Simab Malik Officiall__9100

Simab Malik Officiall__9100 I am Simab Malik

کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ اس کا پہلے شوہر سے ایک تین سالہ بیٹا تھا۔ جب اس عورت ...
21/11/2024

کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ اس کا پہلے شوہر سے ایک تین سالہ بیٹا تھا۔ جب اس عورت نے دوسری شادی کی تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے نئے شوہر کے گھر منتقل ہو گئی۔ نیا شوہر بہت امیر تھا، اس لیے اس نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ اس کا بیٹا بھی ان کے ساتھ رہے۔ شروع میں وہ اس بچے کے ساتھ کھیلتا بھی تھا اور اسے اپنا ہی سمجھتا تھا۔

لیکن ایک سال بعد، جب ان کا اپنا بیٹا پیدا ہوا، تو شوہر کی محبت اور توجہ بدلنے لگی۔ اب وہ اپنے سوتیلے بیٹے سے کترانے لگا اور اس کے ساتھ پہلے جیسا سلوک نہیں کرتا تھا۔ اس کا سارا دھیان اب اپنے حقیقی بیٹے پر تھا۔ ایک دن جب وہ کام سے واپس آیا، تو اپنے بیٹے کے لیے ایک نئی سائیکل لے کر آیا۔ ماں کا دل کٹ گیا جب اس نے اپنے یتیم بیٹے کو اپنے چھوٹے بھائی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے پایا۔

ماں نے شوہر سے درخواست کی کہ وہ اپنے سوتیلے بیٹے کے لیے بھی ایک سائیکل خرید دے، لیکن شوہر نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس بچے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر ماں نے دوبارہ اس بارے میں بات کی، تو وہ بچے کو گھر سے نکال دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کے تحفظ کے لیے یہ بات مان لی۔

وقت گزرتا گیا اور دونوں بچے بڑے ہوگئے۔ شوہر نے اپنے حقیقی بیٹے کو ایک بہترین پرائیویٹ اسکول میں داخل کروا دیا، لیکن سوتیلے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، اس لیے اس پر اپنا پیسہ کیوں خرچ کرے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا نہ تو اس کا نام لے گا اور نہ ہی اسے کوئی فائدہ پہنچائے گا۔

ماں نے غصے سے جواب دیا: "ہاں، وہ شاید تمہارا خون اور گوشت نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے تعلیم سے محروم رکھو اور اسے جہالت کے اندھیرے میں چھوڑ دو۔ کیا تمہارے دل میں ذرا سی بھی رحمت اور شفقت نہیں؟" شوہر نے کہا: "بس بہت ہو چکا، میں اب اس کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اسے اپنے گھر میں نہیں دیکھنا چاہتا۔"

لڑکا اپنی ماں کے پاس آیا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: "ماں، پریشان نہ ہو، کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لیے آپ کو رونا پڑے۔ میں تھک چکا ہوں آپ کو روزانہ میری خاطر اس شخص کی توہین برداشت کرتے دیکھ کر۔ آپ کی خوشی کے لیے میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔" وہ لڑکا اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا، اپنے کپڑے اٹھائے اور گھر سے نکل گیا۔ ماں کا دل جیسے آگ میں جلنے لگا۔ اس کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے کہ اس کا بیٹا کہاں جائے گا؟ کہاں رہے گا؟ کہاں کھائے گا؟ اور اگر وہ بیمار پڑ گیا تو کون اس کی دیکھ بھال کرے گا؟

ماں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا کی: "اے اللہ! میں اپنے یتیم بیٹے کو تیرے سپرد کرتی ہوں، اس کی حفاظت فرما اور اسے محفوظ و سلامت واپس لے آ۔"

جب شوہر واپس آیا، تو اس نے دیکھا کہ بیوی خوش اور مطمئن نظر آ رہی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کہ بیٹا گھر سے چلا گیا ہے اور پھر بھی بیوی خوش کیوں ہے؟ اس نے پوچھا: "تم خوش کیوں ہو اور اپنے بیٹے کے جانے پر اداس کیوں نہیں ہو؟" بیوی نے مسکرا کر کہا: "میں نے اپنے بیٹے کی حفاظت اس کے سپرد کر دی ہے جو اسے دیکھ بھال اور حفاظت کے قابل ہے، وہ جو کبھی تھکتا نہیں اور کبھی نا امید نہیں ہوتا، اور وہ بغیر کسی اجر کے سب کچھ کر سکتا ہے۔" شوہر نے حیرت سے پوچھا: "وہ کون ہے؟" بیوی نے کہا: "اللہ عز و جل۔"

