Nisar Zakhmi

Nisar Zakhmi agri business

اور پھر یوں ہوا کہمیں اس کی یاد میں سارا دن دھوپ میں بیٹھا رہا
25/01/2023

اور پھر یوں ہوا کہ
میں اس کی یاد میں سارا دن دھوپ میں بیٹھا رہا

Photography Challenge
05/10/2022

Photography Challenge

Photography 📸 📷 📸 WITHOUT EDITING   NOW Paste your BEST
01/10/2022

Photography 📸 📷 📸 WITHOUT EDITING

NOW Paste your BEST

24/09/2022

پل نظر سیلاب ہونے سے 3 دن پہلے

10/03/2020

اب پی ایس ایل بہت بہت دلچسپ ہوگیا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کا اب ایک میچ باقی ہے اگر یہ میچ اسلام آباد یونائیٹڈ ہار جاتی ہے تو اس کا پی ایس ایل سیزن پانچ سے سفر ختم ہو جائے گا اور اگر وہ یہ آخری میچ جیت جاتے ہیں تو پھر اسلام آباد یونائیٹڈ کی قسمت پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے باقی میچ میں ہوگی۔ اگر کوئٹہ کی ٹیم ایک میچ ہارتی ہے اور ایک جیت جاتی ہے اور اسلام آباد یونائیٹڈ جیت جاتی ہے تو کوئٹہ کی ٹیم پی ایس ایل کی دوڑ سے باہر ہوجائے گئ۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے دو میچ باقی ہیں ایک ملتان سلطانز اور دوسرا کراچی کنگز سے رہتا ہے
-
اب رہی بات پشاور زلمی کی تو پشاور زلمی کا آخری میچ جمعہ کو ملتان سلطانز سے ہوگا اگر پشاور ملتان سے میچ جیت جاتی ہے تو پشاور زلمی پلے آف میں پہنچ جائے گی۔ اور اگر پشاور زلمی یہ میچ ملتان سے ہار جاتی ہے تو پشاور زلمی کی قسمت کا فیصلہ اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے میچ میں ہوگا اگر اسلام آباد یونائیٹڈ کراچی کنگز سے ہار جاتی ہے اور پشاور ملتان سے جیت جاتی ہے تو اسلام آباد یونائیٹڈ پی ایس ایل سے باہر ہو جائے گی۔ اور اگر پشاور ملتان سے ہار جاتی ہے اور اسلام آباد یونائیٹڈ کراچی کنگز سے جیت جاتی ہے تو پشاور پی ایس ایل سے باہر ہو جائے گی۔ یاد رہے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ایک ایک ہار اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ایک جیت اسلام آباد یونائیٹڈ کو پلے اف میں پہنچا دے گی اور پھر پشاور اور کوئٹہ کی ٹیم پی ایس ایل کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گی۔ کوئٹہ کے دو میچ اور پشاور کا ایک میچ باقی رہتا ہے۔۔
۔
#منقول

13/11/2019

*کیا عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ صرف مولانا فضل الرحمان نے کہا ھے?*

*یہودی_ایجنڈے_کی_نقاب_کشائی_قدم_بقدم*

سب سے پہلے 1996 میں حکیم سعید شھید رح نے اپنی کتاب "جاپان کہانی" میں یہودی ایجنڈے کو بےنقاب کیا
حکیم سعید شھید رح اپنی کتاب "جاپان کہانی" جو 1996میں شائع ہوئی اسکے صفحہ نمبر 13•14اور 15 میں لکھتے ہیں کہ
"یہودی مدینہ کو یثرب بنانے کا تہیہ کرچکے ہیں اسکے بعد سارا عرب ڈوب مرے گا اور سارا عالمِ اسلام یہودیوں کے زیر اثر آجائے گا
پاکستان کے ایک عمران خان کا انتخاب ہوا ھے یہودی ٹیلی ویژن اور پریس نے عمران خان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ھے
"سی این این" اور "بی بی سی" سب عمران خان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں
برطانیہ جس نے فلسطین تقسیم کرکے یہودی حکومت قائم کرائی وہ ایک طرف عمران کو آگے بڑھا رہا ھے اور دوسری طرف آغاخان کو ہوائیں دے رہا ھے عمران خان کی شادی یہودیوں میں کرا دی گئی ہے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو کروڑوں روپے دئیے جا رہے ہیں تاکہ عمران خان کو خاص انسان بنا دیا جائے وزارت عظمی پاکستان کیلیے ان کو ابھارا جا رہا ھے."

