Usman Ghani

Usman Ghani updates

 زمین کے جس خطے میں انسان پیدا ہوتا ہے وہ ماں ہے جس طرح انسان ایک انسانی جسم کے ایک حصے سے بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کی...
06/11/2024


زمین کے جس خطے میں انسان پیدا ہوتا ہے وہ ماں ہے جس طرح انسان ایک انسانی جسم کے ایک حصے سے بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کی انسانی ماں ہوتی ہے۔ انسانی ماں کا وہی حصہ زمین کے اجناس سے بنتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں انسانی ماں جتنا کردار ادا کرتی ہے اس سے زیادہ اس کی زمینی ماں کا ہے۔ انسانی ماں پیدائش کے بعد اچھی پرورش اور کفالت کرتی ہے، اسی طرح زمینی ماں کا کردار اختتام تک نہیں پہنچتا ۔ افزائش وہ پرورش کے لیے خوراک سخاک کی ضرورت ہوتی ہے زمینی ماں یہ خوراک اپنی گود میں تیار کرتی ہے انسان کو ایک اچھا ماحول فراہم کرتی ہے۔ زمینی ماں ماحول میں اس انسان کی ضرورت کے مطابق اپنی ذات میں رد وبدل بھی کرتی ہے ۔ اگر گرمیوں کی گرم دھوپ سے تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ دھوپ (سورج جو باپ کی حیثیت رکھتا ہے) دور ہو کر ایک معتدل اور متبادل سرد ماحول وجود پذیر کرتی ہے ماحول موسم اور آب وہوا کے لحاظ سے خوراک بھی ان کے مطابق دیتا ہے گرمی سردی کی تبادل میں دو اور موسم بھی دیتی ہے جو انسان کی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔

یہ زمینی ماں ساری زندگی اس انسان کو اپنے سر اٹھائے پھرتی ہے اور انسان خوشی خوشی جیتا ہے، اور جب انسانی مدت پوری ہوتی ہے تو پھر ہمیشہ کے لیے اپنی گود میں محفوظ کرتی ہے اور دوبارہ اپنے جسم کا حصہ بناتی ہے، جسم کے اجزاء سے اتنی محبت ہے اس کو کبھی ضائع نہیں کرتی بلکہ غم میں روتے روتے جسم کو پودوں اور پھولوں کی شکل میں محفوظ کرتی ہے، حتی کہ پھول بھی ضائع نہیں کرتی بلکہ اس پھولوں سے تمہارے سانچے کا ایک اور انسان کو وجود دیتی ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتے ہیں

یہ عمل زمینی ماں اکیلے نہیں کرتی بلکہ انسان کے سر پر دھوپ (سورج) باپ کی شکل میں سایہ ہے یہ عمل ان دونوں کی ملاپ سے ہوتا ہے

انسان کے وجود میں ایک تجسس پھوٹتا ہے۔ آیا انسان ماں باپ خود پیدا نہیں ہوئے ان کے بنانے میں زمین اور دھوپ کا پوشیدہ کردار ہے! تو یہی تجسس زمین و دھوپ کے بارے میں بھی ہے۔ اس کا بھی کوئی بنانے والا ہونا چاہیے۔ لیکن کون؟

اس سوال کا جواب انسان برسوں سے ڈھونڈ رہا ہے دور کے تقاضوں اور صلاحیتوں کے مطابق جواب ملے۔
کچھ نے کہا سورج نے یہ سارا نظام بنایا ہے اور وہ دیوتا ہے
دوسرے خیال کرتے ہیں اس زمین کے مختلف اجزاء (آگ مٹی سے بنی ہوئی بدھ مورتی) ہی خالق ہے
کچھ نے دعوی کیا کہ ہم ہیں جو اس نظام کو چلا رہے ہیں ( نمرود فرعون) کچھ تو دوسرے انسانوں کو ہی خالق قرار دیا(عیسی ،مریم) کچھ کہتے ہیں مختلف قوتیں موجود ہیں جس نے ایک دوسرے کو توازن مہیا کی ہیں اور اس سے ہی دنیا چل رہی ہے

اگر انسان تفکر اور تدبر کریں یہ واضح ہو جاتا ہے جو بھی اس سارے عمل ( زمین سورج انسان) کا مالک ہے
اس کا تعلق اس دنیا سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس دنیا میں ساری چیزیں مادہ سے بنی ہیں جو چیز کسی اور چیز سے بنی ہے وہ اس خالق کیسا ہو سکتا ہے ،کیونکہ اس کا بھی کوئی خالق ہونا چاہیے۔ اور جو مختلف قوتین موجود ہیں، اس کو ترتیب کس نے دی ہے کچھ نہ ہونے سے دنیا اور قوت کیسے وجود میں ائی۔

