Ijaz Ul Haq Shinwari Official

Ijaz Ul Haq Shinwari Official Vlogger
Education Update 🖥️
Photographer 📸
Create Documentary's

ء(ideal self vs self image)سائیکالوجی میں  ایک  اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، سیلف امیج (self image). انسان خود کو کیسے دیک...
05/09/2024

ء(ideal self vs self image)

سائیکالوجی میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، سیلف امیج (self image). انسان خود کو کیسے دیکھتا ہے, کیا سمجھتا ہے اس کو سیلف امیج کہتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور اصطلاح استعمال ہوتی ہے، آئیڈیل سیلف (ideal self)۔ انسان کیسا بننا چاہتا ہے، کیسا دکھنا چاہتا ہے، کیسے ہونا چاہتا ہے، اس کو آئیڈیل سیلف کہتے ہیں۔ اگر سیلف امیج اور آئیڈیل سیلف ایک جیسے ہوں تو وہ انسان بہت خوش رہتا ہے، پرسکون رہتا ہے، پر اعتماد رہتا ہے۔ لیکن اگر سیلف امیج اور آئیڈیل سیلف میں فرق ہو تو انسان انگزائٹی اور مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے، اس کی زندگی میں سکون کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
مثلا کسی شخص کا رنگ کالا ہے، تو وہ سیلف امیج میں خود کو کالا دیکھے گا، لیکن اگر اس کے آئیڈیل سیلف میں وہ خود کو سفید دیکھ رہا ہے، تو دونوں میں فرق زیادہ ہوگا، جس کی وجہ سے وہ خود کو ناپسند کرے گا، یہ سب کچھ لاشعوری طور پر ہوتا ہے، ان دونوں میں فرق جتنا زیادہ ہوتا جائے گا اتنی ہی احساس کمتری آ جائے گی۔
کیونکہ وہ آئیڈیل سیلف میں خود کو گورا دیکھ رہا ہے، اس لیے وہ ہر دم کوشش کرتا رہے گا کہ کسی طرح اس کا رنگ گورا ہو جائے، اگر وہ لوگوں کے درمیان میں ہوگا تب بھی وہ گھبراہٹ اور نروس رہے گا وہ لاشعوری طور پر یہ سوچ رہا ہو گا کہ مجھ کو جیسا ہونا چاہیے تھا ویسا میں نہیں ہوں۔ یہ مسئلہ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں میں زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اکثر لڑکیاں رنگ کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہوتی ہیں۔
انسان کا رنگ کیونکہ قدرتی ہوتا ہے اس لئے یہ تبدیل ہونا کافی مشکل ہوتا ہے، لیکن اس کا نقصان یہ ہوگا کہ وہ پریشان رہے گا، اس کا اعتماد کم ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ ایسا کرے کہ اپنے آئیڈیل سیلف میں خود کو اسی رنگ میں دیکھے جیسا اس کا اصل رنگ ہے، تو اس کا سیلف امیج اور آئیڈیل سیلف بالکل ایک جیسے ہو جائیں گے،
Self image = ideal self
اگر وہ آئیڈیل سیلف میں اسی کالے رنگ میں خود کو مسکراتا ہوا, ہنستا ہوا اور پراعتماد دیکھے گا تو اس کا سیلف امیج بھی ویسا ہی بن جائے گا کیونکہ پراعتماد ہونا ممکن ہے جبکہ رنگ تبدیل ہونا یہ کافی مشکل ہوتا ہے۔
آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کچھ لوگ رنگ کے کالے ہوتے ہیں یا ان کا قد بہت چھوٹا ہوتا ہے یا ان کے بال سفید ہوتے ہیں یا کوئی اور جسم کا حصہ عام انسانوں جیسا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ بہت خوش نظر آتے ہیں، بہت پر اعتماد نظر آتے ہیں۔ اس کے پیچھے فلاسفی یہی ہوتی ہے کہ ان کے اندر تبدیل ہونے کی خواہش نہیں ہوتی، ان کا آئیڈیل سیلف ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ وہ خود ہیں۔
جب والدین بچوں کو کہتے ہیں کہ فلاں بچہ تم سے زیادہ اچھا ہے تو اس بچے کے ذہن میں آئیڈیل سیلف اس بچے جیسا ہوتا ہے جو اس سے آگے ہے، جبکہ اس کا سیلف امیج تو وہی ہے جو حقیقت میں ہے، اس لئے ان دونوں میں فرق زیادہ ہونے کی وجہ سے بچہ اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے والدین کو چاہیے کہ وہ ایسی غلطی نہ کریں۔
اسی لیے ہر مذہب میں یہی تعلیم ملتی ہے کہ آپ جیسے ہیں ویسے ہی خود کو قبول کریں، اس طرح قبول کرنے سے انسان کی زندگی میں سکون اور خوشی ہو جاتی ہے، یہاں اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں وہ چیزیں شامل ہیں جو قدرتی ہیں، جو کہ تبدیل نہیں ہو سکتی، جیسے انسان کا رنگ، اس کا قد، اس کے بال، آنکھیں, نظر، دانت، ذہانت، آواز، لہجہ وغیرہ، جبکہ جو دوسری خوبیاں ہیں جیسے اعتماد، بردباری، صبر، بہادری، سخاوت، دوسروں کو سمجھنا، اس کے علاوہ تمام اچھی عادتیں وغیرہ۔ یہ سب چیزیں فکس نہیں ہیں ان کو آپ بہتر کر سکتے ہیں۔
نفسیات میں یہ چیزیں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن ان کا اثر انسان کی شخصیت پر اس کے رویے پر اس کی سوچ پر بہت گہرا ہوتا ہے، اس کی آگاہی دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو بہتر کر سکیں، اپنی لائف کو بہتر کرسکیں۔ اس لیے میں ان کو آسان الفاظ میں اور عام فہم انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، جس سے ایک کم پڑھا لکھا شخص بھی سائیکالوجی کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ جیسا کہ ایلا بیکر نے کہا تھا
"Give light and people will find the way."
آپ روشنی کریں لوگ خود اپنا راستہ ڈھونڈ لیں گے"۔

