Sindh Nurses Education Platform

Sindh Nurses Education Platform Join us today to learn, connect, and rise together!”
Admin
Abdul Waheed

“Welcome to Sindh Nurses Education Platform – your trusted hub for nursing knowledge, updates, and growth! 🌟
Empowering nurses, students, and healthcare professionals.

15/05/2026
15/05/2026

نرسنگ پروفیشنلز سے غیر نرسنگ کام لینا بند کیا جائے
نرسنگ کے وقار کا احترام کریں

We Are Nursing Professionals 💙

میں ایک ایسے اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں جو پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں نرسنگ پروفیشن کے وقار، کارکردگی اور مستقبل کو متاثر کر رہا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ڈگری یافتہ اور تربیت یافتہ نرسز سے مریضوں کی چادریں تبدیل کروانا، بیڈ بنوانا اور دیگر غیر نرسنگ و غیر کلینیکل کام لیے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک غلط روایت نہیں بلکہ ایک پروفیشنل ہیلتھ ورکر کی تعلیم، مہارت اور عزت کی کھلی بے قدری ہے۔

آج کی نرس پہلے جیسی محدود ذمہ داریوں تک confined نہیں رہی۔ جدید نرسنگ ایک سائنسی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ شعبہ بن چکی ہے۔ آج کی نرس مریض کی حالت کا جائزہ لینے، ادویات کی نگرانی، مریض کی حفاظت یقینی بنانے، انفیکشن کنٹرول، مریض اور اہلِ خانہ کی رہنمائی، اور جدید طبی نگہداشت فراہم کرنے کی باقاعدہ تربیت رکھتی ہے۔

دنیا بھر میں نرسنگ کا کردار تیزی سے ترقی کر چکا ہے۔ آج نرسز تحقیق کر رہی ہیں، خصوصی کلینکس چلا رہی ہیں، مریضوں کی رہنمائی کر رہی ہیں، اور جدید طبی نظام کا ایک مضبوط ستون سمجھی جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں نرسنگ کو ایک بااختیار، جدید اور تحقیق پر مبنی پیشہ مانا جاتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج بھی نرسز کو ایسے کاموں میں لگا دیا جاتا ہے جن کا ان کے اصل پیشہ ورانہ کردار سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں دنیا مریضوں کی حفاظت، جدید طبی نگہداشت اور پروفیشنل ترقی پر توجہ دے رہی ہے، وہاں ہم آج بھی پرانی سوچ اور غیر پیشہ ورانہ روایات میں الجھے ہوئے ہیں۔

ایک تربیت یافتہ نرس سے غیر نرسنگ کام لینا صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔

اس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں:

1۔ قیمتی انسانی وسائل کا ضیاع
حکومت نرسز کی تعلیم اور تربیت پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے، لیکن پھر انہی پروفیشنلز کو ایسے کاموں میں لگا دیا جاتا ہے جو معاون عملے کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

2۔ مریضوں کی نگہداشت متاثر ہوتی ہے
جب نرس اپنا وقت غیر کلینیکل کاموں میں گزارے گی تو مریضوں کی نگرانی، جائزہ، دستاویزات، ادویات کی حفاظت اور مریضوں کی رہنمائی متاثر ہوگی، جس کا براہِ راست اثر مریضوں کی صحت اور حفاظت پر پڑتا ہے۔

3۔ نرسز میں مایوسی اور پیشہ چھوڑنے کا رجحان بڑھتا ہے
جب ایک پڑھے لکھے پروفیشنل کو اس کی تعلیم اور مہارت کے مطابق عزت اور کردار نہ ملے تو اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی قابل نرسز ملک چھوڑنے یا اس پیشے سے دور ہونے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

ہم صفائی اور معاون عملے کی عزت کرتے ہیں۔ صفائی اور حفظانِ صحت اسپتال کے لیے بے حد ضروری ہیں، لیکن ہر شعبے کی اپنی ذمہ داریاں اور حدود ہوتی ہیں۔ جس طرح ڈاکٹر سے صفائی کروانا مناسب نہیں، اسی طرح ڈگری یافتہ نرسز سے غیر نرسنگ کام لینا بھی پیشہ ورانہ ناانصافی ہے۔

اگر کسی جگہ نرسز کو زبردستی غیر نرسنگ فرائض انجام دینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو یہ پیشہ ورانہ اصولوں، نرسنگ معیار اور سرکاری ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔

We Are Nursing Professionals

Not General Support Staff

ہماری اپیل واضح اور فوری ہے:

1۔ ڈگری یافتہ نرسز سے چادریں تبدیل کروانے اور دیگر غیر نرسنگ کام فوری طور پر بند کیے جائیں۔

2۔ تمام سرکاری اسپتالوں میں نرسنگ کے سرکاری فرائض اور جاب ڈسکرپشن پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے۔

3۔ معاون اور صفائی کے عملے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ نرسز مکمل توجہ مریضوں کی نگہداشت پر دے سکیں۔

4۔ نرسنگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک جدید، تحقیقی اور باوقار پیشہ تسلیم کیا جائے۔

