My Chakwal

My Chakwal Chakwal News| History | Tourism | Culture
Chakwal Chronicles | By Ibrar Akhtar Janjua
Authentic news ,history ,heritage,travel & untold stories of Chakwal.

Chakwal | Kallar Kahar | Choa Saiden Shah | Talagang | Lawa My Chakwal , Ambassdor Of Chakwal
All About ChakwaL....Pictures, Videos, Information and News of our Beautiful Chakwal....ذرا ہٹ کے
█▓▒░ W E L C O M E TO MY CHAKWAL ░▒▓█ ���
دوستوں ہم نے اس پیج کے ذریعے چکوال کی تصاویر، ویڈیوز اور چکوال کے متعلق معلومات آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔امید ہے آپ کو ہماری کاوش پسند آئے گی۔

کچھ لوگوں کو راجہ سرفراز خان کا نام پسند نہیں۔ کیوں پسند نہیں، اس کی کوئی معقول وجہ بھی شاید ان کے پاس نہیں۔ بس نام آتے ...
03/09/2026

کچھ لوگوں کو راجہ سرفراز خان کا نام پسند نہیں۔ کیوں پسند نہیں، اس کی کوئی معقول وجہ بھی شاید ان کے پاس نہیں۔ بس نام آتے ہی انہیں کسی دھڑے کی حمایت، کسی مخصوص شخصیت کی تشہیر یا کسی کو خبروں میں ’’اِن‘‘ رکھنے کی سازش دکھائی دینے لگتی ہے۔

حالانکہ تاریخ پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہ تو لکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ چکوال کی تاریخ لکھتے ہوئے راجہ سرفراز خان کو مائنس کرنا ممکن نہیں۔ آپ انہیں پسند کریں یا ناپسند، ان کا کردار، خدمات اور چکوال کی سماجی و سیاسی تاریخ میں ان کا نام ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ تاریخ کے صفحات سے کسی شخصیت کا نام صرف اس لیے نہیں مٹایا جا سکتا کہ آج کسی کو وہ نام ناگوار گزرتا ہے۔

اب شنید ہے کہ کچھ حضرات چکوال کی تاریخ کو Re-Write کرنے کے لیے کمر کس چکے ہیں۔ بہت خوب! تاریخ ضرور دوبارہ لکھیے مگر دیکھنا یہ ہے کہ نئی تاریخ میں حقائق بولتے ہیں یا پسند و ناپسند یا پھر ذاتی وابستگیاں؟

ہم بھی دیکھتے ہیں کہ چکوال کی یہ ’’نئی تاریخ‘‘ کیا پیش کرتی ہے اور اس میں کن لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے، کسے نکالا جاتا ہے اور کن ناموں پر تاریخ کی کینچی چلائی جاتی ہے۔

خیر بات کچھ آگے نکل گئی۔

زیرِ نظر تصویر ٹھیک 100 سال پہلے یعنی 1926ء کی ہے جس میں جوند کے راجہ اللہ داد خان (بعد ازاں میجر، آئی سی ایس افسر، کمشنر پشاور و لاہور اور چیف سیکریٹری سندھ ریٹائر ہوئے) اپنے ماموں راجہ محمد سرفراز خان (دائیں جانب ) کے ہمراہ اس ٹینس کورٹس میں موجود ہیں جو بعد میں چکوال سول کلب کا حصہ بن گیا۔
ابرار اختر جنجوعہ

ولانہ ڈیم  ، چکوال کے ریسٹ ہاؤس سے لی گئی چند تصاویر ۔۔!!!
03/09/2026

ولانہ ڈیم ، چکوال کے ریسٹ ہاؤس سے لی گئی چند تصاویر ۔۔!!!

اوڈھروال بائی پاس نظرانداز، شہری سراپا احتجاج؛ عوامی نمائندوں سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ۔۔۔!!!!چکوال: اوڈھروال بائ...
03/09/2026

اوڈھروال بائی پاس نظرانداز، شہری سراپا احتجاج؛ عوامی نمائندوں سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ۔۔۔!!!!