شوہر نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا: "دنیا باہر رحم نہیں کرتی، اور کوئی بھی بھوکے پر ترس نہیں کھاتا، لگتا ہے تم نے اپنا دماغ کھو دیا ہے۔" وقت گزرتا گیا اور سالوں بعد، ماں کا بیٹا ایک دن واپس آیا، اپنے ہاتھ میں ایک بچہ اور ساتھ ایک عورت کے ساتھ۔

اس نے اپنی ماں کو سلام کیا۔ ماں حیرت اور خوشی سے پوچھتی ہے: "یہ عورت کون ہے اور یہ بچہ کس کا ہے؟" بیٹے نے جواب دیا: "یہ میری بیوی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے، اے ماں!" ماں نے پوچھا: "تم نے یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا، جب تمہارے پاس نہ پیسے تھے اور نہ ہی کوئی پناہ؟"

بیٹے نے کہا: "سچ بتاؤں تو میں خود نہیں جانتا کہ زندگی نے مجھے کہاں پہنچا دیا۔ میں بے یار و مددگار تھا اور نہیں جانتا تھا کہ کہاں جاؤں۔ پھر میں ایک چھوٹے سے گاؤں کی مسجد میں پہنچا اور وہاں رات گزاری۔ دن میں کام کی تلاش کرتا اور رات کو مسجد میں سوتا تھا۔ امام مسجد کو اپنی کہانی سنائی اور ان سے مسجد میں سونے کی اجازت مانگی، انہوں نے اجازت دے دی اور ہر روز مجھے کھانا دیتے تھے۔ میں شام کو مسجد صاف کرتا تھا اور امام نے مجھے قرآن حفظ کروایا اور دین کی تعلیم دی۔ میں روزانہ مسجد کی لائبریری میں پڑھتا رہتا تھا۔ ایک دن امام بیمار پڑ گئے، تو میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسی دن سے میں لوگوں کا امام بن گیا۔ لوگ مجھے پسند کرنے لگے اور مجھ سے محبت کرنے لگے۔ انہوں نے میرے لیے ایک یتیم لڑکی سے شادی کا انتظام کیا، جس کے پاس صرف اس کی دادی تھی۔ میں نے شادی کی اور کچھ ہی عرصے بعد اس کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ بیوی کو اس کی دادی کی وراثت سے زمین کا ایک ٹکڑا ملا، جسے میں نے کاشت کیا اور حالات بہتر ہو گئے، الحمدللہ۔ اب اللہ کے فضل سے میرے پاس بہت سی زرعی زمینیں ہیں، اور اللہ نے مجھے اپنے فضل سے نوازا ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، اور اللہ نے آپ کی وجہ سے میری مدد کی۔"

ماں خوشی سے رو پڑی اور جان گئی کہ اللہ نے اس کی دعائیں قبول کیں۔ اس نے اپنے پوتے کو گلے لگایا اور بیٹے نے ماں کے ہاتھ چومے۔ لیکن شوہر کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایک دن وہ لڑکا ایک کامیاب اور امیر شخص بن کر واپس آئے گا۔ سبحان اللہ، اللہ ہی رازق ہے اور جسے چاہے بے حساب نوازتا ہے۔ اس یتیم بچے کو اس کی ماں کی دعاؤں اور رضامندی کی بدولت نوازا گیا۔

*اور آخر میں، حضرت نبی کریم ﷺ پر اور ان کی آل و اصحاب اور تابعین پر قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنا نہ بھولیں۔❤️

ایک حاملہ عورت اپنے شوہر سے پوچھتی ہے: "آپ کیا چاہتے ہیں، بیٹا یا بیٹی؟"شوہر جواب دیتا ہے: "اگر بیٹا ہوا تو میں اسے ریاض...
21/11/2024

ایک حاملہ عورت اپنے شوہر سے پوچھتی ہے: "آپ کیا چاہتے ہیں، بیٹا یا بیٹی؟"