25/02/2024

I never held you, but I feel you.

You never spoke, but I hear you.

I never knew you, but I love you.

کوہ مور 🏔️⛰️کوہ مور۔ عرف عام میں ضلع باجوڑ کے باسی اسے کیمور کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔۔تاریخی نقطہ نگاہ سے عظیم پہاڑ جسے ...
24/02/2024

کوہ مور 🏔️⛰️
کوہ مور۔ عرف عام میں ضلع باجوڑ کے باسی اسے کیمور کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔۔تاریخی نقطہ نگاہ سے عظیم پہاڑ جسے ارین نامی مورخ نے میروس (Mount Merus) کے نام سے یاد کیا ہے ۔یہ تاریخی پہاڑ ضلع باجوڑ اور ضلع مہمند کا سنگھم ہے . باجوڑ کا سب سے اونچا پہاڑ ہے . اس پہاڑ کی چوٹی سے ضلع مالاکنڈ ، دیر ، مہمند اور حتی کہ اگر موسم صاف تو پاک افغان بارڈر اور افغانستان بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
کوہ مور کے حوالے سے سر ولئیم جونز لکھتے ہیں ۔
According to Sir William Jones, "Meros is said by the Greeks to have been a mountain in India, on which their Dionysos was born, and that Meru, though it generally means the north pole in Indian geography, is also a mountain near the city of Naishada or Nysa, called by the Greek geographers Dionysopolis, and universally celebrated in the Sanskrit poems۔

