18/08/2026
امریکی سفارتخانے میں سرمایہ کاری کانفرنس، پاکستان میں نئے کاروباری مواقع اور گلگت بلتستان کی معاشی صلاحیت اجاگر
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): امریکی سفارتخانہ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم سرمایہ کاری کانفرنس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات، کاروباری تعاون کے فروغ، نجی شعبے کو درپیش چیلنجز اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کانفرنس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، صنعت کاروں، تاجروں، انٹرپرینیورز اور دیگر متعلقہ نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان کی معیشت میں نجی شعبے کے کردار کو مزید مؤثر بنانے، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کے درمیان روابط اور شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط، جدید ٹیکنالوجی اور مہارت تک رسائی، استعدادِ کار میں اضافہ اور عالمی مارکیٹ سے بہتر روابط پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
کانفرنس کے موقع پر ڈسکوری پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ہنزہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے ڈائریکٹر فارن ٹریڈ ناظم اللہ بیگ نے امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک انگیجمنٹ ایلکس نوپے (Alex Noppe) سے ملاقات کی۔
ملاقات میں ناظم اللہ بیگ نے گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور خاص طور پر سیاحت، زراعت، ہوٹلنگ، مہمان نوازی، مقامی مصنوعات، کاروباری خدمات اور دیگر معاشی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے۔ انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاری گروپس کو گلگت بلتستان کا دورہ کرنے، سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے اور مقامی کاروباری اداروں و کمیونٹیز کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی دعوت دی۔
ناظم اللہ بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان اپنے قدرتی وسائل، بلند و بالا پہاڑی سلسلوں، زرخیز وادیوں، منفرد ثقافتی ورثے، زرعی پیداوار اور تیزی سے فروغ پاتی ہوئی سیاحتی صنعت کے باعث ذمہ دار اور پائیدار سرمایہ کاری کے لیے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شامل پہاڑوں، تاریخی و ثقافتی ورثے اور شاہراہِ قراقرم کے باعث یہ خطہ بین الاقوامی سیاحت اور سرمایہ کاری کے نقشے پر ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو محض ایک سیاحتی منزل کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ابھرتی ہوئی کاروباری اور سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جہاں مقامی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ اور عالمی مارکیٹ سے جوڑ کر نئی معاشی سرگرمیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔
زراعت اور ویلیو ایڈیشن
ملاقات کے دوران زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی خصوصی طور پر زیر بحث آئے۔ ناظم اللہ بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پھلوں اور دیگر زرعی اجناس کی پیداوار، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، کولڈ اسٹوریج، برانڈنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر اسٹوریج اور پروسیسنگ کی سہولیات اور بین الاقوامی مارکیٹنگ کے ذریعے مقامی زرعی پیداوار کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت مزید مضبوط ہوگی۔
سیاحت میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات
سیاحت کو بھی سرمایہ کاری کے اہم شعبے کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ ناظم اللہ بیگ نے ماحول دوست ہوٹلوں اور ریزورٹس، ایڈونچر ٹورازم، ٹریکنگ، کوہ پیمائی، ثقافتی و تاریخی سیاحت، سیاحتی انفراسٹرکچر، ڈیسٹینیشن مینجمنٹ، ٹرانسپورٹ اور مہمان نوازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات بیان کیے۔
انہوں نے زور دیا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی مستقبل کی ترقی ماحول دوست، پائیدار اور کمیونٹی پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ سیاحتی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد براہِ راست مقامی آبادی تک پہنچیں اور ساتھ ہی خطے کے حساس قدرتی ماحول، ثقافتی ورثے اور روایتی طرزِ زندگی کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔
امریکہ میں بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کی تجویز
ملاقات میں گلگت بلتستان کے سیاحتی اور کاروباری نمائندوں کی امریکہ میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کی نمائشوں اور کانفرنسوں میں شرکت کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ بین الاقوامی تجارتی اور سیاحتی پلیٹ فارمز میں شرکت سے پاکستانی کاروباری اداروں اور سیاحتی مقامات کو اپنی مصنوعات، خدمات اور صلاحیتیں عالمی سطح پر متعارف کرانے، نئے کاروباری شراکت دار تلاش کرنے اور بین الاقوامی نیٹ ورک کو وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کی تربیتی خدمات
ناظم اللہ بیگ نے گلگت بلتستان میں بین الاقوامی ماہرین اور شعبہ جاتی اسپیشلسٹس کو مدعو کرکے مقامی کاروباری افراد، سیاحت سے وابستہ پیشہ ور افراد، کسانوں، ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے کے کارکنوں اور نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ مہمان نوازی، پائیدار سیاحت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، انٹرپرینیورشپ، زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن، کاروباری ترقی اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی جیسے شعبوں میں جدید تربیت مقامی نوجوانوں اور کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
اسٹارٹ اپ اور جدید کاروبار پر بھی گفتگو
کانفرنس میں اسکاٹ فاکس (Scott Fox)، چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹارٹ اپ کونسل، اینجل انویسٹر اور سیریل انٹرپرینیور نے بھی زوم کے ذریعے شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، کاروباری ماحول، موجودہ چیلنجز اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں و انٹرپرینیورز کے لیے دستیاب مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اسکاٹ فاکس کی آن لائن پریزنٹیشن میں پاکستان میں جدت پر مبنی کاروبار، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاری اور عالمی کاروباری روابط کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی، جس سے شرکاء کو پاکستانی کاروباری ماحول کے حوالے سے ایک بین الاقوامی نقطۂ نظر حاصل ہوا۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور پاکستانی کاروباری افراد کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں، کاروباری معلومات اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنائی جائے اور ایسے شراکتی منصوبوں کو فروغ دیا جائے جو روزگار پیدا کرنے، مقامی کاروباروں کو مضبوط بنانے اور پائیدار معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔
اس موقع پر ناظم اللہ بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صرف سیاحت کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری شراکت داری کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر بھی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، زراعت، ہوٹلنگ، ٹیکنالوجی، مقامی مصنوعات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں میں سرمایہ کاری خطے کی معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں، امریکی سرمایہ کاروں، بین الاقوامی ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط روابط گلگت بلتستان کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے ہر منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ، مقامی معیشت اور کمیونٹی کے مفادات کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
امریکی سفارتخانے میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں ہونے والی گفتگو سے اس امر کی اہمیت اجاگر ہوئی کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون، نجی شعبے کی شراکت داری، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور علم و مہارت کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
گلگت بلتستان کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور کاروباری روابط میں اضافہ مقامی کاروباروں کی ترقی، روزگار کے نئے مواقع، زرعی و سیاحتی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور خطے کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت، نجی شعبے، مقامی کاروباری اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مسلسل اور نتیجہ خیز مکالمہ جاری رکھا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے عملی مواقع کی نشاندہی، سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹوں کا ازالہ اور پاکستان میں کاروبار و سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے۔