شوہر جواب دیتا ہے: "اگر بیٹا ہوا تو میں اسے ریاضی سکھاؤں گا، اس کے ساتھ ورزش کروں گا، اسے شکار کرنا سکھاؤں گا اور بہت کچھ۔"

عورت ہنستے ہوئے پوچھتی ہے: "اور اگر بیٹی ہوئی تو؟"

شوہر مسکراتے ہوئے کہتا ہے: "اگر بیٹی ہوئی تو مجھے اسے کچھ بھی سکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ مجھے سب کچھ سکھائے گی: کیسے لباس پہننا ہے، کیسے کھانا ہے، کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ بہت جلد، وہ میری دوسری ماں کی طرح بن جائے گی۔ اور بغیر کچھ خاص کیے بھی، وہ ہمیشہ مجھے اپنا ہیرو سمجھے گی۔ جب میں اسے 'نہیں' کہوں گا، وہ سمجھ جائے گی۔ اور وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کے شوہر کا موازنہ مجھ سے کرے گی۔ چاہے جتنی بڑی ہو جائے، وہ ہمیشہ چاہے گی کہ میں اسے اپنی چھوٹی شہزادی کی طرح ہی پیار کروں۔ وہ دنیا سے میرے لیے لڑے گی، اور اگر کسی نے مجھے تکلیف دی، تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔"

عورت، کچھ حیران ہو کر پوچھتی ہے: "کیا تمہارا مطلب ہے کہ تمہاری بیٹی یہ سب کچھ کرے گی، لیکن بیٹا نہیں؟"

شوہر کہتا ہے: "نہیں، نہیں! میرا بیٹا بھی یہ سب کر سکتا ہے، لیکن اسے وقت کے ساتھ یہ سب سیکھنا ہوگا۔ دوسری طرف، بیٹیاں ان خوبیوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ بیٹی کا باپ ہونا ہر مرد کے لیے حقیقی فخر کی بات ہے۔"

پھر عورت کہتی ہے: "لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گی۔"

شوہر نرمی سے جواب دیتا ہے: "ہاں، لیکن ہم ہمیشہ اس کے دل میں رہیں گے، جہاں بھی وہ جائے۔"

بیٹیاں واقعی فرشتے ہوتی ہیں... وہ غیر مشروط محبت اور خیال کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، ہمیشہ کے لیے۔

یہ تحریر اُن تمام خوش نصیب والدین کے لیے ہے جنہیں بیٹیاں عطا ہوئی ہیں۔❤️

بیرون ملک مقیم اپنے بچوں کے رشتے کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں جی جہاں بھی رہیں گے جن حالات میں بھی رہیں گے ...
21/11/2024

بیرون ملک مقیم اپنے بچوں کے رشتے کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں جی جہاں بھی رہیں گے جن حالات میں بھی رہیں گے اکٹھے رہیں گے۔
اس بات پر کبھی کوئی سمجھوتہ مت کریں۔
یہ صرف لڑکی کیلئے نہیں لڑکے کیلئے بھی بے انتہا ضروری ہے۔ اپنے بیٹے اور بیٹی پر یہ ظلم مت کیا کریں.
آپ باپ ہیں ولی ہیں تو آپ کو صرف حقوق نہیں دے دیئے گئے کہ آپ کی بیٹی آپ کی رضا کے بغیر شادی نہ کرے بلکہ آپ کو فرائض بھی سونپے گئے ہیں کہ
بیٹی کی مرضی کے بغیر نہ اس کی شادی کر سکتے ہیں
نہ اس کے مستقبل کو محفوظ بنائے بنا اسے رخصت کریں۔
جس شخص کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ سونپ رہے ہیں تو اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ وہ انہی ہاتھوں کی حفاظت میں رہے۔
اور اگر ماں ہیں بیٹے کے سر پہ سہرا سجا دیکھنا چاہتی ہیں تو پھر یہ بھی یاد رکھیں اس سہرے کے بدلے جو لڑکی اس کی زندگی میں آئے گی وہ اسی بیٹے کیلئے ہی آئے گی آپ کیلئے نہیں۔
اور اسے ہر اچھے برے وقت میں بیٹے کے ساتھ ہی رہنا ہو گا۔
مت کریں اپنے بیٹوں پہ ایسا ظلم کہ اسے صرف کمائی کا ذریعہ ہی سمجھ لیں۔
اس کی جوانی ،خوشیوں کا خیال رکھنا آپ کا اتنا ہی فرض ہے جتنا اس کا کما کر لانا۔
بہنوں کی ذمہ داری بھائیوں کے سر پہ مت رکھیں اگر باپ موجود ہے تو۔
لیکن اگر خدانخواستہ باپ موجود نہیں تو بیٹیوں کو بھی اس قابل بنائیں کہ وہ بھائیوں کی معاشی ذمہ داریاں بانٹیں۔
یہ فرض صرف آپ کے بیٹے کا نہیں ہے کہ وہ بہنوں اور ماں کیلئے بس کماؤ بن کر رہ جائے اور اپنی زندگی کی ہر جائز خوشی تیاگ دے۔
مت کریں یہ ظلم بیٹوں پہ
خدا را۔