یونانی مورخ ارین کے مطابق ۔۔
When Alexander came to Nysa the citizens sent out to him their president, whose name was Acuphis, accompanied by thirty of their most distinguished men as envoys, to entreat Alexander to leave their city free for the sake of the god۔
جب سکندر اعظم نیسا شہر پہنچا تو شہر کے نمائندوں نے اس سے ملاقات کی اور اس سے کہا کہ وہ شہر اور زمین پر قبضہ نہ کرے کیونکہ دیوتا ڈیونیسس نے اس شہر کی بنیاد رکھی تھی اور اس نے اپسرا کے نام پر اس کا نام نیسا رکھا تھا۔
۔ڈاکٹر ہری رام گپتا کے مطابق موریہ سلطنت کے بانی چندراگپتا کا عروج بھی اسی کوہ مور سے ہوا ۔نوجوان رہنما کا تعلق جس خاندان سے تھا اس کا نام موریا تھا اور یونانی ریکارڈ کے مطابق اس کی شناخت مورئیس قبیلے سے ہوتی ہے۔ ذکر ہے کہ سوات کے علاقے (یعنی پاکستان کے صوبہ سرحد) کی وادی کوہ مور میں نیسا نام کا ایک شہر تھا۔ نیسا ایک چھوٹی پہاڑی ریاست تھی جو اب ناپید ہے۔ تین اونچی چوٹیوں والا پہاڑی سلسلہ جسے "مور" کہا جاتا ہے یونانیوں کی زبان میں میروس جسکے سائے میں نیسا کا شہر آباد تھا ۔ اسی کوہ مور کے سائے میں رہائش پذیر میرو لوگ جن کا یونانی کلاسک میں ذکر ملتا ہے ۔ان میروس یا مورس کے 300 گھڑ سواروں کا دستہ 326 قبل مسیح میں پھر سکندر اعظم کے ساتھ ہندوستانی مہم میں شامل رہا ۔
چوتھی صدی قبل مسیح میں، روایت یہ ہے کہ چندرگپت مور پالنے والوں، چرواہوں اور شکاریوں کے درمیان پلا بڑھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ ابھی لڑکا تھا، اس نے سکندر سے پنجاب میں ملاقات کی تھی۔چندرگپت موریہ [ (350-295 BCE) قدیم ہندوستان میں موریہ سلطنت کا پہلا شہنشاہ تھا جس نے مگدھ میں واقع جغرافیائی طور پر وسیع سلطنت کو وسعت دی اور موریہ خاندان کی بنیاد رکھی۔ اس نے 320 قبل مسیح سے 298 قبل مسیح تک حکومت کی۔ موریہ سلطنت پھر اس کے پوتے اشوک کے دور حکومت میں 268 قبل مسیح سے 231 قبل مسیح تک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
چندرگپتا نے اپنی سلطنت کو اس وقت وسعت دی جب سیلیوکوکس (سکندر اعظم کے جرنیل) نے سندھ کے مشرق میں صوبوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام ہو گیا اور اسے چندرگپت کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اس نے 500 ہاتھیوں کے بدلے کابل، ہرات، قندھار اور بلوچستان سمیت ایک بڑا علاقہ دے دیا۔ کم از کم وادی کابل کے ایک حصے کو موریہ سلطنت کے اندر شامل کرنے کی تصدیق اشوکا کے نوشتہ جات کے شواہد سے ہوتی ہے۔

تحریر ۔۔امجد علی اتمانخیل ۔

Source Reports of DR HR Gupta ,
Arrian, Anabasis of Alexander,

24/02/2024
Just Prepare your passport and renew your RMP.
21/02/2024

Just Prepare your passport and renew your RMP.

‏::::دنیا کے لیئے بد صورت ترین مگر اپنے وقت کے بہترین کردار:::::لیزی کو دنیا کی بدصورت ترین خاتون کہا گیا اس پر لاکھوں م...
20/02/2024

‏::::دنیا کے لیئے بد صورت ترین مگر اپنے وقت کے بہترین کردار:::::

لیزی کو دنیا کی بدصورت ترین خاتون کہا گیا اس پر لاکھوں میم بنائے گئے اس کو یہاں تک کہا گیا کہ اتنی بدصورتی کے ساتھ جینے سے اچھا مر جاؤ
مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور گریجویشن کے بعد تین کتابیں لکھ کر لاکھوں حسن والوں کے منہ بند کر ڈالے
اور پھر وہ دنیا کی بہترین موٹیویشنل سپیکر میں سے ایک بن گئی
اور مایوس افراد کو جینے کا ڈھنگ سکھانے والی بن گئی