چکوال: اوڈھروال بائی پاس کی طویل عرصے سے نامکمل اور خستہ حال سڑک شہریوں کے لیے دردِ سر بن گئی۔ منصوبے کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اوڈھروال بائی پاس پر فوری طور پر دوبارہ کام شروع کیا جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ 2021 سے نامکمل اوڈھروال بائی پاس آج انتہائی خراب حالت میں پہنچ چکا ہے۔ یہ سڑک نہ صرف بھاری ٹریفک کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اہم ہے بلکہ اوڈھروال، ڈسٹرکٹ کملیکس اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے بھی انتہائی ضروری راستہ ہے۔ خصوصاً ڈسٹرکٹ کمپلیکس اور دیگر سرکاری اداروں تک آنے جانے والے شہریوں کو بائی پاس کے خراب راستے کی وجہ سے طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں کے مطابق ایک طرف چکوال شہر میں دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، بعض سڑکیں تعمیر اور بعض پہلے سے بنی سڑکیں دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہیں لیکن اوڈھروال بائی پاس مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کے زیرانتظام اس منصوبے کو 2022ء میں بند کر دیا گیا تھا، حالانکہ اس کے ساتھ مزید پانچ منصوبے بھی زیرِ تکمیل تھے، جن میں سے بیشتر مکمل ہو چکے ہیں اور حال ہی میں بھون روڈ بھی مکمل کیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں صرف متعلقہ محکمے ہی نہیں بلکہ عوامی نمائندے بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقے کے اس اہم عوامی منصوبے کی بحالی کے لیے متعلقہ حکام اور محکموں سے مؤثر انداز میں رابطہ کریں اور منصوبے پر دوبارہ کام شروع کروائیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ جب شہر کے دیگر منصوبوں کے لیے فنڈز دستیاب ہیں تو اوڈھروال بائی پاس کو مسلسل نظرانداز کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہونی چاہیے۔
Report: My Chakwal

ٹی بی اسکریننگ منصوبہ ، چکوال ، راولپنڈی اور اسلام کے لیے جاپان کی ڈوپاسی فاؤنڈیشن کو 3 کروڑ 64 لاکھ روپے کی گرانٹاسلام ...
03/09/2026

ٹی بی اسکریننگ منصوبہ ، چکوال ، راولپنڈی اور اسلام کے لیے جاپان کی ڈوپاسی فاؤنڈیشن کو 3 کروڑ 64 لاکھ روپے کی گرانٹ

اسلام آباد: حکومتِ جاپان نے گرانٹ اسسٹنس فار گراس روٹس ہیومن سیکیورٹی پروجیکٹس پروگرام کے تحت ڈوپاسی فاؤنڈیشن کو 2 کروڑ 10 لاکھ جاپانی ین (تقریباً 3 کروڑ 64 لاکھ پاکستانی روپے) کی گرانٹ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

پاکستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ گرانٹ اسلام آباد، راولپنڈی اور ضلع چکوال میں ٹی بی کی بروقت تشخیص اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید آلات اور خصوصی موبائل ہیلتھ یونٹ کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔

معاہدے پر یکم ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں جاپانی سفارتخانے میں پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی اور ڈوپاسی فاؤنڈیشن کے نمائندے نے دستخط کیے۔

موبائل یونٹ میں ڈیجیٹل چیسٹ ریڈیولوجی، ٹی بی اسکریننگ، خاندانی منصوبہ بندی کی مشاورت اور بنیادی طبی معائنے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس سے بالخصوص دیہاڑی دار مزدوروں، خواتین اور محروم طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔

منصوبے کے لیے ٹویوٹا سوشو کارپوریشن اور فوجی فلم تکنیکی معاونت فراہم کریں گے، جبکہ خصوصی لینڈ کروزر میں کمپیکٹ ایکسرے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹی بی اسکریننگ ٹیکنالوجی نصب کی جائے گی۔

چکوال: افغان باشندگان سے متعلقہ دکانوں کے سامان کی نیلامی عام چکوال :  آکشن کمیٹی افغان پراپرٹیز چکوال کی جانب سے عوام ا...
02/09/2026

چکوال: افغان باشندگان سے متعلقہ دکانوں کے سامان کی نیلامی عام

چکوال : آکشن کمیٹی افغان پراپرٹیز چکوال کی جانب سے عوام الناس کی اطلاع کے لیے نوٹسِ مشتری منادی عام جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت افغان باشندگان سے متعلق مختلف دکانوں میں موجود سامان، فٹنگ، ریکنگ اور دیگر اشیاء کی بولی بذریعہ نیلام عام کی جائے گی۔

