Old Pictures Of Kohat

Old Pictures Of Kohat اس صفحے پر زمانۂ قدیم کے کوہاٹ کی حدود کے مطابق تصاویر, آڈیوز اور ویڈیوز کے ذریعے قدیم کوہاٹ کی عکاسی کی جاتی ہے.

15/06/2026

مندرجہ مجاہدین تحریک پاکستان کے حالات تاحال نہ مل سکے ساتھی تعاون فرمائیں ۔
ہنگو سے
1. ڈاکٹر محمد رحیم خان
2. ملک رضا خان
3. حاجی غلام حامد خان
4. جہانداد خان
5. کمال قصاب
کوہاٹ سے
1. غلام محمد خان
2. نجم الدین
3. تاج الدین کیانی
4. عبدالرشید کیانی
5. حنیف خان
6. لطیف خان
7. امیر محمد خان
8. علی محمد خان
9. عبدالحمید خان
10. اسلم خان
11. حافظ ثناء اللہ پراچہ
12. گل خان لاچی
13. میاں نور شاہ لاچی
14. شیر افضل لاچی
15. کمال شاہ جنگل خیل
16. نذیر حسین گیلانی
17. پیر بخش پراچہ
18. حسین بخش پراچہ
19. نیازبت خان خٹک
20. حاجی عبداللہ پراچہ
21. حاجی کرم الہی
22. قاضی مطیع الدین
23. بابو جمیل عباسی
24. ملا اچار والا
25. حاجی جبار
26. ہمایون شاہ ایڈوکیٹ
27. قیوم شاہ
28. ایوب شاہ
29. ملک حیات خان درہ آدم خیل
از
محمد طفیل کوہاٹی
03325876050

F.G. Pubm High School Kohat Cantt........1980 کی دہائی کے ہمارے اساتذہِ کرام۔  دائیں سے بائیں:کینٹن والے حاجی صاحبسر محب...
15/06/2026

F.G. Pubm High School Kohat Cantt........
1980

کی دہائی کے ہمارے اساتذہِ کرام۔
دائیں سے بائیں:
کینٹن والے حاجی صاحب
سر محب اللہ (پی ٹی آئی)
سر معصوم شاہ مرحوم
سر یاسین (پرنسپل) مرحوم
سر عبد الحمید خٹک (وائس پرنسپل) مرحوم
مطالعہ پاکستان والے سر (اسم فراموش شد)
سر تنویر شاہ
سر عجب گل مرحوم

اللہ پاک مرحومین کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور جو بقید حیات ہیں ان کو صحت وسلامتی عطا فرمائے ۔
انکے جو شاگرد یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں، اپنے کومنٹس سے ضرور نوازیں۔

(مقام اسکول کا اسمبلی گراؤنڈ ہے۔۔پیچھے آڈیٹوریم کا دروازہ واضح ہے۔)

تشکر
عارف شاہ

Darra Adam Khel......1947درہ آدم خیل ۔۔۔
15/06/2026

Darra Adam Khel......1947درہ آدم خیل ۔۔۔

انگریزوں کی جارحانہ حکمت عملی اور آدم خیل قبائل قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔16تین جنوری1878 کوما سوائے ملک مشکی کے 60 قبائلئ...
14/06/2026

انگریزوں کی جارحانہ حکمت عملی اور آدم خیل قبائل
قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔16

تین جنوری1878 کوما سوائے ملک مشکی کے 60 قبائلئ زعماء نے شین ڈنڈ میں بریگیڈیئر کائے کے ساتھ ایک جرگہ کیا جسے انگریزوں نے جواکی کی کمزوری سمجھنے ہوئے یہ سمجھا کہ:

ان کی طاقت کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور یہ کہ ان میں مزید جنگ کی سکت نہیں اس لیے انہوں نے جواکی قبائل سے 10 ہزار روپے جرمانہ اور لا تعداد بندوق حکومت کے حوالے کرنے کے علاوہ ان کے علاقہ میں سڑک کی تعمیر اور تورکی کے ملک مشکی کے بھائی خستو، پایا کہ ملک ذال بیگ کے بھائی حسن اور شیرو کی حوالگی کا مطالبہ کیا لیکن جواکی قبائل نے ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھی۔