حکیم سعید شھیدرح آگے سوال اٹھاتے ہیں کہ
میرے نوجوانو! "کیا پاکستان کی اگلی حکومت یہودی الاصل ہوگی"
یہ وہ دور تھا جب عمران خان سیاست کی
" س ی ا س ت " یاد کر رہا تھا مگر اس حکیم نے اس مرض کو بروقت بھانپ لیا تھا اور شاید یہی وہ حق و سچ کی جرآت کا نتیجہ تھا کہ یہ کتاب چھپنے کے دوسال بعد 1998 میں حکیم محمد سعید رح کو بے دردی سے شھید کر دیا گیا

🌻پھر دسمبر 1996 میں "جرآت" اخبار نے جرآت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اسم بامسمی بنتے ہوئے مصر کے مشہور روزنامے "الیوم" کی رپورٹ کو اپنے اخبار کی زینت بنایا جسمیں عمران کو یہودیوں کا آلہ کار بتایا گیا تھا یعنی "جرآت" اخبار سے پہلے مصر کا روزنامہ "الیوم" بھی اس یہودی ایجنڈے کو بےنقاب کر چکا تھا

🌻 #اسکےبعد کراچی سے شائع ہونے والے ھفت روزہ "تکبیر" کے 1997 ء کی رپورٹ میں بھی عمران خان کو یہودی سازشوں کا آلہ کار لکھا ھے
رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان جیسے تھرڈ کلاس شخص کے ساتھ سر جیمز گولڈ اسمتھ جیسے کٹر یہودی ارب پتی شخص کے اکلوتی لاڈلی بیٹی کی شادی محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں کے اس نظریے اور فلسفے کا تسلسل ہے کہ کسی بھی شخص کو خوبصورت دوشیزاؤں کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے ؛ عمران خان کے پاس لندن کے 4 مہنگے ترین نائٹ کلبوں کی تاحیات ممبر شپ تھی جہاں پر عام شخص جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا؛ انہی کلبوں میں سیتاوائٹ جیسی یہودی امیرزادیوں کے ساتھ عمران خان تعلقات بناتا تھا
عمران خان کو جس عالمی یہودی کلب کی تعاون حاصل ہے اس کے کل دس "ارب پتی" ممبران ہیں جبکہ گولڈ اسمتھ اس کلب کا مضبوط رکن ہے؛ یہ کلب اتنا مؤثر ہے کہ اس نے یورپین بلاک بننے کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جس کے لئے انہوں نے دو ارب برطانوی پاؤنڈز بھی جمع کیا تھا
عمران خان ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پاکستانی جذباتی قوم کے سامنے ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے تھے اسی وجہ سے اس بدنام زمانہ یہودی کلب کے نظریں عمران خان پر ٹھہر گئی؛ جب عمران خان نے 1996ء میں اپنی جماعت بنا کر الیکشن میں اترے تو ان کو کمپئین چلانے کے لئے خصوصی ہیلی کاپٹر دیا گیا جس کا سارا خرچہ اسی کلب نے ادا کیا

🌻عمران نے 2008 میں اپنے امریکی دورے میں امریکن یونیورسٹی میں خطاب اور اردو ہفت روزہ "پاکستان پوسٹ" کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا "قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا فیصلہ غلط تھا" اس انٹرویو کو کینیڈا سے شائع ہونے اخبار ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے 31 جنوری تا 6 فروری 2008 میں صفحہ اول میں شائع کیا اور کنیڈا کے سہ ماہی رسالہ "نخن انصاراللہ" جنوری تا مارچ 2008 میں بھی انٹرویو شائع ہوا
🌻2013 کے الیکشن میں عمران نیازی نے نادیہ رمضان چوہدری کے ذریعے قادیانیوں سے ووٹ مانگے بدلے میں انھیں حقوق دلانے(مسلم قرار دینے) کی یقین دہانی کروائی