لوگوں سے ان کے لوگ مت چھینیں اگر کوئی کسی کے ساتھ خوشی محسوس کرتا ہے تو ان کے درمیان بدگمانی مت پیدا کریں اگر اپ کی جگہ ...
19/11/2024

لوگوں سے ان کے لوگ مت چھینیں اگر کوئی کسی کے ساتھ خوشی محسوس کرتا ہے تو ان کے درمیان بدگمانی مت پیدا کریں اگر اپ کی جگہ نہیں بنتی تو پیچھے ہٹ جائیں مگر خدارا !کسی کو معدوم کر کہ اس کی جگہ نہ لیں🖤🌼

جب آپ کا والٹ خالی ہو سوائے وزٹنگ کارڈ اور کچھ غیر ضروری پرچیوں کہ اس میں کچھ بھی نہ ہو اور کوئی چپ کے سے اس میں پانچ سو...
17/11/2024

جب آپ کا والٹ خالی ہو سوائے وزٹنگ کارڈ اور کچھ غیر ضروری پرچیوں کہ اس میں کچھ بھی نہ ہو اور کوئی چپ کے سے اس میں پانچ سو کا وہ نوٹ رکھ دے جو اسے عید پر ماں نے دیا ہو

جب آپ ایک سال کی بے روزگاری کے بعد بڑی ہمت سے پھر نوکری کی تلاش میں نکلیں اور شام کو ناکام واپس لوٹیں اور کوئی مسکرا کر آپ کے ماتھے پر بوسہ دے دے

جب آپ کی سالیاں اونچے گھروں میں شادی شدہ ہو ہر شادی پر دو دو تین تین نۓ سوٹ پہنتی ہوں اور کوئی ایک ہی جوڑے سے مختلف شادیاں ہنسی خوشی نمٹا آۓ تم سے نۓ جوڑوں کا مطالبہ نہ کرے

جب آپ کے گھر کو چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہو اور کوئی سلائی کی مشین دھر لے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دے اور دو چار پیسے جوڑ کر گھر کے خرچوں میں ہاتھ بٹانا شروع کر دے

جب آپ انتہائی ڈپریشن میں دو چار کڑوی باتیں کر جائیں اور کوئی خاموشی سے سن کر کمرے سے نکل جاۓ اور پھر چاۓ کا کپ تھامے تھوڑی دیر مسکراتی ہوئی واپس آ جاۓ

جب آپ مسلسل بے روزگار ہوں اور کوئی پیسے نہ ملنے پر میکے چلے جانے کی دھمکی نہ دے

تو سمجھ جانا کہ وفا کی مٹی سے گوندھی گئی ایک عورت تمہیں نصیب ہوئی ہے

تم اس کا سہارا بننا اس کی حفاظت کرنا کوئی اس کا مذاق اڑاۓ تو اس کا اعتماد بننا بھری محفل میں اس کی بے عزتی نہ کرنا شرم کے گھنگرو توڑ کر اس کی تعریف کرنا اس کے ماضی کے کسی بھیانک سچ پر اس کی طرف سے وکیل اور جواب بننا

باخدا تمہاری جوڑی جچے گی تم اس کائنات میں جنت کی جھلک دیکھو گے۔۔۔۔

Address

Kahuta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Simab Malik Officiall__9100 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Simab Malik Officiall__9100:

Share

Category