اس دوران جواکی قبائل کے کچھ خاندانوں نے گلی افریدیوں کے ہاں پناہ لی۔
انگریزوں نے اس خوف سے کہ کہیں گلی اور جواکی مشترکہ طور پر ان کے خلاف محاذ اراء نہ ہو جائیں گلی قبائل سے مطالبہ کیا کے جواکی افریدیوں کو ان کے حوالے کر دیا جائے۔

گلی افریدیوں نے جب انگریزوں کی خواہش پوری کرنے سے معذوری ظاہر کی تو انہیں یہ دھمکی دی گئی کہ اگر جواکی قبائل نے ائندہ علاقہ سرکار پر حملہ کیا تو گلی قبائل ان کے ذمہ دار ٹہرائے جائیں گے۔
اس دوران صلح کے لیے بات چیت شروع ہو گئی اور چار مارچ 1878 کو پشاور میں ایک دربار کے موقع پر جواکی قبائل نےپانچ ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے اپنے علاقے سے چار ملکوں کو علاقہ بدر کرنے اور 25 انگریزی اور 25 دیسی ساخت کی بندوقیں انگریزوں کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

انگریزوں نے اس سے دربار کے موقع پر آدم خیل ملکوں کو بھی انعامات دیے جنہوں نے اس لڑائی کے دوران غیر جانب داری کا مظاہرہ کیا تھا۔

حوالہ کتاب
آدم خیل تاریخ کے آئینے میں

تشکر
سیف اللہ

انگریزوں کی جارحانہ حکمت عملی اور آدم خیل قبائل قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔15: 29 اگست 1877 کو درہ تور تنگ کے علاقے کے راستے ...
13/06/2026

انگریزوں کی جارحانہ حکمت عملی اور آدم خیل قبائل

قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔15:
29 اگست 1877 کو درہ تور تنگ کے علاقے کے راستے جواکی پر حملہ کیا گیا لیکن جواکی نے حملہ اور فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

انگریز قیمت خیل کے علاوہ باقی جواکی قبائل کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکے اور اس طرح ان کی یہ مہم ناکامی کا شکار ہو گئی۔
اس حملے کے نتیجے میں دشمن پر جواکی قبائل کے حملوں میں مزید شدت اگئ
09 ستمبر 1877 کو وہ ضلع کوہاٹ سے کئی اونٹ لے گئے اور اس واقعے کے دوسرے روز انہوں نے ٹیلی فون کے مزید تار کاٹ دیے چند دنوں بعد انہوں نے تھانہ شادی پور اور 17 ستمبر کو کوٹلی اور شیخان پر حملہ کیا.
26 ستمبر کو انہوں نے گمبٹ میں ایک سرکاری چوکی پر حملہ کیا اور چار سپاہیوں کو ہلاک کر دیا۔

25 اکتوبر 1877 کو شاہ کوٹ کے نزدیک 22 پنجاب نیٹو انفرنٹری پر حملہ کیا اور 14 افراد کو زخمی اور ہلاک کرنے کے علاوہ ان کی 08 بندوقیں بھی چھین لیں۔

طاقت کے مظاہرے سے جواکی قبائل جب مرغوب نہ ہو سکے تو انگریزوں نے ان کے خلاف ناکہ بندی کا خربہ استعمال کیا اور ان کے علاقے میں غذائی اجناس کے لانے اور لے جانے پر سخت پابندی عائد کر دی۔

اس کے ساتھ ہی حکومت نے 28 اکتوبر 1877 کو گلی، حسن خیل اور آشو خیل کا ایک جرگہ بلایا اور انہیں ہدایت کی کہ جوا کی قبائل کو کسی قسم کی مدد نہ دیں۔

اس دوران انگریزوں نے جواکی پر ایک بڑے حملے کے لئے جنرل روز اور بریگیڈیئر سی بی قاۓ کی سرکردگی میں ایک بڑی فوج جمع کی۔ بریگیڈیئر قائے کی فوج تین حصوں پر مشتمل تھی۔

09 نومبر 1877 کو اس فوج کا پہلا دستہ درہ تورتنگ کے علاقے اور دوسرا دستہ گنڈیالی کی طرف سے علاقے جواکی پر حملہ اور ہوئے۔
تیسرے دستے میں شادی پور کی طرف سے درے نمونگ کے راستے حملہ کیا۔

جواکی نے مقابلہ بڑی دلیری سے کیا لیکن انگریزوں کی منظم فوج کے سامنے نہ ٹہر سکے۔

انگریزوں کے غصے کا نزلہ سب سے پہلے ملک ذال بیگ اور پایا کے قبائل پر گرا اور اس نے ان کے گھروں کو نیست و نابود کر دیا۔