🌻پھر 2011 میں امام سیاست قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے "جرگہ " پروگرام میں سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران نیازی کو یہودی ایجنٹ قرار دیا جسے اس وقت کچھ حضرات نے "سیاسی دشمنی" قرار دیکر پس پشت ڈال دیا مگر ہر آنے والا وقت قائدجمعیت کے موقف کی تائید کرتا رہا
یاد رہے 1996 سے اب تک جتنی آواز بھی یہودی ایجنڈے کی نقاب کشائی کیلیے اٹھی ان میں سب سے زیادہ موثر آواز قائدجمعیت کی رہی ھے
اس کی وجہ یہ ہو سکتی ھے کہ اخباری بیانات تو آئے روز بدلتے رہتے ہیں جبکہ قائدجمعیت ایک ذمہ دار شخصیت ھے جس نے کبھی یوٹرن نہیں لیا
دوسری وجہ یہ بھی ھے کہ 97 -1996 میں نیازی سیاست کے ابتدائی دور میں تھا جبکہ قائدجمعیت اس وقت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے جب یہودی ایجنڈا اپنے عروج پر تھا اور الحمدللہ، اللہ تعالی کی نصرت اور قائدجمعیت کی ثابت قدمی کی بدولت اب یہ ایجنڈا آخری ہچکیاں لے رہا ھے اور جلد ہی زمین بوس ہو جائے گا انشاءاللہ
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ھے کہ قائدجمعیت نے تقریبا دوسال پہلے کوھاٹ جلسے میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ " مجھے دھمکی دی گئی ھے کہ اگر عمران کے خلاف بولنا بند نہ کیا تو کےپی کے میں پیسہ پانی کیطرح بہایا جائے گا اور پیسوں کے ذریعے علماء کو خرید کر مجھے تنہا کر دیا جائے گا "
اب حکومت نے اس ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے آئمہ کیلیے دس ھزار ماہانہ اعزازیہ دینے کا اعلان کیا ھے تاکہ علماء کو خریدا جاسکے مگر آفرین ہو ان آئمہ پر جنھوں نے اس اعزایہ کو مسترد کر دیا اور جو قبول کرنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اللہ انکو بھی سمجھ عطا فرمائے

🌻چند ماہ پہلے عمران نیازی کی سابقہ اھلیہ جمائما کا ایک ٹویٹ بھی سوشل میڈیا کی زینت بنا رہا جسمیں جمائما خان نے عمران نیازی کا وزیراعظم بننے کو "یہودی سازش" قرار دیا تھا

🌻پھر 22 دسمبر 2017 کو "امت" اخبار نے بھی اس ایجنڈے کو بےنقاب کرتے ہوئے لکھا کہ یہودی لابی نے عمران نیازی کو شادی سے پہلے ہی ھائی جیک کر لیا تھا
برطانوی افسر نے جنرل حمیدگل سے کہا کہ "جنرل ھم نے تم سے عمران چھین لیا"
یاد رہے کہ سیاست میں عمران نیازی کو جنرل حمیدگل ہی لائے تھے اور ابتدائی دور میں اسکی سرپرستی بھی کرتے رہے-

🌻یہ تو چند اھم رپوٹس ھیں جو آپ حضرات کے گوش گزار کی ھیں ورنہ ایک مسلمان کے مقابلے میں یہودی کی حمایت کرنا ، نعت کو بورنگ کہہ کر گانا لگوانا، قادیانیوں سے ووٹ مانگ کر انھیں حقوق دلانے کے وعدے کرنا، دھرنے کے نام پہ مجرے منعقد کروا کر فحاشی و عریانی کو فروغ دینے جیسے سینکڑوں واقعات اسکے ایجنڈے کو بےنقاب کرنے اور اہل دانش کی آنکھیں کھولنے کےلیے کافی ہیں جسکے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ صرف اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی ہٹانے کی ضرورت ھے
کیا صرف اس وجہ سے اسے یہودی ایجنڈا ماننے سے انکار کر دیں گے کہ اسے قائدجمعیت نے بےنقاب کیا ھے؟؟؟
کیا صرف قائدجمعیت سے بغض کی وجہ سے مذہبی اتحاد کو اسلام کےلیے نقصان دہ اور عمران نیازی کے کرتوتوں کو اسلامی سوچ اور اسے شیخ الھند رح کا وارث ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی؟ ؟؟
خدارا آنکھیں کھولیے اور حقائق پہچانیے ورنہ پانی سر سے گزرنے کے بعد پھر پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے گا
اس وقت پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

اب جس کا جی چاہے وہ پائے اس سے روشنی
ھم نے دل جلا کر سرعام رکھ دیا ھے

09/11/2019

‏خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

28/10/2019

دل نے کیا درد سنبھالا مِری بربادی کا
ہوگیا شہر میں چرچا مِری بربادی کا

جب جنازہ جو نکالا مِری بربادی کا
وہ بھی تھا محوِ تماشا مِری بربادی کا

حوصلہ مجھ کو نہ دو زخم ہرا ہوتا ہے
ہے یہ چھوٹا سا تقاضا مِری بربادی کا

لوگ آئے تھے تسلّی مجھے دینے لیکن
آ کے احساس دلایا مِری بربادی کا

آہ! واعظ تو قیامت سےڈراتا ہے مجھے
تو نے کیا کھیل نہ دیکھا مِری بربادی کا

ہےکہیں ہجر کاماتم توکہیں بزمِ خوشی
جشن کیا خوب منایا مِری بربادی کا

آج گلزار میں پھر بادِ خزاں نے صادق
آ کے افسانہ سنایا مِری بربادی کا!