اسی طرح عالمِ اسلام کی مشہور شخصیت جاحظ بھی تھے

جاحظ اعتقاداً معتزلی تھا اور انتہائی بد صورت تھا مگر انتہائی ذہین
جتنا بد صورت تھا اتنا ہی عظیم عالم تھا

جاحظ کی بد صورتی کے بارے کہا گیا

الجاحظ يقول الشاعر
لو يمسخ الخنزير مسخا ثانيا ... ما كان إلا دون قبح الجاحظ

اگر خنزیر کو دوبارہ مسخ کیا جائے تو پھر بھی وہ جاحظ سے کم بد صورت ہوگا

کسی نے جاحظ سے پوچھا آپ کبھی شرمندہ ہوئے؟

کہا ہاں ایک بار کوئی بوڑھی عورت میرے پاس آئی اور کہا مجھے آپ سے کچھ کام ہے میرے ساتھ آئیں

میں چلا گیا وہ مجھے ایک سنار کے پاس لے گئی اور سنار کے سامنے مجھے کھڑا کر کے چلی گئی

میں نے سنار سے پوچھا میرے لائق کوئی حکم؟

کہنے لگا یہ بوڑھی عورت مجھ سے تقاضا کر رہی تھی میں اسکو شیطان کی مورتی بنا کر دوں

میں نے کہا شیطان کو دیکھا نہیں میں نے تو وہ کہتی میں لاتی ہوں تم ویسی مورتی بنا دینا
پھر وہ آپ کو ساتھ لے آئی اور کہا ایسا ہوتا ہے شیطان!!!

اس سب کے باجود جاحظ علم کا پہاڑ تھا علوم اسلامیہ میں جہاں بھی بلاغت کا ذکر آتا ہے جاحظ ایک ستون کی طرح نظر آتا ہے

مگر اس نے اپنی بد صورتی کو حصول علم اور بڑا انسان بننے میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیا۔یوں تو جاحظ نے دو سو سے زائد کتابیں لکھیں، جن میں سے ارتقا کے سلسلے میں 'کتاب الحیوان' سب سے دلچسپ ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیائی کتاب میں انھوں نے ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا ہے۔ ویسا ہی احوال جو آج آپ کو وکی پیڈیا پر مل جاتا ہے۔

دو مثالیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں
ایک لیزی کی دوسری جاحظ کی کہ اتنے بد صورت کوئی ان کے پاس نہ بیٹھے نہ اپنے پاس ان کو بیٹھنے دے مگر انہوں نے ایسا کمال کیا کہ لوگ ان سے ملنے کے محتاج ہوگئے

آپ میں کیا کمی ہے؟ آپ کیوں احساس کمتری کے شکار ہیں؟ آپ کیوں مایوس ہیں؟
ہمت کریں حوصلہ کریں اور دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں
اور یوں کہا کریں
ھم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں۔

پاکستان کے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کے سب سے زیادہقدرتی خوبصورت کرکٹ اسٹیڈیمیہ سطح سمندر سے 8500 فٹ پسن اسٹیڈیم سے اوپ...
20/02/2024

پاکستان کے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کے سب سے زیادہ
قدرتی خوبصورت کرکٹ اسٹیڈیم
یہ سطح سمندر سے 8500 فٹ پسن اسٹیڈیم سے اوپر ہے
World highest Cricket Stadium Gilgit Nagar🏏

"خیبر پختونخوا پولیس" میں متعلقہ اور ضم قبائلی اضلاع کے مرد و خواتین امیدواران کے لئے "کانسٹیبل" کی ہزاروں  آسامیاں خالی...
16/02/2024

"خیبر پختونخوا پولیس" میں متعلقہ اور ضم قبائلی اضلاع کے مرد و خواتین امیدواران کے لئے "کانسٹیبل" کی ہزاروں آسامیاں خالی۔آسامیوں کی تفصیل 18 تاریخ کو etea ویبسائٹ پر دی جائے گی۔

