Rehan Tails ریحان کی باتیں

Rehan Tails ریحان کی باتیں سوشل میڈیا پر جو بھی اچھی بات مجھے اچھی لگتی ہے وہ یہاں ?

25/04/2026

شکریہ

16/10/2025

Credits 🥇 Google Gemini

10/09/2025

بزنس کونسا کریں۔۔یہ سوال بہت زیادہ آتا میرے پاس آئیے ایک چیک لسٹ دے دیتا ہوں مکمل ان چیزوں کو دیکھنے کے بعد آپکو آٹو میٹکلی سمجھ آ جائے گی کہ کونسا بزنس چوز کرنا آپ نے۔۔۔کونسا بزنس آپ کے لیے ٹھیک رہے گا۔۔۔یہ کیلکولیشن کی گیم ہے اندازے کی نہیں کہ جو ٹھیک لگا کر لیا۔۔۔!!

نمبر ون اور موسٹ امپورٹنٹ: سب سے پہلے تو خود کو دیکھیں۔۔۔ خود کے شوق، سورسز، ریسورسز، سکلز، ایکسپرٹیز اور ایکسپیرنسز یہ سب سے پہلے دیکھیں یہ سب سے زیادہ اہم ہے۔۔۔ پھر ان سے میچ کرنے والے بزنسز کی لسٹ بنائیے دو چار پانچ دس جتنے بھی ہوں۔۔۔ پھر یہ یہ سٹیپس کرنے۔۔۔!!

۔2. مارکیٹ ریسرچ
ڈیمانڈ چیک کریں: کیا واقعی اس پروڈکٹ/سروس کی مارکیٹ میں ضرورت ہے یا یہ بس ایک ٹرینڈ ہے؟
مارکیٹ سائز: لوکل اور آن لائن دونوں میں یہ بزنس کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔
کمپیٹیشن: اس فیلڈ میں اور کتنے پلیئرز ہیں؟ ان کی اسٹرینتھ اور کمزوریاں کیا ہیں۔۔۔

۔3. کسٹمر اینالیسز
ٹارگٹ آڈیئنس: آپ کا پروڈکٹ/سروس کس طبقے کو چاہیے۔۔۔؟ (طالب علم، پروفیشنلز، فیملیز وغیرہ)
پرائس سینسیٹیویٹی: لوگ اس پر کتنا خرچ کرنے کو تیار ہیں۔۔۔؟

۔4. فنانشل اینالیسز
ابتدائی سرمایہ: اسٹارٹ اپ کاسٹ کتنی لگے گی؟
بریک ایون پوائنٹ: کتنے مہینے میں لاگت پوری ہو گی؟
پرافٹ مارجن: ہر یونٹ پر نیٹ پرافٹ کتنا ہوگا؟
کیش فلو: کیا روزانہ/ماہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بزنس خود چل سکے گا؟

۔5. رسک اینڈ سیفٹی
لیگل کمپلائنس: لائسنس، رجسٹریشن، ٹیکس وغیرہ۔
رسک فیکٹرز: بزنس کسی ایکسٹرنل فیکٹر پر ڈیپینڈنٹ تو نہیں(مہنگائی، امپورٹ رُک جانا، نیا کمپیٹیٹر) ان صورتوں میں بند ہو جانے والا تو نہیں۔۔۔

۔6. اسکیل ایبیلٹی
فیوچر گروتھ: کیا یہ بزنس بڑھ سکتا ہے یا ایک چھوٹے لیول پر ہی محدود رہے گا؟
ٹیکنالوجی ایڈاپشن: نئی ٹیکنالوجی اس پر مثبت اثر ڈالے گی یا منفی۔۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑھے گا یا بند ہو جائے گا۔۔!!
ایگزٹ پلان: کل کو اگر آپ اسے بیچنا چاہیں یا پارٹنر لینا چاہیں تو مارکیٹ اسے بطور کمپنی بطور بزنس قبول کریں گی۔۔؟
یہ چیک کرنے کے بعد کیا کرنا وہ اگلی تحریر میں۔۔!!
سوالات کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں۔۔۔!!
تحریر:
انٹرپرینیور | بزنس کنسلٹنٹ

02/07/2025

Celebrating my 7th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

26/03/2025

ابراہیمی ہاؤس کی ممانعت
سعودی فتویٰ ہاؤس نے محمد بن سلمان کی درخواست کے برعکس مذاہب کے اتحاد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور اس کی دعوت دینے والوں کو کفر کا مرتکب قرار دیا۔

سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:

مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402

“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہلِ بیت و صحابہ اور جو ان کے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک۔ بعد ازاں…”

مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد (اسلام، یہودیت، اور عیسائیت) کے بارے میں پیش کیے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن، تورات، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کیا:

Fatwa no:19402

1. پہلا نقطہ:
اسلامی عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
2. دوسرا نقطہ:
قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتب کو منسوخ کر دیا ہے۔
3. تیسرا نقطہ:
تورات اور انجیل کے منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات میں ذکر ہے۔
4. چوتھا نقطہ:
حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
5. پانچواں نقطہ:
جو کوئی اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی، عیسائی یا کوئی اور ہو، وہ کافر ہے اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
6. چھٹا نقطہ:
مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد کرنا ہے۔
7. ساتواں نقطہ:
اس دعوت کا ایک اثر یہ ہوگا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کا کفار کے ساتھ بیزاری کا رویہ ختم ہو جائے گا، جس سے جہاد اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد بھی ختم ہو جائے گی۔
8. آٹھواں نقطہ:
اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دے تو وہ دینِ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔
9. نواں نقطہ:

• مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اس کے خیالات کو پھیلانا جائز نہیں۔
• قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور مندر کو ایک جگہ بنانا ناجائز ہے، کیونکہ یہ اسلام کی برتری کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

مستقل فتویٰ کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء
“اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے اجر کا ذریعہ بنائے، آمین۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔”

*اس پیغام کو آگے بڑھائیں اور آپ کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے گا جو اس گمراہ کن نظریے کے سب سے پہلے انکار اور رد کرنے والے ہیں، اور بطور داعی، معلم، طالب علم اور اجر کے متلاشی اس پیغام کا حصہ بنیں۔

12/02/2025

*(سنو اے نوجوانو ۔۔۔۔تمہیں تاریخ اسلامی سے پھر رشتہ جوڑنا ہوگا)*

*◼: چنگیز خان کو زندگی میں دو بڑی جنگوں اور سات چھوٹی جھڑپوں میں شکست ہوئی ، ہر بار مدِ مقابل ایک ہی تھا : سلطان جلال الدین خوارزم شاہ۔ چنگیز خان نے صرف ایک ہی دشمن کو بہادری پر خراج تحسین پیش کیا تھا وہ جلال الدین تھا۔ نور الدین کورلاخ نے درست کہا تھا سلطان جلال الدین مسلم دنیا کا فدیہ تھا۔ یہ نہ ہوتا تو چنگیز خان کے ہاتھوں مسلم دنیا کی تباہی کی داستان زیادہ طویل اور دلفگار ہوتی۔ اُس کا باپ چنگیز سے مقابلے کے لیے اس کا مشورہ مان لیتا تو شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اُس کے اپنے ہی بھائی سازشیں کر کے تخت پر قابض نہ ہوتے تو شاید پھر بھی تاریخ کی کروٹ کچھ اور ہوتی۔ کیسا انسان تھا ، تخت بھائیوں کے پاس چھوڑ کر جنگل کو نکل گیا کہ سلطنت کسی اور آمائش میں نہ پڑ جائے۔*

*شکست کی راکھ سے اس نے عزیمت کا پرچم اٹھایا ۔ کبھی ہزار کبھی پانچ ہزار ، جتنے جنگجو ملتے وہ ان کے ساتھ چنگیز خان کے لیے چیلنج بنا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب اس کے پاس ایک لشکر جرار تھا۔ اس نے چنگیز خان کو لکھا : تم میرے لیے جنگل جنگل خاک چھان رہے ہو، میں اس وقت یہاں بیٹھا ہوں ۔ تم آؤ گے یا میں آؤں‘‘۔*

