Habib Ur Rehman Warraich

Habib Ur Rehman Warraich انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے خیر خواہ کو نہ پہچانے۔۔۔🙂🖤🌸
(7)

16/04/2026

تم جو اتنے بیزار ہو مُجھ سے
تو پھر میرے مرنے کی دعا کیوں نہیں کرتے۔🥀🫀❣️

یوں بھی خزاں کا رُوپ سہانا لگا مجھےہر پھول , فصلِ گُل میں پرانا لگا مجھےمیں کیا کسی پہ سنگ اُٹھانے کی سوچتااپنا ہی جسم ,...
14/04/2026

یوں بھی خزاں کا رُوپ سہانا لگا مجھے
ہر پھول , فصلِ گُل میں پرانا لگا مجھے

میں کیا کسی پہ سنگ اُٹھانے کی سوچتا
اپنا ہی جسم , " آئینہ خانہ " لگا مجھے

اے دوست! جھوٹ عام تھا دنیا میں اس قدر
تُو نے بھی سچ کہا ، تو فسانہ لگا مجھے

اب اس کو کھو رہا ہوں بڑے اشتیاق سے
وہ جس کو ڈھونڈنے میں زمانہ لگا مجھے __!!

محسن نقوی

14/01/2026

-" اَللّٰهُ الصَّمَدُ‌ ۞
اللّٰه سب سے بے نیاز ہے اور ہم سب اسی کے محتاج ہیں_" 😇❤

10/07/2025

پیٹرول ڈیزل اور ڈالر اپنی ٹرپل سنچری کی دوڑ میں ہیں لیکن معشیت دن بدن بہتر ہو رہی ہے کھوتالوجیا 😺

06/07/2025

میں دینی معاملات میں زیادہ بات اس لیئے نہیں کرتا کیونکہ میں کوئی عالم نہیں۔ مگر یہاں جو میں عقل اور شعور کہتا ہے اس کے لحاظ سے اپنا نقطہ نظر رکھنے جا رہا ہوں۔ اُمید کرتا ہوں کہ آپ لوگ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ میں سب سے پہلے ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی فرقے کو نہیں مانتا، نہ شیعہ ہوں نہ سنی—میں صرف اللّٰہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتابوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرے ایمان کی بنیاد انسانیت، عدل، اور حق پر ہے۔ اسی بنیاد پر جب واقعہ کربلا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، تو دل لہو رو دیتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یزید نے حضرت امام حسینؑ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، لہٰذا وہ ذمہ دار نہیں۔ لیکن یہ بات حقائق، عقل، اور دین کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی۔

اگر ایک ملک کا حکمران کسی شہر میں تعینات عملے کی سنگین غلطی یا ظلم پر خاموش رہے، تو کیا صرف اُس نیچے والے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا؟ کیا حاکم وقت کو بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی بڑا سانحہ ہو جائے اور حکمران خاموشی سے بیٹھا رہے تو تاریخ اُسے کبھی معاف نہیں کرتی۔ یہی اصول کربلا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

یزید کو علم تھا کہ حضرت امام حسینؑ اپنے اہل خانہ سمیت مکہ سے کربلا کی طرف جا رہے ہیں۔ کیا وہ کوئی عام فرد تھے؟ نہیں، وہ رسول اکرم ﷺ کے نواسے تھے۔ حضرت علیؑ جیسے عظیم خلیفہ کے بیٹے تھے، حضرت بی بی فاطمہؑ کے نورِ نظر تھے، وہ خاندان نبوت کے چشم و چراغ تھے۔ ان کی بیویاں، بچے، بہنیں، سب ساتھ تھے۔ ایسے معزز اور پاکیزہ قافلے کی خبر حاکم وقت کو ہو، اور وہ پھر بھی اپنی فوج کو حکم نہ دے کہ ان کا احترام کرے، نہ ان کو بلا کر عزت دے، نہ ان کو راستہ دے، بلکہ ان کے راستے میں فوجیں بٹھا دے، پانی بند کر دے، اور تین دن بھوکا پیاسا رکھے، تو پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ذمہ دار نہیں؟

یزید کے سامنے سب کچھ ہوا۔ اس نے امام حسینؑ کو اپنے پاس بلانے کے بجائے ان کے خلاف لشکر بھیجا۔ اگر وہ چاہتا تو ایک حکم سے یہ سب کچھ رک سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ابن زیاد کو روک سکتا تھا۔ چاہتا تو عمر بن سعد کو معزول کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ بلکہ بعد میں جب امام حسینؑ کی لاش کربلا کی خاک پر بے گورو کفن پڑی تھی، جب اہلِ بیتؑ کی عورتوں اور بچیوں کو بے پردہ قیدی بنا کر کوفہ و شام کے بازاروں میں گھمایا جا رہا تھا، تب بھی یزید خاموش تھا، یا خوش۔

