Followers Of Peer Syed Mehr Ali Shah R.A -Kamoke

Followers Of Peer Syed Mehr Ali Shah R.A -Kamoke فاتح قادیانیت پیر سید مہر علی شاہ رح

17/05/2026
حضرتِ مولانا نورالدین عبدالرحمٰن جامی (رحمتہ اللہ علیہ) کی اس خوبصورت اور معرفت سے لبریز غزل کا اردو ترجمہ اور مختصر تشر...
17/05/2026

حضرتِ مولانا نورالدین عبدالرحمٰن جامی (رحمتہ اللہ علیہ) کی اس خوبصورت اور معرفت سے لبریز غزل کا اردو ترجمہ اور مختصر تشریح درج ذیل ہے:
>بخدا غیر خدا در دوجہاں چیزِ نیست**
> **بے نشانست کزو نام و نشاں چیزے نیست**
>
**ترجمہ:** خدا کی قسم! دونوں جہاں میں خدا کے سوا کوئی چیز (موجود) نہیں ہے۔ وہ ایسا بے نشان (بے مثل و مثال) ہے کہ اس کے نام و نشان کے بغیر کسی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
* **مفہوم:** یہاں توحیدِ وجودی کا بیان ہے کہ کائنات کی ہر شے کا وجود اللہ ہی کے نور اور قدرت کا مرہونِ منت ہے۔ خدا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔
> **ہستیٔ تست حجابِ تو وگر نہ پیدا**
> **کہ بجز دوست دریں پردہ نہاں چیزے نیست**
>
**ترجمہ:** تیری اپنی ہستی (تیری انا اور خودی) ہی تیرے لیے حجاب (پردہ) بنی ہوئی ہے، ورنہ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اس کائنات کے پردے میں اُس سچے دوست (اللہ تعالی) کے سوا کوئی اور چھپا ہوا نہیں ہے۔
* **مفہوم:** انسان اور خدا کے درمیان سب سے بڑا پردہ انسان کی اپنی "میں" یا انا ہے۔ جب انسان اپنی نفی کر دیتا ہے، تو اسے ہر طرف جلوہِ الٰہی ہی نظر آتا ہے۔
> **چند محجوب نشینی بہ گمانِ دیگراں**
> **خیمہ در کوئے یقین زن کہ گمان چیزے نیست**
>
**ترجمہ:** تو کب تک دوسروں کے گمان اور وسوسوں کے پیچھے پڑ کر (حق سے) محروم اور پردے میں بیٹھا رہے گا؟ اپنا خیمہ یقین کی گلی میں لگا لے، کیونکہ گمان اور شک کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
* **مفہوم:** دوسروں کی سنی سنائی باتوں یا وہم و گمان پر زندگی گزارنے کے بجائے اللہ کی ذات پر کامل یقین اور ایمان پیدا کرو، کیونکہ شک انسان کو بھٹکا دیتا ہے۔
> **گر ز عشقے خبرے نیست بگو اے واعظ**
> **ورنہ خاموش کہ ایں شور و فغاں چیزے نیست**
>
**ترجمہ:** اے واعظ! اگر تجھے عشق (الٰہی) کی کچھ خبر ہے تو بات کر، ورنہ خاموش ہو جا کیونکہ (عشق کے بغیر) یہ تیرا شور و غوغا اور رونا دھونا کسی کام کا نہیں ہے۔
* **مفہوم:** اگر دل میں اللہ کی سچی محبت اور عشق نہیں ہے، تو صرف زبانی تقاریر، نصیحتیں اور ظاہری واویلا بے معنی اور بے اثر ہے۔
> **بندۂ عشق شدی ترک نسب کن جامی**
> **کہ دریں راہِ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست**
>
**ترجمہ:** اے جامی! جب تو عشق کا بندہ (غلام) بن گیا ہے تو اب حسب و نسب کا غرور چھوڑ دے، کیونکہ اس (عشق و معرفت کی) راہ میں یہ بات کوئی مائنے نہیں رکھتی کہ کوئی 'فلاں کا بیٹا فلاں' (یعنی کس خاندان کا) ہے۔
* **مفہوم:** اللہ کی بارگاہ اور عشقِ حقیقی کے راستے میں خاندانی بڑائی، ذات پات یا حسب و نسب کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ وہاں صرف عاجزی، تقویٰ اور محبت دیکھی جاتی ہے۔

بر سریر دل شاہم شوکت گدا ایں استگرد کوئے معشوقم رتبۂ رسا ایں استمیں اپنے تخت دل کا بادشاہ ہوں، ایک گدا کی یہ شوکت ہے، م...
07/03/2025