*میجر ریوٹی نے لکھا ہے چنگیز خان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا اسے کسی نے یوں چیلنج کیا ہو اور چنگیز خان چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ اسے معلوم تھا اگر جلال الدین یوں للکار رہا ہے تو شیر کے منہ میں سر دینا حکمت نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ میرے الفاظ نہیں ، چنگیز خان کے اس تذبذب کی یہ کہانی امیر عطّا نے صدیوں پہلی لکھ دی تھی ۔ وہ لکھتے ہیں شیرِ خوارزم کے اس چیلنج نے چنگیز کو پاگل کر دیا تھا۔ وہ صبح سے شام لشکر کی تیاریوں پر صرف کرنے لگ گیا۔ لیکن پھر بھی اسے تسلی نہیں ہو رہی تھی کہ کیا وہ جلال الدین کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے یا ابھی کچھ کمی رہ گئی ہے۔ اسے معلوم تھا للکارنے والا کون ہے۔ یہاں تک کہ پھر ایک گھوڑے پر سلطان کے لشکر کے سالاروں میں جھگڑا ہو گیا اور پُھوٹ پڑ گئی۔ افغان سالار ناراض ہو کر لشکر لے کر چلا گیا۔ امیر عطا لکھتے ہیں جلال الدین کو خبر ہوئی تو بھاگ کر خیمے سے باہر آیا ، ان کی منتیں کیں ، رویا کہ ایسا نہ کرو ، مسلمانوں کے مستقبل کا خیال کرو لیکن قدرت کو شاید یہی منظور تھا۔لشکر آدھا رہ گیا۔ چنگیز خان تو گویا اسی موقع کے انتظار میں تھا۔ باقی تاریخ ہے۔*

*آخری بڑی لڑائی دریائے سندھ کے کنارے ہوئی جب سازشوں اور داخلی جھگڑوں سے نڈھال سلطان جلال الدین تیس ہزار پناہ گزینوں ، تین ہزار گھڑ سواروں اور پانچ سو کے قریب محافظوں کے ساتھ ہندوستان جا رہا تھا کہ چنگیز خان دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ آن پہنچا۔ تین ہزار گھڑ سواروں کا مقابلہ پچاس ہزار گھڑ سواروں سے تھا۔ گلوبل کرونالوجی آف کانفلیکٹ کے مصنف نے لکھا کہ جلال الدین یوں لڑا کہ چنگیز خان حیران رہ گیا۔ اس نے چنگیز کے لشکر کو ادھیڑا اور اس کے مرکز تک جا پہنچا۔ پھر ستر ہزار کی مزید کمک چنگیز کو آن پہنچی۔ زخموں سے نڈھال سلطان گھیرے میں آگیا تو چنگیز نے حکم دیا اسے زندہ گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ سلطان کے سامنے چنگیز تھا اور پیچھے دریائے سندھ ۔ اُس نے گرفتاری دینے کی بجائے پہاڑ سے گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ یہ نسیم حجازی کی نہیں میجر ریوٹی کی روایت ہے کہ چنگیز خان کو اس کے تعاقب میں گھوڑا دریا میں ڈالنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ وہ حیران کھڑا زخمی سلطان کو دیکھتا رہا ، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کوئی یوں بھی کر سکتا ہے۔ پھر اس نے اپنی فوج کے سالاروں کو بلا کر کہا : اس شخص کو دیکھو، اس کی ماں کو اس پر فخر ہونا چاہیے ، کیسا بہادر پیدا کیا۔ لیکن یہی وہ وقت تھا جب سلطان کی ماں وہی پاس دریائے سندھ میں ڈوب رہی تھی۔*

*یہ واقعہ ازبک ، فارسی اور ترک لوک داستانوں کا حصہ ہے اور اس کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔ یہ مقام پاکستان میں ہے اور ’’ گھوڑا ترپ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں اور یقین نہیں کرتے کہ کوئی یہاں پہاڑ سے سیدھا نیچے دریا میں گھوڑا کیسے ڈال سکتا ہے۔*

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں

25/12/2024

بســــــمِ اللهِ الَـــرَّحْـمَـــنِ الــرَّحِيــــم
اَلسَّــلاَمُ عَلَيـكُــم وَرَحْـمَــةُ اللهِ وَبَــرَكـَاتــهُ