نیلامی کا شیڈول:
مشتری منادی: مورخہ 03 ستمبر 2026ء
معائنہ سامان: مورخہ 04 ستمبر 2026ء (صبح 08:00 سے دوپہر 02:00 بجے تک)
نیلامی (بذریعہ بولی): مورخہ 04 ستمبر 2026ء (سہ پہر 03:00 بجے)
مقام: ڈسٹرکٹ کونسل ہال، چکوال

دکانوں کی فہرست:
نیلامی میں درج ذیل دکانوں کا سامان شامل ہوگا:
1. ریشم گھر (3 دکانیں)
2. شارجہ ٹی سٹور
3. بلوچستان ڈرائی فروٹ
4. خان ٹائلز
5. نجیب کریانہ
6. حسن ٹی سٹور
7. حبیب زری
8. نور فیبرکس
9. امین کباڑ خانہ
10. جنک یارڈ
11. دہلی شوز
12. نیو لاثانی شوز
13. کراچی شوز
14. صدیق کاسمیٹکس
15. ایم خان کاسمیٹکس
16. رحمت ورائٹی
17. چمن ڈرائی فروٹ
18. لاثانی سیمنٹ

شرائط و ضوابط:
کامیاب بولی دہندہ کو کل منظور شدہ قیمت کا 25 فیصد زرِ ضمانت ابتدائی رقم کے طور پر موقع پر ہی جمع کروانا ہوگا۔

بقایا رقم سات (07) یوم کے اندر اندر جمع کروانا لازمی ہوگی۔
مقررہ مدت کے اندر بقایا رقم جمع نہ کروانے کی صورت میں مجاز اتھارٹی قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لانے کی مجاز ہوگی۔

محکمہ موسمیات کے نام اہل چکوال کی ایک اہم اور عاجزانہ درخواست !!!محکمہ موسمیات والوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ جب بھی پنجاب...
02/09/2026

محکمہ موسمیات کے نام اہل چکوال کی ایک اہم اور عاجزانہ درخواست !!!

محکمہ موسمیات والوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ جب بھی پنجاب میں بارشوں کا الرٹ یا پیشگوئی جاری کریں اور اس میں چکوال کا ذکر ہو، تو برائے مہربانی
"چکوال" لکھنے کے بجائے "چکوال کے مضافات / ارد گرد و نواح" لکھا کریں۔
یا پھر سیدھا سیدھا یہ لکھ دیا کریں
"چکوال شہر کے علاوہ" یا "چکوال شہر کو چھوڑ کر"!

آپ کی پیشگوئی میں جیسے ہی "چکوال" کا نام آتا ہے، ہم چکوال شہر والوں کی امیدیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، پکوڑوں کا بیسن گھل جاتا ہے اور چھتوں پر بادل کو دیکھنے اور ان کے برسنے کے انتظار کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن آخر میں بارش شہر کو بائی پاس کر کے ارد گرد نکل جاتی ہے 🤕
برائے مہربانی چکوال شہر کے تشنہ لب عوام کے جذبات اور امیدوں کا پاس رکھا
جائے۔

آپ کی عین نوازش ہو گی
العارض
ابرار اختر جنجوعہ و اہل چکوال شہر

میں، کامران شہزاد، جونیئر کلرک گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن چکوال، اپنے تبادلے کے حوالے سے یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ 1...
02/09/2026

میں، کامران شہزاد، جونیئر کلرک گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن چکوال، اپنے تبادلے کے حوالے سے یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ 13 اگست 2026 کو جاری ہونے والے میرے تبادلے کے حکم کے بعد میں نے متعلقہ فورم پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔

ڈائریکٹر پبلک انشٹرکیشن کالجز لاہور کی جانب سے 19 اگست کو جاری ہونے والے مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ میری درخواست کو DPI(C) کی ہدایت پر باقاعدہ انکوائری کے لیے لیا گیا ہے اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے لیے متعلقہ افراد کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

اسی مراسلے میں میرے گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن چکوال سے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج ترحدہ چکوال تبادلے کے حکم نمبر 1653/C-III مورخہ 13-08-2026 کو انکوائری کے نتیجے تک “held in abeyance” رکھنے کا واضح حکم بھی دیا گیا ہے۔

لہٰذا فی الحال میرے تبادلے پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے اور انکوائری مکمل ہونے اور اس کے نتیجے کے سامنے آنے تک میرے تبادلے کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایک جونیئر کلرک، 32 پروفیسرز سے زیادہ بااثر؟ ڈائریکٹر کالجز کے تبادلے کے حکم پر عملدرآمد نہ ہو سکاکہیں گورنمنٹ گریجویٹ ک...
02/09/2026

