھر پہنچے تو دیکھا
میز پر ایک بڑا بیگ رکھا ہے۔
بیگ میں 10 لاکھ روپے اور ایک خط موجود تھا۔
**“محترم استاد جی، 🙏
آپ کی رہنمائی اور تعلیم کا بہت شکریہ۔
میں نے آپ کے مشورے پر عمل کیا اور میرا مشن کامیاب ہو گیا۔
یہ تھوڑی سی رقم آپ کی خدمت میں نذرانے کے طور پر پیش ہے۔
امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کی برکت اور رہنمائی حاصل رہے گی…
آپ کا شاگرد — چور”**
استاد نے یہ خط پڑھ کر قہقہہ لگایا اور بولے:
“میں سمجھا تھا میں ریٹائر ہو گیا ہوں،
مگر لگتا ہے میری تدریس تو ابھی جاری ہے!” 📚🤣💥
چاہیے تو یہ ایک مزاحیہ کہانی ہے،
لیکن اس میں ایک گہرا پیغام چھپا ہے:
ایک سچا استاد اپنی دانش سے ہر حال میں سکھاتا ہے — چاہے شاگرد کوئی بھی ہو!
یہ پوسٹ ایک بھائی کی ٹائم لائن سے لی ہے اچھی لگی تو لائک اور شئیر کریں