30/09/2024
حامد میر کا سید ح-سن نص-ر اللہ کی شہادت پر کالم
نیتن یاہو کے خیال میں ح-ما-س کے سربراہ اور ح-ز-ب اللہ کے سربراہ کی شہادت انکی بہت بڑی کامیابی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کامیابیوں کے باوجود اسرائیل پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہو چکا ہے۔
1992ء میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے لبنان پر حملہ کرکے ح-ز-ب اللہ کے سربراہ عباس الموسوی کو انکی اہلیہ اور پانچ سالہ بیٹے کے ہمراہ شہید کیا تو اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم اسحاق شامیر کا بھی یہی خیال تھا کہ اسرائیل محفوظ ہوگیا۔ یہ خیال غلط نکلا۔ عباس الموسوی کی جگہ حس-ن نص-ر اللہ نے ح-ز-ب اللہ کی قیادت سنبھالی تو اسرائیل کیخلاف مزاحمت میں تیزی آگئی۔
1997ء میں حس-ن نص-ر اللہ کا 18سالہ بیٹا محمد ہادی جنوبی لبنان میں اسرائیل کیخلاف مزاحمت کرتا ہوا شہید ہوگیا۔ محمد ہادی کا جسد خاکی ٹکڑوں میں بکھر گیا تو اسرائیل نے اسکے ٹکڑوں کی حزب اللہ کو واپسی کی پیشکش کی۔ حس-ن نص-ر اللہ نے یہ پیشکش مسترد کردی جس کے بعد انکی عوامی حمایت میں اضافہ ہوگیا
2000ء میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے پسپا ہونا پڑا۔ ساؤتھ لبنان آرمی کے افسران اور جوانوں کو بھی اسرائیل کی طرف بھاگنا پڑا۔ یہ حس-ن نص-ر اللہ کی بہت بڑی کامیابی تھی
2004ء میں حس-ن نص-ر اللہ نے اسرائیل کیساتھ قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ اس تبادلے میں اسرائیل نے انہیں ہادی کے جسد خاکی کے ٹکڑے بھی لوٹائے جو 1997ء میں شہید ہوا تھا
آج اگر فلسطین اور لبنان غیر محفوظ ہیں تو اسرائیل بھی اتنا غیرمحفوظ ہے کہ کئی مغربی ائیرلائنز نے اسرائیل کیلئے اپنی پروازیں معطل کر رکھی ہیں۔ اسرائیلی شہری بڑی تعداد میں یورپ اور امریکا کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے۔ اسرائیل کی اصل طاقت اسکی دولت اور مغربی ممالک کی حمایت ہے۔ اس دولت اور سیاسی طاقت سے اسرائیل اپنے دشمنوں کی صفوں میں غدار پیدا کرتا ہے۔ ان غداروں کی مدد سے اسرائیل اپنے دشمنوں کو نشانہ بناتا ہے۔
اسرائیل کے جاسوسی نیٹ ورک صرف ایران، شام، عراق اور لبنان میں نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ کئی مسلم ممالک میں اسرائیلی نیٹ ورک مسلمان رہنماؤں کو براہ راست ٹارگٹ کرنے کی بجائے ان ممالک میں فرقہ وارانہ نفرتیں بھڑکاتا ہے اور مذہبی تعصب کی آگ بھڑکانے والوں کی خفیہ امداد کرتا ہے
حس-ن نص-ر اللہ کی جگہ نعیم_ قاسم کو ح-ز-ب اللہ کا نیا عبوری سیکرٹری جنرل بنایا گیاہے۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حس-ن نص-ر اللہ نے اپنی زندگی میں نعیم_ قاسم کو ح-ز-ب اللہ کے آئندہ سربراہ کے طور پر اجاگر کرنا شروع کردیا تھا۔ نعیم قاسم کی کتاب ’’ح-ز-ب اللہ‘‘ کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں اور کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نعیم_ قاسم اسرائیل کیخلاف زیادہ سخت پالیسی اختیار کرنے کے حامی ہیں۔میں نے یہ کتاب 2006ء میں بیروت میں پڑھی تھی اور مجھے وہاں یہ پتہ چلا تھا کہ حس-ن نص-ر اللہ نے اسرائیل کیخلاف مزاحمت کو ایک ریڈ لائن تک محدود کر رکھا ہے تاکہ اسرائیل لبنان پر اتنی بمباری نہ کرے کہ لبنان کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو جائے۔ نعیم_ قاسم اسرائیل کیخلاف ویسے ہی حملوں کے حامی رہے ہیں جیسا حملہ اکتوبر 2023ء میں حماس نے کیا۔
نعیم_ قاسم نے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ دشمن کی مضبوط فوج اور ائیر پاور کا واحد حل فدائی حملے ہیں۔ اگر نعیم_ قاسم نے ح-ز-ب اللہ کو اسی راستے پر ڈال دیا جس کی نشاندہی انہوں نے کئی سال قبل اپنی کتاب میں کی تھی تو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ دیگر خطوں میں بھی پھیلے گی
۔ نیتن یاہو کے پاس ائیر پاور اور امریکی ڈرون ہیں۔ نعیم _قاسم کے پاس ہزاروں فدائی حملہ آور ہیں۔ افسوس کہ ہم ائیر پاور اور فدائی حملہ آوروں کی ایک نئی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں زمینی فوجیں زیادہ اہم نہیں ہوں گی۔
عالمی برادری اس نئی جنگ کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئی تو دنیا ح-سن نص-ر اللہ کو بھول جائے گی۔ یقین نہ آئے تو حس-ن نص-ر اللہ کے جانشین کی کتاب ’’ح-ز-ب اللہ‘‘ پڑھ لیں۔