ایک جونیئر کلرک، 32 پروفیسرز سے زیادہ بااثر؟ ڈائریکٹر کالجز کے تبادلے کے حکم پر عملدرآمد نہ ہو سکا

کہیں گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین چکوال کے جونیئر کلرک کی پشت پر وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی "سپرسٹار" کا ہاتھ، تو نہیں؟

کالج میں جونیئر کلرک کی دوبارہ موجودگی پر فیکلٹی کا تدریسی فرائض کے دوران سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج

کلرک کے معاملے پر پرنسپل اور فیکلٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، کالج کا ماحول اور ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ

31 اگست کو کالج کی بتیس پروفیسرز نے تبادلے کے باوجود جونیئر کلرک کے دفتر آنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قرار دادِ مذمت جاری کی۔

کالج کی پروفیسرز کل اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر سے ملنے گئیں لیکن ملاقات نہ ہو سکی

✍🏻رپورٹ تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال

چکوال(بیورو رپورٹ) ایسا لگتا ہے کہ چکوال شہر کے اکلوتے سرکاری گرلز کالج میں کالج کی پروفیسرز کی عزت و تکریم سے زیادہ ایک ایسے جونیئر کلرک کی اہمیت ہے جس کو دو افسران اپنی اپنی انکوائریوں میں کالج کی پروفیسرز کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرنے پر قصور وار قرار دے چکے ہیں۔ تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کالج کی سربراہ جنہیں صوبائی وزیرِ تعلیم بغیر کوئی قابلِ زکر کارنامہ دکھائے "سپر سٹار" قرار دے چکے ہیں مذکورہ جونیئر کلرک کی پشت پر کھڑی ہیں اور وہ مذکورہ کلرک کا تبادلہ رکوانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ کالج کی پرنسیپل اور تدریسی عملے کے درمیان اختلافات کی شدت کی وجہ سے شہر کے اکلوتے اور اہم تعلیمی ادارے کی ساکھ بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔ ایک طرف کالج پرنسیپل اور جونیئر کلرک ہیں تو دوسری طرف کالج کی تمام خواتین اساتذہ ہیں۔ سرکاری افسران کے تقرر و تبادلے ویسے تو معمول کی کاروائی ہوتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ایک ایسے جونیئر کلرک کے تبادلے کو رکوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے جو دو انکوائریوں میں قصوروار قرار پا چکا ہے؟

مذکورہ جونیئر کلرک کامران شہزاد کے خلاف پرسوں 31 اگست کو گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین چکوال کی بتیس فیکلٹی ممبرز نے تبادلے کے باوجود کالج میں موجود رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 31 اگست 2026 کو جاری کی گئی "قراردادِ مذمت" میں سٹاف کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں 13 اگست 2026 کو جونیئر کلرک کامران شہزاد کے تبادلے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس سے قبل 28 جولائی 2026 کو کالج سٹاف نے بھاری اکثریت سے قراردادِ مذمت منظور کر کے مذکورہ کلرک کے سٹاف میٹنگ کے دوران سینئر پروفیسرز کے ساتھ "توہین آمیز، تحقیر آمیز اور دھمکی آمیز" رویے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ کل ایک بار پھر جاری ہونے والی قراردادِ مذمت کے متن کے مطابق ڈائریکٹر پبلک اننسٹرکشنز (ڈی پی آئی) کالجز لاہور کی جانب سے ڈائریکٹر کالجز کے حکم کو تا حال التوا میں رکھے جانے کی وجہ سے 29 اگست 2026 بروز جمعہ کو مذکورہ کلرک نہ صرف کالج میں حاضر ہوا بلکہ دفتر میں فرائض بھی انجام دیتا رہا۔ سٹاف کا موقف ہے کہ اس صورتحال سے خواتین اساتذہ میں شدید عدم تحفظ پیدا ہو گیا ہے۔ "اساتذہ کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے دفتر آنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں مذکورہ شخص کی موجودگی کالج کا ماحول غیر محفوظ اور ڈراؤنا بنا رہی ہے" تمام خواتین اساتذہ نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے کامران شہزاد کے خلاف محکمانہ احکامات پر سختی سے عمل کرایا جائے اور اس معاملے میں ذمہ داران کے خلاف بھی ضابطے کی کارروائی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق یکم ستمبر کو بھی کالج کے سٹاف ممبران نے معمول کے مطابق تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج جاری رکھا۔ دورانِ بریک تمام سٹاف ممبران کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں جونیئر کلرک کامران شہزاد کی کالج میں موجودگی کے حوالے سے تحفظات کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ کلرک کی کالج میں موجودگی کے باعث خواتین اساتذہ میں عدم تحفظ کا احساس پایا جا رہا ہے۔ سٹاف ممبران نے مجاز حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن کی جانب سے کامران شہزاد کے تبادلے کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور جب تک تبادلے کے احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا، مذکورہ کلرک کے کالج میں داخلے کو روکا جائے، بصورتِ دیگر سٹاف ممبران میں بے چینی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق کل کالج کی خواتین اساتذہ کا ایک وفد اپنے تحفظات سے ڈپٹی کمشنر چکوال کو آگاہ کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس گیا، تاہم انہیں ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعدازاں کالج پرنسپل پروفیسر مہناز اختر کی جانب سے کونسل کے بعض ممبران کو ڈپٹی کمشنر آفس بھیجا گیا اور مبینہ طور پر سٹاف ممبران تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کو اعتماد میں لیے بغیر ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے لیے خود یہاں پہنچی ہیں، جس کے باعث انہیں ملازمت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مبینہ پیغام کے بعد سٹاف ممبران ڈپٹی کمشنر آفس سے واپس چلے گئے۔ اس حوالے سے تھری اسٹارز میڈیا گروپ نے کالج پرنسپل سے مؤقف لینے کیلئے رابطہ کیا تاہم کالج پرنسپل نے موقف دینے کے بجائے مختلف ذرائع سے سفارشیں کروانا شروع کردیں۔

