04/03/2026
خبرنامہ:- انجمن مرکزیہ گوجراں پاکستان ایوان گوجر لاہور
موضوع:- انجمن مرکزیہ گوجراں پاکستان کے الیکشن کے خلاف سازش، اس کی حقیقت اور مکمل حقائق
تحریر:- چوہدری نثار احمد گجر ترجمان مرکزی صدر
25 اپریل 2025ء بروز جمعہ ایوانِ گوجر لاہور میں صدر محترم چوہدری سلیم الٰہی گجر کی زیرِ صدارت انجمن مرکزیہ گوجراں پاکستان کا ایک اہم اور تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے ایجنڈا کی شق نمبر 4 (بحوالہ گوجر گزٹ مئی 2025ء صفحہ نمبر 6) کے مطابق ضلعی صدور سے باقاعدہ مشاورت کے بعد ملک بھر میں تنظیم سازی کے عمل کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر واضح اور دوٹوک ہدایت جاری کی گئی کہ 30 اگست 2025ء تک تنظیم سازی مکمل کی جائے تاکہ صدارتی انتخاب 2026-2029ء میں صرف باقاعدہ اور تصدیق شدہ ووٹرز ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
اس اجلاس میں چوہدری محمد اسلم گجر اور چوہدری ثمین شفاقت گجر بھی شریک تھے۔ بعد ازاں اگست 2025ء کے گوجر گزٹ (صفحہ نمبر 4) میں ایک مکمل صفحہ پر یاد دہانی کا اشتہار شائع کیا گیا، جس کی آخری سطر میں واضح الفاظ میں درج تھا:
“اگر آپ 30 اگست 2025ء تک تنظیم سازی مکمل کرنے میں ناکام رہے تو صدارتی انتخاب 2026-2029ء میں ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں رہیں گے، لہٰذا موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔”
یہاں سے وہ حقائق شروع ہوتے ہیں جنہیں قوم کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ نائب صدر پنجاب چوہدری محمد اسلم گجر نے 28 ستمبر 2025ء کے سہ ماہی اجلاس میں تنظیم سازی کے لیے مزید 15 دن کی مہلت کی درخواست کی اور یقین دہانی کروائی کہ وہ تنظیم سازی مکمل کر کے ووٹ درج کروائیں گے۔ صدر محترم نے باہمی مشاورت سے یہ مہلت منظور کی، مگر افسوس کہ مقررہ اضافی مدت کے باوجود مذکورہ گروپ اپنی چار سرپرست ووٹوں کے علاوہ کوئی ووٹ درج نہ کروا سکا۔
دسمبر 2025ء کے گوجر گزٹ (صفحہ نمبر 22) میں شائع شدہ حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق اس گروپ کی جانب سے بطور سرپرست صرف چار ووٹ درج کروائے گئے۔ ان میں چوہدری محمد اسلم، چوہدری ثمین شفاقت اور عبدالحفیظ انجم کے نام شامل تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ووٹر لسٹ شائع ہوئی تو اس وقت کسی قسم کا کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔
23 دسمبر 2025ء کے سہ ماہی اجلاس میں بھی یہ افراد شریک ہوئے۔ نائب صدر چوہدری اعظم گورسی نے بھرے اجلاس میں جو نکات پیش کیے، ان کا کوئی مدلل جواب نہ دیا جا سکا۔ اسی اجلاس میں الیکشن کمیشن اور معزز ممبران کی منظوری دی گئی (بحوالہ گوجر گزٹ جنوری 2026ء صفحہ 7)، تب بھی کسی قسم کا اعتراض ریکارڈ پر نہیں آیا۔
جب الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کا اعلان کیا تو نہ شیڈول پر اعتراض اٹھایا گیا اور نہ ہی شفافیت پر کوئی سوال کیا گیا۔ اسی گروپ نے باقاعدہ کاغذاتِ نامزدگی وصول کیے، ایوانِ گوجر میں جمع کروائے اور فوٹو سیشن بھی کروایا۔ اس مرحلے تک ووٹر لسٹ بھی درست تھی اور الیکشن کمیشن بھی قابلِ قبول تھا۔