ایک اور گروہ ،جو دعوی کرتا ہے کہ جس نے دنیا بنائی ہے اس کی طرف سے ان کے پاس ایک خاص وقت میں خبر آتی رہی ہے،مختلف لوگوں نے مختلف قوموں سے مختلف ادواروں میں یہ دعویٰ کی ہیں کبھی کبھی بعد میں آنے والے کے بارے میں بھی پیش گوئی دی ہے۔ اور ان کی خبر کا مرکز ایک ہی تھا جس کی طرف سے خبر آئی ہے
یہ مرکز ایک ایسی ذات ہے جو کسی نے نہیں بنائی اس کی شکل جسامت کسی ہے اور کسی چیز سے بنا بھی ہے یا نہیں، اس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ اور اس سارے نظام کا خالق ایک وہی ہے۔ اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں اس زمین سورج اور انسان کی طرح اور زمینوں سورجوں اور مخلوقات کا بھی خالق ہے، اور ان میں سے کسی خاص مخلوق کے ذریعے اور کبھی کبھی براہ راست اس گروہ یا قوم کے منتخب اشخاص کی ساتھ رابطہ رہا ہے، اور ان کو حقیقتوں سے خبردار کرتا رہا، یہ گروہ اور قوم وہ کتابوں کی شکل میں محفوظ کرتے رہیں، اس نے خبر دی ہے کہ انسان کا جسم دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک روح دوسرا جسم۔
اس نے پہلے انسان کا جسم اس زمین کی اجزاء سے بنایا ہے۔ پھر اس نے زمینی مٹی کی جسامت میں ایک روحانی جز اپنی طرف سے ڈالا ہے۔ اور اب اس کا نام انسان ہے بعد میں مٹی کی بجائے، جسم اس انسان کے بدن سے پیدا ہونا شروع ہوا، اس طرح مخلوق انسان کا اغاز ہوا، اور دنیا پہلے بنی ہوئی تھی اور مخلوق بھی آباد تھی (جن فرشتے)۔

 ؟ آمد اور رخصت ہونے کے درمیان کا عرضی وقفہ ۔ ابتدا یا انتہا جان سے جان  نکلنے پہ ہوتی ہے، چیخ کے بعد بس چیخ کا انتظار ہ...
06/11/2024

؟
آمد اور رخصت ہونے کے درمیان کا عرضی وقفہ ۔ ابتدا یا انتہا جان سے جان نکلنے پہ ہوتی ہے، چیخ کے بعد بس چیخ کا انتظار ہے۔ مختصر وقفے کا اختتام کب ہوگا، معلوم نہیں، پھر بھی کل چین ہو یہی بےچینی ہے۔ یہ بےچینی مقصد وقفہ بھی بھولاتی ہے۔بجائے سیر و آرام ہو، بیمار، بے چین، الجھاؤ اور بیزار ہوتا ہے

یہ جنگ انسان اکیلا لڑتا ہے اور یہ منفرد لڑائی ہے، اس کی تیاری میدان جنگ میں ہوتی ہے، دوست و دشمن کی پہچان خاص مہارت سے ہوتی ہے وہ انسان کامیاب ہوجاتا ہے جو چست،تندرست، پہچان ہنر ہو اور چال چلانے میں بھی ماہر ہو، جانتا ہو، کب اور کہاں تلوار سے وار کرنا
ہے، پیچھے ہٹ کر ڈھال پر وار سہنا ہے، تیر ایسے برساتا ہو کہ تیر پہ تیر لگے-

06/11/2024

ابن خلدون کا فلسفہ تاریخ دو محوروں کے گرد گھومتا ہے:
(1). تاریخ میں بھی اسی طرح تحلیل و استنباط کا قاعدہ ملتا ہے جس طرح کہ فقہ میں۔
(2). دوسرے یہ کہ واقعات کی تصحیح کے لئے مجرد روایات پر اعتماد کر لینا ضروری نہیں، بلکہ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس عہد کے
تمدنی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے۔

اور جب تک اس طرح کی تمام متعلقہ پہلووں کو توجیہ نہ ہو جائے واقعے کی صحت پر یقین نہ کیا جائے

دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ بندوق اٹھانے سے امن خراب ھوتا ھے حالانکہ امن لانے کے لئے بندوق کا ھونا لازمی ہے
13/03/2024

دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ بندوق اٹھانے سے امن خراب ھوتا ھے حالانکہ امن لانے کے لئے بندوق کا ھونا لازمی ہے

  ‏بدلتا ہوا جیو پولیٹیکل منظرنامہ اور پاکستان کا ڈیفالٹ: پاکستان مغرب کیلئے اپنی جیوسٹریٹیجک  محوریت سے ہاتھ دھو چکا ہے...
05/03/2023


‏بدلتا ہوا جیو پولیٹیکل منظرنامہ اور پاکستان کا ڈیفالٹ:

