Save Pakistan

Save Pakistan SAVE OUR COUNTRY Now we are making a project (Workshop) for school’s pre-primary and primary teachers to let them know about precious value of beloved Pakistan.

Save Pakistan is going to be a non-profitable organization, we have started this in January 20-2011 on a social network web site (Facebook).We have created a page on Facebook and started the research on Pakistan`s spiritual values. We have more ideas for future to educate our frustrated peoples in different ways.

07/06/2023
07/08/2022

ہم پاکستانی صرف اس وجہ سے بنے کہ ہم مسلمان تھے۔
اگر افغانستان،ایران،مصر،عراق اور ترکی
اسلام کو خیرباد کہہ دیں تو
پھر بھی وہ
افغانی،ایرانی،مصری اور ترک ہی رہتے ہیں
لیکن ہم
اسلام کے نام سے راہ فرار اختیار کریں تو
پاکستان کا اپنا کوئی الگ وجود قائم نہیں رہتا۔
(شہاب نامہ سے اقتباس)

04/08/2022

ایک کا دس (بہترین تجارت).
دوپہر کے وقت مارکیٹ گیا تو ایک بابا جی زمین پر بالٹی اور لیموں لیے بیٹھے شکنجی بیچ رہے تھے۔ ارد گرد شکنجی اور جوس والی رہڑیاں تھیں جہاں رش تھا۔ میں نے ایک گلاس بنانے کا کہا تو معلوم ہوا کہ وہ بول نہیں سکتے اور سماعت سے بھی محروم ہیں۔ شکنجی پینے کے بعد میں نے حلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
" واہ ❤️ مزہ ہی آ گیا ۔۔ ٹھنڈا کر دیا" ۔ وہ خوش ہو کر میری طرف دیکھتے رہے۔ کتنے کا گلاس ہے ؟ انہوں نے کاغذ میرے سامنے کر دیا جس پر "تیس روپے" درج تھا۔ میں نے سو روپے دیئے اور چلا گیا۔ پیچھے آ کر میری کمر پر ہاتھ رکھ کر ستر روپے آگے بڑھا دیئے۔ میں نے کہا آپ رکھ لیں یہ آپ کے ہی ہیں۔ پہلے میری طرف پھر آسمان کی طرف دیکھا اور واپس چلے گئے ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد گھر سے کچھ کپڑے آنے تھے میں وہ لینے گیا۔ کنڈیکٹر سے پیسے پوچھے تو کہنے لگا آپ اس بار ایسے ہی لے جائیں۔ مجھے حیرت ہوئی کیوں کہ پچھلی مرتبہ سامان کے تین سو روپے دیئے تھے۔ میرے زور دینے پر اس نے کہا آج مجھے کسی اور کا سامان لانے پر خاصے پیسے ملے ہیں۔ آپ کے سامان کے پیسے لینے کا دل نہیں میں خوشی سے کہہ رہا ہوں۔۔ مجھے فوراً سے بابا جی یاد آئے ۔۔ یہ شاید یقین کی بات ہے یہ کوئی زنجیر ہے شاید ۔۔۔

میں اکثر ایسا کرتا ہوں کہ میرے وائلٹ میں کم پیسے رہ جائیں تو کسی مزدور یا دہاڑی دار کو دے دیتا ہوں۔ ایک مرتبہ میرے پاس صرف ایک ہزار روپے تھے اور مجھے شاید بارہ ہزار روپے کی ضرورت تھی۔ میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر سامان لا کر امی کو دے دیا کہ چاول تو بنا دیں۔ پھر پیکٹ بنا کر بائیک پر نکل گیا ۔ راستے میں کوڑا چننے ، رکشے والے اور رہڑی والوں کو دے کر گھر آ گیا۔ آپ یقین کریں ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ مجھے ایک کال آئی۔ سیشن کی ڈیل طے ہوئی اور ایڈوانس پندرہ ہزار روپے میرے اکاؤنٹ میں شفٹ کر دیئے گئے۔۔۔

میں موبائل فون ایک طرف رکھ کر مسکرانے لگا اور مجھے بابا اکرام گجر کی بات یاد آئی " وسیم پتر! ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک کے بدلے ہمارے دس دیتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک کے بدلے اپنے دس واپس کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دس کا حساب دنیا کا کوئی ریاضی دان یا کیلکولیٹر نہیں کر سکتا" ۔ یہ عادت والد صاحب سے لی ، کاروبار میں نقصان ہو جاتا یا کوئی بڑی پریشانی آتی تو والدہ سے کہتے چاول بنا کر بانٹ دو ، یا پھر کسی رشتے دار یا جاننے والے کی طرف راشن بھیجا کرتے تھے۔ تب میں سوچتا تھا کہ ایک تو نقصان اور پھر ابو ہیں کہ ۔۔۔۔

آپ کسی کا وہ مسئلہ یا پریشانی حل کر دیجیے جو آپ کے اختیار میں ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کی وہ پریشانی ختم کر دیں گے جو آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ آپ کے بڑے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ بانٹنے والے تقسیم کرنے والے بن جائیں تو آپ کے بگڑے کام بھی بن جائیں گے۔
محبتیں سلامت رہیں ❤️
از قلم
"وسیم قریشی"

27/11/2021
13/08/2021
NO CAPTION NEEDED!
15/05/2021

NO CAPTION NEEDED!

Dr Israr Ahmed ❤
14/04/2021

Dr Israr Ahmed ❤

Address

Karachi
75800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Save Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Save Pakistan:

Share

Category