لیکن جیسے ہی انتخابی عمل غیر جانبداری، خوش اسلوبی اور شفاف انداز میں آگے بڑھنے لگا اور قوم میں جمہوری بیداری کی فضا قائم ہوئی تو اچانک اسی گروپ کی بدنیتی سامنے آ گئی اور عدالت میں الیکشن رکوانے کی درخواست دائر کر دی گئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سازش کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے۔
کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نائب صدر تنظیمی پنجاب کے منصب پر رہتے ہوئے کتنی فعال تنظیمیں قائم کی گئیں؟ بڑے دعوے کیے گئے کہ ذاتی حیثیت سے لاکھوں روپے قوم پر خرچ کیے جاتے ہیں، مگر گوجر گزٹ مئی 2025ء (صفحہ نمبر 8) کے مطابق چوہدری محمد اسلم گجر، چوہدری عبدالحفیظ انجم اور چوہدری ثمین شفاقت کھٹانہ کو دورہ سوات، مالاکنڈ ڈویژن کے اخراجات کی مد میں 53,951 روپے انجمن کے فنڈ سے ادا کیے گئے۔ 28 ستمبر 2025ء کے اجلاس میں پٹرول اور ٹول پلازہ کے اخراجات بھی وصول کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ جو حضرات سفری اخراجات بھی تنظیمی فنڈ سے وصول کریں، ان کے ذاتی خرچ کے دعوؤں میں کس قدر صداقت باقی رہ جاتی ہے؟ چوہدری محمد اسلم گجر آپ نے انجمن گوجراں کو پانچ لاکھ دینے کا اعلان کیا تھا قوم پوچھتی ہے یہ وعدہ کب پورا کرو گے۔
میں نے یہ تمام حقائق ثبوت اور حوالہ جات کے ساتھ قوم کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ اگر ایک بات بھی غلط ثابت ہو جائے تو میں قوم سے معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 16 برسوں سے فیصل آباد سوساں روڈ اور کراچی میں ایک مخصوص گروپ سرگرمِ عمل ہے جس کا ایجنڈا گوجر قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا رہا ہے۔ جب بھی قوم ترقی کی طرف گامزن ہوتی ہے، یہ عناصر متحرک ہو جاتے ہیں۔ اب لاہور میں بھی انہی کی سرپرستی میں یہی طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے، مگر ماضی کی طرح اس بار بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چوہدری سلیم الٰہی گجر جب پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے تو ان کے خلاف بھی سازش کے تحت مقدمات قائم کیے گئے، مگر جب فیصلہ کن مرحلہ آیا تو مخالفین اپنے کاغذات تک عدالتوں میں چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ اس بار بھی حقیقت اور سچائی سرخرو ہوگی۔
صدر چوہدری سلیم الٰہی گجر کا کردار، دیانت اور خدمات پوری قوم کے سامنے روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے انجمن کو استحکام، وقار اور تنظیمی مضبوطی کے اس مقام تک پہنچایا جس کا خواب ہمارے اکابرین نے دیکھا تھا۔ اصل جرات میدانِ عمل میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں ہوتی ہے، نہ کہ پسِ پردہ سازشوں اور عدالتوں کی اوٹ میں۔
میں ان عناصر کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ اگر جرات ہے تو نام اور مقام کے ساتھ سامنے آئیں۔ ہم ہر فورم پر دلائل، شواہد اور حقائق کے ساتھ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انجمن مرکزیہ گوجراں پاکستان کا جمہوری سفر کسی سازش سے نہیں رکے گا۔ قوم باشعور ہے، حقائق سے آگاہ ہے اور انشاءاللہ اتحاد، یکجہتی اور نظم و ضبط کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن رہے گی۔
اللہ رب العزت ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے۔ نبی پاک ﷺ، آپ کی آلِ پاک اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کروڑوں درود و سلام ہو۔ آمین