محمد ولی صادق #

25/10/2019

لگاکراپنےدل میں نفرت کے کنٹینر
تونےاپنے دل کو اسلام اباد بنادیا

16/10/2019

اردگان کی حماقتیں

1- سن 2013 میں مسلم ترکی ملک کی کل ملکی پیداوار ایک ٹریلین سو ملین ڈالر تھی جو کہ مشرق وسطی کی مضبوط ترین تین اقتصادی قوتوں یعنی ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ اردن شام اور لبنان جیسے ملکوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔

2- اردگان نے سالانہ تقریبا 10 پوائنٹس کے حساب سے اپنے ملک کی معیشت کو 111 نمبر سے 16 نمبر پر پہنچا دیا، جس کا مطلب ہے کہ ترکی دنیا کی 20 بڑی طاقتوں (G-20) کے کلب میں شامل ہوگیا ہے۔

3- اردگان نے ترکی کو دنیا کی مضبوط ترین اقتصادی اور سیاسی قوت بنانے کے لیے سن 2023 کا ہدف طے کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ترکی اس عزم میں کامیاب ہوتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

4۔ اسطنبول ایئرپورٹ یورپ کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے۔ اس میں یومیہ 1260 پروازیں آتی ہیں۔ مقامی ایئر پورٹ کی صبح کی 630 فلائٹس اس کے علاوہ ہیں۔

5۔ ترک ایئر لائن مسلسل تین سال سے دنیا کے بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔

6- 10 سالوں کے دوران ترکی نےجنگلات اور پھل دار درختوں کی شکل میں 2 بلین 770 ملین درخت لگائے ہیں۔

7- اپنے اس دور حکومت میں ترکی نے پہلا بکتر بند ٹینک، پہلا ایئر کرافٹ، پہلا ڈرون اور پہلا سیٹلائٹ بنایا ہے۔ یہ سیٹلائٹ عسکری اور بہت سے دیگر امور سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

8- اردگان نے 10 سالوں کے دوران 125 نئی یونیورسٹیاں، 189 سکول، 510 ہسپتال اور 1 لاکھ 69 ہزار نئی کلاسیں بنوائیں تاکہ طلبہ کی تعداد فی کلاس 21 سے زیادہ نا ہو۔

9- گذشتہ مالی بحران کے دوران جب امریکا اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیسیں بڑھا دی تھیں ان دنوں میں بھی اردگان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم مفت ہوگی اور سارا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔

10- 10 سال پہلے ترکی میں فی فرد آمدن 3500 ڈالر سالانہ تھی جو 2013 میں بڑھ کر 11 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی فرد شرح آمدن سے زیادہ ہے۔ اس دوران ترکی کرنسی کی قیمت میں 30 گنا اضافہ ہوا۔

11- ترکی کی بھرپور کوشش ہے کہ سن 2023 تک علمی تحقیقات کے لیے 3 لاکھ سکالرز تیار کیے جائیں۔

12- اہم ترین سیاسی کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اردگان نے قبرص کے دونوں حصوں میں امن قائم کیا اور کرد کارکنوں کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے خون خرابے کو روکا۔ آرمینیا کے ساتھ مسائل کو سلجھایا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی فائلیں گذشتہ 9 دہائیوں سے رکی ہوئی تھیں۔

13- ترکی میں تنخواہوں اور اجرتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 340 لیرہ سے بڑھ کر 957 لیرہ ہوگئی ہے۔ کام کی تلاش میں پھرنے والوں کی شرح 38 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد پر آگئی ہے۔

14- ترکی میں تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ یہاں استاد کی تنخواہ ڈاکٹر کے برابر ہے۔

15- مسلم ترکی میں 35 ہزار ٹیکنالوجی لیب بنائی گئی ہیں جہاں نوجوان ترکی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

16- اردگان نے 47 ارب کا بجٹ خسارہ پورا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ جون میں بدنام زمانہ ورلڈ بینک کے قرضے کی 300 ملین ڈالر کی آخری قسط بھی ادا کردی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ترکی نے ورلڈ بینک کو 5 ارب ڈالر قرضہ دیا۔ مزید برآں ملکی خزانے میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جبکہ اس دوران بڑے بڑے یورپی ممالک اور امریکا جیسے ملک قرضوں، سود اور افلاس کی وادی میں حیران و سرگرداں ہیں۔