15 نومبر کو اسی فوج نے پایا شین ڈنڈ اور تورکی پروار اور یکم دسمبر 1877 اور سپری اور جاموں پر حملہ کیا جہاں تباہی اور بربادی برپا کر کے اپنی اتش انتقام کو ٹھنڈا کیا۔

دوسری طرف دسمبر کے پہلے ہفتے میں تقریبا 4000 فوج نے میں جنرل روز کی سرکردگی میں کنڈاؤ اور بوڑہ پر حملہ کیا۔

07 اور 08 دسمبر کو اس نے بوڑہ، غریبہ، نرئی خولہ جاموں اور پستوانی میں ملک مشکی اور دیگر جواکی قبائل کے گھروں کو مسمار کر دیا لیکن اتنے نقصانات کے باوجود بھی وہ انگریز کے سامنے سر جھکانے پر امادہ نہ ہوئے۔

حوالہ: آدم خیل تاریخ کے آئینے میں

تشکر
سیف اللہ

تحریک پاکستان کے ان تقریبا ستر کے لگ بھگ مجاہدین کی فہرست مرتب کی ہے ان میں جن کے حالات مجھے معلوم ہے ان پر ✅ لگا ہوا ہے...
13/06/2026

تحریک پاکستان کے ان تقریبا ستر کے لگ بھگ مجاہدین کی فہرست مرتب کی ہے ان میں جن کے حالات مجھے معلوم ہے ان پر ✅ لگا ہوا ہے اور جن کے تاحال معلوم نہیں ان کے ناموں کے اوپر ❎ لگا ہوا ہے ۔ براہ کرم ان کے احوال کی دستیابی میں تعاون فرمائیں ، نیز ان کے علاوہ اگر تحریک پاکستان کے گمنام ہیرو کسی کے علم میں ہوں تو بندہ کو ضرور آگاہ فرمائیں ۔

محمد طفیل کوہاٹی
03325876050

10/06/2026

نن پکئ یو نوے اواز واورے۔
پشپاہنس کپور بہ د تقسیم ہند نہ مخکئ د لاھور ریڈیو د پنجابئ او اردو سندرے وئیلے۔ تقسیم نہ روستو دا ہندوستان تہ لاڑہ۔
دا پشتو سندرہ ئے افغانستان کے ریڈیو باندے وئیلے۔
دا آسٹریلیاء نہ د یو پختون رور ڈاکٹر لطیف یاد ڈالئی۔ متحرک عکس ھم د پشپا ہنس کپور دے۔

تشکر
Aurang Zeb Qasmi

برطانوی حکومت نے مولی ایلس کی بازیابی کے لیے درج ذیل افراد (اور ایک خاتون) کی خدمات حاصل کیں:1۔ قلی خان خٹک (خان بہادر)2...
09/06/2026

برطانوی حکومت نے مولی ایلس کی بازیابی کے لیے درج ذیل افراد (اور ایک خاتون) کی خدمات حاصل کیں:
1۔ قلی خان خٹک (خان بہادر)
2۔ مغل باز خان کوکی خیل آفریدی (خان بہادر)
3۔ نصراللہ خان اورکزئی آف بھانہ ماڑی
4۔ ملک حبیب خان آفریدی آف بابری بانڈہ
5۔ ملک میر محمد خان بنگش آف سدا
6- محمد قلی خان
اس وقت اس علاقے کے پولیٹیکل ایجنٹ تھے۔
7- مغل باز خان
انگریزی فوج میں رسالدار تھے اور اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے معاون تھے۔
8- لیل ین سٹار
ڈبگری پشاور میں واقع مشنری ہسپتال میں نرس تھی اور اپنی خدمات کے بدولت پختون علاقے میں بہت مقبول تھیں۔ ان شوہر پختونو سے جنگ میں مارا گیا تھا ۔
9- افضل خان آفریدی
تعلق غالباً درہ آدم خیل سے تھا ۔ اس وقت سرحد کے انگریز چیف کمشنر ( اب گورنر) کے خاص اور قابل اعتماد قبائلی رہنما تھے۔
قلی خان خٹک،
مغل باز خان، اور
Lillian Starr
کو بادشاہ جارج پنجم کی جانب سے وائسرائے نے قیصر ہند گولڈ میڈل سے نوازا

