06/11/2024
زمین کے جس خطے میں انسان پیدا ہوتا ہے وہ ماں ہے جس طرح انسان ایک انسانی جسم کے ایک حصے سے بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کی انسانی ماں ہوتی ہے۔ انسانی ماں کا وہی حصہ زمین کے اجناس سے بنتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں انسانی ماں جتنا کردار ادا کرتی ہے اس سے زیادہ اس کی زمینی ماں کا ہے۔ انسانی ماں پیدائش کے بعد اچھی پرورش اور کفالت کرتی ہے، اسی طرح زمینی ماں کا کردار اختتام تک نہیں پہنچتا ۔ افزائش وہ پرورش کے لیے خوراک سخاک کی ضرورت ہوتی ہے زمینی ماں یہ خوراک اپنی گود میں تیار کرتی ہے انسان کو ایک اچھا ماحول فراہم کرتی ہے۔ زمینی ماں ماحول میں اس انسان کی ضرورت کے مطابق اپنی ذات میں رد وبدل بھی کرتی ہے ۔ اگر گرمیوں کی گرم دھوپ سے تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ دھوپ (سورج جو باپ کی حیثیت رکھتا ہے) دور ہو کر ایک معتدل اور متبادل سرد ماحول وجود پذیر کرتی ہے ماحول موسم اور آب وہوا کے لحاظ سے خوراک بھی ان کے مطابق دیتا ہے گرمی سردی کی تبادل میں دو اور موسم بھی دیتی ہے جو انسان کی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔
یہ زمینی ماں ساری زندگی اس انسان کو اپنے سر اٹھائے پھرتی ہے اور انسان خوشی خوشی جیتا ہے، اور جب انسانی مدت پوری ہوتی ہے تو پھر ہمیشہ کے لیے اپنی گود میں محفوظ کرتی ہے اور دوبارہ اپنے جسم کا حصہ بناتی ہے، جسم کے اجزاء سے اتنی محبت ہے اس کو کبھی ضائع نہیں کرتی بلکہ غم میں روتے روتے جسم کو پودوں اور پھولوں کی شکل میں محفوظ کرتی ہے، حتی کہ پھول بھی ضائع نہیں کرتی بلکہ اس پھولوں سے تمہارے سانچے کا ایک اور انسان کو وجود دیتی ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتے ہیں
یہ عمل زمینی ماں اکیلے نہیں کرتی بلکہ انسان کے سر پر دھوپ (سورج) باپ کی شکل میں سایہ ہے یہ عمل ان دونوں کی ملاپ سے ہوتا ہے
انسان کے وجود میں ایک تجسس پھوٹتا ہے۔ آیا انسان ماں باپ خود پیدا نہیں ہوئے ان کے بنانے میں زمین اور دھوپ کا پوشیدہ کردار ہے! تو یہی تجسس زمین و دھوپ کے بارے میں بھی ہے۔ اس کا بھی کوئی بنانے والا ہونا چاہیے۔ لیکن کون؟
اس سوال کا جواب انسان برسوں سے ڈھونڈ رہا ہے دور کے تقاضوں اور صلاحیتوں کے مطابق جواب ملے۔
کچھ نے کہا سورج نے یہ سارا نظام بنایا ہے اور وہ دیوتا ہے
دوسرے خیال کرتے ہیں اس زمین کے مختلف اجزاء (آگ مٹی سے بنی ہوئی بدھ مورتی) ہی خالق ہے
کچھ نے دعوی کیا کہ ہم ہیں جو اس نظام کو چلا رہے ہیں ( نمرود فرعون) کچھ تو دوسرے انسانوں کو ہی خالق قرار دیا(عیسی ،مریم) کچھ کہتے ہیں مختلف قوتیں موجود ہیں جس نے ایک دوسرے کو توازن مہیا کی ہیں اور اس سے ہی دنیا چل رہی ہے
اگر انسان تفکر اور تدبر کریں یہ واضح ہو جاتا ہے جو بھی اس سارے عمل ( زمین سورج انسان) کا مالک ہے
اس کا تعلق اس دنیا سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس دنیا میں ساری چیزیں مادہ سے بنی ہیں جو چیز کسی اور چیز سے بنی ہے وہ اس خالق کیسا ہو سکتا ہے ،کیونکہ اس کا بھی کوئی خالق ہونا چاہیے۔ اور جو مختلف قوتین موجود ہیں، اس کو ترتیب کس نے دی ہے کچھ نہ ہونے سے دنیا اور قوت کیسے وجود میں ائی۔
ایک اور گروہ ،جو دعوی کرتا ہے کہ جس نے دنیا بنائی ہے اس کی طرف سے ان کے پاس ایک خاص وقت میں خبر آتی رہی ہے،مختلف لوگوں نے مختلف قوموں سے مختلف ادواروں میں یہ دعویٰ کی ہیں کبھی کبھی بعد میں آنے والے کے بارے میں بھی پیش گوئی دی ہے۔ اور ان کی خبر کا مرکز ایک ہی تھا جس کی طرف سے خبر آئی ہے
یہ مرکز ایک ایسی ذات ہے جو کسی نے نہیں بنائی اس کی شکل جسامت کسی ہے اور کسی چیز سے بنا بھی ہے یا نہیں، اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ اور اس سارے نظام کا خالق ایک وہی ہے۔ اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں اس زمین سورج اور انسان کی طرح اور زمینوں سورجوں اور مخلوقات کا بھی خالق ہے، اور ان میں سے کسی خاص مخلوق کے ذریعے اور کبھی کبھی براہ راست اس گروہ یا قوم کے منتخب اشخاص کی ساتھ رابطہ رہا ہے، اور ان کو حقیقتوں سے خبردار کرتا رہا، یہ گروہ اور قوم وہ کتابوں کی شکل میں محفوظ کرتے رہیں، اس نے خبر دی ہے کہ انسان کا جسم دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک روح دوسرا جسم۔
اس نے پہلے انسان کا جسم اس زمین کی اجزاء سے بنایا ہے۔ پھر اس نے زمینی مٹی کی جسامت میں ایک روحانی جز اپنی طرف سے ڈالا ہے۔ اور اب اس کا نام انسان ہے بعد میں مٹی کی بجائے، جسم اس انسان کے بدن سے پیدا ہونا شروع ہوا، اس طرح مخلوق انسان کا اغاز ہوا، اور دنیا پہلے بنی ہوئی تھی اور مخلوق بھی آباد تھی (جن فرشتے)۔