پاکستان مغرب کیلئے اپنی جیوسٹریٹیجک محوریت سے ہاتھ دھو چکا ہے۔ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی قیادت میں بننے والے چار فریقی اتحادوں میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ انڈو-پیسیفک کواڈ میں امریکہ، ہندوستان، جاپان اور ‏۔۔۔ آسٹریلیا شامل ہیں۔ جبکہ مغربی ایشیائی کواڈ میں ہندوستان، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل شامل ہیں۔ پاکستان کے لیے تشویشناک بات یہ ہے کہ ہندوستان مشرقی اور مغربی دونوں کواڈز میں کلیدی اسٹیک ہولڈر ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ، امریکہ انڈو-پیسیفک میں پاکستان کے سب سے بڑے حریف ہندوستان پر انحصار کر رہا ہے؛ اور بھارت کو خوش کرنے کے لیے امریکا نے اپنی ایشیا پیسیفک اسٹریٹجی کا نام بدل کر انڈو پیسیفک اسٹریٹجی رکھ دیا ہے۔

پاکستانی حکمران اشرافیہ بشمول جناح پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے بارے میں اس حد تک غلط فہمی کا شکار تھے کہ انہوں نے کبھی بھی دوطرفہ روابط اور تجارت کواہمیت نہیں دی۔ یہ مفروضہ کہ پاکستان آزاد دنیا کی سرحد پر واقع ہے اور اس وجہ سے اسے امریکہ سے مستقلاً لامحدود مالی امداد ملتی رہیگی اپنے دن پورے کرچکا ہے۔ کیونکہ موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے میں پاکستان کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ پاکستان جسکی تمام تر توجہ دھشتگرد پالنے اور طالبان کی حکومت کابل میں قائم کرنے جیسے جیو سٹریٹیجک امور پر مرکوز تھی، جیو اکنامکس پیراڈایم کو اختیار نہ کرسکا۔ پاکستانی جرنیل اپنی عادت سے مجبور اپنے محدود مدتی کامیابیوں پر ضرور شیخی بگھارے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سٹریٹیجک طور پر مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا افغانستان پر کنٹرول کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ یہ وسطی ایشیا کے لیے پل نہیں بن سکا۔ ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپ پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں اور پاکستان کی پہلے سے ابتر صورتحال کو مزید سنگین بنارہے ہیں۔ سیکورٹی کی نازک صورتحال اور مذہبی طور پر قدامت پسند معاشرہ سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی اور یہاں بسنے میں رکاوٹ ہے اسلئے کہ کاروبار کرنے کے علاوہ انہوں نے موج مستی بھی کرنی ہوتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں وہ یہ عیش و آرام حاصل نہیں کر سکتے۔ سی پیک جیسے "گیم چینجر" کہا جاتا تھا اب مردہ گھوڑا بن چکاہے: گیارہ چینی پاور کمپنیاں پاکستانی حکام کی طرف سے اپنی سرمایہ کاری کو غلط طریقے سے سنبھالنے کی وجہ سے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ CPEC کے تحت لاگو ہونے والے منصوبے بدعنوانی، اقربا پروری اور نااہلی کے شکار ہیں۔ نتیجتا، نئی چینی کمپنیاں پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہی ہیں اور موجودہ کمپنیاں بھی پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔ چینی کمپنیاں پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش، ویتنام، ایران اور بھارت کو ترجیح دے رہی ہیں۔

مجھے امید ہے کہ پاکستانی حکمران اشرافیہ کو اجیت ڈوول کا " Defensive Offense Doctrine" ضرور یاد ہوگا۔ پاکستان دنیا میں تنہا اور الگ تھلگ ہے، اور ایک غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہے: یہی اجیت ڈوول کے ڈاکٹرائن کا بنیادی ھدف تھا۔ سی پیک بنیادی طور پر ایک اقتصادی راہداری سے زیادہ سٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ اسکی اقتصادی اہمیت کے خاتمے کے بعد گوادر کو بھارت کے محاصرے کیلئے چین بحری اڈے کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ تو ان حالات میں سی پیک کا پتہ کاٹنے کیلئے اگر بھارتی فوج گلگت بلتستان کا رخ کرتی ہے تو مالی طور پر دیوالیہ پاکستان کتنے دن اسکے سامنے ٹیک پائے گا۔
Copy

An Apology for Idlers prhny k bd ...😁
24/02/2023

An Apology for Idlers prhny k bd ...😁

Heart 🖤 of Darkness 🌑 is favourite 1.
21/02/2023

Heart 🖤 of Darkness 🌑 is favourite 1.

Gate is an entrance and prohibition too.
21/02/2023

Gate is an entrance and prohibition too.

20/02/2023
Make sure, must be fruit in the end...
19/02/2023

Make sure, must be fruit in the end...

حقیقت کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھو
19/02/2023

حقیقت کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھو

Address

Dir
18200

Telephone

+923028013433

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman Ghani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Usman Ghani:

Share

Category