29/04/2024
شدت سے رہا خوفِ خدا رات گئے تک
جب درد نہ ہمدرد ہوا رات گئے تک
ہم جیت گئے ، وقتِ سحر اپنے نفس سے
لیکن رہے پابندِ انا رات گئے تک
جس روز شجر ایک کٹا ۔۔ سامنے اپنے
اس روز یہ دل روتا رہا رات گئے تک
لائی ہے سحر ایک نیا دن ، نیا جذبہ
گویا تھی تعاقب میں قضا رات گئے
گویا ہوئی پر شور خموشی ۔۔ کوئی دل میں
بیخود ہوۓ ۔۔ تب خود کو سنا رات گئے تک
حد درجہ خطرناک اذیت کا سبب تھا
دکھ چپکے سے تنہا جو سہا رات گئے تک
کرنے لگوں سجدہ تو چھلک پڑتی ہیں آنکھیں😓
یاد آتی ہے ہر ایک خطا رات گئے تک
صد شکر ، شبِ غم نہیں دیکھی کبھی "طاہر"
رہتا ہے ِمرے ساتھ خدا رات گئے تک