تعلیمی قابلیت: میٹرک
درخواست دینے کا طریقہ کار: etea کے ویبسائٹ پر
درخواست کی دستیابی ویبسائٹ پر: 18 فروری
درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ: 3 مارچ

پاکستان میں بھکاریوں سے متعلق حیران کن حقائق 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری ہیں جس میں 12 فیصد...
16/11/2023

پاکستان میں بھکاریوں سے متعلق حیران کن حقائق
24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری ہیں جس میں 12 فیصد مرد، 55 فیصد خواتین، 27 فیصد بچے اور بقایا 6 فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں.
ان بھکاریوں کا 50 فیصد کراچی، 16 فیصد لاہور، 7 فیصد اسلام آباد اور بقایا دیگر شہروں میں پھیلا ہوا ہے.
کراچی میں روزانہ اوسط بھیک 2ہزار روپے، لاہور میں 1400 اور اسلام آباد میں 950 روپے ہے.
پورے ملک میں فی بھکاری اوسط 850 روپے ہے.
روزانہ بھیک کی مد میں یہ بھکاری 32 ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں.
سالانہ یہ رقم117 کھرب روپے بنتی ہے
ڈالر کی اوسط میں یہ رقم 42 ارب ڈالر بنتی ہے.
بغیر کسی منافع بخش کام کے بھکاریوں پر ترس کھا کر انکی مدد کرنے سے ہماری جیب سے سالانہ 42 ارب ڈالر نکل جاتے ہیں.
اس خیرات کا نتیجہ ہمیں سالانہ 21 فیصد مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور ملکی ترقی کے لئے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد کی عظیم الشان افرادی قوت کسی کام نہیں آتی.
جبکہ ان سے کام لینے اور معمولی کام ہی لینے کی صورت میں آمدنی 38 ارب ڈالر متوقع ہے جو چند برسوں میں ہی ہمارے ملک کو مکمل اپنے پاؤں پر نہ صرف کھڑا کرسکتی ہے بلکہ موجودہ بھکاریوں کے لئے باعزت روزگار بھی مہیا کرسکتی ہے.
اب اگر عوام اسی مہنگائی میں جینا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کی روٹی ان بھکاریوں کو دیکر مطمئن ہیں تو بیشک اگلے سو سال اور ذلت میں گزارئیے.
لیکن
اگر آپ چند سالوں میں ہی مضبوط معاشی استحکام اور اپنے بچوں کے لئے پرسکون زندگی دینا چاہتے ہیں تو آج ہی سے تمام بھکاریوں کو خداحافظ کہہ دیجیے. پانچ سال کے بعد آپ اپنے فیصلے پر انشاللہ نادم نہیں ہونگے اور اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوشی محسوس کرینگے.

بنگلہ دیش نے جس دن بھکاری سسٹم کو خدا حافظ کہا تھا، اسکے صرف چار سال بعد اسکے پاس 52 ارب ڈالر کے ذخائر تھے.
کیا ہم اچھی بات اور مستند کام کی تقلید نہیں کرسکتے.

اب اپنے بچوں کے لئے فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے ..!!

استاد اور استاذ میں فرق استاد:ایسا شخص جو کسی کو ایسا کام سکھائے جس کا تعلق کسی فن وغیرہ سے ہو۔مثلاً گاڑی چلانا۔گاڑی ٹھی...
09/11/2023

استاد اور استاذ میں فرق

استاد:
ایسا شخص جو کسی کو ایسا کام سکھائے جس کا تعلق کسی فن وغیرہ سے ہو۔مثلاً گاڑی چلانا۔گاڑی ٹھیک کرنا۔انجن وغیرہ کا کام۔تعمیراتی کام۔کپڑے سینا۔لوہے۔لکڑ۔پتھر۔سونے۔اور دیگر کام سکھانا جن کا تعلق ہاتھوں سے ہو۔لفظ استاد کی جمع اساتید اور استادان ہے۔

استاذ:

