01/07/2026
یہ لاہور کی وہ بدقسمت چھت ہے جو گری اور اپنے نیچے پینتیس معصوم پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے بچے دبا دیئے۔ ان میں سے چودہ بچے موقع پہ ہی ج-ا-ں-ب-ح-ق ہو گئے۔بظاہر جو چیز تصویر سے سمجھ آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ چھت ٹی آر اور گرڈر والی تھی۔اوپر اس کے مٹی تھی۔اور اس پہ اینٹوں کی تہہ لگا کر اسے شاید پکا کیا جانا تھا لیکن چونکہ نیچے سٹرکچر اتنا مضبوط نہ تھا کہ اتنا وزن سنبھال پاتا اس وجہ سے چھت بیٹھ گئی۔اس چھت کے نیچے محلے کی ٹیوشن کلاسز جیسے کوئی بھی محلے کی باجی ایکسٹرا انکم کے لیے بچوں کو پڑھاتی ہے پڑھا رہی تھیں۔اور چھت پہ ایکسٹرا وزن ہونے کی وجہ سے چھت گر گئی۔ٹیوشن والی باجی اس حادثے میں محفوظ رہی۔یہ ایک بے انتہا افسوسناک واقعہ ہے۔اور مالک مکان کی لاپرواہی کہ اس کے دماغ میں اتنی عقل نہ آئی کہ چھتیں ایک حد تک وزن برداشت کرتی ہیں-شاید ان کا کیلیبر ہی نہیں تھا کہ اس سوچ تک پہنچ پاتے۔کہ آپ کچی اور پکی دونوں چھتوں کا ملبہ ایک ساتھ نہیں رکھ سکتے۔اور تھوڑا سا افسوس مجھے یہ بھی ہو رہا ہے کہ بچوں بیچاروں کو گرمیوں کی چھٹیاں گھر میں آرام کرنے کے لیے ملتی ہیں۔لیکن کچھ بچوں کو ان چھٹیوں میں بھی اکیڈمیوں میں بھیجا جاتا ہے کہ کورس پہلے کور کر لیں۔یا چھٹیوں کا کام ختم کرنے کے لیے۔کچھ بچوں کو تو میں نے پندرہ جون کے قریب بہاولپور سے آتے ہوئے خانیوال کے روڈ پہ سکول کی یونیفارم میں بھی دیکھا تھا۔حالانکہ چھٹیاں بائیس مئی سے ہوئی پڑی ہیں۔پتہ نہیں یہ سکول کیوں کھلے ہوئے ہیں۔یہ دو مہینے تو بچوں کو آرام کرنے دیا کریں۔والدین سے ہاتھ جوڑ کے ریکویسٹ ہے اگر ایسا ہو تو اداروں کو اطلاع دیا کریں۔باقی جن بیچاروں کے بچے اس سانحے میں اللہ کو پیارے ہوئے ان کو اللہ صبر عطا فرمائیں۔آمین