بر سریر دل شاہم شوکت گدا ایں است
گرد کوئے معشوقم رتبۂ رسا ایں است

میں اپنے تخت دل کا بادشاہ ہوں، ایک گدا کی یہ شوکت ہے، میں اپنے معشوق کی گلی کی گرد ہوں، یہ رتبۂ رسا ہے، (یعنی میں دل کا غنی ہوں، سب سے بے نیاز گرچہ درویش و گدا ہوں، گرچہ میری حیثیت کچھ نہیں لیکن گرد کوچۂ معشوق ہوں، یہ نسبت میری بلندی ہے۔ معشوق سے اللہ کی ذات مراد لیجئے یا رسول کی)۔
رفتنم پئے سجدہ حاجتے بہ مسجد نے

طاق ابروئے جاناں خانۂ خدا ایں است
سجدے کے لئے مجھے مسجد جانے کی ضرورت نہیں، معشوق کا محرابی ابرو ہی میرا خانۂ خدا ہے (یہاں مسجد کا لفظ ایک علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب کسی خاص مقامِ عبادت کے ساتھ مشروط نہیں ہے۔ عشق صادق ہو تو ہر جگہ معشوقِ حقیقی کے جلوے نظرآتے ہیں)۔

من بہ خاک و خوں غلطاں او بہ قتل من مائل
عالمے تماشائی حال مبتلا ایں است

میں خاک و خوں میں لتھڑا ہوا ہوں اور وہ میرے قتل کی طرف مائل ہے، مبتلائے عشق کا حال یہ ہے کہ ایک عالم اس کی حالت کا تماشائی ہے (یہ عشق الٰہی میں بیش آنے والی آزمائشوں کی طرف اشارہ ہے)۔
من ز لعل نوشینت خون دل ہمی نوشم

قتل عاشقاں کردی دشت کربلا ایں است
میں تیرے شیریں ہونٹوں سے کون دل پیتا ہوں، تو نے عاشقوں کا قتل کیا یہی تو دشت کربلا ہے ( اس شعر میں بھی عشق کے ابتلا و آزمائش کی طرف اشارہ ہے اور معشوق حقیقی سے شکوے کا انداز ہے)۔

سعدیا عبث احرام طوف کعبہ می‌ بندی
روئے یار خود بنگر کعبہ صفا ایں است

سعدی ! بیکار تو طواف کعبہ کے لئے احرام باندھ رہا ہے، روئے معشوق کا دیدار کر لے، یہی کعبۂ صفا ہے ( یہاں بھی طواف کعبہ بطور علامت ہے شعر کا مفہوم، طلب ذات حق ہے جو یہ نہ ہو تو سارے اعمال شرعیہ عنداللہ بے کار ہوجاتے ہیں)۔

18/06/2024
26/03/2024

‎میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
‎ترا آستاں سلامت مرا کام چل رہا ہے

‎نہیں عرش و فرش پر ہی تری عظمتوں کے چرچے
‎تہ خاک بھی لحد میں ترا نام چل رہا ہے

‎وہ تری عطا کے تیور، وہ ہجوم گرِد کوثر
‎کہیں شورِ مَے کشاں ہے کہیں جام چل رہا ہے

‎کسی وقت یا محمد کی صدا کو میں نہ بھُولا
‎دم نزع بھی زباں پر یہ کلام چل رہا ہے

‎مرے ہاتھ آگئی ہے یہ کلید قُفلِ مقصد
‎ترا نام لے رہا ہوں مرا کام چل رہا ہے

‎کوئی یاد آ رہا ہے مرے دل کو آج شاید
‎جو یہ سیل اشکِ حسرت سرِ شام چل رہا ہے

‎وہ برابری کا تُو نے دیا درس آدمی کو
‎کہ غلام ناقَہ پر ہے تو امام چل رہا ہے

‎یہ اثر ہے تیری سنت کے مذاق سادگی کا
‎رہ خاص چلنے والا رہ عام چل رہا ہے

‎ترے لطف خسروی پر مرا کٹ رہا ہے جیون
‎میرے دن گزر رہے ہیں میرا کام چل رہا ہے

‎مجھے اس قدر جہاں میں نہ قبول عام ملتا
‎ترے نام کے سہارے مرا نام چل رہا ہے

‎تری مہر کیا لگی کہ کوئی ہنر نہ ہوتے
‎مری شاعری کا سکہ سرِ عام چل رہا ہے

‎یہ تری دعا کہ ہے کچھ اھی ہم میں وضع داری
‎یہ تری نظر کہ آپس میں سلام چل رہا ہے

‎میں ترے نثار آقا ! یہ حقیر پر نوازش
‎مجھے جانتی ہے دنیا مرا نام چل رہا ہے

‎ترا اُمتی بس اتنی ہی تمیز کاش کر لے
‎وہ حلا ل کھا رہا ہے کہ حرام چل رہا ہے

‎کڑی دھوپ کے سفر میں نہیں کچھ نصیر کو غم
‎ترے سایہ کرم میں یہ غلام چل رہا ہے

کلام: پیر سید نصیر الدین نصیر شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ

❤️❤️❤️❤️❤️.............................................
👍 For Golra Sharif Posts Join us
🔴🌟
WhatsApp group:

Address

Kamoki

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Followers Of Peer Syed Mehr Ali Shah R.A -Kamoke posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share