18/06/2026
○نالہ نازبر میں بڑھتی ہوئی وارداتیں اور عوام میں پائی جانے والی تشویش
○نالہ نازبر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتوں نے عوام میں شدید تشویش، بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں اس علاقے میں ایک نہایت دلخراش واقعہ پیش آیا، جس میں دو افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، جبکہ قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آخر وہ کہاں گیا اور اسے گرفتار کیوں نہ کیا جا سکا؟
○نالہ نازبر میں اس سے قبل بھی مختلف نوعیت کی متعدد وارداتیں رونما ہو چکی ہیں۔ ان میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی، جنگلی حیات کا بے دریغ شکار، قیمتی جڑی بوٹیوں کی تلفی، معدنیات اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ، مال مویشیوں کی چوری اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے مال مویشی چوری یا لاپتہ ہو جاتے ہیں، لیکن افسوس کہ ان جرائم کی روک تھام کے لیے نہ عوام کی جانب سے کوئی مؤثر اور منظم اقدام کیا گیا ہے اور نہ ہی متعلقہ حکومتی اداروں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
○ان بڑھتی ہوئی وارداتوں کی ایک اہم وجہ غیر مقامی افراد کی علاقے میں آمد اور رہائش بھی سمجھی جاتی ہے۔ ان افراد کے بارے میں اکثر صرف اتنا کہا جاتا ہے کہ وہ کسی کے رشتہ دار، جاننے والے یا مہمان ہیں، لیکن ان کی مکمل شناخت، آمد کا مقصد، قیام کی مدت اور واپسی کے حوالے سے نہ کوئی سرکاری ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی مقامی آبادی کو اس بارے میں درست معلومات حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
○ان حالات کے پیش نظر عوامِ یاسین اور حکومت کو مل کر مثبت اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ورنہ خدشہ ہے کہ نالہ نازبر مستقبل میں چوروں، قاتلوں اور جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن جائے گا، جس سے مقامی آبادی کی جان و مال مزید غیر محفوظ ہو جائے گی۔
○تجاویز اور مطالبات:
○نالہ نازبر اور ملحقہ علاقوں میں مقیم تمام غیر مقامی افراد کا مکمل بائیو ڈیٹا، شناختی دستاویزات اور رہائشی ریکارڈ فوری طور پر مرتب کیا جائے۔
ان افراد کی آمد و رفت (Entry & Exit) کا باقاعدہ اندراج اور مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔
علاقے میں موجود غیر قانونی اسلحے کی جانچ پڑتال کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
تمام داخلی و خارجی راستوں، پہاڑی گزرگاہوں اور بارڈر سے ملحقہ راستوں پر مؤث