20/06/2026
1. احتجاج اور ہڑتال آئینی حق ہیں، خصوصاً اس وقت جب 38 نکاتی مطالبات کو مہینوں سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہو۔ اگر حکومت بروقت مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتی تو لاک ڈاؤن کی نوبت ہی نہ آتی۔
2. تمام تر ذمہ داری مظاہرین پر ڈالنا مناسب نہیں۔ اگر خوراک اور ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ تھا تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ ، جبکہ احتجاج کا اعلان پہلے سے موجود تھا، ہنگامی ضروریات کی فراہمی کے لیے متبادل انتظامات کیوں نہیں کیے۔
3. اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم مظاہرین کو “شعبدہ باز” قرار دے رہے ہیں، لیکن 12 مہاجر نشستوں سے متعلق بنیادی اعتراض کا جواب نہیں دے رہے، جس کے مطابق یہ نشستیں آزاد کشمیر کے عوام کی ووٹ کی طاقت کو کم کرتی ہیں اور اسلام آباد کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہیں۔
4. لہجے پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ اپنے ہی شہریوں کو “سرکس” اور “شعبدہ باز” کہنا ایک منتخب وزیرِ اعظم کے شایانِ شان نہیں، خصوصاً اس وقت جب لوگ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کر رہے ہوں۔