25/02/2026
Green Line derailment in Rawalpindi.
آزادی کے اٹھتر سال بعد پاکستان کی آبادی چار کروڑ سے اٹھائیس کروڑ تک پہنچ چکی، گاؤں قصبے، قصبے شہر، شہر تحصیل اور تحصیل ضلع بن گئے، مگر ریلوے اسٹیشنز اور وہ سیکشن جہاں اب میٹرو ٹرین چلنی چاہیے، بند کر دیے گئے اور پٹڑیاں اکھاڑ دی گئیں، کیونکہ اگر ریلوے بحال ہو جائے تو سیاسی وڈیرے، مقامی بااثر لوگ اور ان کے فرنٹ مین اپنے اڈوں کے ٹھیکے، پرچیوں کی بلیک کمائی اور مقامی تسلط کا دھندا کھو دیں گے، لہٰذا قیمتی زمینوں پر قبضے، بوسیدہ پٹڑیاں، روزانہ کی ڈیریلمنٹ، اسٹیشنوں کی ویرانی، ٹرینوں کی تاخیر اور سہولتوں کی کمی ایک منظم سازش ہے، جس کے ذریعے بس اڈے، چنگچیاں اور ہائی ایس وینز سے کروڑوں روپے کی غیر قانونی آمدن حاصل کی جاتی ہے اور عوام کو جان بوجھ کر مہنگے، غیر محفوظ اور ذلت آمیز سفر پر مجبور رکھا جاتا ہے تاکہ مافیائی نیٹ ورک قائم رہے۔