تحریک پاکستان میں کوہاٹ کا حصہ تصنیف : مولانا محمد طفیل کوہاٹی کوہاٹ پر جب سے اسلام کی کرنیں پڑیں یہاں مسلمانوں کااقتدار...
09/06/2026

تحریک پاکستان میں کوہاٹ کا حصہ
تصنیف : مولانا محمد طفیل کوہاٹی
کوہاٹ پر جب سے اسلام کی کرنیں پڑیں یہاں مسلمانوں کااقتدار رہا یہاں تک کہ 1848 ء میں خواجہ محمد خان بارک زئی نے پہلے سکھوں اور ایک سال بعد انگریزوں کی اطاعت قبول کی ،یہاں کے غیور عوام و مجاہدین نے ایک دن کے لیے بھی انگریزی اقتدار کو قبول نہیں کیا،اورکزئی میران زئی کرم ایجنسی، بہادر خیل سمانہ ہنگو جوا کی اور درہ ادم خیل کے معر کے اس کے شاہد عدل ہیں بیسویں صدی کے اغاز میں انگریزوں کے خلاف سیاسی تحریکوں کا اغاز ہوا کوہاٹ میں بھی بر صغیر کے دیگر خطوں کی طرح تحریک خلافت تحریک ہجرت تحریک خدائی خدمت گار تحریک احرار خاکسار تحریک اپنے اپنے منشور کے ساتھ سامنے ائیں۔ لیکن جلد کوہاٹ کے ہندوؤں نے اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کر دیا جس سے قائدین کوہاٹ کو ادراک ہوا کہ ہندوؤں کے ساتھ ازادی کی متحدہ جدوجہد مسلمانوں کے مفاد میں نہیں لہذا بر صغیر کے دیگر حصوں کی طرح کوہاٹ میں بھی جداگانہ وطن کے حصول کی تحریک شروع ہوئی جسے تحریک پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس تحریک میں کوہاٹ کے نامور قائدین قاضی شفیع الدین حاجی سید سعید بنوری اغا حسین ایوب صابر پیر سید معصوم شاہ پیر سید رسول شاہ بخاری پیر سید قاموس شاہ ایڈوکیٹ میاں افضل شاہ میر عالم خان نواب زادہ محبت علی خان اور پیر شہنشاہ جیسے قائدین نے حصہ لیا انہوں نے جیلیں کاثیں ، ماریں کھائیں جلسے جلوس کیے لیکن پاکستان کا جھنڈا کوہاٹ کی سرزمین پر لہرا کر رہے یہ کتاب تحریک پاکستان کے اغاز سے لے کر ارتقا اور منزل مقصود تک سرزمین کوہاٹ کے ان غیور سپوتوں کی داستان عزیمت پر مشتمل ہے اس میں کئی تاریخی واقعات ہیں اصل تاریخی ماخذ کے حوالے ہیں شخصیات کی بائیوگرافی ہے اور کئی اہم تاریخی انکشافات ہے۔ یہ اپنے موضوع پر کوہاٹ کی پہلی مستقل تاریخ ہے اہل کوہاٹ کے لیے یہ اہم تحقیقی تحفہ انشاءاللہ عنقریب پیش کیا جا رہا ہے۔
از
ندوۃ التحقیق الاسلامی بہادر کوٹ کوہاٹ

عجب خان آفریدی کے نمایاں ساتھیوں کے نام:1- ۔ شہزادہ خان (عجب خان آفریدی کا چھوٹا بھائی)2- ۔ حیدر شاہ پنجابی(عجب خان آفری...
09/06/2026

عجب خان آفریدی کے نمایاں ساتھیوں کے نام:
1- ۔ شہزادہ خان
(عجب خان آفریدی کا چھوٹا بھائی)
2- ۔ حیدر شاہ پنجابی
(عجب خان آفریدی کا داماد)
3- ۔ سلطان میر آفریدی
4- ۔ گل اکبر آفریدی
(سلطان میر آفریدی کا بیٹا)
5- ۔ شیر خان پنجابی
6-۔ اللہ یار خان
(کوہاٹ کے گاؤں سماری سے)
7۔ عالم خان
8۔ کمال خان
9۔ ساز میر ۔۔۔۔۔۔

Address

Gole Sarak Tappi University Road Kohat
Kohat

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 17:00
18:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Old Pictures Of Kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Old Pictures Of Kohat:

Share