26/02/2026
سڑک پر کھڑے ایک شی میل سے کہا کہ میرے پاس آپ کے لیے کچھ شوز ہیں اور راشن ہے اگر آپ میرے ساتھ چلو تو آپ کو دے دیتا ہوں ۔۔
میری یہ بات سن کر پہلے تو بندا پریشان ہوا ،، پھر کہا ۔۔ ہائے یہ کیا بات ہوئی مدد کے بہانے تم مجھے کہاں لیجا رہے ہو ۔۔
یہ سنا توبندے کو زرا چھیڑتے ہوئے کہا “اچھا اگر ایسا ہے تو پھر سچی بات یہ ہے کہ میں رمضان میں صرف علی محمد تاجی کے صوفیانہ نما شرابی کلام سنتا ہوں ۔۔ اگر تم ان پر کچھ پاکیزہ سا رقص پیش کرو ۔ تو اس کام کے کتنے پیسے لوگے ۔۔
تالی بجائی کہا ۔۔ توبہ توبہ رمضان میں رقص ۔۔ سیدھا جہنم بھیجنا ہے کیا ۔۔ نا میں نے رقص کرنا ہے نا آپ کی مدد چاہیئے ۔۔
بندا مکمل انکاری ہوگیا ۔۔ جبکہ امانت انھی کو دینی تھی ۔۔ لہذا درمیانی راستہ یہ نکالا کہ میں آپ کے شوز اور آپ کا راشن فلاں دکاندار کو دے دوں گا ۔ آپ جاکر لے لینا ۔۔
تین تالیاں بجا دی اور کہا اب ڈن ہوگیا ۔۔ بس کل میں اس دکان پر جاکر تمھارا ایمان دیکھ لوں گی باقی یقین مجھے زرا بھی نہیں ۔۔
دکاندار ہمارے پرانے لین دار ہیں ان کو میں نے کہا ۔۔ “ناصر عرف بجلی” آپ کی دکان پر تشریف لائیں گی آپ انھیں راشن دے دیں ۔ اگلے دن دکان سے فون آیا کہ کہا یہاں بجلی تو نہیں آئی البتہ ایک سفید بہ ریش بزرگ ائے ہیں اور راش مانگ رہے ہیں ۔۔
وہ بزرگ آدمی بجلی کا والد تھا ۔۔ راش لے گیا ۔۔
اگلے دن سڑک پر محترمہ بجلی سے دوبارہ ملاقات ہوئی ۔۔ میں نے پوچھا میری ایمانداری کا یقین ہوگیا ؟ اس بار لہجہ نرم تھا ۔۔ ایک قسم کے اطمینان سے بھرپور ۔۔
کہا میرے والد نے آپ کو بہت دعائیں دی ہیں ۔۔
میں نے ہاتھ ملانے کے لئے اگے بڑھایا اور بتایا کہ “آپ جب چاہے میرے گھر اکر اپنے شوز لیجاسکتے ہیں ۔۔
کہا ایڈریس دیں ۔۔ ایڈریس دے دیا ۔۔
اور پھر کیا تھا ۔۔۔ افطاری کے بعد محترمہ بجلی اپنی پوری انجمن سمیت اکر دروازے پر جمع ہوگئے ۔۔ ۔۔ ۔ اف اللہ کیا کیا کہانیاں سنائی ان سب نے ،، یہ طبقہ مسلسل ایک غیر اعلانیہ جبر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔۔
قدرے پختہ عمر کے ایک شی میل کے پاوں میں نے جوتے پہنائے تو وہ لڑکھڑا سا گیا اور خود کو قابوں کرنے کے لئے اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔ جب میں نے نظریں اٹھاکر اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور انکھوں میں انسوں تھے ۔۔
ہر انسان شائستہ ہے نازک مزاج ہے
کاپیڈ 🖤🌺