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص جھوٹ بولتے ھوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ھوگا.. لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ھوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ھو جائے..
ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے.. جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے.. بادشاہ نے تاجر سے پوچھا.. "تمھاری عمر کتنی ھے..؟"
تاجر نے کہا.. "40 سال.."
بادشاہ نے پوچھا.. "تمھارے پاس دولت کتنی ھے..؟"
تاجر نے کہا.. "70 ھزار دینار.."
بادشاہ نے پوچھا.. "تمھارے بچے کتنے ھیں..؟"
تاجر نے جواب دیا.. "ایک.."
واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی.. بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وھی تین سوالات دُھرائے.. تاجر نے وھی جوابات دیے..
بادشاہ نے وزیر سے کہا.. " اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کردو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ھیں.. سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 65 سال ھے' اس کے پاس 70 ھزار دینار سے زیادہ رقم ھے اور اس کے پانچ لڑکے ھیں.."
تاجر نے کہا.. " زندگی کے 40 سال ھی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ھیں اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ھوں..
اور زندگی میں 70 ھزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ھیں اس کو اپنی دولت سمجھتا ھوں..
اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ھیں ایک بچہ اچھا ھے اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ھوں.."
یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا.. "ھم تمھارے جواب سے خواش ھوئے ھیں..
واقعی وقت وھی شمار کرنے کے لائق ھے جو نیک کاموں میں گزر جائے.. دولت وھی قابلِ اعتبار ھے جو راہِ خدا میں خرچ ھو.. اور اولاد وھی ھے جس کی عادتیں نیک ھوں________!!!"

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں

25/12/2024

ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے ، اکثر شام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں۔ آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے ، وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے ، میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے .."کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے، اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا..."کیوں.. آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے.."نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے ، دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ،،، میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی ، اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں، اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں..."
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا، کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا ،
میں نے کہا..."اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو... بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے" وہ کہنے لگے.."نہیں نہیں حنیف بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے، یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے ، بعد میں بچوں کو دیتی ہے، اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں..."
میں نے حیرت سے کہا.."گلچھڑے اڑاؤں.... یہ چکن پیٹس... یہ جلیبیاں... یہ گل چھڑے اڑانا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں.."
وہ کہنے لگے..." کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو

25/12/2024

اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں۔۔۔

1۔ جسمانی طور پر بھی ذہنی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی...

2۔ ان کو اردو، انگریزی اور عربی لازمی طور پر سکھائیں۔

3۔ اسلامی تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں۔

4۔ اپنے بچوں کو لازماً کوئی نہ کوئی ہنر سکھائیں، کوئی نہ کوئی ہاتھ اور دماغ سے کرنے والا ایسا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ مستفید ہو سکیں۔

5۔ سلطان عبدالحمید کارپینٹر تھے، لکڑی سے بنایا ہوا ان کا فرنیچر آج بھی محفوظ ہے۔۔۔ جس شعبے کو بھی پکڑیں مکمل عبور اور مہارت حاصل کریں۔

6۔ اپنے بچوں کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازماً ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں، جس طرح بوائے اسکاوٹس یا کیڈٹس کی تربیت ہوتی ہے، اور جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا وغیرہ

7۔ آج کل ہمارے بچے بہت آرام طلب اور نازک ہو چکے ہیں، ان میں چستی اور طاقت پیدا کریں۔

8۔ ماضی میں ہمارا تمام تر تعلیمی نظام بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھاتا تھا، تمام مسلمان اپنے ہاتھوں میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے۔

9۔ کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا، کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری۔

10۔ آگے آنے والا دور مشکلات اور چیلنجز کا دور ہے، اپنے بچوں کو اس کے لیے تیار کریں۔

11۔ اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔

12۔ بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی، آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے، اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی۔

13۔ اب ہم دجالی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں، ایک کرونا نے ہی کیسا گھما دیا تھا سب کو اور اب سموگ وغیرہ۔

14۔ خدا نخواستہ آگے کے فتنے اس سے بھی مزید سخت ہون گے، اور یہ کوئی فرضی بات نہیں، ایک تو سب حالات آنکھوں کے سامنے ہیں، کہ یہ سب ہو کر رہے گا، اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا، دانشمندی اور پختہ ایمان وعمل پیہم کو اختیار کرے گا۔

15۔ اس لیے اب پہلے سے بھی زیادہ ایمانی، جسمانی، روحانی اور اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے، اگر زندہ رہنا ہے اور ان تمام فتنوں سے بچنا ہے تو اب ذرا ہوش کے ناخن لیں۔

07/11/2024

*سوشل میڈیا استعمال کرتی بہنوں بیٹیوں کے نام دردمندانہ اپیل....!!!!*
*السلام علیکم ۔۔۔۔*

