03/09/2026
کچھ لوگوں کو راجہ سرفراز خان کا نام پسند نہیں۔ کیوں پسند نہیں، اس کی کوئی معقول وجہ بھی شاید ان کے پاس نہیں۔ بس نام آتے ہی انہیں کسی دھڑے کی حمایت، کسی مخصوص شخصیت کی تشہیر یا کسی کو خبروں میں ’’اِن‘‘ رکھنے کی سازش دکھائی دینے لگتی ہے۔
حالانکہ تاریخ پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہ تو لکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی تبدیل کی جا سکتی ہے۔ چکوال کی تاریخ لکھتے ہوئے راجہ سرفراز خان کو مائنس کرنا ممکن نہیں۔ آپ انہیں پسند کریں یا ناپسند، ان کا کردار، خدمات اور چکوال کی سماجی و سیاسی تاریخ میں ان کا نام ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ تاریخ کے صفحات سے کسی شخصیت کا نام صرف اس لیے نہیں مٹایا جا سکتا کہ آج کسی کو وہ نام ناگوار گزرتا ہے۔
اب شنید ہے کہ کچھ حضرات چکوال کی تاریخ کو Re-Write کرنے کے لیے کمر کس چکے ہیں۔ بہت خوب! تاریخ ضرور دوبارہ لکھیے مگر دیکھنا یہ ہے کہ نئی تاریخ میں حقائق بولتے ہیں یا پسند و ناپسند یا پھر ذاتی وابستگیاں؟
ہم بھی دیکھتے ہیں کہ چکوال کی یہ ’’نئی تاریخ‘‘ کیا پیش کرتی ہے اور اس میں کن لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے، کسے نکالا جاتا ہے اور کن ناموں پر تاریخ کی کینچی چلائی جاتی ہے۔
خیر بات کچھ آگے نکل گئی۔
زیرِ نظر تصویر ٹھیک 100 سال پہلے یعنی 1926ء کی ہے جس میں جوند کے راجہ اللہ داد خان (بعد ازاں میجر، آئی سی ایس افسر، کمشنر پشاور و لاہور اور چیف سیکریٹری سندھ ریٹائر ہوئے) اپنے ماموں راجہ محمد سرفراز خان (دائیں جانب ) کے ہمراہ اس ٹینس کورٹس میں موجود ہیں جو بعد میں چکوال سول کلب کا حصہ بن گیا۔
ابرار اختر جنجوعہ