Kuwait iraq war effectees
(1)
Address
Islamabad
Telephone
Website
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Kuwait iraq war effectees posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
Contact The Business
Send a message to Kuwait iraq war effectees:
Category
My name is akbar azam mughal
My name is akbar azam mughal and i was born in kuwait. my date of birth is 12th of june,1970. this video was making in sialkot during i was live in sialkot before i was starting long march by foot and protest against overseas pakistanis foundation's courrption from sialkot to national press club,sector F-6/1,islamabad.so i was starting protest on 5th of may,2012. from that day to now 7 years 6 months and 25 days ago,no body wants to compensate and listen us.in this perioud i was put my and our matter in supreme court of pakistan, national accountability bureau,ministry of overseas pakistanis and the former governments.i mean to say about pakistan peoples party,pakistan muslim league(N) and the present government all they are came in power for their own not for pakistani nation. plz help us because i am not alone we 89 effectees of kuwait iraq war and the OPF.we need financelly assistance.
02 اگست 1990 کی کویت عراق جنگ کے دوران ہونے والے کویت عراق جنگ متاثرین جن کے کلیم 15 اکتوبر 2003 جو کہ اووسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کی مقرر کی ہوئی آخری تاریخ تھی اووسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اسلام آباد، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے دفاتر میں ہم نے اپنے کویت عراق جنگ میں ہونے والے مالیاتی نقصانات کے کلیم جمع کروائے لیکن ہمیں کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہم نے اپنا احتجاجی کیمپ بمقام نیشنل پریس کلب سیکٹر F-6/1، اسلام آباد 15 مئی 2012 سے شروع کیا تھا ہم نے اووسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کی کرپشن کے خلاف 05 مئی 2012 کو سیالکوٹ سے اسلام آباد کیلئے پیدل لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا اور 10 دن پیدل لانگ مارچ کرنے کے بعد ہم اسلام آباد پہنچے تھے اور ہم نے پیدل لانگ مارچ کی اجازت سیالکوٹ کی انتظامیہ سے لی تھی جنگ سے متاثرہ پاکستانیوں کی آمد کے موقع پر اس وقت کی نگران حکومت نے مدد کیلئے تعاون اور اخراجات برداشت کئے 1997 تا 1999 میں اس وقت کی حکومت نے 27891 کویت عراق جنگ متاثرین کو معاوضات کی ادائیگیاں تو کیں تھیں لیکن بھی نامکمل ہم معاشی طور تباہ حال عمر رسیدا صحت کے مسائل سے دوچار اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں کئی سالوں سے اووسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اور عدالتوں کے چکر لگا لگاکر تھک گئے ہیں ہم 15 اکتوبر 2003 کو لیٹ رجسٹرڈ ہونے والے متاثرین جن کو رقوم کی ادائیگیاں نہیں ہوئیں ہمارے ریکارڈ نیب راولپنڈی /اسلام آباد میں موجود ہیں ۔ 