05/06/2022
*حضرت جي مولانا یوسف صاحب رحمة الله* کے زمانے کا قصہ ھے کہ ان کے زمانے میں *مہنگائی* بہت بڑھ گئی۔ کچھ لوگ *مولانا* کے پاس آئے اور *مہنگائی* کی شکایت کی اور کہا کہ : کیا ہم *حکومت* کے سامنے مظاہرے کرکے اپنی بات پیش کریں؟
*حضرت* نے ان سے فرمایا : مظاہرے کرنا اھل باطل کا طریقہ ھے۔
پھر سمجھایا کہ دیکھو! انسان اور چیزیں دونوں *الله تعالیٰ* کے نزدیک ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ھیں ، جب انسان کی قیمت *الله تعالیٰ* کے یہاں ایمان اور *اعمال صالحہ* کی وجہ سے بڑھ جاتی ھے تو چیزوں کی قیمت والا پلڑا خودبخود ہلکا ھوکر اوپر اٹھ جاتا ھے اور *مہنگائی* میں کمی *آجاتی* ھے۔
اور جب *انسان* کی قیمت *الله تعالیٰ* کے یہاں اس کے گناہوں اور *معصیتوں* کی کثرت کی وجہ کم ھوجاتی ھے تو چیزوں والا پلڑا وزنی ھوجاتا ھے اور چیزوں کی *قیمتیں* بڑھ جاتی ھیں۔
لہٰذا تم پر ایمان اور *اعمال* صالحہ کی *محنت* ضروری ھے تاکہ *الله پاک* کے یہاں تمہاری قیمت بڑھ جائے اور *چیزوں* کی قیمت گرجائے۔
پھر فرمایا:
لوگ *فقر* سے ڈراتے ھیں حالانکہ یہ شیطان کا کام ھے *الشیطان یعدکم الفقر* اس لئے تم لوگ جانے انجانے میں شیطانی *لشکر* اور اس کے *ایجنٹ* مت بنو۔
*الله کی قسم* ! اگر کسی کی روزی *سمندر کی گہرائیوں* میں کسی بند پتھر میں بھی ھوگی تو وہ *پھٹے گا* اور اس کا *رزق* اس کو پہنچ کر رھے گا۔
*مہنگائی* اس *رزق* کو روک نہیں سکتی جو تمہارے لئے *الله پاک* نے لکھ مقرر کر دیا ھے۔
*الله پاک ھمارے گناہوں کو معاف فرمائے*!!
منقول
ملفوظ قابل توجہ اور لائق عمل