26/08/2026
دیہات میں زیادہ تر لڑائی جھگڑے عورتوں بچوں سے شروع ہو کر چھوٹی چھوٹی لڑائی خاندانی خونی دشمنیوں میں بدل جاتی ہے اب دیہات میں الحمدللہ لوگوں کی توجہ تعلیم پر ہے لوگ پڑھ لکھ رہے ہیں اب ماشاءاللہ دیہات میں پہلے کی طرح لڑائیاں جھگڑے نہیں ہوتے پہلے تو لوگ زمین کے ایک فٹ کے پیچھے دو چار بندے مار دیا کرتے تھے پھر دشمنیاں صدیوں تک چلتی اور انسان مرتے رہتے تھے دشمنی کے باعث لوگ اپنے بچوں کو تعلیم بھی نہیں دلوا سکتے تھے تعلیم کے بغیر سب جانتے ہیں انسان نہ مکمل ہے پڑھا لکھا باشعور شخص دشمنیوں کو ختم کرتا ہے امن اور محبت کی زندگی کو ترجیح دیتا ہے دوسرا اب بھی دیہات میں اگر لڑائی جھگڑا ہو تو توجہ کرنا اس کے پیچھے ان شرارتی لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو محلے میں ایک کی بات دوسرے تک پہنچاتے ہیں خاص کر عورتیں ان لوگوں کی وجہ سے بھی دیہات میں امن متاثر ہوتا ہے گھر کے مردوں کو چاہیئے عورتوں کو سمجھائیں جو ایسی ویسی عورت ہو جو دوسروں کے پیغامات اور گلے شکوے لے آتی یا جاتی ہو ان کے ساتھ نہ بیٹھیں اور ان کو بغیر کام کے گھر نہ آنے دیں اگر کوئی بات ہو جس سے مرد کو محسوس ہو محلے میں کسی قسم کی لڑائی فساد ہوا ہے تحقیق کریں اور اس عورت یا مرد کو بھی ساتھ بے عزت کریں جو لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں ایک کی بات دوسرے تک پہنچاتے ہیں خدا نہ کرے بات تھانے تک جائے تو اس شخص کو ضرور شامل تفتیش کریں جو لڑائی کا سبب بنے چائے مرد ہو یا عورت اگر ممکن ہو تو عورتوں کی محفل گھر لگنے ہی نہ دیں کیوں کے دو سے زیادہ جب عورتیں اکٹھی ہوتی ہیں تو شیطان اپنی پوری کوشش کرکے ڈیوٹی سر انجام دے کر شام سے پہلے محلے میں ایک تگڑی گھریلوں جنگ لگا کر سائیڈ پر بیٹھ کر شغل دیکھتا ہے ۔۔
تحریر ✍️ سانول آف نورا شریف بھکر
وسدے دیہات