18 مئی 2009 سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے سوموٹو ایکشن لیا 13 دسمبر 2013 نیب راولپنڈی /اسلام آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر راجہ اسد محمود نے ایک رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو جمع کروائی تھی جس میں واضع لکھا گیا ہے کہ اکبر اعظم مغل نے 255 کویت عراق جنگ متاثرین کا ریکارڈ نیب راولپنڈی/اسلام آباد میں جمع کروایا تھا جن میں سے 207 کویت عراق جنگ متاثرین میرٹ پر ہیں چونکہ اووسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے United Nation Compensation Commission کو ریکارڈ ہی نہیں بھیجے جس کی وجہ سے United Nation Compensation Commission نے ادائیگیاں ہی نہیں کی اور اووسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کویت عراق جنگ متاثرین کا United Nation Compensation Commission کی طرف سے آپریشن بند ہونے کا انتظار کرتے رہے اور یکم جولائی 2007 United Nation Compensation Commission نے آپریشن بند کردیا جس کی وجہ سے ادائیگیاں نہ ہوسکیں ۔ سست روی کا شکار اس کے حکمران اور ادارہ ہوا کیوں کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے مارچ 2006 میں 824 کویت عراق جنگ متاثرین کے وہ لوگ جن کے ساتھ رشوت طے تھی ان کو رقوم کی ادائیگیاں کردیں اور باقی 207 کویت عراق جنگ متاثرین کو رقوم کی ادئیگیاں نہ ہوئیں کیوں کہ 207 متاثرین کے ساتھ رشوت طے نہیں کی گئی تھی اگر ہمارے ریکارڈ میں کسی چیز کی کمی تھی تو15 اکتوبر 2003 سے لیکر مارچ 2006 تک 29 ماہ کاوقت درکار تھا ان 29 ماہ میں اگر ہمارے ریکارڈ میں کوئی کمی تھی تو اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ہمیں اطلاع دے سکتے تھے ہم کویت عراق جنگ متاثرین کو ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ صرف اور صرف کرپشن ہے آج تک پاکستان میں کسی مالیاتی بدعنوانی یا کرپشن کو ختم کرنے کیلئے کسی بھی حکمران نے کچھ نہیں کیا نہ ماضی میں نہ حال میں اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔ 26 مئی 2012 جیو ٹی وی کے لائیو پروگرام (لیکن) میں سابق وفاقی وزیر برائے دفاع و پانی بجلی و وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا تھا کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں کویت عراق جنگ متاثرین کے فنڈز میں بڑے پیمانے میں کرپشن ہوئی ہے لیکن اس پروگرام کے پانچ سال بعد تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار میں رہی خود کرپشن کرتے رہے لیکن کرپشن کے خلاف کچھ نہیں کیا ہم سات سال نیشنل پریس کلب سیکٹر F-6/1 اسلام آباد کے سامنے سراپا احتجاج رہے کیمپ لگاکر دن رات وہاں رہے سابق اور موجودہ حکمران ہمارے سامنے نیشنل پریس کلب آتے جاتے رہے ہمیں احتجاج کرتےہوئے اور ہمارا احتجاجی کیمپ دیکھتے رہے لیکن ہمارے لئے کیا کچھ بھی نہیں ۔ 26 جون 2014 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہمارے سوموٹو ایکشن کا فیصلہ کردیا اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کو آڈر کئے کہ کمیٹی تشکیل دیں جن متاثرین کو رقوم کی ادائیگیاں نہیں ہوئیں ان کو رقوم کی ادائیگیاں کردیں۔ عرصہ 06 سال ہونے کو ہے ابھی تک کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی اسکی وجہ صرف اور صرف کرپشن ہے دیکھنے اور سننے والوں سے اپیل ہے ہم بھی کبھی اس ملک کیلئے ریڈھ کی ہڈی ہوا کرتے تھے ہم بھی زرمبادلہ کماکر اس ملک کو بھیجتے رہے ہیں آج یہ ریڈھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور اب کوئی ہمارا پرسان حال نہیں۔ آپ سب اوورسیز پاکستانیز سے اپیل ہے ہمارے سابق حکمران اور موجودہ حکمرانوں کے پاس لینے کے طریقے تو ہیں لیکن دینے کا کوئی طریقہ نہیں ، لینے کیلئے Criteria تو ہے لیکن دینے کیلئے کوئی Criteria نہیں ۔ لہذا ہماری مدد کریں ہم بھی آپ کے بھائی ہیں ہم بھی اوورسیز پاکستانیز تھے اگر یہ حکمران ہمیں کچھ نہیں دے سکے تو اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنی رحمت فرمائیں کہ آپ پر کوئی ناگہانی مصیبت نہ آئے اگر ہمیں کچھ نہیں ملا تو ملے گا آپ کو بھی کچھ نہیں۔