12/06/2026
ڈیر دہ افسوس مقام دی خرسہ زہ منگ دہ وطن دی او پہ منگ بن دی😭😭😭😭یالللہ تہ دہ خرسہ وینی خر ظالم
دہ تباہ و برباد کے 😭
اس ملک میں ایک طرف وہ طبقہ ہے جن کے لیے ہر سہولت موجود ہے، ٹھنڈے اے سی کمروں میں آرام، بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر، اور بچوں کی تعلیم و پرتعیش زندگی کے لیے بیرونِ ملک کے بہترین ادارے۔
اور دوسری طرف ایک معصوم تین سے چار سال کا بچہ ہے، جو گرمی کی شدت میں پسینے سے شرابور ایک معمولی سے بستر پر سو رہا ہے۔ نہ پنکھا چل رہا ہے، نہ بجلی موجود ہے، صرف لوڈشیڈنگ کا اندھیرا اور گرمی کی سختی ہے۔
یہ صرف ایک تصویر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے دو مختلف چہروں کی حقیقت ہے۔ ایک طرف آسائشیں اور عیاشیاں ہیں، اور دوسری طرف محرومی، غربت اور بے بسی۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ فرق کب ختم ہوگا؟ کب اس ملک کے ہر بچے کو وہی سہولتیں ملیں گی جو چند مخصوص طبقے کے لیے مخصوص ہیں؟
ایک بچہ صرف سکون کی نیند چاہتا ہے، لیکن اس کی نیند بھی اس ملک کی ناہموار تقسیم نے چھین لی ہے۔✍️