ایسا شخص جو کسی کو علم سکھائے۔تعلیم دے۔اور علم کی بہ دولت اس کی زندگی میں ایسی تبدیلی لائے کہ دوسرے اس پر رشک کریں۔استاذ کی جمع اساتذہ ہے۔
عام طور پر استاد کی جمع اساتذہ کی جاتی ہے جو غلط ہے۔
استاذ کی جمع ؟؟ استاد فارسی کا لفظ ہے اس کی جمع اساتید ہے اور استاذ عربی کا لفظ ہے اس کا جمع اساتذہ

لفظ 'استاد' اور 'استاذ' میں تین لحاظ سے فرق ہے:استاد اور استاذ میں فرق:

پہلا فرق (لسانی):
اصل لفظ 'استاد' ہے جو کہ فارسی کا ہے ، پھر اسے معرب کرکے 'استاذ' کردیا گیا جس کی جمع کے صیغے 'ساتذہ' ، 'استاذون' اور 'اساتیذ' قرار پائے ( المعجم الوسیط) اور مؤنث کے لئے غالباً 'استاذة' ہے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ 'استادِ محترم' کہنا اولیٰ ہے اور یہی مستعمل ہے، البتہ خالص عربی تراکیب میں 'استاد' کہنا غلط ہوگا، جیسے 'استاذ الاستاذۃ' ، 'استاذی (میرے استاد)' ، 'استاذ الانام' وغیرہ ، جبکہ ترکیبِ فارسی کی صورت میں 'استاد' لانا بہتر ہے ، جیسے 'استادِ محترم' ، 'استادِ روزگار' ، اسی طرح اردو مرکبات میں بھی 'استاد' کہنا چاہئے، جیسے: 'استادوں کا استاد' ، 'استاد بیٹھے پاس ، کام آئے راس' ، اس کی اردو جمع 'استاد' اور 'استادوں' اور مؤنث 'استانی' ہے، جبکہ فارسی جمع 'استادان' ہے جیسے استادانِ گرامی، فارسی میں تذکیر و تانیث نہ ہونے کی وجہ سے مؤنث کے لیے بھی 'استاد' ہی استعمال ہوتا ہے۔
بعض حضرات اس تحقیق کا عکس بتاتے ہیں کہ "استاذ" اصل ہے اور "استاد" اس کا مفرس ہے ، مگر عربی اور فارسی الفاظ کی ساخت میں غور کرنے سے یہی واضح ہوتا ہے کہ "استاد" فارسی الاصل ہے، اسے عربی میں لے جاکر "دال" کو "ذال" سے بدل دیا گیا۔ نیز قدیم عربی لغات میں اس لفظ کا موجود نہ ہونا بھی اس بات کی علامت ہے کہ یہ عربی الاصل نہیں ہے، حتی کہ "معجم لغة الفقهاء" میں بصراحت لکھا ہے کہ "استاذ" معرب ہے۔

دوسرا فرق (معنوی):
لفظ "استاذ" جو کہ معرب ہے وہ محض "معلم" اور "سکھانے والا" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، جبکہ لفظ "استاد" جو کہ اصل ہے اور فارسی کا ہے وہ اردو میں تین معنوں کے لیے مستعمل ہے:
(1)معلم ، ماسٹر ، ٹیچر
(2)ماہرِ فن ، تجربہ کار
(3)چالاک۔
مزید معانی بھی بتائے جاتے ہیں ، مگر وہ انھی تین سے نکلتے ہیں۔

تیسرا فرق (استعمالی):
مدرسے یا اسکول میں سکھانے والے کو "استاذ" کہنا چاہیے ، جبکہ کسی ہنر اور پیشے کے سکھانے والے کو "استاد" کا نام دینا چاہیے ، مگر یہ فرق بعض حضرات کا بیان کردہ ہے، اور کئی دوسرے اختلافی مسائل کی طرح یہ بھی ایک اختلافی مسئلہ ہے!

Address

Khar Bajaur P/o Khar District Bajaur
Kpk
18680

Telephone

+923060563623

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ijaz Ul Haq Shinwari Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ijaz Ul Haq Shinwari Official:

Share