کوفہ والوں نے خط لکھے اور پھر مکر گئے، اس لیے ان کی سازش تھی۔ لیکن اگر کوفہ والوں نے مکر کیا تو کیا حاکمِ وقت یزید بے قصور ہو گیا؟ کیا حکومت ایسے چلتی ہے کہ رعایا فریب دے اور خلیفہ خاموش تماشائی بن جائے؟ کوفہ والوں نے جو بھی کیا، یزید کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی، بلکہ اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ وقت کا حاکم تھا۔ اس کا فرض تھا کہ رسول ﷺ کے نواسے کو تحفظ دیتا، عزت دیتا، بات سنتا، مگر اس نے اپنے اقتدار کی کرسی کو بچانے کے لیے وہ ظلم ہونے دیا جسے تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی۔

اسلامی اصولوں میں حاکمِ وقت سب سے زیادہ جواب دہ ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر گیا، تو عمر جواب دہ ہو گا۔ تو پھر نواسۂ رسول ﷺ کے خون کا جواب کون دے گا؟ نواسۂ رسولؑ کو کربلا کی زمین پر شہید کر دیا گیا، ان کے بچوں کو پیاسا مارا گیا، ان کی بہنوں کے سروں سے چادر چھینی گئی، اور یزید حکومت کا جشن مناتا رہا—تو وہ کیسے بے گناہ ہو سکتا ہے؟

تاریخ گواہ ہے کہ اس کے بعد مدینہ میں واقعہ حرہ ہوا، جہاں یزیدی فوج نے تین دن تک قتل و غارت کی، عورتوں کی عصمتیں پامال کی گئیں، مسجد نبوی تک میں گھوڑے باندھے گئے۔ پھر مکہ پر حملہ ہوا، اور کعبہ شریف کو منجنیق سے جلایا گیا۔ یہ سب یزید کے دورِ حکومت میں ہوا۔ اگر وہ کربلا کا مجرم نہ بھی ہوتا، تو ان باقی مظالم کا کیا جواب ہے؟ اس کا کردار کربلا سے پہلے اور کربلا کے بعد بھی سیاہ رہا۔

یزید کے حق میں جو دلیل دی جاتی ہے کہ وہ بعد میں امام حسینؑ کی شہادت پر رونے لگا، تو یہ آنسو منافقت کے تھے یا ندامت کے، تاریخ اس پر خاموش ہے۔ لیکن اگر وہ واقعی شرمندہ ہوتا تو ابن زیاد کو سزا دیتا، اہلِ بیتؑ کو شرف کے ساتھ واپس مدینہ بھیجتا، امام حسینؑ کے مزار کو عزت کا مقام بناتا۔ مگر اس نے کچھ بھی نہ کیا۔ اس نے ظلم ہونے دیا، خاموشی اختیار کی، اور پھر ظالموں کو عہدوں پر فائز رکھا۔

یزید قاتل ہو یا قاتل کا سہولت کار، وہ مجرم ضرور ہے۔ اگر وہ خود میدانِ کربلا میں نہیں تھا، تو اس کا حکم، اس کی خاموشی، اور اس کی رضا شامل تھی۔ اور اسلام میں جرم کی تائید یا خاموشی بھی جرم کے برابر ہوتی ہے۔ اسی لیے صدیوں سے امتِ مسلمہ کا ضمیر حسینؑ کے ساتھ کھڑا ہے اور یزید کی حکمرانی کو ظلم کی علامت سمجھتا ہے۔

لہٰذا میرا ایمان، میری عقل، اور میرا انصاف یہی گواہی دیتا ہے کہ یزید کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تاریخ نے اسے معاف کیا ہے، نہ امت نے، اور نہ اللّٰہ کرے گا۔ کیونکہ جس نے نبی کی اولاد پر ہاتھ اٹھانے والوں کو نہ روکا، وہ خود بھی ان کے لہو میں برابر کا شریک ہے۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Akhlaq Ahmad, Fazal Haq, Javeed Gill, Saleem Khan Tajak, ...
26/03/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Akhlaq Ahmad, Fazal Haq, Javeed Gill, Saleem Khan Tajak, مخمد تاکی, Ikram Ullah, Amaan Ullah Warraich

17/03/2025

*🍁Muslim With Allah🍁*

* #"عقلمند وہ نہیں ہے، جو صرف اچھائی اور بُرائی کو جانتا ہو؛*
* #درحقیقت عقلمند وہ ہے، کہ جب اچھائی (حق) دیکھے، تو اُس کی پیروی کرے؛*
*اور بُرائی (باطل) دیکھے، تو اُس سے دور رہے!"*

Address

D. G. Khan
Jampur
PRICE

Telephone

+923404146038

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Habib Ur Rehman Warraich posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share