5۔ نرسز کی تعلیم، مہارت، پیشہ ورانہ شناخت اور عزت کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

پاکستان میں نرسنگ کو ترقی دینی ہے تو ہمیں پرانی سوچ، غیر پیشہ ورانہ رویوں اور کردار کی بے وضاحتی کو ختم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط صحت کا نظام اسی وقت ممکن ہے جب ہر پروفیشنل کو اس کی مہارت، تعلیم اور ذمہ داری کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

ہم حکومتِ پنجاب، محکمۂ صحت، اسپتال انتظامیہ اور پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام سرکاری اسپتالوں میں پیشہ ورانہ حدود اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر نافذ کیا جائے۔

Because Respect for Nurses Means Better Patient Care. 💙

Why Nurse, Where was Surgeon. Surgeon is totally excluded, only nurse is nominated. Shame full act by Geo News. Pemra Sh...
15/05/2026

Why Nurse, Where was Surgeon.
Surgeon is totally excluded, only nurse is nominated.
Shame full act by Geo News.
Pemra Should take action...
Geo news Anarchy.
.

“He stood like a prince among princesses, calm and different in every way.”“Whatever I am today and whatever I will achi...
14/05/2026

“He stood like a prince among princesses, calm and different in every way.”

“Whatever I am today and whatever I will achieve tomorrow, a great part of it is because of my best teacher, Sir.”
Sir Altaf Hussain PhD Scholar.

Pakistan is gradually turning into a place where the educated class increasingly feels confined, undervalued, and discon...
13/05/2026

Pakistan is gradually turning into a place where the educated class increasingly feels confined, undervalued, and disconnected from the system it continues to sustain.

Each year, lawmakers sitting in legislative assemblies approve increases in their salaries, privileges, official vehicles, allowances, and protocol. Yet when citizens ask where development is, why unemployment continues to rise, or why the systems of healthcare and education remain in decline, the responsibility is conveniently shifted elsewhere.

If governments claim they lack authority or resources to address public problems, a legitimate question arises: what justifies the continued expansion of official privileges and expenditures?

Perhaps the greatest burden is being borne by the educated working class — the very people still carrying the weight of a fragile and deteriorating system. Teachers, often described as the architects of the nation’s future, are forced into insecure employment structures, low wages, and short-term contracts that undermine both professional dignity and educational standards.

The situation is equally alarming in the healthcare sector. Doctors and nurses continue to work under immense physical and psychological pressure, often within overstretched hospitals and broken administrative systems, while receiving little recognition or financial relief in return. In a period marked by severe inflation and economic uncertainty, symbolic increases in stipends and salaries fail to address the scale of hardship faced by healthcare professionals.

It is therefore unsurprising that an increasing number of skilled young professionals are choosing to leave the country. The growing brain drain reflects a deeper crisis: the perception that merit, hard work, and professional commitment are no longer adequately valued.

A state cannot be sustained by infrastructure projects and official ceremonies alone. Its true strength lies in the individuals who keep its institutions functioning — the teachers in classrooms, the nurses in hospital wards, and the professionals who continue to serve despite mounting frustration. When these people begin to lose hope, the foundations of the state itself begin to weaken from within.
یہ ملک بتدریج ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جہاں تعلیم یافتہ طبقہ خود کو محدود، غیر محفوظ اور غیر متعلق محسوس کرنے لگا ہے۔ ہر سال منتخب ایوانوں میں بیٹھے نمائندے اپنی تنخواہوں، مراعات، سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول میں اضافہ کر لیتے ہیں، مگر جب عوام روزگار، صحت، تعلیم اور گرتے ہوئے انتظامی ڈھانچے سے متعلق سوال اٹھاتے ہیں تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر حکومتی اختیارات واقعی محدود ہیں تو پھر مراعات میں مسلسل اضافہ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟ اگر وسائل کی کمی ہے تو اس کا بوجھ ہمیشہ عام شہری، سرکاری ملازم، استاد، ڈاکٹر اور نرس ہی کیوں برداشت کریں؟

سب سے زیادہ متاثر وہ تعلیم یافتہ طبقہ ہو رہا ہے جو اب بھی اس نظام کو چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک استاد، جسے قوم کے مستقبل کا معمار کہا جاتا ہے، آج غیر یقینی روزگار، کم تنخواہوں اور مختصر مدتی کنٹریکٹس کے رحم و کرم پر ہے۔ ایسے حالات میں نہ صرف اس کی پیشہ ورانہ عزت مجروح ہوتی ہے بلکہ نوجوان نسل میں تعلیم کے حوالے سے مایوسی بھی بڑھتی ہے۔

اسی طرح ڈاکٹرز اور نرسز، جو ناکافی سہولیات اور شدید دباؤ کے باوجود دن رات مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں، انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں معمولی اضافوں پر اکتفا کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ وقار اور قومی ترجیحات کا بھی سوال ہے۔

حکومتیں اکثر اس بات پر حیرت کا اظہار کرتی ہیں کہ نوجوان ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر قابل افراد بیرون ملک جانے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک معاشرے میں محنت، قابلیت اور دیانتداری کو مناسب قدر نہ ملے، تو باصلاحیت افراد بہتر مواقع کی تلاش میں ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ریاستیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ ان کی اصل طاقت وہ لوگ ہوتے ہیں جو تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر شعبوں میں خاموشی سے نظام کو چلائے رکھتے ہیں۔ جب انہی طبقات کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو معاشرے اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔.