آپکے والدین (گھر والوں) نے آپ پر اعتماد کیا ھے
آپکے ہاتھ میں موبائل کی صورت اپنی زندگی بھر کی کمائی/ اپنی عزت تھما دی ھے" اب یہ آپ پر منحصر ھے کہ آپ اس عزت کو کن بلندیوں پر لیکر جاتی ہیں۔۔۔۔؟
یا اپنی نادانی' بیوقوفی' حماقت اور کم علمی یا کم عقلی سے اس عزت کو ذلت کی گہرائیوں میں گراتی ہیں۔۔
ھر دور میں بیٹیوں کی پرورش بہت ھی مشکل عمل رھا ھے۔۔
آپکی ماؤں نے آپکو پالتے ھوئے اپنی جوانیاں بوڑھی کر ڈالیں
اب نادانی میں اپنی غلطی سے ان ماؤں کو کبھی خشک ہونٹوں پر زبان پھیرنے والی اور خوف سے گھبرانے والی بن جانے پہ مجبور مت کریں
کہ
اپنے شوہر اور بیٹے کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی ہونے والی ماں اپنی بیٹی کی نادانی کیوجہ سے سر جھکا کر کھڑی ہو۔۔
واٹس ایپ۔۔
انسٹا گرام۔۔
ٹیوٹر۔۔
فیس بک۔۔
سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آنے والے وہ محبت بھرے پیغامات جو ساری دنیا کی نظروں سے اوجھل آپکو بھیجے جا رھے ہیں۔۔
کسی بھی مرد کی طرف سے مثال کے طور پر
آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں""
میں آپکی تلاش میں ہی تھا
آپکو نکاح کا پیغام بھجوانا چاہتا ہوں""
ایسی باتوں میں ہرگز ہرگز ہرگز آکر اپنی معصومیت کو تباہ مت کریں۔۔
اصل ‏کھیل ہی یہاں سے شروع ہوتا ھے۔۔
اعتماد جیتا جاتا ھے اور
پھر اگلے سارے مراحل شیطان طے کرواتا ھے۔۔

لہذا

آپ بالکل فکر نہ کریں اگر آپ کی عمر پچیس سے پینتیس سال ہوچکی ھے اور
ابھی تک نکاح نہیں ہوا
گھریلو معاملات ہیں
پڑھائی کا مسئلہ درپیش ھے
یا موٹاپا کیوجہ سے رشتہ نہیں ہو رھا
جہیز نہ دے سکنے کے سبب شادی نہیں ھو رھی
کسی بھی خوف سے پریشان ہیں
تو خود رشتہ مت ڈھونڈیں
سوشل میڈیا پہ آئے ہوئے رشتوں کیطرف ہرگز متوجہ نا ہوں۔۔۔
دل میں امید نہ جگائیں۔۔
آپ بیٹیاں ہیں بہنیں ہیں۔۔
بلند بخت ہیں سعادت مند ہیں
نیک گھرانے سے ہیں
بیٹیاں تو آبگینے ھوتی ھیں
پچیس' تیس' چونتیس' چالیس ہر عمر میں آپکی
شادی نکاح رخصتی سب کچھ ہوجائے گا ان شاءاللہ
بس اپنے اللہ پر بھروسہ رکھیں۔۔
اللہ سے مانگیں وہ سب دے گا سب خیر ہو جائے گی ان شاءاللہ۔۔
آپ نیٹ پر سب کچھ کرلیں مگر اپنا شعور
اپنی معاملہ فہمی کی صلاحیت اپنا وقار کسی میسنجر کے ہاتھوں میں مت تھمائیں۔۔
خاص طور پر ویڈیو كالز سے اجتناب کریں۔۔۔

بیٹیاں بہنیں عزت وقار اور باشعور ہوکر زندگی گزارتی ہوئی اچھی لگتی ہیں۔۔۔

اللہ تعالی سب کی بیٹیوں بہنوں ماؤں اور بیویوں کی عزت اور ناموس کی حفاظت فرمائے"آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔۔
نوٹ!!! اگر یہ پوسٹ کسی درد دل رکھنے والے انسان/ مسلمان کو اچھی لگے تو اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچایں۔۔
ہو سکتا ہے کوئی بہن/ بیٹی اس پیغام سے راہ راست پر
آ کر اپنی زندگی/ عزت کو محفوظ کر لے

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں.

Address

Korangi
Karachi
74900

Opening Hours

Monday 20:00 - 04:00
Tuesday 20:00 - 04:00
Wednesday 20:00 - 04:00
Thursday 20:00 - 04:00
Friday 20:00 - 04:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rehan Tails ریحان کی باتیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category