17- 10 سال قبل ترکی کی برآمدات 23 ارب ڈالرتھیں۔ اب اس کی برآمدات 153 ارب ڈالر ہیں جو کہ دنیا کے 190 ممالک میں پہنچتی ہیں۔ ان برآمدات میں پہلے نمبر پر گاڑیاں اور دوسرے نمبر پر الیکٹرانک کا سامان آتا ہے۔ یورپ میں بکنے والی الیکٹرانک اشیاء میں ہرتین میں سے ایک ترکی کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔

18- ترکی حکومت نے توانائی اور بجلی کی پیداوار کے لیے کوڑے کی ریسائکلنگ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے ترکی کی ایک تہائی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ ترکی کے شہری اور دیہی علاقوں کے 98 فیصد گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔

19- اردگان نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک بچے کے ساتھ مباحثہ میں شرکت کی جس میں ترکی کے مستقبل کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ اس بچے کی عمر 12 سال سے زائد نہیں تھی۔ اردگان نے اس بچے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔اپنے اس عمل سے اردگان نے ترک بچوں کو مباحثہ اور گفتگو کی ایک بہترین مثال پیش کی۔ اس سے ان بچوں کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

20- عرب سیکولرز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ترکی کی دوستی کا جو شوشہ چھوڑا جاتا ہے اس کا عالم یہ کہ غزہ جانے والے ماوے مرمرہ جہاز پر جب اسرائیلیوں نے حملہ کیا تو ترکی نے اسرائیل کو بھرپور طمانچہ رسید کیا۔ اور نا صرف اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا بلکہ معافی کے لیے غزہ سے محاصرہ ختم کرنے کی شرط بھی عائد کی۔

21- 2009 میں ہونے والی دافوس اقتصادی کانفرنس میں جب اسرائیلی صدر پیریز نے غزہ پر حملے کا جواز پیش کیا اور لوگوں نے اس پر تالیاں بجائیں تو اسرائیل کے اس دوست اردگان نے تالیاں بجانے والوں پر شدید تنقید کی اور یہ کہہ کر اس کانفرنس سے اٹھ گئے کہ " تمہیں شرم آنی چاہیے کہ ایسی گفتگو پر تالیاں بجاتے ہو! حالانکہ اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کی جانیں لی ہیں۔"

22- اردگان نے اپنے مخالفین کا سامنا واٹر کینن سے کیا۔ اس نے ان پر مگ طیاروں اور اسکڈ میزائیلوں سے حملہ نہیں کیا۔

23- اردگان نے اپنی بیٹی کے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کیا اور تعلیم کے حصول کے لیے اسے یورپ بھیج دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ترکی کی یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی تھی۔

24- اردگان وہ واحد شخص ہے جس نے اپنہ اہلیہ کے ساتھ برما کا دورہ کیا اور میانمار کے ستم رسیدہ مسلمانوں سے ملاقاتیں کیں۔

25- 9 دہائیوں پر محیط سیکولر دور حکومت کے بعد اردگان نے ترکی کی یونیورسٹیوں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم دوبارہ شروع کی۔

26- اردگان نے یونیورسٹیوں اورعدالتوں میں حجاب پہننے کی آزادی دی۔

27- اردگان نے بحر اسود کی کنارے پر سب سے بڑے معلق پل پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے حروف پر مشتمل لائٹنگ کی جبکہ ایک عرب ملک نے دنیا کا سب سے بڑا کرسمس درخت بنایا جس پر 40 ملین ڈالر لاگت آئی۔

28- اردوگان ترکی کے نصاب میں عثمانی رسم الخط کو واپس لا رہا ہے۔ جو درحقیقت عربی رسم الخط ہے۔

29- اردگان نے سات سال کی عمر کے 10 ہزار بچوں کے ایک جلوس کا اہتمام کیا جو اسطنبول کی سڑکوں پر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ سات سال کے ہوگئے ہیں اور اب وہ نماز اور قرآن پاک کا حفظ شروع کریں گے۔

کاش کہ ہم بھی اردگان جیسی کچھ حماقتیں کرسکتے۔

*فیس بک سے نقل وچسپاں*

Address

Pattan
Khyber Pakhtunkhwa

Telephone

+923471913836

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nisar Zakhmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nisar Zakhmi:

Share

Category