NCLEX  Preparation10 Multiple Choice questions Ventilator.
13/05/2026

NCLEX Preparation
10 Multiple Choice questions
Ventilator.

With Noman Ali Khaskheli – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
13/05/2026

With Noman Ali Khaskheli – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

13/05/2026

Nurses Day.
On International Nurses Day, the world celebrates nursing as one of the most respected and valued professions. In many countries, nurses are provided with dignity, fair salaries, professional growth, allowances, and safe working environments that fulfil even the basic principles of Maslow’s hierarchy of needs. Nurses there are empowered to serve humanity with dedication and pride.

However, as a Pakistani nurse, this occasion often brings mixed emotions. While a few hospitals in Pakistan — particularly some internationally accredited institutions — provide quality healthcare facilities and better professional environments, the reality in many other hospitals remains deeply concerning.

A large number of nurses continue to work under immense psychological pressure. Low wages, severe staff shortages, excessive workload, lack of professional respect, double and prolonged shifts, delayed salaries, limited leave facilities, and the absence of proper allowances have become routine challenges. In critical care areas, nurses perform highly demanding duties, yet intensive care allowances and other essential benefits commonly provided in international healthcare systems are often unavailable.

Despite being the backbone of healthcare delivery, nurses in Pakistan frequently feel unheard and undervalued. Merely celebrating International Nurses Day through messages and ceremonies will not resolve the serious issues faced by the nursing workforce.

The health management authorities of Pakistan, particularly the Sindh Health Department, must take immediate and sincere notice of these conditions. Improving nurses’ salaries, ensuring timely payments, increasing staffing, providing mental and physical support, and recognizing nurses with dignity and respect are essential steps toward strengthening the healthcare system.

A healthy nation cannot exist without empowered nurses. True appreciation for nurses must be reflected not only in words, but in policies, protection, and professional justice..
Writer
Abdul Waheed BSN RN.
عالمی یومِ نرسنگ کے موقع پر دنیا بھر میں نرسنگ کو ایک نہایت باوقار، محترم اور قیمتی پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے ممالک میں نرسوں کو عزت، مناسب تنخواہیں، الاؤنسز، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور ایسا محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے جو انسانی ضروریات کے بنیادی اصولوں، حتیٰ کہ Maslow’s Hierarchy of Needs، کو بھی پورا کرتا ہے۔ وہاں نرسیں فخر اور اطمینان کے ساتھ انسانیت کی خدمت انجام دیتی ہیں۔

لیکن ایک پاکستانی نرس ہونے کے ناطے، جب میں عالمی یومِ نرسنگ مناتا ہوں تو میرے احساسات مختلف ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں چند ہسپتال، خاص طور پر بین الاقوامی معیار اور JCI accredited ادارے، بہتر سہولیات اور معیاری طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں، مگر افسوس کہ ملک کے بیشتر ہسپتالوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔

بہت سی نرسیں شدید ذہنی دباؤ، کم تنخواہوں، نرسوں کی کمی، کام کے غیر معمولی بوجھ، عزت و احترام کی کمی، طویل اور ڈبل شفٹوں، تنخواہوں میں تاخیر، محدود چھٹیوں اور ضروری الاؤنسز کی عدم فراہمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والی نرسیں نہایت حساس اور مشکل ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، مگر انہیں وہ ICU الاؤنسز اور سہولیات حاصل نہیں جو دنیا کے ترقی یافتہ صحت کے نظاموں میں عام ہیں۔

پاکستان میں نرسیں صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر اس کے باوجود اکثر خود کو نظرانداز اور غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ صرف “ہیپی انٹرنیشنل نرسز ڈے” کہنا یا رسمی تقریبات منعقد کرنا ان مسائل کا حل نہیں۔

پاکستان کے صحت کے انتظامی اداروں، خصوصاً حکومتِ سندھ، کو چاہیے کہ وہ نرسوں کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ بہتر تنخواہیں، بروقت ادائیگیاں، نرسوں کی تعداد میں اضافہ، ذہنی و جسمانی تحفظ، مناسب الاؤنسز اور عزت و وقار کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایک مضبوط اور صحت مند قوم صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کی نرسیں بااختیار، محفوظ اور باعزت ہوں۔ نرسوں کی حقیقی قدر صرف الفاظ سے نہیں بلکہ
عملی اقدامات، بہتر پالیسیوں اور پیشہ ورانہ انصاف سے ثابت ہوتی ہے۔
تحرير
عبدالوحيد.

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Website

http://www.pnc.pk/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sindh Nurses Education Platform posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category