قرارداد کی کاپیاں وزیراعلیٰ پنجاب شکایات سیل، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب، ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز کالجز لاہور، ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز چکوال اور پنجاب پروفیسرز سینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر کالجز کی طرف سے جونیئر کلرک کامران شہزاد کے تبادلے کے حکم کے خلاف مذکورہ کلرک نے ڈائریکٹر پبلک اننسٹرکشنز کے پاس اپیل دائر کر رکھی ہے۔ ڈی پی آئی کالجز نے ڈائریکٹر ایڈمن کو معاملے کی انکوائری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بیس اگست کو ڈائریکٹر ایڈمن نے جونیئر کلرک سمیت متعلقہ افراد کو لاہور طلب کر کے ان کے بیانات سنے۔ تاہم آج بارہ روز گزرنے کے باوجود بھی ڈی پی آئی کالجز نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔ واضح رہے کہ جونیئر کلرک کامران شہزاد کے خلاف دو انکوائریاں ہوئیں، پہلی انکوائری ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز چکوال جبکہ دوسری انکوائری ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن نے کی اور مذکورہ کلرک دونوں انکوائریوں میں قصور وار قرار پایا گیا۔ ڈائریکٹر کالجز نے اپنے حکم میں نہ صرف مذکورہ کلرک کا تبادلہ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج ترحدہ کیا تھا بلکہ ساتھ یہ بھی ہدایت کی تھی کہ مذکورہ کلرک کو آئندہ کسی بھی گرلز کالج میں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔

چکوال شہر کے لیے مزید 3 اہم سڑکوں کے منصوبوں کی منظوری۔۔۔!!!ان تینوں منصوبوں پر مجموعی طور پر 12 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہ...
02/09/2026

چکوال شہر کے لیے مزید 3 اہم سڑکوں کے منصوبوں کی منظوری۔۔۔!!!

ان تینوں منصوبوں پر مجموعی طور پر 12 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

صوبائی پارلیمانی سیکرٹری چوہدری سلطان حیدر علی خان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چکوال کی عوام کے لیے مزید تین اہم سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور بہتری کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

1۔ پنڈی بائی پاس تا بھنوڑا قبرستان
سڑک کی تعمیر و بہتری کے لیے 7 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

2۔ مقبول سائیکل ورکس تا راولپنڈی روڈ (پنڈی پھاٹک)
سڑک کی تعمیر و مرمت پر 3 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔

3۔ ملت چوک تا اشرف ٹاؤن لنک روڈ
سڑک کی تعمیر و بہتری کے لیے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

Address

Chakwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when My Chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share